آقا جانم حضرت علی ابن ابی طالبؑ

13 رجب المرجب سالروز ولادت حضرت امیرالمؤمنین علی ؑکے موقعہ پر احادیثِ صحیحہ اہل سنت کی روشنی میں خصوصی مضمون

سری نگر جنگ فیچر

اسلامی تاریخ میں شجاعت اگر کسی ایک نام کے ساتھ مستقل طور پر جڑی ہوئی نظر آتی ہے تو وہ آقا جانم حضرت علی ابن ابی طالبؑ ہیں۔ ان کی بہادری محض میدان جنگ میں تلوار اٹھانے کا نام نہیں بلکہ ایمان یقین وفاداری اور رسول اللہ ﷺ سے غیر معمولی قربت کا عملی اظہار ہے۔ یہ وہ تعلق ہے جس کی تصدیق خود نبی کریم ﷺ کے مستند اور متفق علیہ فرامین سے ہوتی ہے۔
حضرت علی ؑ آنحضرت ﷺ کے چہیتے چچا ابو طالب کے بیٹے تھے اور بچپن سے ہی حضورﷺ کے زیر سایہ تربیت پائی تھی بعثت کے بعد جب حضور ﷺ نے اپنے قبیلہ بنی ہاشم کے سامنے اسلام پیش کیا تو حضرت علی نے سب سے پہلے لبیک کہی اور ایمان لے آئے۔اس وقت آپ کی عمر آٹھ برس کی تھی
حضرت علیؑ رسول اللہ ﷺ کے چچا زاد بھائی بھی تھے اور داماد بھی۔ آپ ﷺ کی سرپرستی میں پرورش پائی اور وحی کے ماحول میں جوان ہوئے۔ اسی قرب اور اعتماد کی ایک عظیم شہادت وہ متفق علیہ حدیث ہے جس میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
أنت مني بمنزلة هارون من موسى إلا أنه لا نبي بعدي
تمہارا میرے ساتھ وہی مقام ہے جو ہارون کا موسیٰ کے ساتھ تھا سوائے اس کے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
یہ حدیث صحیح بخاری اور صحیح مسلم دونوں میں موجود ہے اور حضرت علیؑ کے مقام اعتماد ذمہ داری اور قرب نبوی کو واضح کرتی ہے۔
حضرت علی ؑ کی شجاعت کا پہلا مظہر اس وقت سامنے آتا ہے جب وہ مردوں میں سب سے پہلے اسلام قبول کرتے ہیں۔ اہل سنت کے معتبر مؤرخ ابن اسحاق کے مطابق حضرت علیؑ کم عمری میں رسول اللہ ﷺ کے گھر میں ایمان لائے۔ یہ روایت سیرت ابن ہشام میں صراحت کے ساتھ موجود ہے کہ حضرت خدیجہؑکے بعد سب سے پہلے حضرت علی رضی اللہ عنہ ایمان لائے۔
اسی مفہوم کی تائید امام ترمذی نے کی ہے جہاں حضرت علی ؑکا قول منقول ہے
أنا أول من أسلم
امام حاکم نیشاپوری نے المستدرک علی الصحیحین میں اس روایت کو نقل کر کے اسے بخاری و مسلم کی شرط پر صحیح قرار دیا ہے اور امام ذہبی نے اس کی موافقت کی ہے۔ یہ حقیقت اس بات کو واضح کرتی ہے کہ حضرت علیؑ کا ایمان خود ایک عظیم جرأت تھا کیونکہ اس وقت اسلام قبول کرنا پورے معاشرے کی مخالفت مول لینے کے مترادف تھا۔
شجاعت کے باب میں غزوہ خیبر ایک فیصلہ کن مثال ہے۔ جب قلعہ فتح نہ ہو سکا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
لأعطين الراية غدا رجلا يحب الله ورسوله ويحبه الله ورسوله
کل میں جھنڈا اس شخص کو دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے اور اللہ اور اس کا رسول اس سے محبت کرتے ہیں۔
اگلے دن یہ جھنڈا حضرتؑ کو دیا گیا اور ان ہی کے ہاتھوں خیبر فتح ہوا۔ یہ روایت صحیح بخاری اور صحیح مسلم دونوں میں موجود ہے۔ یہ واقعہ واضح کرتا ہے کہ حضرت علیؑ کی بہادری کو براہ راست نبوی تائید حاصل تھی۔
حضرت علی ؑ کی شجاعت کا ایک اور نمایاں پہلو یہ ہے کہ وہ حق کے معاملے میں کبھی پیچھے نہیں ہٹے۔ اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
لا يحبك إلا مؤمن ولا يبغضك إلا منافق
اے علی تم سے محبت مومن ہی کرے گا اور تم سے بغض منافق ہی رکھے گا۔
یہ حدیث صحیح مسلم میں مذکور ہے اور حضرت علیؑکی ذات کو ایمان کے معیار کے ساتھ جوڑتی ہے۔
نبی کریم ﷺ نے ایک اور موقع پر فرمایا
علي مني وأنا من علي
علی مجھ سے ہے اور میں علی سے ہوں۔
یہ حدیث جامع ترمذی میں حسن درجے کے ساتھ روایت ہوئی ہے اور اس میں حضرت علیؑ کی فکری روحانی اور عملی وابستگی کا اعلان موجود ہے۔
حضرت علی ؑکی جرأت کا ایک لازوال منظر ہجرت کی رات سامنے آتا ہے جب وہ رسول اللہ ﷺ کے بسترمبارک پر سوئے۔ یہ عمل محض ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر رسالت کی حفاظت کا اعلیٰ ترین نمونہ ہے۔ یہ وہ جرأت ہے جو صرف کامل ایمان اور غیر متزلزل اعتماد سے جنم لیتی ہے۔
اسی تسلسل میں واقعہ غدیر کی حدیث ایک فیصلہ کن حیثیت رکھتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ہزاروں صحابہ کے مجمع میں حضرت علیؑ کا ہاتھ بلند کر کے فرمایا
من كنت مولاه فهذا علي مولاه اللهم وال من والاه وعاد من عاداه
یہ حدیث مسند احمد، جامع ترمذی ،سنن نسائی اور دیگر اہل سنت کی معتبر کتب حدیث میں روایت ہوئی ہے اور محدثین کے نزدیک اس کے طرق متعدد اور مضبوط ہیں۔ یہ اعلان محض محبت کا اظہار نہیں بلکہ نصرت ذمہ داری اور حق کے ساتھ وابستگی کی سند ہے۔
حضرت علی ؑ کی شجاعت کبھی اندھی قوت نہیں رہی بلکہ وہ ہمیشہ رسول اللہ ﷺ کے حکم اور امت کے مفاد کے تابع رہی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی بہادری میدان جنگ میں بھی عدل کے ساتھ نظر آتی ہے اور اقتدار میں بھی تقویٰ اور حلم کے ساتھ جلوہ گر ہوتی ہے۔
حضرت علی ؑ کی شجاعت کا آغاز ایمان سے ہوا اور اس کی تکمیل اطاعت رسول ﷺ پر ہوئی۔ وہ مردوں میں سب سے پہلے ایمان لانے والے بھی تھے اور حق کےلئے آخری دم تک ڈٹ جانے والوں میں بھی شامل رہے۔ ان کی جرأت تلوار سے پہلے کردار میں اور طاقت سے پہلے وفاداری میں نظر آتی ہے۔
رسول اللہ ﷺ کی صحبت میں پروان چڑھنے والا یہ مرد مومن ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ اصل شجاعت وہ ہے جو ابتدا میں بھی حق کا ساتھ دے اور اقتدار میں بھی حق سے پیچھے نہ ہٹے۔ یہی حضرتؑ کی شجاعت ہے اور یہی نبوی نسبت کا سب سے روشن اور مستند عکس۔
حضرت علی ؑ میں سب سے پہلے چیز آپ کی شجاعت ہے۔ سخت سے سخت معر کوں میں بھی آپ ثابت قدم رہے ۔بڑے بڑے جنگو آپ کے سامنے آنے کی جر ات نہ کرتے تھے۔آپ کی تلوار کی کاٹ ضرب المثل ہوچکی ہے۔
شجاعت کے علاوہ علم وفضل میں بھی کمال حاصل تھا۔ایک فقیہ کی حیثیت سے آپ کا مرتبہ بہت بلند ہے۔آپ کے خطبات سے کمال کی خوش بیانی اور فصاحت ٹپکتی ہے۔ حدیث مشہور ہے کہ حضورﷺ نے فرمایا: میں علم کا شہر اور علی رضی اللہ عنہ اس کا دروازہ ہیں۔
آپ کا عہد خلافت سارے کاسارا خانہ جنگیوں میں گزرا۔اس لیے آپ کو نظام حکومت کی اصلاح کے لیے بہت کم وقت ملا۔
تاہم آپ سے جہاں تک ممکن ہوا اسے بہتر بنانے کی پوری کوشش کی۔ فوجی چھاؤنیوں کی تعداد میں اضافہ کیا۔صیغہ مال میں بہت سی اصلاحات کیں ۔جس سے بیت المال کی آمدنی بڑھ گئی۔عمال کے اخلاق کی نگرانی خود کرتے اور احتساب فرماتے۔خراج کی آمدنی کا نہایت سختی سے حساب لیتے۔ذمیوں کے حقوق کا خاص خیال رکھتے۔ عدل وانصاف کارنگ فاروق کے عہد سے کسی طرح کم نہ تھا۔
محکمہ پولیس جس کی بنیاد حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے رکھی تھی۔اس کی تکمیل بھی حضرتؑ کے زمانے میں ہوئی اور ایک باقاعدہ پولیس کے دستہ کا قیام عمل میں آیا جسے شرطہ کہتے تھے۔ اس کے اقسراعلیٰ کو صاحب الشرطہ اس کے فرائض میں حفظ امن اور جرائم کی روک تھام کے علاوہ منڈیوں کی دیکھ بھال بھی شامل تھی۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

تازہ ترین خبریں

آقا جانم حضرت علی ابن ابی طالبؑ

13 رجب المرجب سالروز ولادت حضرت امیرالمؤمنین علی ؑکے موقعہ پر احادیثِ صحیحہ اہل سنت کی روشنی میں خصوصی مضمون

سری نگر جنگ فیچر

اسلامی تاریخ میں شجاعت اگر کسی ایک نام کے ساتھ مستقل طور پر جڑی ہوئی نظر آتی ہے تو وہ آقا جانم حضرت علی ابن ابی طالبؑ ہیں۔ ان کی بہادری محض میدان جنگ میں تلوار اٹھانے کا نام نہیں بلکہ ایمان یقین وفاداری اور رسول اللہ ﷺ سے غیر معمولی قربت کا عملی اظہار ہے۔ یہ وہ تعلق ہے جس کی تصدیق خود نبی کریم ﷺ کے مستند اور متفق علیہ فرامین سے ہوتی ہے۔
حضرت علی ؑ آنحضرت ﷺ کے چہیتے چچا ابو طالب کے بیٹے تھے اور بچپن سے ہی حضورﷺ کے زیر سایہ تربیت پائی تھی بعثت کے بعد جب حضور ﷺ نے اپنے قبیلہ بنی ہاشم کے سامنے اسلام پیش کیا تو حضرت علی نے سب سے پہلے لبیک کہی اور ایمان لے آئے۔اس وقت آپ کی عمر آٹھ برس کی تھی
حضرت علیؑ رسول اللہ ﷺ کے چچا زاد بھائی بھی تھے اور داماد بھی۔ آپ ﷺ کی سرپرستی میں پرورش پائی اور وحی کے ماحول میں جوان ہوئے۔ اسی قرب اور اعتماد کی ایک عظیم شہادت وہ متفق علیہ حدیث ہے جس میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
أنت مني بمنزلة هارون من موسى إلا أنه لا نبي بعدي
تمہارا میرے ساتھ وہی مقام ہے جو ہارون کا موسیٰ کے ساتھ تھا سوائے اس کے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
یہ حدیث صحیح بخاری اور صحیح مسلم دونوں میں موجود ہے اور حضرت علیؑ کے مقام اعتماد ذمہ داری اور قرب نبوی کو واضح کرتی ہے۔
حضرت علی ؑ کی شجاعت کا پہلا مظہر اس وقت سامنے آتا ہے جب وہ مردوں میں سب سے پہلے اسلام قبول کرتے ہیں۔ اہل سنت کے معتبر مؤرخ ابن اسحاق کے مطابق حضرت علیؑ کم عمری میں رسول اللہ ﷺ کے گھر میں ایمان لائے۔ یہ روایت سیرت ابن ہشام میں صراحت کے ساتھ موجود ہے کہ حضرت خدیجہؑکے بعد سب سے پہلے حضرت علی رضی اللہ عنہ ایمان لائے۔
اسی مفہوم کی تائید امام ترمذی نے کی ہے جہاں حضرت علی ؑکا قول منقول ہے
أنا أول من أسلم
امام حاکم نیشاپوری نے المستدرک علی الصحیحین میں اس روایت کو نقل کر کے اسے بخاری و مسلم کی شرط پر صحیح قرار دیا ہے اور امام ذہبی نے اس کی موافقت کی ہے۔ یہ حقیقت اس بات کو واضح کرتی ہے کہ حضرت علیؑ کا ایمان خود ایک عظیم جرأت تھا کیونکہ اس وقت اسلام قبول کرنا پورے معاشرے کی مخالفت مول لینے کے مترادف تھا۔
شجاعت کے باب میں غزوہ خیبر ایک فیصلہ کن مثال ہے۔ جب قلعہ فتح نہ ہو سکا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
لأعطين الراية غدا رجلا يحب الله ورسوله ويحبه الله ورسوله
کل میں جھنڈا اس شخص کو دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے اور اللہ اور اس کا رسول اس سے محبت کرتے ہیں۔
اگلے دن یہ جھنڈا حضرتؑ کو دیا گیا اور ان ہی کے ہاتھوں خیبر فتح ہوا۔ یہ روایت صحیح بخاری اور صحیح مسلم دونوں میں موجود ہے۔ یہ واقعہ واضح کرتا ہے کہ حضرت علیؑ کی بہادری کو براہ راست نبوی تائید حاصل تھی۔
حضرت علی ؑ کی شجاعت کا ایک اور نمایاں پہلو یہ ہے کہ وہ حق کے معاملے میں کبھی پیچھے نہیں ہٹے۔ اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
لا يحبك إلا مؤمن ولا يبغضك إلا منافق
اے علی تم سے محبت مومن ہی کرے گا اور تم سے بغض منافق ہی رکھے گا۔
یہ حدیث صحیح مسلم میں مذکور ہے اور حضرت علیؑکی ذات کو ایمان کے معیار کے ساتھ جوڑتی ہے۔
نبی کریم ﷺ نے ایک اور موقع پر فرمایا
علي مني وأنا من علي
علی مجھ سے ہے اور میں علی سے ہوں۔
یہ حدیث جامع ترمذی میں حسن درجے کے ساتھ روایت ہوئی ہے اور اس میں حضرت علیؑ کی فکری روحانی اور عملی وابستگی کا اعلان موجود ہے۔
حضرت علی ؑکی جرأت کا ایک لازوال منظر ہجرت کی رات سامنے آتا ہے جب وہ رسول اللہ ﷺ کے بسترمبارک پر سوئے۔ یہ عمل محض ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر رسالت کی حفاظت کا اعلیٰ ترین نمونہ ہے۔ یہ وہ جرأت ہے جو صرف کامل ایمان اور غیر متزلزل اعتماد سے جنم لیتی ہے۔
اسی تسلسل میں واقعہ غدیر کی حدیث ایک فیصلہ کن حیثیت رکھتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ہزاروں صحابہ کے مجمع میں حضرت علیؑ کا ہاتھ بلند کر کے فرمایا
من كنت مولاه فهذا علي مولاه اللهم وال من والاه وعاد من عاداه
یہ حدیث مسند احمد، جامع ترمذی ،سنن نسائی اور دیگر اہل سنت کی معتبر کتب حدیث میں روایت ہوئی ہے اور محدثین کے نزدیک اس کے طرق متعدد اور مضبوط ہیں۔ یہ اعلان محض محبت کا اظہار نہیں بلکہ نصرت ذمہ داری اور حق کے ساتھ وابستگی کی سند ہے۔
حضرت علی ؑ کی شجاعت کبھی اندھی قوت نہیں رہی بلکہ وہ ہمیشہ رسول اللہ ﷺ کے حکم اور امت کے مفاد کے تابع رہی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی بہادری میدان جنگ میں بھی عدل کے ساتھ نظر آتی ہے اور اقتدار میں بھی تقویٰ اور حلم کے ساتھ جلوہ گر ہوتی ہے۔
حضرت علی ؑ کی شجاعت کا آغاز ایمان سے ہوا اور اس کی تکمیل اطاعت رسول ﷺ پر ہوئی۔ وہ مردوں میں سب سے پہلے ایمان لانے والے بھی تھے اور حق کےلئے آخری دم تک ڈٹ جانے والوں میں بھی شامل رہے۔ ان کی جرأت تلوار سے پہلے کردار میں اور طاقت سے پہلے وفاداری میں نظر آتی ہے۔
رسول اللہ ﷺ کی صحبت میں پروان چڑھنے والا یہ مرد مومن ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ اصل شجاعت وہ ہے جو ابتدا میں بھی حق کا ساتھ دے اور اقتدار میں بھی حق سے پیچھے نہ ہٹے۔ یہی حضرتؑ کی شجاعت ہے اور یہی نبوی نسبت کا سب سے روشن اور مستند عکس۔
حضرت علی ؑ میں سب سے پہلے چیز آپ کی شجاعت ہے۔ سخت سے سخت معر کوں میں بھی آپ ثابت قدم رہے ۔بڑے بڑے جنگو آپ کے سامنے آنے کی جر ات نہ کرتے تھے۔آپ کی تلوار کی کاٹ ضرب المثل ہوچکی ہے۔
شجاعت کے علاوہ علم وفضل میں بھی کمال حاصل تھا۔ایک فقیہ کی حیثیت سے آپ کا مرتبہ بہت بلند ہے۔آپ کے خطبات سے کمال کی خوش بیانی اور فصاحت ٹپکتی ہے۔ حدیث مشہور ہے کہ حضورﷺ نے فرمایا: میں علم کا شہر اور علی رضی اللہ عنہ اس کا دروازہ ہیں۔
آپ کا عہد خلافت سارے کاسارا خانہ جنگیوں میں گزرا۔اس لیے آپ کو نظام حکومت کی اصلاح کے لیے بہت کم وقت ملا۔
تاہم آپ سے جہاں تک ممکن ہوا اسے بہتر بنانے کی پوری کوشش کی۔ فوجی چھاؤنیوں کی تعداد میں اضافہ کیا۔صیغہ مال میں بہت سی اصلاحات کیں ۔جس سے بیت المال کی آمدنی بڑھ گئی۔عمال کے اخلاق کی نگرانی خود کرتے اور احتساب فرماتے۔خراج کی آمدنی کا نہایت سختی سے حساب لیتے۔ذمیوں کے حقوق کا خاص خیال رکھتے۔ عدل وانصاف کارنگ فاروق کے عہد سے کسی طرح کم نہ تھا۔
محکمہ پولیس جس کی بنیاد حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے رکھی تھی۔اس کی تکمیل بھی حضرتؑ کے زمانے میں ہوئی اور ایک باقاعدہ پولیس کے دستہ کا قیام عمل میں آیا جسے شرطہ کہتے تھے۔ اس کے اقسراعلیٰ کو صاحب الشرطہ اس کے فرائض میں حفظ امن اور جرائم کی روک تھام کے علاوہ منڈیوں کی دیکھ بھال بھی شامل تھی۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں