مرزا جی حج کو چلے گئے

عبدالرشید خان
چھانہ پورہ، سرینگر
ہمارے مرزا جی کو حج پر جانے کی فکر اس وقت سے لاحق ہوئی جب انہوں نے ایک قریبی رشتے دار کو حج پر جاتے ہوئے دیکھا۔ اس سے پہلے مرزا جی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ حج نام کی بھی کوئی عبادت ہوتی ہے۔ وہ اندر ہی اندر جل رہے تھے کہ بھلا اس فقیر آدمی نے اتنے سارے پیسے کہاں سے لائے جو یہ بیوی کو بھی اپنے ساتھ لے جا رہا ہے۔ آؤ دیکھا نہ تاؤ، اسی وقت ٹھان لی کہ اگلے سال میں بھی حج کے لیے جاؤں گا۔ دینی فریضہ ادا کرنے کے لیے نہیں بلکہ اس جلن اور حسد کی آگ کو ٹھنڈا کرنے کے لیے۔
وقت گزرتا گیا اور اگلے سال کا موسمِ حج شروع ہوا۔ سرکار کی طرف سے حج پر جانے والوں سے فارم بھرنے کے لیے کہا گیا۔ مرزا جی، جنہوں نے یہ مہینے گویا کانٹوں کے بستر پر گزارے تھے، اعلان ہوتے ہی اولین فرصت میں حج ہاؤس چلے گئے۔ راستے میں جو بھی ملا، اسے یہ خوشخبری سنا دی۔ فارم حاصل کر کے واپس گھر آئے اور کسی پڑھے لکھے آدمی سے پُر کروایا، اور گویا گھر میں جشنِ حج شروع ہو گیا۔
یہ حج کمیٹی والے بھی کمال کے آدمی ہیں۔ فارم میں اس قدر خانہ پری کہ آدمی پریشان ہو جاتا ہے، جیسے انسان کو حج پر نہیں بلکہ چاند پر جانا ہو۔ اگلی صبح مرزا جی گلے میں ہزاروں روپے والی مالا اور پھولوں کے ہار پہنائے، ایک بڑی گاڑی میں سوار، جلوس کی صورت میں فارم بھرنے کے لیے حج ہاؤس چلے گئے۔ چہرے پر قدرے سنجیدگی اور تاؤ دیکھ کر لگتا تھا کوئی کہنہ مشق سیاست دان انتخاب لڑنے کے لیے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرانے جا رہا ہے۔
فارم بھر دیا گیا اور اب قرعہ اندازی کا انتظار۔ کچھ مالی مشکلات اور کچھ عشق کی آگ بجھ جانے کی وجہ سے پچھلے کئی سالوں سے یہاں کے لوگ حج کی سعادت حاصل کرنے سے کتراتے ہیں، اور اسی لیے اب قرعہ اندازی کی نوبت نہیں آتی۔ اب سات سال کے بچوں سے لے کر سو سال کے بزرگوں تک جو کوئی چاہے حج پر جا سکتا ہے، اور ہاں اب تو مستورات کے لیے محرم کی قید بھی نہیں۔ وہ اور بات ہے کہ وہاں جا کر یہ لوگ حج کے سارے مناسک ادا کر پائیں گے یا نہیں، البتہ حاجی ضرور کہلائیں گے۔
سرکار کے اس اعلان کے بعد کہ جس نے بھی حجِ بیت اللہ کے لیے فارم داخل کیا ہے وہ حج کی تیاری کرے، جوں ہی مرزا جی کو یہ خبر ملی، ان کی خوشی کا ٹھکانہ نہ رہا۔ اگلے ہی دن یار دوست اور رشتے داروں کا گھر میں آنا شروع ہو گیا۔ ایک جشن کا ماحول بن گیا۔ لوگ مختلف قسم کے تحائف لے کر مبارک باد دینے آنے لگے۔ کئی دنوں تک یہ سلسلہ جاری رہا، تو مرزا جی نے رختِ سفر باندھنا شروع کیا۔
یار دوستوں اور رشتہ داروں سے رخصت لینے کے بہانے دعوتیں کھانے پر کمر بستہ، پورے دو مہینے لوگوں کے گھروں میں کھانا کھاتے کھاتے مرزا جی اس قدر فربہ ہو گئے کہ انہیں پہچاننا مشکل ہو گیا۔ لگتا تھا مرزا جی کو حج پر نہیں بلکہ کسی پہلوانی اکھاڑے میں کشتی لڑنے جانا ہو۔ بیچ میں حج تربیت کا پروگرام آیا تو مرزا جی کو ایک بار پھر حج ہاؤس جانا پڑا۔ ہم بھی کیا مخلوق ہیں، حج کرنے جا رہے ہیں تو اس کے بارے میں واقفیت نہیں۔ تربیت میں کیا سکھایا گیا اور کیا سمجھایا گیا، مرزا جی کو ابھی تک معلوم نہیں۔
بہرحال حج کا وقت قریب آنے لگا تو مرزا جی کے گھر پھر لوگوں کا تانتا بندھ گیا۔ مرزا جی سے ملنے کم اور اپنے بال بچوں کے لیے دعاؤں میں یاد رکھوانے کے لیے زیادہ۔ مرزا جی تختِ طاؤس پر براجمان، نہ جانے کن خیالات میں گم۔ کوئی انہیں کعبہ اللہ کے سامنے اپنی بیٹی کے لیے وفادار شوہر مانگنے کی التجا کر رہا تھا، تو کوئی بے روزگار بیٹے کے لیے اچھی خاصی نوکری۔ اور ہاں، ایک بزرگ ہاتھ باندھ کر اپنے ان نالائق بیٹوں کے لیے ہدایت کی دعا کرنے کو کہہ رہا تھا جنہوں نے اسے جیتے جی مرنے پر مجبور کر دیا تھا۔
چونکہ مرزا جی کے ساتھ میرے گہرے تعلقات ہیں، اس لیے میں بھی مرزا جی سے آخری ملاقات—معاف کیجیے، حج پر جانے سے پہلے—کے لیے چلا گیا۔ دیکھتے ہی مرزا جی نے انگلی کے اشارے سے اپنے بغل میں بیٹھنے کو کہا۔ چائے پانی کا دور تو پہلے سے چل رہا تھا۔
“ارے، میں بہت تھک گیا ہوں۔ کیا کروں، لوگوں کا پیار۔ ان سے رخصت طلب کرنے کے لیے گیا تھا، اور ہاں، لگے ہاتھوں کئی درگاہوں اور مزاروں پر بھی حاضری دی تاکہ یہ سفر میرے لیے آسان ہو۔”
مرزا جی کے منہ سے یہ سن کر میں اندر ہی اندر سوچنے لگا کہ بھلا مرزا جی خالقِ کائنات کے گھر جا رہا ہے تو اس میں اوروں سے امید رکھنے کی کیا ضرورت۔ خیر، یہاں یہ بتانا بھول ہی گیا تھا کہ مرزا جی جو اب تک دن میں دو بار زیرو ڈگری پر کلین شیو کیا کرتے تھے، اب ان کے چہرے پر چند بال اگتے نظر آئے۔ سر تو ویسا ہی بنجر، اور ہاں جمعے کے روز اب مسجد میں بھی دیکھے جاتے ہیں۔
یہاں کی رسم کے مطابق حج پر جانے سے پہلے ایک دن مرزا جی نے بھی اپنے گھر ایک عالی شان دعوت کا اہتمام کیا تھا، اور اس پر خرچ اتنا کہ کم از کم تین یتیم بچیوں کے ہاتھ پیلے ہو جاتے۔ اس دعوت میں وہ سارے لوگ مدعو تھے جن کے گھروں میں مرزا جی پچھلے دو مہینوں سے دعوتیں کھا کر آئے تھے۔ آس پاس کی مساجد کے امام صاحبان اور کئی یتیم خانوں کے ان پڑھ بچے ایک بڑے کمرے میں بلند آواز سے قرآن خوانی کر رہے تھے اور مرزا جی کی بخیر و عافیت حج سے واپسی کے لیے دعائیں کر رہے تھے۔ لگتا تھا کسی کا رسمِ قل ہو رہا ہے۔
بہرحال جب سارے مہمان کھانا کھانے کے بعد اپنے گھروں کی طرف روانہ ہوئے تو مرزا جی نے اپنی پوری فیملی—جس میں ان کے بیٹے، بیٹیاں اور ان کی اولاد شامل تھی—کو اپنے سامنے بلایا اور آخری وصیت شروع کی۔ ساتھ ہی اپنی جائیداد کے حساب کتاب اور تقسیم کے بارے میں کچھ کہنا شروع کیا تو پورے گھر میں کہرام مچ گیا۔ وہاں موجود سب چھوٹے بڑے زار و قطار رونے لگے۔ اس لیے نہیں کہ مرزا جی سجدے میں واپس نہیں آنے والے تھے بلکہ اس لیے کہ جائیداد کی تقسیم جلد بازی میں ہو رہی تھی اور کاغذات بھی مکمل نہیں ہو پانے والے تھے۔مرزا جی کی اہلیہ، جسے یہ کہہ کر مرزا جی نے اپنے ساتھ لینے سے انکار کیا تھا کہ وہ ان کی عدم موجودگی میں گھر کا خیال رکھے گی، اس نے بھی رونا شروع کر دیا۔ شاید اس لیے کہ اگر مرزا جی کو حج پر کچھ ہو گیا تو مجھ پر کیا گزرے گی، کہیں اس کے بیٹے اسے گھر سے نکال کر سڑک پر نہ لے آئیں۔
یہ رات کا آخری پہر تھا۔ کچھ دیر بعد پاس والی مسجد سے فجر کی اذان ہوئی۔ وہاں موجود سب لوگ، نمازی اور بے نمازی، مسجد کی طرف روانہ ہوئے۔ نماز ادا کر کے آئے تو مرزا جی کو ایک سجی سجائی گاڑی میں دلہے کی طرح جلوس کی صورت میں، روایتی ون ون اور اللہ اکبر کی گونج میں، حج ہاؤس لے جانے کی تیاری ہو چکی تھی۔
مرزا جی جو ہوش و حواس کھو چکے تھے، انہیں دو آدمی زور سے پکڑ کر کمرے سے باہر گاڑی تک اس طرح لے جا رہے تھے جیسے کسی جانور کو قربان گاہ تک۔ لگتا تھا مرزا جی اب عین موقع پر جانے کے لیے تیار نہیں۔ بہرحال اب تو مرزا جی کی چلنے والی نہیں تھی۔
چار و ناچار جب اسے حج ہاؤس میں داخل کیا گیا تو وہ حسرت بھری نظروں سے وہاں موجود حج پر جانے والے ان خوش و خرم جوانوں کو دیکھ رہا تھا۔ ایک نظر ان پر اور ایک نظر اپنی بزرگی اور ناتوانی پر۔ اندر ہی اندر شاید اپنے آپ کو کوس رہا تھا کہ کاش میں نے بھی عین جوانی میں حج پر جانے کا ارادہ کیا ہوتا۔ میں نے ساری زندگی دولت کما کر حویلیاں بنانے اور اولاد کی زندگی سنوارنے میں صرف کر دی، اور اس دینی فریضے کی ادائیگی سے غافل رہا۔
مرزا جی نے آخری بار اپنے عزیز و اقارب پر اسی طرح نظر ڈالی جس طرح قبر میں ڈالا گیا مردہ اُن لوگوں پر ڈالتا ہے جو اسے وادیِ خاموشاں میں اکیلا چھوڑ کر چلے جاتے ہیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

جموں سرینگر قومی شاہراہ پر سڑک حادثے میں ہریانہ کے تین افراد ہلاک

سرینگر۔ جموں کے نگروٹا علاقے میں اتوار کی اولین ساعتوں...

مجبور مسکراہٹ

ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی حسد ایک ایسی بیماری ہے کہ جب...

استاد کا پیشہ ایک قومی ذمہ داری ہے

محمد شبیر کھٹانہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی اور آئینی...

عمر سرکار کے 19 ماہ: کامیابیاں یا ناکامیاں؟

رشید پروینؔ  سوپور 3 جون 2026 کو این سی کا ایک گرینڈ...

خط

محمد شاکر لبانہ ڈنمارک کے تیسرے بڑے شہر آر ہوس...

تازہ ترین خبریں

جموں سرینگر قومی شاہراہ پر سڑک حادثے میں ہریانہ کے تین افراد ہلاک

سرینگر۔ جموں کے نگروٹا علاقے میں اتوار کی اولین ساعتوں...

مجبور مسکراہٹ

ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی حسد ایک ایسی بیماری ہے کہ جب...

استاد کا پیشہ ایک قومی ذمہ داری ہے

محمد شبیر کھٹانہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی اور آئینی...

عمر سرکار کے 19 ماہ: کامیابیاں یا ناکامیاں؟

رشید پروینؔ  سوپور 3 جون 2026 کو این سی کا ایک گرینڈ...

خط

محمد شاکر لبانہ ڈنمارک کے تیسرے بڑے شہر آر ہوس...

مرزا جی حج کو چلے گئے

عبدالرشید خان
چھانہ پورہ، سرینگر
ہمارے مرزا جی کو حج پر جانے کی فکر اس وقت سے لاحق ہوئی جب انہوں نے ایک قریبی رشتے دار کو حج پر جاتے ہوئے دیکھا۔ اس سے پہلے مرزا جی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ حج نام کی بھی کوئی عبادت ہوتی ہے۔ وہ اندر ہی اندر جل رہے تھے کہ بھلا اس فقیر آدمی نے اتنے سارے پیسے کہاں سے لائے جو یہ بیوی کو بھی اپنے ساتھ لے جا رہا ہے۔ آؤ دیکھا نہ تاؤ، اسی وقت ٹھان لی کہ اگلے سال میں بھی حج کے لیے جاؤں گا۔ دینی فریضہ ادا کرنے کے لیے نہیں بلکہ اس جلن اور حسد کی آگ کو ٹھنڈا کرنے کے لیے۔
وقت گزرتا گیا اور اگلے سال کا موسمِ حج شروع ہوا۔ سرکار کی طرف سے حج پر جانے والوں سے فارم بھرنے کے لیے کہا گیا۔ مرزا جی، جنہوں نے یہ مہینے گویا کانٹوں کے بستر پر گزارے تھے، اعلان ہوتے ہی اولین فرصت میں حج ہاؤس چلے گئے۔ راستے میں جو بھی ملا، اسے یہ خوشخبری سنا دی۔ فارم حاصل کر کے واپس گھر آئے اور کسی پڑھے لکھے آدمی سے پُر کروایا، اور گویا گھر میں جشنِ حج شروع ہو گیا۔
یہ حج کمیٹی والے بھی کمال کے آدمی ہیں۔ فارم میں اس قدر خانہ پری کہ آدمی پریشان ہو جاتا ہے، جیسے انسان کو حج پر نہیں بلکہ چاند پر جانا ہو۔ اگلی صبح مرزا جی گلے میں ہزاروں روپے والی مالا اور پھولوں کے ہار پہنائے، ایک بڑی گاڑی میں سوار، جلوس کی صورت میں فارم بھرنے کے لیے حج ہاؤس چلے گئے۔ چہرے پر قدرے سنجیدگی اور تاؤ دیکھ کر لگتا تھا کوئی کہنہ مشق سیاست دان انتخاب لڑنے کے لیے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرانے جا رہا ہے۔
فارم بھر دیا گیا اور اب قرعہ اندازی کا انتظار۔ کچھ مالی مشکلات اور کچھ عشق کی آگ بجھ جانے کی وجہ سے پچھلے کئی سالوں سے یہاں کے لوگ حج کی سعادت حاصل کرنے سے کتراتے ہیں، اور اسی لیے اب قرعہ اندازی کی نوبت نہیں آتی۔ اب سات سال کے بچوں سے لے کر سو سال کے بزرگوں تک جو کوئی چاہے حج پر جا سکتا ہے، اور ہاں اب تو مستورات کے لیے محرم کی قید بھی نہیں۔ وہ اور بات ہے کہ وہاں جا کر یہ لوگ حج کے سارے مناسک ادا کر پائیں گے یا نہیں، البتہ حاجی ضرور کہلائیں گے۔
سرکار کے اس اعلان کے بعد کہ جس نے بھی حجِ بیت اللہ کے لیے فارم داخل کیا ہے وہ حج کی تیاری کرے، جوں ہی مرزا جی کو یہ خبر ملی، ان کی خوشی کا ٹھکانہ نہ رہا۔ اگلے ہی دن یار دوست اور رشتے داروں کا گھر میں آنا شروع ہو گیا۔ ایک جشن کا ماحول بن گیا۔ لوگ مختلف قسم کے تحائف لے کر مبارک باد دینے آنے لگے۔ کئی دنوں تک یہ سلسلہ جاری رہا، تو مرزا جی نے رختِ سفر باندھنا شروع کیا۔
یار دوستوں اور رشتہ داروں سے رخصت لینے کے بہانے دعوتیں کھانے پر کمر بستہ، پورے دو مہینے لوگوں کے گھروں میں کھانا کھاتے کھاتے مرزا جی اس قدر فربہ ہو گئے کہ انہیں پہچاننا مشکل ہو گیا۔ لگتا تھا مرزا جی کو حج پر نہیں بلکہ کسی پہلوانی اکھاڑے میں کشتی لڑنے جانا ہو۔ بیچ میں حج تربیت کا پروگرام آیا تو مرزا جی کو ایک بار پھر حج ہاؤس جانا پڑا۔ ہم بھی کیا مخلوق ہیں، حج کرنے جا رہے ہیں تو اس کے بارے میں واقفیت نہیں۔ تربیت میں کیا سکھایا گیا اور کیا سمجھایا گیا، مرزا جی کو ابھی تک معلوم نہیں۔
بہرحال حج کا وقت قریب آنے لگا تو مرزا جی کے گھر پھر لوگوں کا تانتا بندھ گیا۔ مرزا جی سے ملنے کم اور اپنے بال بچوں کے لیے دعاؤں میں یاد رکھوانے کے لیے زیادہ۔ مرزا جی تختِ طاؤس پر براجمان، نہ جانے کن خیالات میں گم۔ کوئی انہیں کعبہ اللہ کے سامنے اپنی بیٹی کے لیے وفادار شوہر مانگنے کی التجا کر رہا تھا، تو کوئی بے روزگار بیٹے کے لیے اچھی خاصی نوکری۔ اور ہاں، ایک بزرگ ہاتھ باندھ کر اپنے ان نالائق بیٹوں کے لیے ہدایت کی دعا کرنے کو کہہ رہا تھا جنہوں نے اسے جیتے جی مرنے پر مجبور کر دیا تھا۔
چونکہ مرزا جی کے ساتھ میرے گہرے تعلقات ہیں، اس لیے میں بھی مرزا جی سے آخری ملاقات—معاف کیجیے، حج پر جانے سے پہلے—کے لیے چلا گیا۔ دیکھتے ہی مرزا جی نے انگلی کے اشارے سے اپنے بغل میں بیٹھنے کو کہا۔ چائے پانی کا دور تو پہلے سے چل رہا تھا۔
“ارے، میں بہت تھک گیا ہوں۔ کیا کروں، لوگوں کا پیار۔ ان سے رخصت طلب کرنے کے لیے گیا تھا، اور ہاں، لگے ہاتھوں کئی درگاہوں اور مزاروں پر بھی حاضری دی تاکہ یہ سفر میرے لیے آسان ہو۔”
مرزا جی کے منہ سے یہ سن کر میں اندر ہی اندر سوچنے لگا کہ بھلا مرزا جی خالقِ کائنات کے گھر جا رہا ہے تو اس میں اوروں سے امید رکھنے کی کیا ضرورت۔ خیر، یہاں یہ بتانا بھول ہی گیا تھا کہ مرزا جی جو اب تک دن میں دو بار زیرو ڈگری پر کلین شیو کیا کرتے تھے، اب ان کے چہرے پر چند بال اگتے نظر آئے۔ سر تو ویسا ہی بنجر، اور ہاں جمعے کے روز اب مسجد میں بھی دیکھے جاتے ہیں۔
یہاں کی رسم کے مطابق حج پر جانے سے پہلے ایک دن مرزا جی نے بھی اپنے گھر ایک عالی شان دعوت کا اہتمام کیا تھا، اور اس پر خرچ اتنا کہ کم از کم تین یتیم بچیوں کے ہاتھ پیلے ہو جاتے۔ اس دعوت میں وہ سارے لوگ مدعو تھے جن کے گھروں میں مرزا جی پچھلے دو مہینوں سے دعوتیں کھا کر آئے تھے۔ آس پاس کی مساجد کے امام صاحبان اور کئی یتیم خانوں کے ان پڑھ بچے ایک بڑے کمرے میں بلند آواز سے قرآن خوانی کر رہے تھے اور مرزا جی کی بخیر و عافیت حج سے واپسی کے لیے دعائیں کر رہے تھے۔ لگتا تھا کسی کا رسمِ قل ہو رہا ہے۔
بہرحال جب سارے مہمان کھانا کھانے کے بعد اپنے گھروں کی طرف روانہ ہوئے تو مرزا جی نے اپنی پوری فیملی—جس میں ان کے بیٹے، بیٹیاں اور ان کی اولاد شامل تھی—کو اپنے سامنے بلایا اور آخری وصیت شروع کی۔ ساتھ ہی اپنی جائیداد کے حساب کتاب اور تقسیم کے بارے میں کچھ کہنا شروع کیا تو پورے گھر میں کہرام مچ گیا۔ وہاں موجود سب چھوٹے بڑے زار و قطار رونے لگے۔ اس لیے نہیں کہ مرزا جی سجدے میں واپس نہیں آنے والے تھے بلکہ اس لیے کہ جائیداد کی تقسیم جلد بازی میں ہو رہی تھی اور کاغذات بھی مکمل نہیں ہو پانے والے تھے۔مرزا جی کی اہلیہ، جسے یہ کہہ کر مرزا جی نے اپنے ساتھ لینے سے انکار کیا تھا کہ وہ ان کی عدم موجودگی میں گھر کا خیال رکھے گی، اس نے بھی رونا شروع کر دیا۔ شاید اس لیے کہ اگر مرزا جی کو حج پر کچھ ہو گیا تو مجھ پر کیا گزرے گی، کہیں اس کے بیٹے اسے گھر سے نکال کر سڑک پر نہ لے آئیں۔
یہ رات کا آخری پہر تھا۔ کچھ دیر بعد پاس والی مسجد سے فجر کی اذان ہوئی۔ وہاں موجود سب لوگ، نمازی اور بے نمازی، مسجد کی طرف روانہ ہوئے۔ نماز ادا کر کے آئے تو مرزا جی کو ایک سجی سجائی گاڑی میں دلہے کی طرح جلوس کی صورت میں، روایتی ون ون اور اللہ اکبر کی گونج میں، حج ہاؤس لے جانے کی تیاری ہو چکی تھی۔
مرزا جی جو ہوش و حواس کھو چکے تھے، انہیں دو آدمی زور سے پکڑ کر کمرے سے باہر گاڑی تک اس طرح لے جا رہے تھے جیسے کسی جانور کو قربان گاہ تک۔ لگتا تھا مرزا جی اب عین موقع پر جانے کے لیے تیار نہیں۔ بہرحال اب تو مرزا جی کی چلنے والی نہیں تھی۔
چار و ناچار جب اسے حج ہاؤس میں داخل کیا گیا تو وہ حسرت بھری نظروں سے وہاں موجود حج پر جانے والے ان خوش و خرم جوانوں کو دیکھ رہا تھا۔ ایک نظر ان پر اور ایک نظر اپنی بزرگی اور ناتوانی پر۔ اندر ہی اندر شاید اپنے آپ کو کوس رہا تھا کہ کاش میں نے بھی عین جوانی میں حج پر جانے کا ارادہ کیا ہوتا۔ میں نے ساری زندگی دولت کما کر حویلیاں بنانے اور اولاد کی زندگی سنوارنے میں صرف کر دی، اور اس دینی فریضے کی ادائیگی سے غافل رہا۔
مرزا جی نے آخری بار اپنے عزیز و اقارب پر اسی طرح نظر ڈالی جس طرح قبر میں ڈالا گیا مردہ اُن لوگوں پر ڈالتا ہے جو اسے وادیِ خاموشاں میں اکیلا چھوڑ کر چلے جاتے ہیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں