
شبیر احمد میر
کچھ عجب نہیں کہ ایک شے تم کو بری لگے اور وہ تمہارے حق میں بھلی ہو، اور کچھ عجب نہیں کہ ایک شے بھلی لگے اور وہ تمہارے حق میں مضر ہو۔ ان سب باتوں کو اللہ ہی بہتر جانتا ہے، تم نہیں جانتے۔
(القرآن، سورۂ بقرہ)
دروازہ کھلتے ہی سرد ہوا کا جھونکا اس کے چہرے سے ٹکرایا۔ بیٹے کو دیکھ کر وہ اپنی جگہ پر دم بخود رہ گیا۔ وہ بے کل ہو گیا۔ اسے لگا جیسے ایک کانٹا سا دل میں چبھ گیا ہے۔ ایک پھانس سی دل میں اٹک گئی ہے اور وہ سوچنے پر مجبور ہو گیا۔ کیا وہ بھی میری طرح ناشاد ہے؟ بے سکون ہے؟ پریشان ہے؟ پشیمان ہے؟ کتنا ہارا ہوا لگ رہا ہے؟ مجسمے کی طرح بے حس و حرکت اس کا بیٹا چپ چاپ دروازے میں کھڑا تھا۔ اس طرح اپنے باپ کو دیکھ رہا تھا جس طرح وہ اسے دیکھ رہا تھا، اور پھر اچانک دونوں کو ایک دوسرے کی موجودگی کا احساس ہو گیا۔ اس نے اپنی نظریں جھکا لیں، یا شاید کوئی ناراضگی کا جذبہ اس کے دل میں امڈ آیا۔ بیٹے کو دیکھ کر اس نے اپنے چہرے کو بالکل کھردرا اور اجنبی بنا لیا۔ اس کے اندر آندھیاں اٹھنے لگیں۔ سانسوں کا زہر و ہم اس کے اختیار میں نہیں رہا۔ رنگت اڑ گئی اور حیرت سے آنکھیں پھاڑے وہ اپنے بیٹے کو دوبارہ دیکھنے لگا، جیسے اس نے اسے پہچانا نہیں، یا دیکھا نہیں، یا جانا نہیں، یا پہلے کبھی دیکھا ہی نہ ہو۔ دیکھا تھا تو کہاں؟ کب؟ اسے اپنے بارے میں ایسا احساس ہوا کہ وہ ایک تنہا وجود ہے۔ اس کا کوئی گھر نہیں، کوئی ٹھکانہ نہیں۔ اپنے بیٹے کا مجھ سے کوئی ناتا نہیں، کوئی واسطہ نہیں۔ اور یہ سوچنے پر مجبور ہو گیا کہ اس دنیا میں کتنے لوگ یک طرفہ اولاد کی محبت کی آگ میں چپ چاپ جل جاتے ہیں اور زبان سے اف تک نہیں کرتے۔ نہ جانے کس وقت دکھتی ہوئی اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ لیکن ایک بات کا اس نے بالکل خیال نہ کیا۔ اس کی آنکھوں سے بہتے ہوئے آنسو اس کے بیٹے نے بھی دیکھ لیے۔
ایک امید کا رنگ اور ایک مایوسی کا۔ دونوں آمنے سامنے بیٹھ گئے اور گفتگو کے دوران وہ چن چن کر الفاظ ڈھونڈ کر لانے کی کوشش کر رہا تھا، اور بیٹے کے گرد الفاظ کا جال بننے لگا۔ یہ سوچ کر شاید کچھ اثر ہو، مگر ساتھ ساتھ اس کے ماتھے پر ناگواری کی لکیریں واضح انداز میں ابھرنے لگیں۔ اسی اضطراب کی حالت میں اپنے ہاتھوں کی انگلیاں مروڑنے لگا اور بولا:
میری سمجھ میں نہیں آتا، تم بچپن سے لے کر جوانی تک اسی گاؤں میں پلے بڑھے۔ کچھ ہی سال تم نے شہر میں گزارے اور تمہارا نظریہ ہی بدل گیا۔ باپ ہوں تمہارا، تیری ہر ادا سے واقف ہوں۔ تیری سوچ کو تیرے چہرے سے بخوبی پڑھ لیتا ہوں۔ تجھے معلوم ہونا چاہیے، اس گاؤں کی سڑکیں، یہ گلی کوچے اور وہ میدان جہاں تم اکثر اپنے دوستوں کے ساتھ کھیلا کرتے تھے، یہ سب تمہیں گلے لگانے کے لیے بے تاب ہیں۔ یہاں کے سیدھے سادے لوگ تیری پڑھائی کا ایک ایک دن گنتے تھے، تاکہ تم ان کے بیچ ایک شمع جلاؤ گے جس سے اس گاؤں کی اندھیرے دور ہو جائیں گے۔ یہاں کی آنے والی نسل کے لیے تم ایک رہبر بن سکو۔ تم نے یہ کبھی محسوس کیا کہ کتنے بچے تمہارے اردگرد جمع ہو جاتے ہیں اور کتنی آس بھری نظروں سے وہ تمہیں دیکھتے ہیں؟ کیونکہ ان کی تمنا ہے کہ وہ بھی پڑھائی میں تمہارے نقشِ قدم پر چلیں۔ تم اتنے بڑے عہدے پر فائز ہو گئے، اب جبکہ تم اس گاؤں کو کچھ دینے کے قابل ہو گئے، تمہیں اب اس گاؤں سے کوئی دلچسپی نہیں۔ اس گاؤں کی ہر ایک چیز سے تمہیں انکار ہے۔ افسوس تو اس بات کا ہے کہ یہاں کی خوبصورت بیٹیاں—تمہیں یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ ایک اچھی اور پُرمسرت زندگی گزارنے کے لیے رشتے ضروری ہوتے ہیں، جن سے ایک برادری بنتی ہے، جن کا پہلا حق تم پر ہے۔ تم اس سوچ کو بھی ٹھکرا رہے ہو۔ تم اپنی زندگی میں جتنی بھی برادری بڑھاؤ، مگر اس گاؤں سے زیادہ پیار کرنے والا تمہیں کہیں نہیں ملے گا۔ مجھے ایسا لگ رہا ہے کہ تم اپنے خلاف ایسا کام کرنے جا رہے ہو جس کی وجہ سے تم زندگی میں پریشان ہو جاؤ گے۔ تمہاری نظر ہمیشہ لوگوں کی جیبوں پر رہے گی۔ تم اپنے کردار کو موت کے گھاٹ اتار کر ایک مردہ لاش کے سوا کچھ نہیں رہو گے۔ کردار تو کردار کی بات رہی، تمہیں اپنے اندر کے انسان کو بھی مارنا پڑے گا، اور ایک آدمی اسی وقت مر جاتا ہے جب اس کے قدم خود فریبی کی طرف اٹھتے ہیں۔ یہ گاؤں اللہ کے بہت قریب ہے اور تم اپنی غلط حرکتوں سے اللہ سے بہت دور چلے جاؤ گے، اور اس گاؤں کی بے لوث محبت سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے محروم ہو جاؤ گے۔ خیر، یہ ایک طویل بحث ہے جس میں میں پڑنا نہیں چاہتا۔
تم اچھی طرح سے جانتے ہو، میرے ماں باپ نے میرے بچپن ہی میں یہ دنیا چھوڑ دی۔ آج تک میں نے یہ جاننے کی کوشش نہیں کی کہ ان کا طریقۂ زندگی کیا تھا، ان کی دلچسپیاں کیا تھیں۔ ماں باپ کے نہ ہوتے ہوئے بھی میں نے اس گاؤں میں اپنا ایک مقام بنایا، جس کی وجہ سے تمہیں بھی ایک مقام حاصل ہوا۔ ذرا سوچو، جب تمہارے اندر کا کردار گاؤں والوں کے سامنے آئے گا، اس وقت تمہارا کیا جواب ہو گا؟
مجھ سے زیادہ یہاں کے لوگ تمہیں چاہتے ہیں۔ میں تمہارے چہرے سے صاف پڑھ رہا ہوں۔ تم اپنے دل میں سوچتے ہو، میری گاڑی گاؤں کی سڑکوں پر جانے کے لیے بدکتی ہے۔ رہا میں—میں اب اس معاشرے کا حصہ نہیں ہوں۔ میرا یہاں کسی سوسائٹی سے کوئی تعلق نہیں۔ میں کسی کا کچھ نہیں لگتا۔ میرا اب کوئی رشتہ دار نہیں۔ آج کل کون دیکھتا اور سمجھتا ہے ایسے رشتوں کو؟ آج کل ہر بندہ اپنی مصروفیات کا شکار ہے، اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ زندگی گزارنے کے لیے اپنے اپنے اصول ہوتے ہیں، اور میرا اصول تم لوگوں سے کنارہ کشی کا ہے۔ ایک بات آدمی کو سمجھ لینی چاہیے۔
اس نے تھوڑی دیر دم سنبھالا اور پھر کہا:
بلندی پر کھڑے ہو کر نیچے حقارت سے مت دیکھو، بلکہ یہ سوچو تم بھی کبھی اسی جگہ کھڑے تھے۔ جب انسان اپنے گرد و پیش سے منہ موڑ کر صرف اور صرف اپنی ذات کے حصار میں گم ہو جائے تو گاؤں کی بات کیا! دنیا کی رعنائیاں اور خوبصورتیاں اسے متاثر نہیں کرتیں۔ زندگی گزارنے کا صحیح لطف اسی میں ہے کہ آپ کا دل محبت بھرا اور دماغ عقل بھرا ہو۔
اس نے اپنی پیشانی پر ہاتھ پھیرا جو پسینے سے تر ہو رہی تھی، اور ایک پچھتاوے کے ساتھ اس کا مزاج برہم ہونے لگا، اور دوبارہ کہا:
میں جانتا ہوں، اب تم اس گاؤں میں اسی وقت قدم رکھو گے جب یہاں کے لوگ مجھے دفنا بھی چکے ہوں گے۔ تم مجھے دیکھ نہیں پاؤ گے۔ دولت کی سڑک بنانے میں تم اتنے مشغول ہو جاؤ گے کہ میری قبر دیکھنا بھی تمہیں گوارا نہیں ہو گا۔ قبر پر فاتحہ پڑھنے کے بجائے تمہارے اندر سے آواز نکلے گی: کیا مصیبت ہے۔ اللہ نے جہاں تک زندگی لکھی ہے وہاں تک تو کسی حال میں بھی جینا پڑے گا۔ رہی تمہاری زندگی، تمہاری زندگی میں اب وہ حرارت نہیں، اور وہ جذبات کی گرمی بھی اب نہیں ہے۔ ہم دونوں ایسا کنارہ بن گئے ہیں جو ساتھ تو چل سکتے ہیں مگر مل نہیں سکتے، کبھی بھی نہیں۔ لیکن تم ایک افسانہ بن کر اس گاؤں میں رہو گے۔ میری چھٹی حس مجھے احساس دلا رہی ہے کہ تمہارے ساتھ اچھا نہیں ہو رہا۔ اس لیے ایک باپ کی حیثیت سے کہہ رہا ہوں: بہکنے پر کوئی آمادہ ہو تو راہ دکھانے والے کئی مل جاتے ہیں، بدی کے راستے کے لیے بے شمار ساتھی ہیں، مگر نیکی کی راہ کا کوئی ساتھی نہیں۔
گاؤں والوں کی وجہ سے شہر میں بسنے والے لوگ اب شہر سے سو کلومیٹر دور بسنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ گاؤں والے اپنا سب کچھ بیچ کر شہر میں رہنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان لوگوں نے سرکار کو بھی پریشان کیا—بجلی، پانی، زندگی کی دوسری ضرورتیں کہاں سے سرکار پوری کرے گی؟ ایسے بھی لوگ ہیں جو دور دراز گاؤں سے آتے ہیں اور کرائے کے مکان میں رہ کر اپنی زندگی کی پونجی کرائے کی نذر کرتے رہتے ہیں۔ پھر یہ لوگ کبھی بھی واپس اپنے گاؤں نہیں جاتے۔ ہاں، ایک ہی صورت میں یہ لوگ واپس اپنے گاؤں جاتے ہیں، وہ ہے میت کی صورت میں۔
اب وہ گلوگیر آواز میں بولا:
تم نے جو چاہا وہ ہو گیا، اس میں میرا کتنا قصور تھا اور تمہارا کتنا—اب یہ باتیں کرنے کا وقت نہیں رہا۔ کیونکہ میرے وہم و خیال میں بھی نہیں تھا کہ میری زندگی بھر کے تجزیے، میرے مشاہدے، میرے مطالعے، میری سوچیں، میرا فلسفہ، میرا مقصدِ حیات تم غارت کر کے رکھ دو گے۔ میرا سکون، میرا چین، میری نیندیں تم مجھ سے چھین لو گے۔ اگر مجھے یہ معلوم ہوتا کہ میری زندگی میں تم میرے لیے اتنا انقلاب بن جاؤ گے تو میں نے کب کا بن باس لے لیا ہوتا۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے:
بتو! شاباش ہے تم کو، ترقی اس کو کہتے ہیں
نہیں ترشے تو پتھر تھے، جو ترشے تو خدا نکلے
اس وقت مجھے تمہاری ماں یاد آ رہی ہے۔ اس نے غریبی میں کبھی سکون نہیں دیکھا، کبھی محبت کی مٹھاس نہیں چکھی، کبھی زندگی کی سچی مسرتوں سے ہمکنار نہیں ہوئی تھی۔ ایثار اور قربانی اس کا طرۂ امتیاز رہا تھا۔ کچھ لوگوں کو زندگی میں سکون نہیں مل سکتا، یا ان کے نصیب میں نہیں لکھا ہوتا۔ یہ الفاظ ادا کرتے وقت اس کے لہجے میں پہاڑوں کا ٹھہراؤ اور آسمان کی سی بلندی تھی۔
یہاں بھی میں اپنے آپ کو قصوروار ٹھہراتا ہوں، کیونکہ میری یہ باتیں تمہاری سمجھ سے باہر ہیں۔ اور یہ بھی سچ ہے، اگر تم کسی کو سمجھانے کی کوشش کرتے ہو اور کسی کی سمجھ میں وہ بات نہیں آتی تو سمجھ جانا چاہیے کہ آپ میں سمجھانے کی صلاحیت ہی نہیں ہے۔ آخر میں تم سے صرف اتنا ہی کہوں گا: میرے پوتوں کو مجھ سے ایک بار ضرور ملانا، کیونکہ وہ زندگی میں کہیں مجھے پہچان نہ پائیں۔ تمہارے آنے کا بے صبری سے انتظار کرتا رہوں گا۔
اب اس کے لب دعاگو تھے:
خدا کرے تمہاری خوشیاں دائمی ہوں، تمہیں زمانے کی گرم و سرد ہوائیں چھو بھی نہ پائیں، اور تم کو اپنے گھر میں اتنی آسودگی ملے کہ تمہارا شمار خوش نصیب ترین لوگوں میں ہو۔
میرے لختِ جگر! اب میری ضد ٹھنڈی، پرسکون اور انتظار کرنے والی ہے۔ کیونکہ اولاد کی محبت پانی پر لمحہ بھر کے لیے ابھر آنے والا بلبلہ نہیں، بلکہ ہمیشہ کے لیے دھیمے دھیمے سلگتے رہنے والی آنچ ہے، جس کی شدت ہمیشہ برقرار رہتی ہے اور انسان کو بے قرار رکھتی ہے۔ شاید تمہیں اب دیر ہو گی، اس لیے تمہیں مجھ سے اجازت لینا ہو گی۔
بیٹے کو واپس جاتے دیکھ کر اس کے اپنے جسم میں سے ایک مردہ جسم کی بو آئی اور من ہی من میں اپنے آپ سے کہا: یہ جسم اب ختم ہی ہو جائے تو اچھا ہے۔ بیٹے کی پیٹھ دیکھ کر اس نے اٹھنے کی کوشش کی، لیکن اس سے اٹھا نہ گیا۔ اب اس کی ہمت بوند بوند خون کی طرح اس کے جسم سے بہہ رہی تھی، اور دور سے کہیں ریڈیو کی آواز اس کے کانوں میں گونجنے لگی جس پر یہ گیت بج رہا تھا:
اکیلا ہوں میں اس دنیا میں
کوئی ساتھی ہے تو میرا سایہ
اکیلا ہوں میں


