بلال بشیر بٹ
سرینگر/ جنگ نیوز /امیرا کدل کے نئے تعمیر شدہ لکڑی کے پل کی افتتاحی تقریب کے فوراً بعد سرینگر میں عوامی جوش و خروش کا غیر معمولی منظر دیکھنے کو ملا، جہاں پہلے ہی دن تقریباً 35 ہزار افراد نے اس تاریخی پل کا رخ کیا اور اس کی نئی شکل و صورت کا مشاہدہ کیا۔ عوام کی یہ بڑی تعداد اس بات کی عکاس ہے کہ امیرا کدل محض ایک پل نہیں بلکہ سرینگر کی تہذیبی شناخت اور اجتماعی یادداشت کا اہم حصہ ہے۔
نئے لکڑی کے امیرا کدل پل کی تعمیر کے ساتھ سرینگر کی روح کو ایک نئی آواز ملی ہے، جہاں تاریخ، ثقافت اور ترقی ایک حسین امتزاج کے ساتھ جلوہ گر نظر آتی ہیں۔ کشمیری تہذیب کی لازوال روایت کی ترجمانی کرتا یہ پل صرف لکڑی اور ڈیزائن کا شاہکار نہیں بلکہ وادی کی صدیوں پرانی تعمیراتی وراثت اور شناخت کی جیتی جاگتی علامت ہے۔
امیرا کدل پل کی افتتاحی تقریب کشمیر کے لیے ایک قابل فخر لمحہ ثابت ہوئی، کیونکہ اس منصوبے کے ذریعے سرینگر کی روایتی لکڑی کی تعمیراتی طرز کو نہایت خوبصورتی کے ساتھ زندہ کیا گیا ہے۔ یہ پل محض آمد و رفت کا ذریعہ نہیں بلکہ کشمیری دستکاری اور کلاسیکی طرز تعمیر کی علامت بن کر ابھرا ہے۔ سرینگر اسمارٹ سٹی منصوبے کے تحت تعمیر ہونے والا یہ پل اس بات کی بہترین مثال ہے کہ جدید شہری ترقی کس طرح ماضی کے احترام کے ساتھ آگے بڑھ سکتی ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر جموں و کشمیر شری منوج سنہا نے منگل کے روز سرینگر میں دوبارہ تعمیر شدہ امیرا کدل پل کا افتتاح کیا۔ سرینگر اسمارٹ سٹی لمیٹڈ کے تحت سات کروڑ ستر لاکھ روپے کی لاگت سے مکمل ہونے والا یہ منصوبہ دسمبر 2023 میں شروع کیا گیا تھا، جس میں ورثے کے تحفظ، ساختی سلامتی اور معیار پر خصوصی توجہ دی گئی۔
پل کو عوام کے نام وقف کرتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ یہ تاریخی اہمیت کا حامل منصوبہ نہ صرف شہر کی وراثت کو محفوظ رکھے گا بلکہ شہری نقل و حرکت اور معیار زندگی میں بھی نمایاں بہتری لائے گا۔
انہوں نے کہا کہ ہماری بنیادی ترجیح جدید ٹیکنالوجی اور شمولیتی ڈیزائن کے ذریعے عوام کے معیار زندگی کو ایک نئی سطح تک لے جانا ہے۔ ہر شہر کی روح کو محفوظ رکھتے ہوئے بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور تجدید کو ہماری حکمت عملی کا حصہ بنایا گیا ہے۔ تاریخی گلیوں، پلوں، روایتی بازاروں، عوامی مقامات اور سبز علاقوں کو محفوظ رکھ کر سہولیات کو شہر کی ثقافتی دھڑکن سے جوڑا جا رہا ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے زور دیا کہ شہری ترقی کو ماضی کی وراثت اور موجودہ دور کی ضروریات کے درمیان ایک مضبوط ربط بننا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کے مختلف شہروں میں یہ سوچ عملی شکل اختیار کر چکی ہے۔
انہوں نے جہلم ریور فرنٹ، لال چوک اور ایم اے روڈ کی تجدید، پولو ویو ہائی اسٹریٹ، بٹہ ملو میں روایتی سوق مارکیٹ اور کرافٹ سینٹر، نشات سے نسیم باغ حبک تک جھیل کنارے واک ویز، دریائے جہلم کے گھاٹوں کی بہتری، شہر خاص کے تاریخی بازاروں کی فساڈ بہتری، ڈوگرہ چوک سے کے سی چوک تک سڑکوں کی بہتری، اپسرا روڈ، کینال روڈ تالاب ٹلو، مبارک منڈی سے رگھوناتھ بازار تک ترقیاتی منصوبے، رنبیر کینال بلیو گرین واک وے اور تاوی ریور فرنٹ جیسے منصوبوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان اقدامات سے نہ صرف سیاحت کو فروغ ملا ہے بلکہ مقامی کاروبار اور معیشت کو بھی نئی توانائی حاصل ہوئی ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ ثقافتی ورثے کے تحفظ کے ذریعے شہروں میں نئی جان ڈالنا دراصل اپنی جڑوں سے وابستگی کا اظہار ہے اور یہ عمل نوجوان نسل کے لیے ایک مضبوط اور روشن مستقبل کی بنیاد رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایک حقیقی اسمارٹ سٹی صرف نئی عمارتوں کا نام نہیں بلکہ ایک ایسا طرز زندگی ہے جو متحرک، موثر اور سب کے لیے یکساں مواقع فراہم کرے۔
بعد ازاں مقامی دکانداروں اور تاجروں سے بات چیت کرتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ پیدل چلنے والوں کے لیے مخصوص اس پل کی بدولت رسائی میں بہتری آئے گی، تجارتی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا اور سیاحوں کے لیے ایک خوشگوار تجربہ میسر آئے گا۔
افتتاحی تقریب میں لال چوک سے رکن اسمبلی احسن پردیسی، ڈویژنل کمشنر کشمیر انشل گرگ، آئی جی پی کشمیر وی کے بردی، ڈپٹی کمشنر سرینگر اکشے لابرو، سی ای او سرینگر اسمارٹ سٹی لمیٹڈ فضل الحسیب، سینئر افسران، تجارتی انجمنوں کے نمائندگان اور شہر کے معزز شہریوں نے شرکت کی۔
امیرا کدل کی تاریخ
امیراکدل اٹھارہویں صدی کے اواخر میں افغان دورِ حکومت کے دوران تعمیر کیا گیا۔ یہ پل 1774 سے 1777 کے درمیان امیر خان جوان شیر نے تعمیر کرایا، جو درّانی سلطنت کے تحت کشمیر کے افغان گورنر تھے۔
یہ سرینگر کی طویل تاریخ میں دریائے جہلم پر تعمیر ہونے والے اہم پلوں میں سے ایک آخری بڑے پلوں میں شمار ہوتا ہے۔


