جموں و کشمیرتخلیقی قوت کا اعتراف

جمہوریہ ہند کی 2026 کی یومِ جمہوریہ پریڈ میں جموں و کشمیر کے ٹیبلو کا قومی سطح پر دوسری پوزیشن حاصل کرنا بلاشبہ ایک تاریخی اور قابلِ فخر لمحہ ہے۔ یہ کامیابی نہ صرف یونین ٹیریٹری کے عوام کے لئے مسرت کا باعث ہے بلکہ اس حقیقت کا بھی واضح ثبوت ہے کہ جموں و کشمیر کی ثقافت، روایات اور فنونِ لطیفہ آج بھی اپنی جاذبیت اور معنویت برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
یومِ جمہوریہ کی پریڈ ملک کا سب سے باوقار اور نمایاں قومی اسٹیج سمجھی جاتی ہے، جہاں ہر ریاست اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقے اپنی تہذیبی جھلک پیش کرتے ہیں۔ ایسے میں جموں و کشمیر کے ٹیبلو کو یہ اعزاز ملنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہاں کی تہذیب محض ماضی کی یادگار نہیں بلکہ ایک زندہ، متحرک اور ہمہ جہت ورثہ ہے جو پورے ملک کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔یہ اعتراف ان فنکاروں، کاریگروں اور تخلیق کاروں کی محنت کا نتیجہ ہے جنہوں نے جموں و کشمیر کی روح کو رنگ، علامت اور منظر کے ذریعے قومی منظرنامے پر اجاگر کیا۔ اس ٹیبلو میں جھلکتی ثقافتی ہم آہنگی، روایتی حسن اور فنی باریکی دراصل اس خطے کی شناخت اور اس کے عوام کے جذبے کی عکاس ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ اس کامیابی کو محض ایک لمحاتی خوشی تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ اسے ثقافتی فروغ، سیاحت کے استحکام اور نوجوان نسل میں اپنی تہذیب پر فخر پیدا کرنے کے لئے بنیاد بنایا جائے۔ جب کسی خطے کی ثقافت کو قومی سطح پر پہچان ملتی ہے تو اس کے اثرات سماجی اعتماد، تخلیقی مواقع اور مجموعی ترقی کی صورت میں ظاہر ہوتے ہیں۔جموں و کشمیر کے ٹیبلو کی یہ کامیابی ہم سب کے لئے ایک پیغام ہے کہ اپنی شناخت، اپنی روایت اور اپنے فن پر یقین ہی وہ راستہ ہے جو قوموں کو عزت اور دوام بخشتا ہے۔ یہ اعتراف اس امر کا تقاضا کرتا ہے کہ ہم اپنے ثقافتی سرمائے کی حفاظت کریں، اسے فروغ دیں اور آنے والی نسلوں تک پوری آب و تاب کے ساتھ منتقل کریں۔
٭٭٭٭

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

آج سے امریکہ اور ایران کے بیچ نئے مذاکرات شروع ہوں گے: ڈونلڈ ٹرمپ

واشنگٹن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے...

مایا جال

  فاضل شفیع بٹ اکنگام، انت ناگ "یار شیدے! میرا سارا کاروبار...

بچوں کی اسلامی تربیت وقت کی اہم ترین ضرورت

پیر اقبال رشید اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات...

ایامم جاہلیہ کے سات قصیدے (سبعۃ المعلقات)

ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی ایامِ جاہلیہ کی شاعری میں ہمیں...

حجاب، مذہبی شناخت اور عالمی ضمیراصول یا دوہرا معیار؟

  مسعود محبوب خان دنیا میں انسان کی شناخت صرف اس...

تازہ ترین خبریں

آج سے امریکہ اور ایران کے بیچ نئے مذاکرات شروع ہوں گے: ڈونلڈ ٹرمپ

واشنگٹن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے...

مایا جال

  فاضل شفیع بٹ اکنگام، انت ناگ "یار شیدے! میرا سارا کاروبار...

بچوں کی اسلامی تربیت وقت کی اہم ترین ضرورت

پیر اقبال رشید اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات...

ایامم جاہلیہ کے سات قصیدے (سبعۃ المعلقات)

ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی ایامِ جاہلیہ کی شاعری میں ہمیں...

حجاب، مذہبی شناخت اور عالمی ضمیراصول یا دوہرا معیار؟

  مسعود محبوب خان دنیا میں انسان کی شناخت صرف اس...

جموں و کشمیرتخلیقی قوت کا اعتراف

جمہوریہ ہند کی 2026 کی یومِ جمہوریہ پریڈ میں جموں و کشمیر کے ٹیبلو کا قومی سطح پر دوسری پوزیشن حاصل کرنا بلاشبہ ایک تاریخی اور قابلِ فخر لمحہ ہے۔ یہ کامیابی نہ صرف یونین ٹیریٹری کے عوام کے لئے مسرت کا باعث ہے بلکہ اس حقیقت کا بھی واضح ثبوت ہے کہ جموں و کشمیر کی ثقافت، روایات اور فنونِ لطیفہ آج بھی اپنی جاذبیت اور معنویت برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
یومِ جمہوریہ کی پریڈ ملک کا سب سے باوقار اور نمایاں قومی اسٹیج سمجھی جاتی ہے، جہاں ہر ریاست اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقے اپنی تہذیبی جھلک پیش کرتے ہیں۔ ایسے میں جموں و کشمیر کے ٹیبلو کو یہ اعزاز ملنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہاں کی تہذیب محض ماضی کی یادگار نہیں بلکہ ایک زندہ، متحرک اور ہمہ جہت ورثہ ہے جو پورے ملک کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔یہ اعتراف ان فنکاروں، کاریگروں اور تخلیق کاروں کی محنت کا نتیجہ ہے جنہوں نے جموں و کشمیر کی روح کو رنگ، علامت اور منظر کے ذریعے قومی منظرنامے پر اجاگر کیا۔ اس ٹیبلو میں جھلکتی ثقافتی ہم آہنگی، روایتی حسن اور فنی باریکی دراصل اس خطے کی شناخت اور اس کے عوام کے جذبے کی عکاس ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ اس کامیابی کو محض ایک لمحاتی خوشی تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ اسے ثقافتی فروغ، سیاحت کے استحکام اور نوجوان نسل میں اپنی تہذیب پر فخر پیدا کرنے کے لئے بنیاد بنایا جائے۔ جب کسی خطے کی ثقافت کو قومی سطح پر پہچان ملتی ہے تو اس کے اثرات سماجی اعتماد، تخلیقی مواقع اور مجموعی ترقی کی صورت میں ظاہر ہوتے ہیں۔جموں و کشمیر کے ٹیبلو کی یہ کامیابی ہم سب کے لئے ایک پیغام ہے کہ اپنی شناخت، اپنی روایت اور اپنے فن پر یقین ہی وہ راستہ ہے جو قوموں کو عزت اور دوام بخشتا ہے۔ یہ اعتراف اس امر کا تقاضا کرتا ہے کہ ہم اپنے ثقافتی سرمائے کی حفاظت کریں، اسے فروغ دیں اور آنے والی نسلوں تک پوری آب و تاب کے ساتھ منتقل کریں۔
٭٭٭٭

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں