خاتمے کا رواج اور تنہائی کا زہر

 

شبیر احمد میر

آسمان پر پھیلے ہوئے بادلوں کا سایہ گہر ا ہونے لگا اور اندھیر امیری روح پر ہر سمت سے یلغار کررہا تھا ۔اس وقت میں بالکل تہنا تھا ۔ایسی سہانی شام میں ،میں کچھ زیادہ ہی مسرور ہو ا تھا ۔کیونکہ جب دل خوش ہوتا ہے تو ساری فضا مسکراتی نظرآتی ہے اور انسان خود بخود گنگنانے لگتا ہے ۔میں خوش اس لیے تھا کیونکہ کچھ ہی گھنٹوں کے بعد دنیا میں آنے کا سفر میرا شروع ہونے والا تھا۔ قدموں کی آہٹ سن کی میں چونک گیا۔ پیچھے مڑ کر دیکھا۔ میری بہن جس کو پیار سے میں دیدی کہا کرتا تھا ۔وہ میری طرف قدم بڑھا رہی تھی ۔تھوڑی دیر کے بعد وہ میرے سامنے کھڑی ہو گیٔ اور مجھے سر سے پیر تک کچھ عجیب انداز میں دیکھنے لگی ۔میں نے محسوس کیا اسکی آنکھوں میں میرے لے ماں کی طرح ممتا کا پیار جھلک رہا تھا ۔میں نے سنھبل کر کہا ۔
دیدی! جب سے یہ کائنات بنی ہے ہم روحیں ایک دوسرے کو دیکھتے چلے آرہے ہیں ۔مگر آج میں آپ کی آنکھوں میں عجیب قسم کی کیفیت محسوس کررہا ہوں جو اس سے پہلے میں نے کبھی محسوس نہیں کی ۔یہ سنتے ہی اسکی بڑی بڑی روشن آنکھوں سے آنسو کے قطرے ٹپکنے لگے ۔آنکھوں کی پتلیاں خوفناک انداز میں پھیل گیئں ۔ گردن اکڑ گئی ۔اور سانسیں زور زور سے چلنے لگیں۔ میری دونوں کلائیوں کو پکڑا اور میرے ہاتھوں کو پیار کرتے ہوئے بولی ۔میں تم پر واری جائوں ۔ہم بہہنیں جب محبت کرنے پر آتی ہیں۔ تو تاریخ رقم کرتی ہیں ۔میں نے محسوس کیا اسکی نبض تھم چکی تھی ۔دھڑکن رک چکی تھی ۔دل وحشی ہو چکا تھا مگر پھر بھی اس کے چہرے پر بلا کا سکون تھا ۔میرے کندھے پر سرٹکا دیا ور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی ۔ نیم دیوانگی کی حالت میں وہ میرے کندھے سے اپنے سر پٹخنے لگی اور بے اختیار آنسو بہانے لگی۔
اس کی حالت دیکھ کر میرے دل نے چاہا کہ اسے بازئوں میں اٹھا کر اڑتا ہو اکسی مافوق الفطرت مسیحا کے جا پہنچوں جو اس کے اندر چھپے ہوئے سارے زخموں کو مند مل کر کے اس میںنئی روح پھونک دے ۔اس کی وحشت کا کوئی علاج کرے ۔ میری آواز شدت جذبات سے کانپ رہی تھی اورمیں نے کہا ۔
میری جدائی سے آپ اتنی جذباتی ہورہی ہیں ۔ اس دنیا میں جا کر شاید ہی آپ کا یہ منظر میں بھول پائوں گا ۔ آپ کو اس انداز میںدیکھ کر مجھے وحشت ہو رہی ہے ۔جب بھی آپ میرے ساتھ چلتی تھیں تو میرا دل چاہتا تھا کہ یا تو رستے طویل ہوں یا وقت تھم جائے۔ اس وقت میں سوچتا ہوں۔ میں کب آپ سے جدا ہو جائوں ۔ کیا ہو گیا آپ کو؟ خدا کے لیے کچھ تو صبر کیجیئے ۔ اس نے ٹھنڈی سانس بھر کر توقف کیا اور فیصلے کن لہجے میںکہا۔ تو مجھ سے جدا ہو رہا ہے۔ مجھے ڈر ہے میں تمہیں دوبارہ دیکھ پائو گی بھی کہ نہیں ۔
کیا بات کررہی ہو دیدی؟ آ پ مجھے دوبارہ کیوں نہیںدیکھ پاو گی۔ میرے بعد تجھے بھی اس دنیا میں آنا ہے۔ ہمارا ایک گھر ہے۔ ایک ہی ماں باپ ہیں۔ جب آپ اس دنیا میں آو گی مجھے ایسا لگے گا جیسے اللہ نے مجھے کسی انمول خزانے سے نوازا ۔ویسے آپ میرے لیے کسی انمول خزانے سے کم نہیں ۔اس وقت وہ سچ مچ چاندنی کی طرح اجلی اور کنول کی طرح حسین تھی وہ ایسی مقدس لگ رہی تھی کہ جسے دیکھ کر دل بے اختیار اس کے قدموں سے لپٹ جانے کو مچل جائے۔ جیسے کسی ماہر سنگ تراش نے محبت کی دیوی کو سفید پھتر کے پیکر میں منتقل کر دیا ہو ۔میں نے سر کو جھٹکا دے کر خیالوں کو توڑا اور پیاربھری نظروں سے پھر مخاطب ہو ااور کہا۔ کچھ ہی منٹوں کے بعد میں آپ سے جد ہو رہا ہوں ۔مجھے ایسا لگ رہا ہے جیسے میری یہ عزیز جان مجھ سے کوئی چھین رہا ہے ۔جتنا پیار آپ نے مجھے یہاں دیا ہے دیدی ۔اس سے بھی کئی گنا زیادہ میں آپ کو اس دنیا میں کروں گا۔ میں آپ کے نازو نخرے اٹھائوں گا ۔آپ کے پائوں میں کبھی کانٹا نہیں چھبنے دوں گا ۔ آپ کی شادی دھوم دھا م سے کروں گا۔
دیدی کا چہرہ مرجھا گیا ۔میرے دل پر ایک چوٹ سی لگ گئی ۔اسکی آنکھوں سے ساوں بھادوں بہنے لگا۔ آنسو کا سیلاب دیکھ کر مجھے پورا عالم ارواح ہلتا ہو امحسوس ہوا ۔کچھ دیر کے بعد اس کے آنسو تھم گئے اور اپنے آپ کو سنبھالتے ہوئے میری طرف دیکھ کر بولی !اس دنیا میں آنے سے پہلے مجھے مار ڈالا جائے گا۔
ییہ سن کر میرا وجود کانپنے لگا اور نے حیران ہو کر کہا ۔یہ کیا بکواس ہے ؟ کون مار ڈالے گا تجھے۔ جب وہ خاموش رہی تو میںنے غصے میں آکر اپنی مھٹیاں بھنچی ۔غصے سے اپنے دانت پیستے ہوے زور سے چلاتے ہوے کہا ۔ صاف صاف بتاوکون مار ڈالے گا تجھے ؟ اس سے پہلے وہ تجھے ہاتھ لگا ئے میں اسکو صفحہ ہستی سے ہی مٹا دوں گا ۔خدا کے لیے کچھ تو بول ۔میں پاگل ہو جائوں گا ۔ اس کے چہرے کے نقوش میں ہلکا سا تخیر پید ہوا اس طرح جیسے پانی کی پر سکون سطح پر کسی چھوٹی کنکری نے انتشار پیدا کیا ہو ۔ دوسرے ہی لمحے وہ پر سکون لہجے میں بولی ۔ جب تو اس دنیا میں قدم رکھے گا تو تیری آمد کی خوشی میں ہر کوئی ناچ اٹھے گا ۔مٹھائیاں بانٹی جائیگی۔ تیرے نام کا صدقہ دیا جائے گا۔ ابوکو ایسا محسوس ہو گا جسیے پوری کائنات ان کو مل گئی۔ یہ جانتے ہوئے بھی۔ ہم بیٹیوں کے بغیر وہ دنیا بھی ادھوری ہے ۔تیری زندگی میں ایک وقت ایسا بھی آئے گا کہ تو اپنی زندگی میں ادھورا پن اور خلا ء محسوس کرے گا۔ ماں باپ کے ہوتے ہوئے بھی اکیلے پن کی زندگی سے بیزار ہو جائے گا۔ آپ کے اس خلاء کو ایک عورت ہی پر کر سکتی ہے ۔عورت کی رفاقت کے بغیر ادھورا پن دور نہیں ہو گا ۔ لڑکیاں نیک سیرت خوبصورت وفا شعار سلیقہ مند ہوتی ہیں بشرطیکہ زندہ رہیں ۔ اللہ تعالیٰ کے پیدا کئے ہوئے ہر انسان کا ایک ہی جذبہ ہے وہ ہے محبت محبت ۔ ہم اپنے طور پر اس پر فخر محسوس کرتے ہیں ۔مگر ہماری شفقت ہماری محبت ان لوگوں کے درمیان ہمیشہ ایک الجھن بنی رہتی ہے ۔پتہ نہیں وہ کون سا دن ہو گا جب وہ ہمیں اصلی حثیت سے قبول کریں گے ۔ہم اتنے بدنصیب ہیں کہ ہمیں اپنے ماںباپ کو دیکھنے کو موقع نہیں دیا جاتا۔ ایک جھلک بھی ہم ان کو ۔۔۔کہتے کہتے اسکی آواز دوبارہ بھر آئی اور آنسو دوبارہ بہنے شروع ہو گئے ۔سنبھل کر وہ میرے اور قریب آگئی اور التجا بھری نظروں سے میری طرف دیکھ کر کہا۔
میںتم سے ایک بات کی ضمانت چاہتی ہوں اور یہ ضمانت اپنا حق سمجھتی ہوں ۔ہر ایک کو معلوم ہے انسانیت نور کا دریا ہے جو ازل کی وادیوں سے نکل کر ابد کی راہوں میں بہتا ہے ۔مگر ابھی بھی اس دنیا کا معاشرہ صحت مند نہیں ہے کہ بہنوں اور بیٹیوں کو بھر پور حفاظت کر سکے ۔شدید ضرورت کی چھبن میں لڑکیوں کی شخصیت کچل کر رہ جاتی ہے ۔اولاد کی محبت ایسی چیر نہیں ہے جو دل سے ختم کی جاسکے وہ تو ایک ایسا اندھا اور بے رحم جذبہ ہے جو غربت کیء سختیوں میں اور بھی زیادہ پروان پاتا ہے۔ یہ فیصلہ اور بھی آسان ہو جاتا اگر ماں باپ صرف ایک پل کے لیے اپپنے اندر جھانک لیں اور یہی ایک فیصلہ لڑکی کا مقدر ہوتا ہے زندہ رہنے کا۔ ایک لڑکی کا مقدر کیا ہوتا ہے؟ ایک گھر۔ ایک اجنبی شوہر۔ چند زیورات اور تھوڑے سے ملبوسات ۔ان ہی چیزوں کے خواب لڑکیاں دیکھتی ہیں اور ان ہی چیزوں پر اپنی زندگی ٹیخ دیتی ہے اور یہ چیزیں پاکر زندگی کی تکمیل کر لیتی ہے ۔
اب میںتمہیں اصل موضوع سے روشناس کراتی ہوں۔ تم جس دنیا میں جا رہے ہو وہاں معاشرے میں خاتمے کا رواج عام ہوتا جارہا ہے میں کچھ زمہ داریاں آپ کے شانوں پر ڈال رہی ہوں ۔پہلے اس سماج کے کانٹے اپنے دل میں پیوست کر لیں تاکہ دوسرے کا درد آپ محسوس کر سکیں ۔ ایک بات یاد رکھیں ۔ بگڑے ہوے ماحول میں نیک آدمی کے بھی راہ راست سے بھٹک جانے کا خطرہ ہوتا ہے ۔کسی کو انسانیت کے لباس سے نکل کر پتھر کی صورت ڈھل جانے میں صدیاں نہیں لگتیں۔ اس سے نجات کی صورت صرف یہ ہے کہ آدمی اس ماحول سے پوری قوت کے ساتھ مسلسل جنگ کرتا رہے ۔شر کے مقابلے میں خیر کا داعی بن جائے اور جہاں کوئی خرابی نظر آئے اسکی اصلاح کے لیے فوراً دوڑپڑے۔ آپ اپنے دل میں ٹھان لیں۔ آپ اس وحشی رواج کو ختم کرنے کے لیے جارہے ہیں ۔ اگر آپ نے تھوڑی سی غفلت شعاری سے کام لیا تو دنیا میں کسی بھی صنف نازک کو نہیں دیکھ پاو گے۔ تیرے سامنے اور وہ بھی چند گز کے فاصلے پر خون بہے گا ۔کتنوں کوقتل کیا جائے گا ۔ انسانت قتل کرتے کرتے تھک جائے گی مگر ہمارا قتل ہو تا رہے گا اور آپ خاموش تماشائی بن کے یہ سب کچھ دیکھتے رہ جاو گے ۔ ٰ اس وقت آپ خود اپنے کانوںپر ہاتھ رکھو گے اور اپنی آنکھیںبند کر لو گے پھر کچھ نہیں ہو گا ۔ میں نے محسوس کیا اس وقت میری یہ پیاری بہن ایک بے سہارا اور کمزور لگ رہی تھی۔ جو اس خاتمے کے سمندر کی یلغار سے بچنا چاہتی تھی۔ میں نے آہ کے ساتھ اپنی نظریں شرم سے نیچے جھکا لیں اور دبی ہوئی آواز میں کہا ۔ آپ نے مجھے کس الجھن میں ڈال دیا ۔درد کے مارے میرا سر پھٹا جارہا ے ۔میرے ایک سوال کا جواب دو۔ آپ کو اس خاتمے کے رواج کے بارے میں سب معلوم ہے تو آپ کو یہ بھی معلوم ہو گا کہ کہاں کہاں کس کس جگہ پر یہ رواج پھیلا ہوا ہے ؟میں وعدہ کرتا ہوں میں اس معاشرے کو ۔اس سماج کو۔ جھنجوڑ کے رکھ دوں گا ۔ آس اور التجا بھری نظروں سے میری طرف دیکھتے ہوئے دیدی نے پھر کہا۔ ماں کائنات کا سب سے عظیم رشتہ اور باپ ایک لامحدود تحفظ کا امین ہوتا ہے۔ اس کے باوجود یہی ماں باپ اپنی ہی بچیوں کے قاتل بن جاتے ہیں۔ پیٹ میں ہی ان کو موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے اور یہ بے چاری بچیاں اپنی ہی زندگی سے ناآشنا ہو رہی ہیں جیسے کہ میں ۔لرزتے آنسو لیے پھر کہا۔ ابو جی کے گناہوں کا بوجھ تجھے ورثے میں مل جائے گا اور آپ ان کے گناہ و ثواب کا پلٹا برابر نہیں کر سکو گے۔ تو کیا تم اپنے ماں باپ کو مار ڈالو گے ؟ نہیں۔ نہیں !ایسا تم کچھ نہیں کرو گے۔ تمہیں صرف اس کے خلاف کوشش جاری رکھنی ہو گی وہ بھی مرتے دم تک۔ اس وقت میری آنکھوں میں بھی آنسو لرزنے لگے اور سینہ تان کر میں نے جواب دیا ۔میں وعدہ کرتا ہوں اگر میرا یہ معمولی سا وجود اس کام کے کسی بھی گوشے میں کام آسکتا ہے تو یقین جانیئے۔ میں اس گوشے کو سیچنے کے لیے اپنے خون کا ایک ایک قطرہ بہا دوں گا۔ سبحان اللہ! یہ جذبہ تم جیسے بھائیوں کو اللہ تعالیٰ ایمان جیسی وسعتیںنصیب کرے گا ۔آمین۔
ہماری زندگی کا دوسرا رخ۔ میں اس پر بھی روشنی ڈالنا چاہتی ہوں۔ زرا غور سے سننا ۔ ہمارے خلاف اس قدر ناکہ بندیاں کی جارہی ہیں کہ سانس لینا بھی دشوار ہو گیا ہے۔ ہمارا زندہ رہنا انتہائی تشویشناک ہو گیا ہے۔ ایک کے بعد دوسرا راستہ بند کیا جارہا ہے تاکہ ہم اس دنیا میںنہ رہیں۔ طرح طرح کے الزامات لگائے جارہے ہیں ۔ ہمارے خلاف بڑے پیمانے پر کاروائیاں ہوتی رہتی ہیں۔ جسکی وجہ سے ہماری زمین ہمارے لیے تنگ ہوتی جارہی ہے اور ہمیں ایک ہی راہ نظر آتی ہے وہ ہے خودکشی کی راہ۔ ہمیں زندہ جلایا جاتا ہے ۔ زہر دے کر تڑپ ترپ کے ماردیا جاتا ہے ۔ ہمارے چہرے پر تیزاب اور تیزاب کے بھٹی میں ہمیں جھونک دیا جاتا ہے۔ زندہ زمیں میں گاڑھ دیا جاتا ہے۔ بیمار پڑ جائیں تو علاج کے لے ایک دوائی کی ٹکیا نصیب نہیں ہوتی۔ اللہ کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔ اس طرح اصولی طور پر ہمارا وجود ختم ہونے جارہا ہے ۔ ہم نے کبھی کسی کو نقصان نہین پہنچایا۔ ہمارے سینے میں دودھ کی ندیا ں بہہ رہی ہیں۔ محبت کا نور ہمارے جسم میں اللہ نے کوٹ کوٹ کر بھرا ہے۔ پھر ایسا کیوں ہو رہا ہے ؟ ہمیں کیوں انسانیت کا دشمن ٹہرایا جاتا ہے ۔ہمارے لیے موت کو دعوت کیوں دی جاتی ہے؟ آخر کیوں ؟کیا قصور ہے ہمارا ؟ یادرکھیں روز محشر میںہمارا ہاتھ ہو گا اور ان کا گریبان ۔لاتعداد روکاوٹوں کے باوجود میرے بھائی ۔آپ کو اپنی منزل کی جانب سفر جاری رکھنا ہو گا ۔ ان لوگوں پر نظر رکھنی ضروری ہے جو دن رات ہمارے خاتمے کے لیے کوشاں ہیں ۔میںگھٹنوں کے بل بیٹھ گیا اور دیدی کے دونوں ہاتھوں کو مضبوطی سے پکڑتے ہوئے ٖغصے میں آ کر کہا۔
میں تیرے پیروں کی قسم کھا کر کہتا ہوں۔ جن کے نیچے میری جنت ہے اور وہ دنیا بھی ۔میںاپنی زندگی کی بازی لگا کر اس بربادی کو ختم کر کے ہی دم لوں گا اور آپ کی دعائوں کے ساتھ انشا اللہ کامیابی بھی حاصل کروں گا ۔صیح معنوں میں ایک انوکھا احساس دل میں جاگا ہے اور اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ مجھے حوصلہ دے ۔مجھے ہمت عطا کر ۔تاکہ میں فیصلہ کر سکوں کہ میں اپنی زندگی مجبوروں ۔مظلموں اور سماج کے ستائے ہوئے لوگوں کی خدمت میں صرف کر سکوں۔ نیا عزم نیا جذبہ دوسروں کے لیے زندہ رہنے کا حوصلہ لے کر میںنے دیدی کے ہاتھوں کو بوسہ دیا اور کھڑا ہو گیا ۔
میںنے دنیا کی طرف ایک قدم اٹھایا۔ میںدیکھ رہا تھا میرے جاتے ہی دیدی شاید بے ہوش ہو گی۔ مگر اس کی آنکھیں کھلی تھیں اس دفعہ وہ مجھے نہیں دیکھ رہی تھی۔ اس کی نظریں آسمان کی طرف مرکوز تھیں۔ شاید وہ اللہ سے شکوہ کررہی تھی کہ ایسا کیا گناہ کیا میں نے جس کی اتنی بڑی سزا ہمیں مل رہی ہے۔ آپ کیوں نہیں ان سے پوچھتے ہیں۔کب تک ان کو ڈھیل دیتا رہے گا۔ آخر کب تک؟ اگر آپ ان سے نہیں پوچھ سکتے تو قرآن میںآپ نے وعدہ کیا ہے کہ آپ ہم سے پوچھیں گے کہ میں کس قصور میں ماری گئی ۔ القرآن ۔التکویر (7-8)
میں نے آخری بار پیچھے مڑ کر دیکھا اور میرے کانوں میں یہ آواز گونجنے لگی۔ بھیا مت جائو مجھے چھوڑ کر۔ دیدی کے لہجے میں التجا تھی۔
یہ افسانہ مرحوم شبیر احمد میر کا تحریر کردہ ہے جو روزنامہ سری نگرجنگ کوموصوف کے فرزند میر عمران سے موصول ہوا۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

گزشتہ مضمون
اگلا مضمون

تازہ ترین خبریں

جموں سرینگر قومی شاہراہ پر سڑک حادثے میں ہریانہ کے تین افراد ہلاک

سرینگر۔ جموں کے نگروٹا علاقے میں اتوار کی اولین ساعتوں...

مجبور مسکراہٹ

ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی حسد ایک ایسی بیماری ہے کہ جب...

استاد کا پیشہ ایک قومی ذمہ داری ہے

محمد شبیر کھٹانہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی اور آئینی...

عمر سرکار کے 19 ماہ: کامیابیاں یا ناکامیاں؟

رشید پروینؔ  سوپور 3 جون 2026 کو این سی کا ایک گرینڈ...

خط

محمد شاکر لبانہ ڈنمارک کے تیسرے بڑے شہر آر ہوس...

تازہ ترین خبریں

جموں سرینگر قومی شاہراہ پر سڑک حادثے میں ہریانہ کے تین افراد ہلاک

سرینگر۔ جموں کے نگروٹا علاقے میں اتوار کی اولین ساعتوں...

مجبور مسکراہٹ

ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی حسد ایک ایسی بیماری ہے کہ جب...

استاد کا پیشہ ایک قومی ذمہ داری ہے

محمد شبیر کھٹانہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی اور آئینی...

عمر سرکار کے 19 ماہ: کامیابیاں یا ناکامیاں؟

رشید پروینؔ  سوپور 3 جون 2026 کو این سی کا ایک گرینڈ...

خط

محمد شاکر لبانہ ڈنمارک کے تیسرے بڑے شہر آر ہوس...

خاتمے کا رواج اور تنہائی کا زہر

 

شبیر احمد میر

آسمان پر پھیلے ہوئے بادلوں کا سایہ گہر ا ہونے لگا اور اندھیر امیری روح پر ہر سمت سے یلغار کررہا تھا ۔اس وقت میں بالکل تہنا تھا ۔ایسی سہانی شام میں ،میں کچھ زیادہ ہی مسرور ہو ا تھا ۔کیونکہ جب دل خوش ہوتا ہے تو ساری فضا مسکراتی نظرآتی ہے اور انسان خود بخود گنگنانے لگتا ہے ۔میں خوش اس لیے تھا کیونکہ کچھ ہی گھنٹوں کے بعد دنیا میں آنے کا سفر میرا شروع ہونے والا تھا۔ قدموں کی آہٹ سن کی میں چونک گیا۔ پیچھے مڑ کر دیکھا۔ میری بہن جس کو پیار سے میں دیدی کہا کرتا تھا ۔وہ میری طرف قدم بڑھا رہی تھی ۔تھوڑی دیر کے بعد وہ میرے سامنے کھڑی ہو گیٔ اور مجھے سر سے پیر تک کچھ عجیب انداز میں دیکھنے لگی ۔میں نے محسوس کیا اسکی آنکھوں میں میرے لے ماں کی طرح ممتا کا پیار جھلک رہا تھا ۔میں نے سنھبل کر کہا ۔
دیدی! جب سے یہ کائنات بنی ہے ہم روحیں ایک دوسرے کو دیکھتے چلے آرہے ہیں ۔مگر آج میں آپ کی آنکھوں میں عجیب قسم کی کیفیت محسوس کررہا ہوں جو اس سے پہلے میں نے کبھی محسوس نہیں کی ۔یہ سنتے ہی اسکی بڑی بڑی روشن آنکھوں سے آنسو کے قطرے ٹپکنے لگے ۔آنکھوں کی پتلیاں خوفناک انداز میں پھیل گیئں ۔ گردن اکڑ گئی ۔اور سانسیں زور زور سے چلنے لگیں۔ میری دونوں کلائیوں کو پکڑا اور میرے ہاتھوں کو پیار کرتے ہوئے بولی ۔میں تم پر واری جائوں ۔ہم بہہنیں جب محبت کرنے پر آتی ہیں۔ تو تاریخ رقم کرتی ہیں ۔میں نے محسوس کیا اسکی نبض تھم چکی تھی ۔دھڑکن رک چکی تھی ۔دل وحشی ہو چکا تھا مگر پھر بھی اس کے چہرے پر بلا کا سکون تھا ۔میرے کندھے پر سرٹکا دیا ور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی ۔ نیم دیوانگی کی حالت میں وہ میرے کندھے سے اپنے سر پٹخنے لگی اور بے اختیار آنسو بہانے لگی۔
اس کی حالت دیکھ کر میرے دل نے چاہا کہ اسے بازئوں میں اٹھا کر اڑتا ہو اکسی مافوق الفطرت مسیحا کے جا پہنچوں جو اس کے اندر چھپے ہوئے سارے زخموں کو مند مل کر کے اس میںنئی روح پھونک دے ۔اس کی وحشت کا کوئی علاج کرے ۔ میری آواز شدت جذبات سے کانپ رہی تھی اورمیں نے کہا ۔
میری جدائی سے آپ اتنی جذباتی ہورہی ہیں ۔ اس دنیا میں جا کر شاید ہی آپ کا یہ منظر میں بھول پائوں گا ۔ آپ کو اس انداز میںدیکھ کر مجھے وحشت ہو رہی ہے ۔جب بھی آپ میرے ساتھ چلتی تھیں تو میرا دل چاہتا تھا کہ یا تو رستے طویل ہوں یا وقت تھم جائے۔ اس وقت میں سوچتا ہوں۔ میں کب آپ سے جدا ہو جائوں ۔ کیا ہو گیا آپ کو؟ خدا کے لیے کچھ تو صبر کیجیئے ۔ اس نے ٹھنڈی سانس بھر کر توقف کیا اور فیصلے کن لہجے میںکہا۔ تو مجھ سے جدا ہو رہا ہے۔ مجھے ڈر ہے میں تمہیں دوبارہ دیکھ پائو گی بھی کہ نہیں ۔
کیا بات کررہی ہو دیدی؟ آ پ مجھے دوبارہ کیوں نہیںدیکھ پاو گی۔ میرے بعد تجھے بھی اس دنیا میں آنا ہے۔ ہمارا ایک گھر ہے۔ ایک ہی ماں باپ ہیں۔ جب آپ اس دنیا میں آو گی مجھے ایسا لگے گا جیسے اللہ نے مجھے کسی انمول خزانے سے نوازا ۔ویسے آپ میرے لیے کسی انمول خزانے سے کم نہیں ۔اس وقت وہ سچ مچ چاندنی کی طرح اجلی اور کنول کی طرح حسین تھی وہ ایسی مقدس لگ رہی تھی کہ جسے دیکھ کر دل بے اختیار اس کے قدموں سے لپٹ جانے کو مچل جائے۔ جیسے کسی ماہر سنگ تراش نے محبت کی دیوی کو سفید پھتر کے پیکر میں منتقل کر دیا ہو ۔میں نے سر کو جھٹکا دے کر خیالوں کو توڑا اور پیاربھری نظروں سے پھر مخاطب ہو ااور کہا۔ کچھ ہی منٹوں کے بعد میں آپ سے جد ہو رہا ہوں ۔مجھے ایسا لگ رہا ہے جیسے میری یہ عزیز جان مجھ سے کوئی چھین رہا ہے ۔جتنا پیار آپ نے مجھے یہاں دیا ہے دیدی ۔اس سے بھی کئی گنا زیادہ میں آپ کو اس دنیا میں کروں گا۔ میں آپ کے نازو نخرے اٹھائوں گا ۔آپ کے پائوں میں کبھی کانٹا نہیں چھبنے دوں گا ۔ آپ کی شادی دھوم دھا م سے کروں گا۔
دیدی کا چہرہ مرجھا گیا ۔میرے دل پر ایک چوٹ سی لگ گئی ۔اسکی آنکھوں سے ساوں بھادوں بہنے لگا۔ آنسو کا سیلاب دیکھ کر مجھے پورا عالم ارواح ہلتا ہو امحسوس ہوا ۔کچھ دیر کے بعد اس کے آنسو تھم گئے اور اپنے آپ کو سنبھالتے ہوئے میری طرف دیکھ کر بولی !اس دنیا میں آنے سے پہلے مجھے مار ڈالا جائے گا۔
ییہ سن کر میرا وجود کانپنے لگا اور نے حیران ہو کر کہا ۔یہ کیا بکواس ہے ؟ کون مار ڈالے گا تجھے۔ جب وہ خاموش رہی تو میںنے غصے میں آکر اپنی مھٹیاں بھنچی ۔غصے سے اپنے دانت پیستے ہوے زور سے چلاتے ہوے کہا ۔ صاف صاف بتاوکون مار ڈالے گا تجھے ؟ اس سے پہلے وہ تجھے ہاتھ لگا ئے میں اسکو صفحہ ہستی سے ہی مٹا دوں گا ۔خدا کے لیے کچھ تو بول ۔میں پاگل ہو جائوں گا ۔ اس کے چہرے کے نقوش میں ہلکا سا تخیر پید ہوا اس طرح جیسے پانی کی پر سکون سطح پر کسی چھوٹی کنکری نے انتشار پیدا کیا ہو ۔ دوسرے ہی لمحے وہ پر سکون لہجے میں بولی ۔ جب تو اس دنیا میں قدم رکھے گا تو تیری آمد کی خوشی میں ہر کوئی ناچ اٹھے گا ۔مٹھائیاں بانٹی جائیگی۔ تیرے نام کا صدقہ دیا جائے گا۔ ابوکو ایسا محسوس ہو گا جسیے پوری کائنات ان کو مل گئی۔ یہ جانتے ہوئے بھی۔ ہم بیٹیوں کے بغیر وہ دنیا بھی ادھوری ہے ۔تیری زندگی میں ایک وقت ایسا بھی آئے گا کہ تو اپنی زندگی میں ادھورا پن اور خلا ء محسوس کرے گا۔ ماں باپ کے ہوتے ہوئے بھی اکیلے پن کی زندگی سے بیزار ہو جائے گا۔ آپ کے اس خلاء کو ایک عورت ہی پر کر سکتی ہے ۔عورت کی رفاقت کے بغیر ادھورا پن دور نہیں ہو گا ۔ لڑکیاں نیک سیرت خوبصورت وفا شعار سلیقہ مند ہوتی ہیں بشرطیکہ زندہ رہیں ۔ اللہ تعالیٰ کے پیدا کئے ہوئے ہر انسان کا ایک ہی جذبہ ہے وہ ہے محبت محبت ۔ ہم اپنے طور پر اس پر فخر محسوس کرتے ہیں ۔مگر ہماری شفقت ہماری محبت ان لوگوں کے درمیان ہمیشہ ایک الجھن بنی رہتی ہے ۔پتہ نہیں وہ کون سا دن ہو گا جب وہ ہمیں اصلی حثیت سے قبول کریں گے ۔ہم اتنے بدنصیب ہیں کہ ہمیں اپنے ماںباپ کو دیکھنے کو موقع نہیں دیا جاتا۔ ایک جھلک بھی ہم ان کو ۔۔۔کہتے کہتے اسکی آواز دوبارہ بھر آئی اور آنسو دوبارہ بہنے شروع ہو گئے ۔سنبھل کر وہ میرے اور قریب آگئی اور التجا بھری نظروں سے میری طرف دیکھ کر کہا۔
میںتم سے ایک بات کی ضمانت چاہتی ہوں اور یہ ضمانت اپنا حق سمجھتی ہوں ۔ہر ایک کو معلوم ہے انسانیت نور کا دریا ہے جو ازل کی وادیوں سے نکل کر ابد کی راہوں میں بہتا ہے ۔مگر ابھی بھی اس دنیا کا معاشرہ صحت مند نہیں ہے کہ بہنوں اور بیٹیوں کو بھر پور حفاظت کر سکے ۔شدید ضرورت کی چھبن میں لڑکیوں کی شخصیت کچل کر رہ جاتی ہے ۔اولاد کی محبت ایسی چیر نہیں ہے جو دل سے ختم کی جاسکے وہ تو ایک ایسا اندھا اور بے رحم جذبہ ہے جو غربت کیء سختیوں میں اور بھی زیادہ پروان پاتا ہے۔ یہ فیصلہ اور بھی آسان ہو جاتا اگر ماں باپ صرف ایک پل کے لیے اپپنے اندر جھانک لیں اور یہی ایک فیصلہ لڑکی کا مقدر ہوتا ہے زندہ رہنے کا۔ ایک لڑکی کا مقدر کیا ہوتا ہے؟ ایک گھر۔ ایک اجنبی شوہر۔ چند زیورات اور تھوڑے سے ملبوسات ۔ان ہی چیزوں کے خواب لڑکیاں دیکھتی ہیں اور ان ہی چیزوں پر اپنی زندگی ٹیخ دیتی ہے اور یہ چیزیں پاکر زندگی کی تکمیل کر لیتی ہے ۔
اب میںتمہیں اصل موضوع سے روشناس کراتی ہوں۔ تم جس دنیا میں جا رہے ہو وہاں معاشرے میں خاتمے کا رواج عام ہوتا جارہا ہے میں کچھ زمہ داریاں آپ کے شانوں پر ڈال رہی ہوں ۔پہلے اس سماج کے کانٹے اپنے دل میں پیوست کر لیں تاکہ دوسرے کا درد آپ محسوس کر سکیں ۔ ایک بات یاد رکھیں ۔ بگڑے ہوے ماحول میں نیک آدمی کے بھی راہ راست سے بھٹک جانے کا خطرہ ہوتا ہے ۔کسی کو انسانیت کے لباس سے نکل کر پتھر کی صورت ڈھل جانے میں صدیاں نہیں لگتیں۔ اس سے نجات کی صورت صرف یہ ہے کہ آدمی اس ماحول سے پوری قوت کے ساتھ مسلسل جنگ کرتا رہے ۔شر کے مقابلے میں خیر کا داعی بن جائے اور جہاں کوئی خرابی نظر آئے اسکی اصلاح کے لیے فوراً دوڑپڑے۔ آپ اپنے دل میں ٹھان لیں۔ آپ اس وحشی رواج کو ختم کرنے کے لیے جارہے ہیں ۔ اگر آپ نے تھوڑی سی غفلت شعاری سے کام لیا تو دنیا میں کسی بھی صنف نازک کو نہیں دیکھ پاو گے۔ تیرے سامنے اور وہ بھی چند گز کے فاصلے پر خون بہے گا ۔کتنوں کوقتل کیا جائے گا ۔ انسانت قتل کرتے کرتے تھک جائے گی مگر ہمارا قتل ہو تا رہے گا اور آپ خاموش تماشائی بن کے یہ سب کچھ دیکھتے رہ جاو گے ۔ ٰ اس وقت آپ خود اپنے کانوںپر ہاتھ رکھو گے اور اپنی آنکھیںبند کر لو گے پھر کچھ نہیں ہو گا ۔ میں نے محسوس کیا اس وقت میری یہ پیاری بہن ایک بے سہارا اور کمزور لگ رہی تھی۔ جو اس خاتمے کے سمندر کی یلغار سے بچنا چاہتی تھی۔ میں نے آہ کے ساتھ اپنی نظریں شرم سے نیچے جھکا لیں اور دبی ہوئی آواز میں کہا ۔ آپ نے مجھے کس الجھن میں ڈال دیا ۔درد کے مارے میرا سر پھٹا جارہا ے ۔میرے ایک سوال کا جواب دو۔ آپ کو اس خاتمے کے رواج کے بارے میں سب معلوم ہے تو آپ کو یہ بھی معلوم ہو گا کہ کہاں کہاں کس کس جگہ پر یہ رواج پھیلا ہوا ہے ؟میں وعدہ کرتا ہوں میں اس معاشرے کو ۔اس سماج کو۔ جھنجوڑ کے رکھ دوں گا ۔ آس اور التجا بھری نظروں سے میری طرف دیکھتے ہوئے دیدی نے پھر کہا۔ ماں کائنات کا سب سے عظیم رشتہ اور باپ ایک لامحدود تحفظ کا امین ہوتا ہے۔ اس کے باوجود یہی ماں باپ اپنی ہی بچیوں کے قاتل بن جاتے ہیں۔ پیٹ میں ہی ان کو موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے اور یہ بے چاری بچیاں اپنی ہی زندگی سے ناآشنا ہو رہی ہیں جیسے کہ میں ۔لرزتے آنسو لیے پھر کہا۔ ابو جی کے گناہوں کا بوجھ تجھے ورثے میں مل جائے گا اور آپ ان کے گناہ و ثواب کا پلٹا برابر نہیں کر سکو گے۔ تو کیا تم اپنے ماں باپ کو مار ڈالو گے ؟ نہیں۔ نہیں !ایسا تم کچھ نہیں کرو گے۔ تمہیں صرف اس کے خلاف کوشش جاری رکھنی ہو گی وہ بھی مرتے دم تک۔ اس وقت میری آنکھوں میں بھی آنسو لرزنے لگے اور سینہ تان کر میں نے جواب دیا ۔میں وعدہ کرتا ہوں اگر میرا یہ معمولی سا وجود اس کام کے کسی بھی گوشے میں کام آسکتا ہے تو یقین جانیئے۔ میں اس گوشے کو سیچنے کے لیے اپنے خون کا ایک ایک قطرہ بہا دوں گا۔ سبحان اللہ! یہ جذبہ تم جیسے بھائیوں کو اللہ تعالیٰ ایمان جیسی وسعتیںنصیب کرے گا ۔آمین۔
ہماری زندگی کا دوسرا رخ۔ میں اس پر بھی روشنی ڈالنا چاہتی ہوں۔ زرا غور سے سننا ۔ ہمارے خلاف اس قدر ناکہ بندیاں کی جارہی ہیں کہ سانس لینا بھی دشوار ہو گیا ہے۔ ہمارا زندہ رہنا انتہائی تشویشناک ہو گیا ہے۔ ایک کے بعد دوسرا راستہ بند کیا جارہا ہے تاکہ ہم اس دنیا میںنہ رہیں۔ طرح طرح کے الزامات لگائے جارہے ہیں ۔ ہمارے خلاف بڑے پیمانے پر کاروائیاں ہوتی رہتی ہیں۔ جسکی وجہ سے ہماری زمین ہمارے لیے تنگ ہوتی جارہی ہے اور ہمیں ایک ہی راہ نظر آتی ہے وہ ہے خودکشی کی راہ۔ ہمیں زندہ جلایا جاتا ہے ۔ زہر دے کر تڑپ ترپ کے ماردیا جاتا ہے ۔ ہمارے چہرے پر تیزاب اور تیزاب کے بھٹی میں ہمیں جھونک دیا جاتا ہے۔ زندہ زمیں میں گاڑھ دیا جاتا ہے۔ بیمار پڑ جائیں تو علاج کے لے ایک دوائی کی ٹکیا نصیب نہیں ہوتی۔ اللہ کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔ اس طرح اصولی طور پر ہمارا وجود ختم ہونے جارہا ہے ۔ ہم نے کبھی کسی کو نقصان نہین پہنچایا۔ ہمارے سینے میں دودھ کی ندیا ں بہہ رہی ہیں۔ محبت کا نور ہمارے جسم میں اللہ نے کوٹ کوٹ کر بھرا ہے۔ پھر ایسا کیوں ہو رہا ہے ؟ ہمیں کیوں انسانیت کا دشمن ٹہرایا جاتا ہے ۔ہمارے لیے موت کو دعوت کیوں دی جاتی ہے؟ آخر کیوں ؟کیا قصور ہے ہمارا ؟ یادرکھیں روز محشر میںہمارا ہاتھ ہو گا اور ان کا گریبان ۔لاتعداد روکاوٹوں کے باوجود میرے بھائی ۔آپ کو اپنی منزل کی جانب سفر جاری رکھنا ہو گا ۔ ان لوگوں پر نظر رکھنی ضروری ہے جو دن رات ہمارے خاتمے کے لیے کوشاں ہیں ۔میںگھٹنوں کے بل بیٹھ گیا اور دیدی کے دونوں ہاتھوں کو مضبوطی سے پکڑتے ہوئے ٖغصے میں آ کر کہا۔
میں تیرے پیروں کی قسم کھا کر کہتا ہوں۔ جن کے نیچے میری جنت ہے اور وہ دنیا بھی ۔میںاپنی زندگی کی بازی لگا کر اس بربادی کو ختم کر کے ہی دم لوں گا اور آپ کی دعائوں کے ساتھ انشا اللہ کامیابی بھی حاصل کروں گا ۔صیح معنوں میں ایک انوکھا احساس دل میں جاگا ہے اور اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ مجھے حوصلہ دے ۔مجھے ہمت عطا کر ۔تاکہ میں فیصلہ کر سکوں کہ میں اپنی زندگی مجبوروں ۔مظلموں اور سماج کے ستائے ہوئے لوگوں کی خدمت میں صرف کر سکوں۔ نیا عزم نیا جذبہ دوسروں کے لیے زندہ رہنے کا حوصلہ لے کر میںنے دیدی کے ہاتھوں کو بوسہ دیا اور کھڑا ہو گیا ۔
میںنے دنیا کی طرف ایک قدم اٹھایا۔ میںدیکھ رہا تھا میرے جاتے ہی دیدی شاید بے ہوش ہو گی۔ مگر اس کی آنکھیں کھلی تھیں اس دفعہ وہ مجھے نہیں دیکھ رہی تھی۔ اس کی نظریں آسمان کی طرف مرکوز تھیں۔ شاید وہ اللہ سے شکوہ کررہی تھی کہ ایسا کیا گناہ کیا میں نے جس کی اتنی بڑی سزا ہمیں مل رہی ہے۔ آپ کیوں نہیں ان سے پوچھتے ہیں۔کب تک ان کو ڈھیل دیتا رہے گا۔ آخر کب تک؟ اگر آپ ان سے نہیں پوچھ سکتے تو قرآن میںآپ نے وعدہ کیا ہے کہ آپ ہم سے پوچھیں گے کہ میں کس قصور میں ماری گئی ۔ القرآن ۔التکویر (7-8)
میں نے آخری بار پیچھے مڑ کر دیکھا اور میرے کانوں میں یہ آواز گونجنے لگی۔ بھیا مت جائو مجھے چھوڑ کر۔ دیدی کے لہجے میں التجا تھی۔
یہ افسانہ مرحوم شبیر احمد میر کا تحریر کردہ ہے جو روزنامہ سری نگرجنگ کوموصوف کے فرزند میر عمران سے موصول ہوا۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

گزشتہ مضمون
اگلا مضمون