اعلیٰ تعلیم میں مساوات اور آئینی توازن

سپریم کورٹ ہند کی جانب سے یو جی سی کے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں مساوات کے فروغ سے متعلق قواعد پر عبوری روک کو ایک آئینی اور متوازن قدم کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ عدالت کا یہ کہنا کہ قواعد حد سے زیادہ وسیع ہیں، اس حقیقت سے انکار نہیں کہ تعلیمی اداروں میں ذات پات پر مبنی امتیاز ایک تلخ اور موجود حقیقت ہے۔ بلکہ یہ فیصلہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ اصلاحات نیک نیتی کے ساتھ ساتھ قانونی وضاحت اور ادارہ جاتی توازن کی بھی متقاضی ہوتی ہیں۔
یو جی سی کے یہ قواعد برسوں کی طلبہ جدوجہد، عدالتی ہدایات اور روہتھ ویمولا جیسے افسوسناک واقعات کے پس منظر میں سامنے آئے۔ 2012 کا فریم ورک مؤثر عمل آوری کے فقدان کے باعث غیر مؤثر ثابت ہوا، جس کے بعد حکومت اور یو جی سی نے ایک مضبوط اور قابلِ نفاذ نظام وضع کرنے کی کوشش کی۔ اس اقدام میں حکومت کی سنجیدگی اور آئینی اقدار سے وابستگی واضح طور پر نظر آتی ہے۔
ذات پات پر مبنی امتیاز محض ایک نظری مسئلہ نہیں بلکہ بے شمار طلبہ کی زندگیوں کو متاثر کرنے والی حقیقت ہے۔ یو جی سی کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ پانچ برسوں میں ایسی شکایات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جو اس مسئلے کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔ اس پس منظر میں مساوی مواقع مراکز، ایکویٹی کمیٹیاں، ہیلپ لائنز اور وقت کی پابندی کے ساتھ شکایات کے ازالے جیسے اقدامات ایک مثبت اور قابلِ تعریف پیش رفت ہیں۔ سپریم کورٹ کی روک کو مساوات کے خلاف نہیں بلکہ قواعد کو بہتر، واضح اور قانونی طور پر مضبوط بنانے کا موقع سمجھا جانا چاہیے۔ عدالتی نگرانی اس امر کو یقینی بناتی ہے کہ اصلاحات مؤثر ہونے کے ساتھ ساتھ تعلیمی اداروں کی خود مختاری کو بھی نقصان نہ پہنچائیں۔ عدالت کے فیصلے کا احترام ایک آئینی ذمہ داری ہے۔
حکومت اور یو جی سی کو چاہیے کہ وہ عدالت کے مشاہدات کی روشنی میں وسیع مشاورت کے بعد ایک نظرثانی شدہ فریم ورک پیش کریں جو مساوات کی روح کو برقرار رکھے اور قانونی خدشات کا بھی ازالہ کرے۔ اعلیٰ تعلیم میں مساوات ناگزیر ہے اور اس کے لیے آئینی حدود میں رہ کر مضبوط اور مؤثر اقدامات ہی دیرپا حل فراہم کر سکتے ہیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

یوم یکجہتی پر وزیر اعظم کا خطاب:نکسلواد ختم، غربت میں نمایاں کمی،

  جنگ نیوز ڈیسک نئی دہلی/وزیر اعظم نریندر مودی نے ہفتے...

سرینگر میں ڈاکٹر عزیز حاجنی کی ادبی خدمات کو خراج عقیدت پیش

جنگ نیوز سرینگر/کشمیری زبان و ادب کی ممتاز شخصیت ڈاکٹر...

وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے صحافی ندھی رازدان سے شادی کرلی

جنگ نیوز سرینگر/جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ...

آشوتوش دکشت نے بھارتی فضائیہ کے سربراہ کے طور پر عہدہ سنبھالا

جنگ نیوز   ایئر چیف مارشل آشوتوش دکشت پی وی ایس...

غزل: اسلم ٹیٹاگڑھی

    اسلم ٹیٹاگڑھی غم کے ہنگام سے خود پریشاں ہوں میں...

