وینزویلا پر سایہ فگن سامراج

وینزویلا میں جو کچھ رونما ہو رہا ہے وہ کسی پردے میں لپٹی ہوئی سفارت کاری نہیں بلکہ کھلا سامراجی اقدام ہے۔ ایک خود مختار ریاست کے منتخب سربراہ کے اغوا کا حکم، سمندری ناکہ بندی اور پھر یہ اعلان کہ اب واشنگٹن وینزویلا کو چلائے گا۔ یہ سب اقدامات اس دعوے کو بے نقاب کر دیتے ہیں کہ معاملہ جمہوریت یا منشیات کے خلاف جنگ کا ہے۔ حقیقت اس کے برعکس ہے اور وہ حقیقت تیل ہے۔
یہ دلیل کہ امریکی صدر نے حزب اختلاف کے بجائے قائم مقام صدر ڈیلسی روڈریگز کی تائید کی، ان اقدامات کی سنگینی کو کم نہیں کرتی۔ بلکہ یہ اس منصوبے کی اصل روح کو واضح کرتی ہے۔ مقصد نظام بدلنا نہیں بلکہ نظام کو قابو میں رکھنا ہے۔ ایک ایسا کنٹرول جس میں ریاست کی ظاہری شکل برقرار رہے مگر اختیار کہیں اور منتقل ہو جائے۔
بظاہر یہ پالیسی متضاد دکھائی دیتی ہے۔ ایک طرف بولیوارین نظام کو باقی رکھنے کی اجازت اور دوسری طرف معاشی خود مختاری کا گلا گھونٹنا۔ مگر اس تضاد کے پیچھے ایک سرد منطق کارفرما ہے۔ واشنگٹن وینزویلا کے تیل تک رسائی چاہتا ہے بغیر اس قیمت کے جو براہ راست قبضے یا نظام کی مکمل تبدیلی سے ادا کرنی پڑتی ہے۔ عراق کے تجربے نے یہ سبق دیا کہ ریاستی ڈھانچے توڑنے سے مزاحمت جنم لیتی ہے اور انتشار بڑھتا ہے۔
اسی لئے نئی حکمت عملی یہ ہے کہ موجودہ ریاستی مشینری کو توڑا نہ جائے بلکہ اسے اپنی مرضی کے رخ پر موڑ دیا جائے۔ یہ نیا نوآبادیاتی انداز ہے جس میں پرچم وہی رہتا ہے مگر فیصلے کہیں اور ہوتے ہیں۔ خود مختاری کے نام پر انحصار اور اقتدار کے نام پر تابع داری۔
وینزویلا کا معاملہ ہمیں یہ سوال کرنے پر مجبور کرتا ہے کہ عالمی نظام میں خود مختاری کی حقیقت کیا ہے۔ اگر کسی ملک کے وسائل پر قبضے کے لئے قانون طاقت بن جائے اور طاقت قانون کی جگہ لے لے تو پھر جمہوریت صرف ایک نعرہ رہ جاتی ہے۔ آج وینزویلا اس تجربے کی آماجگاہ ہے۔ کل کوئی اور ہوگا۔ سامراج کی فطرت بدلتی نہیں، صرف اس کے طریقے بدلتے ہیں۔
ززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

یوم یکجہتی پر وزیر اعظم کا خطاب:نکسلواد ختم، غربت میں نمایاں کمی،

  جنگ نیوز ڈیسک نئی دہلی/وزیر اعظم نریندر مودی نے ہفتے...

سرینگر میں ڈاکٹر عزیز حاجنی کی ادبی خدمات کو خراج عقیدت پیش

جنگ نیوز سرینگر/کشمیری زبان و ادب کی ممتاز شخصیت ڈاکٹر...

وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے صحافی ندھی رازدان سے شادی کرلی

جنگ نیوز سرینگر/جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ...

آشوتوش دکشت نے بھارتی فضائیہ کے سربراہ کے طور پر عہدہ سنبھالا

جنگ نیوز   ایئر چیف مارشل آشوتوش دکشت پی وی ایس...

غزل: اسلم ٹیٹاگڑھی

    اسلم ٹیٹاگڑھی غم کے ہنگام سے خود پریشاں ہوں میں...

تازہ ترین خبریں

یوم یکجہتی پر وزیر اعظم کا خطاب:نکسلواد ختم، غربت میں نمایاں کمی،

  جنگ نیوز ڈیسک نئی دہلی/وزیر اعظم نریندر مودی نے ہفتے...

سرینگر میں ڈاکٹر عزیز حاجنی کی ادبی خدمات کو خراج عقیدت پیش

جنگ نیوز سرینگر/کشمیری زبان و ادب کی ممتاز شخصیت ڈاکٹر...

وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے صحافی ندھی رازدان سے شادی کرلی

جنگ نیوز سرینگر/جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ...

آشوتوش دکشت نے بھارتی فضائیہ کے سربراہ کے طور پر عہدہ سنبھالا

جنگ نیوز   ایئر چیف مارشل آشوتوش دکشت پی وی ایس...

غزل: اسلم ٹیٹاگڑھی

    اسلم ٹیٹاگڑھی غم کے ہنگام سے خود پریشاں ہوں میں...

وینزویلا پر سایہ فگن سامراج

وینزویلا میں جو کچھ رونما ہو رہا ہے وہ کسی پردے میں لپٹی ہوئی سفارت کاری نہیں بلکہ کھلا سامراجی اقدام ہے۔ ایک خود مختار ریاست کے منتخب سربراہ کے اغوا کا حکم، سمندری ناکہ بندی اور پھر یہ اعلان کہ اب واشنگٹن وینزویلا کو چلائے گا۔ یہ سب اقدامات اس دعوے کو بے نقاب کر دیتے ہیں کہ معاملہ جمہوریت یا منشیات کے خلاف جنگ کا ہے۔ حقیقت اس کے برعکس ہے اور وہ حقیقت تیل ہے۔
یہ دلیل کہ امریکی صدر نے حزب اختلاف کے بجائے قائم مقام صدر ڈیلسی روڈریگز کی تائید کی، ان اقدامات کی سنگینی کو کم نہیں کرتی۔ بلکہ یہ اس منصوبے کی اصل روح کو واضح کرتی ہے۔ مقصد نظام بدلنا نہیں بلکہ نظام کو قابو میں رکھنا ہے۔ ایک ایسا کنٹرول جس میں ریاست کی ظاہری شکل برقرار رہے مگر اختیار کہیں اور منتقل ہو جائے۔
بظاہر یہ پالیسی متضاد دکھائی دیتی ہے۔ ایک طرف بولیوارین نظام کو باقی رکھنے کی اجازت اور دوسری طرف معاشی خود مختاری کا گلا گھونٹنا۔ مگر اس تضاد کے پیچھے ایک سرد منطق کارفرما ہے۔ واشنگٹن وینزویلا کے تیل تک رسائی چاہتا ہے بغیر اس قیمت کے جو براہ راست قبضے یا نظام کی مکمل تبدیلی سے ادا کرنی پڑتی ہے۔ عراق کے تجربے نے یہ سبق دیا کہ ریاستی ڈھانچے توڑنے سے مزاحمت جنم لیتی ہے اور انتشار بڑھتا ہے۔
اسی لئے نئی حکمت عملی یہ ہے کہ موجودہ ریاستی مشینری کو توڑا نہ جائے بلکہ اسے اپنی مرضی کے رخ پر موڑ دیا جائے۔ یہ نیا نوآبادیاتی انداز ہے جس میں پرچم وہی رہتا ہے مگر فیصلے کہیں اور ہوتے ہیں۔ خود مختاری کے نام پر انحصار اور اقتدار کے نام پر تابع داری۔
وینزویلا کا معاملہ ہمیں یہ سوال کرنے پر مجبور کرتا ہے کہ عالمی نظام میں خود مختاری کی حقیقت کیا ہے۔ اگر کسی ملک کے وسائل پر قبضے کے لئے قانون طاقت بن جائے اور طاقت قانون کی جگہ لے لے تو پھر جمہوریت صرف ایک نعرہ رہ جاتی ہے۔ آج وینزویلا اس تجربے کی آماجگاہ ہے۔ کل کوئی اور ہوگا۔ سامراج کی فطرت بدلتی نہیں، صرف اس کے طریقے بدلتے ہیں۔
ززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں