جنگ نیوز ڈیسک
بارہمولہ کے قاضی ناگ نیشنل پارک میں مارخور کے مبینہ غیر قانونی شکار اور اس کے سر و سینگوں کی اسمگلنگ سے متعلق الزامات نے جموں و کشمیر میں جنگلی حیات کے انتظامی نظام پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ اس معاملے پر جے اینڈ کے آر ٹی آئی موومنٹ، پیر پنجال کنزرویشن فاؤنڈیشن، فارسٹ رائٹس کولیشن، سول سوسائٹی فار جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ، گوجر بکر وال یوتھ ویلفیئر کانفرنس اور نیچر کنزروینسی الائنس نے ایک مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
بیان کے مطابق مارخور، جو وائلڈ لائف پروٹیکشن ایکٹ 1972 کے تحت شیڈول ون میں شامل اور آئی یو سی این کی فہرست میں نیئر تھریٹنڈ قرار دیا گیا ہے، بھارت میں اپنی واحد قابل ذکر آبادی قاضی ناگ میں رکھتا ہے۔ اس جانور کے شکار یا اس سے متعلق کسی بھی غیر قانونی سرگرمی کو سنگین مجرمانہ اور ماحولیاتی جرم قرار دیا گیا ہے۔
سول سوسائٹی پلیٹ فارمز نے ایک مبینہ ویڈیو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر محکمہ وائلڈ لائف پروٹیکشن یا نام نہاد مارخور واچرز پروگرام سے وابستہ افراد اس میں ملوث پائے گئے تو یہ تحفظِ فطرت کے نظام کی مکمل ناکامی اور عوامی اعتماد کی سنگین خلاف ورزی ہوگی۔ بیان میں اس رجحان پر بھی تشویش ظاہر کی گئی کہ اکثر مقامی چراگاہی برادریوں خصوصاً گوجر اور بکر وال کو قربانی کا بکرا بنایا جاتا ہے، جبکہ بااثر این جی اوز اور افسران کو تحفظ فراہم کیا جاتا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران مارخور کے تحفظ کے نام پر کروڑوں روپے خرچ کیے جانے کے دعوے کیے گئے، مگر شفافیت، جوابدہی اور زمینی نتائج کا فقدان اس پورے نظام کو مشکوک بناتا ہے۔ اسی طرح جموں و کشمیر وائلڈ لائف بورڈ پر بھی الزام عائد کیا گیا کہ وہ ایک خودمختار ادارے کے بجائے محض رسمی منظوری دینے والا فورم بن کر رہ گیا ہے۔
سول سوسائٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے کی آزاد اور وقت مقررہ میں تحقیقات کرائی جائیں، تمام تحفظاتی فنڈز کا خصوصی اور سماجی آڈٹ ہو، ذمہ دار افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے، وائلڈ لائف بورڈ کی ازسرنو تشکیل کی جائے اور تحفظِ فطرت کے منصوبوں میں این جی اوز کی اجارہ داری ختم کر کے شفاف اور مسابقتی نظام نافذ کیا جائے۔
بیان کے اختتام پر کہا گیا کہ جنگلی حیات کا تحفظ بدعنوانی کے پردے کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا، اور اگر بروقت اور فیصلہ کن اقدامات نہ کیے گئے تو عوام کا اعتماد ناقابل تلافی طور پر مجروح ہو جائے گا۔


