جموں و کشمیر میں سڑک حادثات پر گفتگو عموماً شاہراہوں اور مرکزی سڑکوں تک محدود رہتی ہے، حالانکہ ایک تلخ حقیقت یہ ہے کہ رہائشی علاقوں کی اندرونی سڑکیں، گلیاں اور ذیلی گزرگاہیں بھی خاموش مگر سنگین حادثات کا مرکز بنتی جا رہی ہیں۔ ان مقامات پر ہونے والے کئی حادثات یا تو رپورٹ ہی نہیں ہوتے یا اس وقت سامنے آتے ہیں جب ناقابلِ تلافی نقصان ہو چکا ہوتا ہے۔
سری نگر کے لال بازار، صورہ، نوشہرہ، بژھ پورہ، الٰہی باغ، اونتھ بھون، نوشہرہ اور ملحقہ علاقوں سے سامنے آنے والی رپورٹس اس تشویشناک رجحان کی واضح نشاندہی کرتی ہیں۔ تنگ رہائشی سڑکیں، جو بنیادی طور پر پیدل چلنے والوں، بچوں اور بزرگوں یا موٹر سائیکل کے لئے محفوظ ہونی چاہئیں، بعض خود غرض افراد کے لئے شارٹ کٹ راستے بن چکی ہیں۔ اندرونی سڑکوں پر اسپیڈ بریکرز اور تنبیہی علامات کی عدم موجودگی میں تیز رفتار گاڑیاں انسانی جانوں کو مسلسل خطرے میں ڈال رہی ہیں۔
وقت بچانے کی خاطر بعض افراد جان بوجھ کر گنجان آبادی والے راستوں کا انتخاب کرتے ہیں، جس کا خمیازہ مقامی باشندوں کو بھگتنا پڑتا ہے۔ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ چونکہ یہ سڑکیں باضابطہ طور پر حادثات کے خطرے والے مقامات میں شمار نہیں ہوتیں، اس لئے یہاں ہونے والے واقعات اکثر ریکارڈ کا حصہ نہیں بنتے۔
جموں و کشمیر ٹریفک پولیس کے لئے ضروری ہے کہ وہ سڑک تحفظ کے تصور کو صرف مرکزی شاہراہوں تک محدود نہ رکھے۔ ایک مؤثر شکایتی سیل کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے، جہاں رہائشی علاقوں میں ہونے والی تیز رفتاری، غیر ذمہ دارانہ ڈرائیونگ اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں کو درج کر کے ان کے خلاف کارروائی کی جا سکے۔
اس کے ساتھ ساتھ اندرونی سڑکوں پر فوری طور پر اسپیڈ بریکرز، عکاس سائن بورڈز، پیدل چلنے والوں کے لئے نشانات اور رفتار کی حد متعین کرنے والے اشارے نصب کیے جانے چاہئیں۔ حساس علاقوں میں نگرانی کیمرے اور باقاعدہ گشت بھی مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔
سڑکوں کی حفاظت صرف انتظامیہ کی نہیں بلکہ شہریوں کی بھی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اندرونی سڑکیں رہائشی زندگی کا حصہ ہیں، نہ کہ تیز رفتاری کے تجربات کی جگہ۔ اگر اس حقیقت کو نظر انداز کیا گیا تو وہ حادثات جن سے بچا جا سکتا تھا، ہمارے لئے مستقل المیے بنتے رہیں گے۔
اندرونی سڑکیں بھی محفوظ نہیں
اندرونی سڑکیں بھی محفوظ نہیں
جموں و کشمیر میں سڑک حادثات پر گفتگو عموماً شاہراہوں اور مرکزی سڑکوں تک محدود رہتی ہے، حالانکہ ایک تلخ حقیقت یہ ہے کہ رہائشی علاقوں کی اندرونی سڑکیں، گلیاں اور ذیلی گزرگاہیں بھی خاموش مگر سنگین حادثات کا مرکز بنتی جا رہی ہیں۔ ان مقامات پر ہونے والے کئی حادثات یا تو رپورٹ ہی نہیں ہوتے یا اس وقت سامنے آتے ہیں جب ناقابلِ تلافی نقصان ہو چکا ہوتا ہے۔
سری نگر کے لال بازار، صورہ، نوشہرہ، بژھ پورہ، الٰہی باغ، اونتھ بھون، نوشہرہ اور ملحقہ علاقوں سے سامنے آنے والی رپورٹس اس تشویشناک رجحان کی واضح نشاندہی کرتی ہیں۔ تنگ رہائشی سڑکیں، جو بنیادی طور پر پیدل چلنے والوں، بچوں اور بزرگوں یا موٹر سائیکل کے لئے محفوظ ہونی چاہئیں، بعض خود غرض افراد کے لئے شارٹ کٹ راستے بن چکی ہیں۔ اندرونی سڑکوں پر اسپیڈ بریکرز اور تنبیہی علامات کی عدم موجودگی میں تیز رفتار گاڑیاں انسانی جانوں کو مسلسل خطرے میں ڈال رہی ہیں۔
وقت بچانے کی خاطر بعض افراد جان بوجھ کر گنجان آبادی والے راستوں کا انتخاب کرتے ہیں، جس کا خمیازہ مقامی باشندوں کو بھگتنا پڑتا ہے۔ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ چونکہ یہ سڑکیں باضابطہ طور پر حادثات کے خطرے والے مقامات میں شمار نہیں ہوتیں، اس لئے یہاں ہونے والے واقعات اکثر ریکارڈ کا حصہ نہیں بنتے۔
جموں و کشمیر ٹریفک پولیس کے لئے ضروری ہے کہ وہ سڑک تحفظ کے تصور کو صرف مرکزی شاہراہوں تک محدود نہ رکھے۔ ایک مؤثر شکایتی سیل کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے، جہاں رہائشی علاقوں میں ہونے والی تیز رفتاری، غیر ذمہ دارانہ ڈرائیونگ اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں کو درج کر کے ان کے خلاف کارروائی کی جا سکے۔
اس کے ساتھ ساتھ اندرونی سڑکوں پر فوری طور پر اسپیڈ بریکرز، عکاس سائن بورڈز، پیدل چلنے والوں کے لئے نشانات اور رفتار کی حد متعین کرنے والے اشارے نصب کیے جانے چاہئیں۔ حساس علاقوں میں نگرانی کیمرے اور باقاعدہ گشت بھی مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔
سڑکوں کی حفاظت صرف انتظامیہ کی نہیں بلکہ شہریوں کی بھی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اندرونی سڑکیں رہائشی زندگی کا حصہ ہیں، نہ کہ تیز رفتاری کے تجربات کی جگہ۔ اگر اس حقیقت کو نظر انداز کیا گیا تو وہ حادثات جن سے بچا جا سکتا تھا، ہمارے لئے مستقل المیے بنتے رہیں گے۔


