
ڈاکٹر جی۔ ایم۔ پٹیل
سوتیتہ المحملی Sutayta Al-Mahamaliنے دیگر معروف اسکالرز کے ہمراہ ’’قانونی آراء‘‘ بھی جاری کیں۔ آپ ایک تسلیم شدہ مفتی تھیں۔ آپ کا ریاضیاتی علم اس قدر منفرد تھا کہ اس دور کے ’’ایوانِ حکمت‘‘ کے مقبول ترین اسکالرز ریاضی کے پیچیدہ مسائل پر آپ سے مشورہ کرتے تھے۔ اس وقت بہت سے اسکالرز نے آپ کی قابلیت کا اعتراف کیا، کافی سراہا اور آپ کے ریاضی کے علم کو قبول کیا۔ دورِ حاضر میں مغرب میں آپ کو ’’نشاۃ ثانیہ کی خاتون‘‘ کہا جائے گا، لیکن یورپ میں ’’نشاۃ ثانیہ‘‘ چار صدیوں بعد تک ظاہر نہیں ہوئی۔ آپ ’’الجبرائی مسائل کے حل‘‘ اور ’’اسلامی وراثت کی ریاضی‘‘ میں اپنی مہارت کے لیے جانی جاتی تھیں۔ اعلیٰ درجے کی ریاضیاتی صلاحیتوں کی وجہ سے پہچانی گئیں جو پیچیدہ مسائل کے حل کی ایجاد کے لیے حساب یعنی ریاضی سے باہر تھیں۔ آپ ایک تسلیم شدہ مفتی بھی تھیں۔ قانونی رائے جاری کرتی تھیں جو آپ کے ریاضی اور فقہی علم کو مربوط کرتی تھیں۔ آپ کی ریاضی کی تجاویز اس وقت ’’بیت الحکمہ‘‘ میں علمی مباحثوں میں زیرِ بحث آتی تھیں۔
930ء میں آپ ایک ایسے شہر میں پیدا ہوئیں جو دسویں صدی میں ریاضی کا مرکز تھا۔ یہ ’’ایتھنز‘‘ یا ’’لندن‘‘ نہیں تھا اور اس وقت تو ’’نیویارک‘‘ کا کوئی وجود ہی نہیں تھا۔ وہ شہر ’’بغداد‘‘ تھا جو شہر ’’بابل‘‘ کے قریب تھا جہاں سومیری زبانوں میں لکھی گئی مٹی کی تختیوں پر کانسی کے دور میں تیسری صدی قبل مسیح میں ریاضی کا ظہور ہوا۔ دسویں صدی میں بغداد کے معروف قاضی ’’ابو عبداللہ الحسین‘‘ کی دختر، معروف عالمی ریاضی داں ’’سوتیتہ المحملی‘‘ بغداد میں رہائش پذیر تھیں۔ آپ کے چچا حدیث کے ممتاز عالم تھے اور آپ کے صاحبزادے بھی والد کی سربراہی میں ایک منصف بن گئے۔ ’’البغدادی‘‘ اور ’’ابن الجوزی‘‘ جیسے مشہور مورخین نے آپ کی مہارت کی تعریف کی اور فرمایا کہ آپ ’’حذیفہ مکتبِ قانون‘‘ کے حوالے سے اس دور کی ایک معروف عالمہ ہیں۔
سوتیتہ المحملی ایک ناقابلِ یقین اسکالر تھیں اور خصوصی طور پر علمِ ریاضی میں آپ کو غیر معمولی مہارت حاصل تھی۔ ریاضی دانوں کے حوالے کردہ مساوات کے حل ایجاد کرنا الجبرا میں آپ کی مہارت کی ایک مثال ہے۔ آپ صرف مسائل حل نہیں کرتی تھیں بلکہ حل کی نشوونما بھی کر رہی تھیں۔ ریاضی میں آپ کی شہرت، قابلیت اور مقبولیت اس قدر اعلیٰ مقام پر تھی کہ بغداد کے امام، اسکالرز اور مذہبی محققین سمیت ہر طبقے کے لوگ مسائل کے حل کی تلاش میں آپ کی رہبری کے طلب گار تھے۔ سوتیتہ صرف ایک عالمہ ہی نہیں بلکہ فقیہ اور مفتی بھی تھیں۔ علاوہ ازیں آپ باہر کھیتوں اور کھلیانوں میں بھی اپنی خدمات انجام دیتی رہتیں۔ ایک مفتی کی حیثیت سے معاشرے کے روزمرہ مسائل کو حل کرنا، بنیادی سطح پر گفتگو، بحث و مباحثہ، قائدانہ اسکالر شپ، علم اور اچھے کردار کی مثال قائم کرنا آپ کی شناخت تھی۔ اپنے شعبے میں ایک اختراعی اور بااختیار عالمہ تھیں جن میں اثر و رسوخ، حاکمیت کی علم برداری اور قانونی نفاذ میں مہارت پائی جاتی تھی۔ عزت، سخاوت، عاجزی اور ملنساری کے ساتھ اپنے علم اور تعلیم کے حصول میں مشغول اور بااختیار خاتون تھیں۔
آپ نہ صرف انفرادی مسائل کے حل کے لیے مشہور تھیں جو الخوارزمی اور ابو کامل کے کام کی منقطع توسیع تھے بلکہ چونکہ دونوں نے آپ کی پیروی کی اور بعد کے ذرائع نے آپ کا ذکر عزت کے ساتھ کیا، اس بات کا قوی امکان ہے کہ آپ نے الجبری نفاست کی ایک نمایاں سطح حاصل کی جس نے عربی ریاضی دانوں کے لیے مساوات کے گروہوں کی شروعات کی، جو بعد میں عظیم ابو کامل نے حل کیں۔ اس میں کیوبک قسم کی مساوات کو حل کرنا بھی شامل ہو سکتا ہے جو آپ کی کامیابیوں کے قریب ہے۔
سوتیتہ المحملی دسویں صدی کی ایک مشہور مسلم خاتون تھیں جو اسلامی سنہری دور کے دوران الجبرا، اسلامی فقہ اور وراثت کے حساب یعنی فرائض میں اپنی مہارت کے لیے جانی جاتی ہیں۔ اسکالرز کے خاندان میں پیدا ہو کر ریاضی کے پیچیدہ مسائل کے حل میں ایک سرکردہ اتھارٹی بن گئیں جن میں الجبرا اور وراثت سے متعلق مسائل شامل ہیں۔ آپ کی ذہانت کے لیے معاصر اسکالرز نے تعریف کی۔ دسویں صدی کی مسلم ریاضی داں اور قانونی اسکالر تھیں اور تاریخ کی پہلی خاتون ریاضی دانوں میں سے ایک کے طور پر جانی جاتی ہیں۔
اس دوران اسلامی طرزِ عمل کی جڑوں کے ترمیم شدہ ورژن اسلام کے بے مثال دارالحکومت میں پروان چڑھے، کیونکہ اسپین، مصر اور میسوپوٹیمیا نے آپ کے اصولوں کو اپنے غالب ثقافتی طریقوں سے ہم آہنگ کرنے کی کوشش کی۔ نتیجتاً خواتین کے لیے ایک ایسا فکری دائرہ وجود میں آیا جو پردے اور تاریکی کے یک رخی مغربی بیانیے کی نفی کرتا ہے۔ اس دائرے میں کم از کم ایک وقت کے لیے اتنی وسعت تھی کہ سوتیتہ جیسی ریاضی داں، والادہ جیسی شہرت یافتہ شاعرہ اور خیزران جیسی دولت مند سیاسی قوت بیک وقت موجود رہ سکیں۔ وقت کے ساتھ اس وسعت میں تنگی اور زوال آیا، مگر یہ حقیقت امید دلاتی ہے کہ ایک زمانے میں ایک ایسی سلطنت اور ایک علمی شہر موجود تھا جہاں ایک خاتون قانون اور الجبرا کو یکساں آسانی اور مقبولیت کے ساتھ بُنتی تھیں، اور جو پہلے تھا وہ پھر ممکن ہو سکتا ہے۔
845ء میں آپ کے والدِ محترم نے ریاضی پر مکمل اور متوازن ’’الخوارزمی کی تصنیف‘‘ کی ایک نقل آپ کے سپرد کی اور آپ نے مطالعے کے بعد دریافت کیا کہ اس تصنیف کا تقریباً نصف حصہ وراثت کی ریاضی سے متعلق ہے۔ آپ نہ صرف الخوارزمی کی کتاب سے مسائل حل کر رہی تھیں بلکہ مسائل کی اقسام کے عمومی حل بھی تیار کر رہی تھیں، جو ’’The Compendious Book on Calculations by Completion and Balancing‘‘ کی منطقی توسیع کہی جا سکتی ہے۔ اس تحقیق کے بعد اسلامی سنہری دور کے تین مورخین ابن الخطیب بغدادی، ابن الجوزی اور ابن کثیر نے آپ کو باصلاحیت قرار دیا۔ ایک نوجوان خاتون ریاضی داں کے طور پر آپ وراثت کی ریاضی، کیوبک مساوات اور الجبری تھیوریز کی ماہر بن گئیں۔ دورِ حاضر میں یورپ میں آپ کو ’’نشاۃ ثانیہ کی خاتون‘‘ کہا جائے گا لیکن یورپ میں نشاۃ ثانیہ چار صدیوں بعد ظاہر ہوئی۔
ریاضی میں آپ کی مہارت کے باعث ہاؤس آف وزڈم میں کام کرنے والوں سے آپ کی واقفیت تھی۔ آپ کی ریاضی کی تجاویز بیت الحکمہ میں علمی مباحث میں زیرِ بحث آتیں۔ آپ نے اپنا سارا وقت اور توانائی ریاضی، خصوصاً وراثت کی ریاضی میں صرف کر دی۔ آپ نے کیوبک قسم کی مساوات کو حل کرنے کے لیے ابو کامل کے ساتھ تعاون کیا جس نے بعد میں ابن الہیثم اور عمر خیام کے تصورات کو متاثر کیا۔
آپ ایک تسلیم شدہ مفتی بھی تھیں۔ قانونی رائے جاری کرتی تھیں جو آپ کے ریاضی اور فقہی علم کو مربوط کرتی تھیں۔ آپ نہ صرف ریاضی کے میدان میں گراں قدر خدمات انجام دیں بلکہ اسلامی قوانین کی ماہر، فقیہ اور مقدس متون کی تفسیر کرنے والی بھی تھیں۔ آپ نے دیگر معروف اسکالرز کے ہمراہ قانونی آراء بھی جاری کیں۔ اس دور کے ایوانِ حکمت کے مقبول ترین اسکالرز ریاضی کے پیچیدہ مسائل پر آپ سے مشورہ کرتے تھے۔ بہت سے اسکالرز نے آپ کی قابلیت کا اعتراف کیا اور آپ کے ریاضیاتی علم کو تسلیم کیا۔
آپ نے نہ صرف الخوارزمی کی کتاب کے مسائل حل کیے بلکہ مسائل کی اقسام کے عمومی حل بھی تیار کیے جنہیں حساب و کتاب پر تکمیل و توازن کی منطقی توسیع کہا جا سکتا ہے۔ آپ نے وراثت کے پیچیدہ تنازعات حل کرنے اور اسلامی قانون کے مطابق دولت کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنانے کے لیے اپنے ریاضیاتی علم کا استعمال کیا۔ یہ قیمتی علم بہت سے پیچیدہ مسائل کے حل میں معاون ثابت ہوا۔ سوتیتہ نے یہ علم 10ویں صدی میں ہی حاصل کر لیا تھا جسے سمجھنے میں یورپیوں کو قریب 200 سال لگے۔ آپ کی تجاویز اور نتائج آج بھی ریاضی کے مسائل کے حل میں استعمال ہو رہے ہیں۔
آپ غیر معمولی صلاحیتوں کی مالک تھیں۔ اپنی ذہانت سے الجبرا اور علم کی روایت کو آگے بڑھایا۔ آپ کے تعاون کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ سوتیتہ المحملی نے یہ علم 10ویں صدی میں ہی حاصل کیا تھا جسے سمجھنے میں یورپیوں کو مزید 200 سال لگے۔ اس کی تجاویز اور نتائج آج بھی ریاضی کے مسائل حل کرنے میں استعمال ہوتے ہیں۔
آپ غیر معمولی صلاحیتوں کی مالک تھیں۔ آپ نے اپنی ذہانت سے الجبرا اور علمی ورثے کو وسعت دی۔ آپ کی انمول قابلیت اور تعاون کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
لیکن افسوس کہ اس قدر عظیم اور معروف خاتون کو تاریخ میں وہ مقام حاصل نہ ہو سکا جس کی وہ حق دار تھیں۔ آپ 987ء میں رحلت فرما گئیں۔
٭٭٭