تازہ ترین خبریں

یوم یکجہتی پر وزیر اعظم کا خطاب:نکسلواد ختم، غربت میں نمایاں کمی،

  جنگ نیوز ڈیسک نئی دہلی/وزیر اعظم نریندر مودی نے ہفتے...

سرینگر میں ڈاکٹر عزیز حاجنی کی ادبی خدمات کو خراج عقیدت پیش

جنگ نیوز سرینگر/کشمیری زبان و ادب کی ممتاز شخصیت ڈاکٹر...

وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے صحافی ندھی رازدان سے شادی کرلی

جنگ نیوز سرینگر/جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ...

آشوتوش دکشت نے بھارتی فضائیہ کے سربراہ کے طور پر عہدہ سنبھالا

جنگ نیوز   ایئر چیف مارشل آشوتوش دکشت پی وی ایس...

غزل: اسلم ٹیٹاگڑھی

    اسلم ٹیٹاگڑھی غم کے ہنگام سے خود پریشاں ہوں میں...

اعلیٰ تعلیم میں مساوات اور آئینی توازن

سپریم کورٹ ہند کی جانب سے یو جی سی کے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں مساوات کے فروغ سے متعلق قواعد پر عبوری روک کو ایک آئینی اور متوازن قدم کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ عدالت کا یہ کہنا کہ قواعد حد سے زیادہ وسیع ہیں، اس حقیقت سے انکار نہیں کہ تعلیمی اداروں میں ذات پات پر مبنی امتیاز ایک تلخ اور موجود حقیقت ہے۔ بلکہ یہ فیصلہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ اصلاحات نیک نیتی کے ساتھ ساتھ قانونی وضاحت اور ادارہ جاتی توازن کی بھی متقاضی ہوتی ہیں۔
یو جی سی کے یہ قواعد برسوں کی طلبہ جدوجہد، عدالتی ہدایات اور روہتھ ویمولا جیسے افسوسناک واقعات کے پس منظر میں سامنے آئے۔ 2012 کا فریم ورک مؤثر عمل آوری کے فقدان کے باعث غیر مؤثر ثابت ہوا، جس کے بعد حکومت اور یو جی سی نے ایک مضبوط اور قابلِ نفاذ نظام وضع کرنے کی کوشش کی۔ اس اقدام میں حکومت کی سنجیدگی اور آئینی اقدار سے وابستگی واضح طور پر نظر آتی ہے۔
ذات پات پر مبنی امتیاز محض ایک نظری مسئلہ نہیں بلکہ بے شمار طلبہ کی زندگیوں کو متاثر کرنے والی حقیقت ہے۔ یو جی سی کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ پانچ برسوں میں ایسی شکایات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جو اس مسئلے کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔ اس پس منظر میں مساوی مواقع مراکز، ایکویٹی کمیٹیاں، ہیلپ لائنز اور وقت کی پابندی کے ساتھ شکایات کے ازالے جیسے اقدامات ایک مثبت اور قابلِ تعریف پیش رفت ہیں۔ سپریم کورٹ کی روک کو مساوات کے خلاف نہیں بلکہ قواعد کو بہتر، واضح اور قانونی طور پر مضبوط بنانے کا موقع سمجھا جانا چاہیے۔ عدالتی نگرانی اس امر کو یقینی بناتی ہے کہ اصلاحات مؤثر ہونے کے ساتھ ساتھ تعلیمی اداروں کی خود مختاری کو بھی نقصان نہ پہنچائیں۔ عدالت کے فیصلے کا احترام ایک آئینی ذمہ داری ہے۔
حکومت اور یو جی سی کو چاہیے کہ وہ عدالت کے مشاہدات کی روشنی میں وسیع مشاورت کے بعد ایک نظرثانی شدہ فریم ورک پیش کریں جو مساوات کی روح کو برقرار رکھے اور قانونی خدشات کا بھی ازالہ کرے۔ اعلیٰ تعلیم میں مساوات ناگزیر ہے اور اس کے لیے آئینی حدود میں رہ کر مضبوط اور مؤثر اقدامات ہی دیرپا حل فراہم کر سکتے ہیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں