جموں کشمیر کے سرکاری ڈگری کالجوں میں کم از کم61 فیصد نشستوں کا خالی رہ جانا نہایت تشویش ناک صورت حال ہے۔ یہ محض ایک عددی کمی نہیں بلکہ محکمہ اعلیٰ تعلیم کی کارکردگی پر سنجیدہ سوال ہے۔ جب سرکاری وسائل سے قائم اداروں میں کلاس روم خالی رہیں تو یہ انتظامی کمزوری کے ساتھ ساتھ سماجی بحران کی بھی علامت ہوتا ہے۔
طلبہ کی عدم دلچسپی کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں، جیسے روزگار سے غیر مربوط نصاب، پیشہ ورانہ اور تکنیکی تعلیم کی طرف بڑھتا رجحان، بنیادی سہولیات اور رہنمائی کا فقدان، یا دیگر ریاستوں کے نجی اداروں کی جانب ہجرت۔ اگر ڈگری روزگار کی ضمانت نہ دے تو نوجوان متبادل راستے تلاش کرتے ہیں۔
اس مسئلے کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ کئی کالجوں میں اساتذہ کی کمی کو بتایا جاتا ہے، عارضی تقرریاں اور جدید تحقیقی ماحول کا فقدان پایا جاتا ہے۔ جب تعلیمی معیار متاثر ہو تو طلبہ اور والدین کا اعتماد متزلزل ہوتا ہے۔ دیہی علاقوں میں ٹرانسپورٹ اور ہاسٹل سہولیات کی کمی بھی داخلوں میں رکاوٹ بنتی ہے۔
خالی نشستیں دراصل اس بات کی علامت ہیں کہ تعلیمی منصوبہ بندی زمینی حقائق سے ہم آہنگ نہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ مضامین کا انتخاب مقامی معیشت اور روزگار کے امکانات کو سامنے رکھ کر کیا جائے، اور ہر کالج کو اپنے علاقے کی سماجی و معاشی ضروریات کے مطابق مضبوط کیا جائے۔
حکومت کو چاہیے کہ فوری طور پر جامع جائزہ لے، نصاب کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرے، صنعتوں سے ربط قائم کرے اور کیریئر رہنمائی کو مضبوط بنائے۔ اسی طرح سماجی تنظیموں اور والدین کو بھی طلبہ کی رہنمائی میں کردار ادا کرنا ہوگا۔ خالی نشستیں اس بات کا تقاضا کرتی ہیں کہ نظام تعلیم میں سنجیدہ اصلاحات کی جائیں تاکہ نوجوانوں کا اعتماد بحال ہو اور اعلیٰ تعلیم واقعی ترقی کا ذریعہ بن سکے۔
ززز
اعلیٰ تعلیم کی تشویشناک صورتحال؟
اعلیٰ تعلیم کی تشویشناک صورتحال؟
جموں کشمیر کے سرکاری ڈگری کالجوں میں کم از کم61 فیصد نشستوں کا خالی رہ جانا نہایت تشویش ناک صورت حال ہے۔ یہ محض ایک عددی کمی نہیں بلکہ محکمہ اعلیٰ تعلیم کی کارکردگی پر سنجیدہ سوال ہے۔ جب سرکاری وسائل سے قائم اداروں میں کلاس روم خالی رہیں تو یہ انتظامی کمزوری کے ساتھ ساتھ سماجی بحران کی بھی علامت ہوتا ہے۔
طلبہ کی عدم دلچسپی کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں، جیسے روزگار سے غیر مربوط نصاب، پیشہ ورانہ اور تکنیکی تعلیم کی طرف بڑھتا رجحان، بنیادی سہولیات اور رہنمائی کا فقدان، یا دیگر ریاستوں کے نجی اداروں کی جانب ہجرت۔ اگر ڈگری روزگار کی ضمانت نہ دے تو نوجوان متبادل راستے تلاش کرتے ہیں۔
اس مسئلے کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ کئی کالجوں میں اساتذہ کی کمی کو بتایا جاتا ہے، عارضی تقرریاں اور جدید تحقیقی ماحول کا فقدان پایا جاتا ہے۔ جب تعلیمی معیار متاثر ہو تو طلبہ اور والدین کا اعتماد متزلزل ہوتا ہے۔ دیہی علاقوں میں ٹرانسپورٹ اور ہاسٹل سہولیات کی کمی بھی داخلوں میں رکاوٹ بنتی ہے۔
خالی نشستیں دراصل اس بات کی علامت ہیں کہ تعلیمی منصوبہ بندی زمینی حقائق سے ہم آہنگ نہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ مضامین کا انتخاب مقامی معیشت اور روزگار کے امکانات کو سامنے رکھ کر کیا جائے، اور ہر کالج کو اپنے علاقے کی سماجی و معاشی ضروریات کے مطابق مضبوط کیا جائے۔
حکومت کو چاہیے کہ فوری طور پر جامع جائزہ لے، نصاب کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرے، صنعتوں سے ربط قائم کرے اور کیریئر رہنمائی کو مضبوط بنائے۔ اسی طرح سماجی تنظیموں اور والدین کو بھی طلبہ کی رہنمائی میں کردار ادا کرنا ہوگا۔ خالی نشستیں اس بات کا تقاضا کرتی ہیں کہ نظام تعلیم میں سنجیدہ اصلاحات کی جائیں تاکہ نوجوانوں کا اعتماد بحال ہو اور اعلیٰ تعلیم واقعی ترقی کا ذریعہ بن سکے۔
ززز


