ہر سال International Mother Language Day کے موقع پر لسانی تنوع، تہذیبی ورثے اور ثقافتی شناخت پر تقاریر کی جاتی ہیں۔ ہمیں بتایا جاتا ہے کہ ہر زبان اپنے اندر ایک مکمل تہذیب سموئے ہوئے ہے۔ یہ بات درست بھی ہے کہ ہر زبان قابلِ احترام ہے۔ مگر احترام کا آغاز اپنے گھر سے ہوتا ہے، اور سب سے پہلی ترجیح مادری زبان کو ملنی چاہیے۔کشمیر میں یہ مادری زبان کشمیری ہے۔
ہمارے خطے میں کئی ادبی اور ثقافتی فورمز ایسے ہیں جو کشمیری زبان کے تحفظ کے نام پر اچھی خاصی شہرت رکھتے ہیں۔ سیمینار منعقد ہوتے ہیں، تقاریب سجتی ہیں، کتابوں کی رونمائی کی جاتی ہے۔ لیکن اگر ذرا گہرائی میں جا کر دیکھا جائے تو ایک عجیب تضاد سامنے آتا ہے۔ انہی فورمز کی ترجیح اکثر انگریزی ہوتی ہے، اور بعض اوقات اردواورکشمیری زبان محض نمائشی حیثیت اختیار کر لیتی ہے۔
کتابوں کی تقریب رونمائی ایک طے شدہ روایت بن چکی ہے۔ وہی چہرے اسٹیج پر، وہی مقررین، وہی سامعین۔ کبھی وہ اسٹیج پر ہوتے ہیں، کبھی پہلی صفوں میں۔ تقریب اختتام پذیر ہوتی ہے تو ایک محدود حلقے میں چائے کی نشست کے ساتھ معاملہ سمیٹ لیا جاتا ہے۔ پھر پریس ریلیز جاری ہوتی ہے، لیکن زیادہ تر انگریزی یا اردو میں۔ یہ کتنی افسوس ناک بات ہے کہ کشمیری زبان میں لکھی گئی کتاب کی خبر کشمیری میں جاری نہیں کی جاتی۔ اپنی ہی زبان میں ایک سادہ سا بیان بھی جاری کرنا گوارا نہیں کیا جاتا۔
زبان تب زندہ رہتی ہے جب اسے زندگی کے مختلف شعبوں میں برتا جائے۔ جب وہ تعلیم کا ذریعہ بنے، میڈیا میں سنائی دے، گھروں میں بولی جائے، نوجوانوں کے مباحث کا حصہ ہو، اور سرکاری و سماجی اداروں میں باوقار مقام رکھتی ہو۔ زبان کو صرف اسٹیج کی زینت بنانے سے وہ مضبوط نہیں ہوتی۔
سب سے بڑا خلا نوجوانوں کی عدم شمولیت ہے۔ ہماری ادبی تقاریب میں نوجوان کہاں ہیں؟ کیا انہیں بامعنی انداز میں مدعو کیا جاتا ہے؟ کیا انہیں اظہار، سوال اور تنقید کا موقع دیا جاتا ہے؟ جب تک نوجوان نسل زبان سے جذباتی اور فکری طور پر وابستہ نہیں ہوگی، کوئی بھی تحریک دیرپا ثابت نہیں ہوسکتی۔ زبان اس وقت کمزور ہوتی ہے جب نئی نسل اسے فخر سے استعمال کرنا چھوڑ دے۔
اگر کشمیری زبان کو واقعی فروغ دینا ہے تو رویہ بدلنا ہوگا۔ کالجوں اور یونیورسٹیوں کے طلبہ کو ادبی تقاریب میں شامل کیا جائے۔ کشمیری زبان میں مباحثے، تخلیقی مقابلے اور ڈیجیٹل مہمات چلائی جائیں۔ کشمیری کتاب کی خبر سب سے پہلے کشمیری میں جاری ہو۔ جو ادارے زبان کے تحفظ کا دعویٰ کرتے ہیں، وہ خود اپنی عملی زندگی میں کشمیری کو ترجیح دیں۔
احترام سب کا، ترجیح اپنی زبان کو
احترام سب کا، ترجیح اپنی زبان کو
ہر سال International Mother Language Day کے موقع پر لسانی تنوع، تہذیبی ورثے اور ثقافتی شناخت پر تقاریر کی جاتی ہیں۔ ہمیں بتایا جاتا ہے کہ ہر زبان اپنے اندر ایک مکمل تہذیب سموئے ہوئے ہے۔ یہ بات درست بھی ہے کہ ہر زبان قابلِ احترام ہے۔ مگر احترام کا آغاز اپنے گھر سے ہوتا ہے، اور سب سے پہلی ترجیح مادری زبان کو ملنی چاہیے۔کشمیر میں یہ مادری زبان کشمیری ہے۔
ہمارے خطے میں کئی ادبی اور ثقافتی فورمز ایسے ہیں جو کشمیری زبان کے تحفظ کے نام پر اچھی خاصی شہرت رکھتے ہیں۔ سیمینار منعقد ہوتے ہیں، تقاریب سجتی ہیں، کتابوں کی رونمائی کی جاتی ہے۔ لیکن اگر ذرا گہرائی میں جا کر دیکھا جائے تو ایک عجیب تضاد سامنے آتا ہے۔ انہی فورمز کی ترجیح اکثر انگریزی ہوتی ہے، اور بعض اوقات اردواورکشمیری زبان محض نمائشی حیثیت اختیار کر لیتی ہے۔
کتابوں کی تقریب رونمائی ایک طے شدہ روایت بن چکی ہے۔ وہی چہرے اسٹیج پر، وہی مقررین، وہی سامعین۔ کبھی وہ اسٹیج پر ہوتے ہیں، کبھی پہلی صفوں میں۔ تقریب اختتام پذیر ہوتی ہے تو ایک محدود حلقے میں چائے کی نشست کے ساتھ معاملہ سمیٹ لیا جاتا ہے۔ پھر پریس ریلیز جاری ہوتی ہے، لیکن زیادہ تر انگریزی یا اردو میں۔ یہ کتنی افسوس ناک بات ہے کہ کشمیری زبان میں لکھی گئی کتاب کی خبر کشمیری میں جاری نہیں کی جاتی۔ اپنی ہی زبان میں ایک سادہ سا بیان بھی جاری کرنا گوارا نہیں کیا جاتا۔
زبان تب زندہ رہتی ہے جب اسے زندگی کے مختلف شعبوں میں برتا جائے۔ جب وہ تعلیم کا ذریعہ بنے، میڈیا میں سنائی دے، گھروں میں بولی جائے، نوجوانوں کے مباحث کا حصہ ہو، اور سرکاری و سماجی اداروں میں باوقار مقام رکھتی ہو۔ زبان کو صرف اسٹیج کی زینت بنانے سے وہ مضبوط نہیں ہوتی۔
سب سے بڑا خلا نوجوانوں کی عدم شمولیت ہے۔ ہماری ادبی تقاریب میں نوجوان کہاں ہیں؟ کیا انہیں بامعنی انداز میں مدعو کیا جاتا ہے؟ کیا انہیں اظہار، سوال اور تنقید کا موقع دیا جاتا ہے؟ جب تک نوجوان نسل زبان سے جذباتی اور فکری طور پر وابستہ نہیں ہوگی، کوئی بھی تحریک دیرپا ثابت نہیں ہوسکتی۔ زبان اس وقت کمزور ہوتی ہے جب نئی نسل اسے فخر سے استعمال کرنا چھوڑ دے۔
اگر کشمیری زبان کو واقعی فروغ دینا ہے تو رویہ بدلنا ہوگا۔ کالجوں اور یونیورسٹیوں کے طلبہ کو ادبی تقاریب میں شامل کیا جائے۔ کشمیری زبان میں مباحثے، تخلیقی مقابلے اور ڈیجیٹل مہمات چلائی جائیں۔ کشمیری کتاب کی خبر سب سے پہلے کشمیری میں جاری ہو۔ جو ادارے زبان کے تحفظ کا دعویٰ کرتے ہیں، وہ خود اپنی عملی زندگی میں کشمیری کو ترجیح دیں۔


