ایک اور سال خاموشی سے چلا گیا

 

اشفاق پرواز
ٹنگمرگ کشمیر

ایک اور سال خاموشی سے ہمارے ہاتھوں سے پھسل گیا۔ سال 2025 بھی اپنی تمام خوشیوں، غموں، امیدوں اور اندیشوں کے ساتھ تاریخ کے اوراق میں درج ہو گیا۔ وقت کا یہ پہیہ رکتا نہیں، مگر ہر سال انسان کو ایک لمحہ ضرور دیتا ہے کہ وہ پیچھے مڑ کر دیکھے، خود سے سوال کرے اور آگے کے سفر کے لیے سمت متعین کرے۔
سال 2025 دنیا کے لیے تبدیلیوں کا سال رہا۔ کہیں ترقی کی رفتار تیز ہوئی تو کہیں جنگ، غربت اور ناانصافی نے انسانیت کو شرمندہ کیا۔ ٹیکنالوجی نے زندگی کو آسان بھی بنایا اور پیچیدہ بھی؛ مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل دنیا اور سوشل میڈیا نے فاصلے سمیٹے، مگر دلوں کے فاصلے کم نہ ہو سکے۔ انسان کے پاس معلومات تو بڑھتی گئیں، مگر دانائی کی کمی شدت سے محسوس ہوتی رہی۔
ہمارے سماج میں بھی یہ سال کئی سوال چھوڑ گیا۔ تعلیم، روزگار، انصاف اور امن جیسے بنیادی مسائل بدستور توجہ کے منتظر رہے۔ نوجوان نسل خواب تو دیکھتی ہے، مگر ان خوابوں کی تعبیر کے راستے میں رکاوٹیں کم نہیں۔ کہیں مایوسی ہے تو کہیں جہد مسلسل، کہیں خاموشی ہے تو کہیں غم۔ سال 2025 نے ہمیں یہ سکھایا کہ صرف شکایت کافی نہیں، ذمہ داری قبول کرنا اور عمل کرنا ناگزیر ہے۔
یہ سال ہر فرد کے لیے ایک امتحان رہا۔ کسی نے کامیابی دیکھی، کسی نے ناکامی۔ کسی نے اپنوں کو پایا، کسی نے کھویا۔ مگر ان تمام تجربات نے ہمیں مضبوط کیا، ہمیں صبر، برداشت اور شکر کا مفہوم سمجھایا۔ شاید یہی وقت کا سب سے بڑا سبق ہے کہ حالات جیسے بھی ہوں، انسان کو امید کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے۔
سال 2025 میرے لیے ذاتی اعتبار سے ایک نئے آغاز کی علامت بھی بن کر آیا۔ اسی سال میں نے پوڈکاسٹ سیدھی بات کے سفر کا آغاز کیا۔ میرے پوڈکاسٹ کو یہ نام میرے استاد محترم جناب ڈاکٹر محمد افضل میر صاحب نے دیا۔ یہ محض ایک ڈیجیٹل سرگرمی نہیں بلکہ مکالمے، سوال اور شعور کی تلاش کا ذریعہ تھا۔ اس پلیٹ فارم کے ذریعے مجھے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد سے بات کرنے، ان کے تجربات سننے اور سماج کے اہم مسائل کو عوام کے سامنے لانے کا موقع ملا۔ ہر گفتگو نے مجھے یہ احساس دلایا کہ سچائی اکثر خاموشی میں دب جاتی ہے، اور اسے آواز دینا بھی ایک ذمہ داری ہے۔
پوڈکاسٹ کا یہ سفر میرے لیے سیکھنے، سننے اور سمجھنے کا عمل رہا۔ میں نے محسوس کیا کہ اختلاف رائے دشمنی نہیں بلکہ فکری پختگی کی علامت ہے، اور سوال کرنا بغاوت نہیں بلکہ بہتری کی پہلی سیڑھی ہے۔ سال 2025 کے اختتام پر جب میں پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں تو یہ سفر مجھے حوصلہ دیتا ہے کہ اگر نیت درست ہو تو ایک چھوٹی سی کوشش بھی بڑے مکالمے کی بنیاد بن سکتی ہے۔ امید ہے کہ آنے والے برسوں میں یہ آواز مزید مضبوط، زیادہ بامقصد اور سماج کے لیے زیادہ مفید ثابت ہوگی۔
جب ہم 2025 کو الوداع کہہ رہے ہیں تو یہ عہد کرنے کا وقت ہے کہ آنے والا سال محض ایک نیا ہندسہ نہ ہو بلکہ ایک نئی سوچ، نیا کردار اور نئی ذمہ داری لے کر آئے۔ ہمیں نفرت کے بجائے محبت، بے حسی کے بجائے احساس اور ناانصافی کے بجائے انصاف کو چننا ہوگا۔ اگر ہم نے وقت سے سیکھ لیا، تو شاید آنے والے سال تاریخ کے نہیں بلکہ انسانیت کے لیے بہتر ثابت ہوں گے۔ ان شاءاللہ
سال 2025 نے ہمیں اجتماعی سطح پر یہ بھی احساس دلایا کہ مسائل کا حل صرف نعروں یا وقتی ردِعمل میں نہیں بلکہ طویل المدت سوچ اور مسلسل مکالمے میں پوشیدہ ہے۔ معاشروں کی تعمیر صرف عمارتوں اور سڑکوں سے نہیں ہوتی بلکہ اعتماد، شفافیت اور باہمی احترام سے ہوتی ہے۔ یہ سال ہمیں یہ سبق دے گیا کہ اگر ادارے مضبوط ہوں، قیادت جوابدہ ہو اور عوام باشعور ہوں تو مشکل ترین حالات میں بھی امید کی کرن زندہ رکھی جا سکتی ہے۔
خصوصاً نوجوانوں کے لیے 2025 ایک آئینہ ثابت ہوا۔ یہ آئینہ جس میں انہوں نے اپنی صلاحیتیں بھی دیکھیں اور اپنی کمزوریاں بھی۔ سوال یہ نہیں کہ مواقع کم کیوں ہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ ہم نے دستیاب مواقع سے کتنا انصاف کیا؟ یہ سال ہمیں خود احتسابی کی دعوت دیتا ہے کہ ہم اپنی ترجیحات کا ازسرِنو تعین کریں، علم کو محض ڈگری نہیں بلکہ ذمہ داری سمجھیں، اور ترقی کو صرف ذاتی کامیابی نہیں بلکہ اجتماعی فلاح سے جوڑیں۔
یوں 2025 صرف گزر جانے والا سال نہیں بلکہ ایک فکری وراثت چھوڑ گیا ہے۔ اگر ہم نے اس وراثت کو سنبھال لیا تو آنے والا وقت ہمارے لیے بہتر، منصفانہ اور زیادہ بامعنی ہو سکتا ہے۔ ورنہ تاریخ ایک بار پھر یہی سوال دہرائے گی کہ وقت تو ملا تھا، مگر کیا ہم نے اسے سمجھا بھی تھا؟

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

تازہ ترین خبریں

ایک اور سال خاموشی سے چلا گیا

 

اشفاق پرواز
ٹنگمرگ کشمیر

ایک اور سال خاموشی سے ہمارے ہاتھوں سے پھسل گیا۔ سال 2025 بھی اپنی تمام خوشیوں، غموں، امیدوں اور اندیشوں کے ساتھ تاریخ کے اوراق میں درج ہو گیا۔ وقت کا یہ پہیہ رکتا نہیں، مگر ہر سال انسان کو ایک لمحہ ضرور دیتا ہے کہ وہ پیچھے مڑ کر دیکھے، خود سے سوال کرے اور آگے کے سفر کے لیے سمت متعین کرے۔
سال 2025 دنیا کے لیے تبدیلیوں کا سال رہا۔ کہیں ترقی کی رفتار تیز ہوئی تو کہیں جنگ، غربت اور ناانصافی نے انسانیت کو شرمندہ کیا۔ ٹیکنالوجی نے زندگی کو آسان بھی بنایا اور پیچیدہ بھی؛ مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل دنیا اور سوشل میڈیا نے فاصلے سمیٹے، مگر دلوں کے فاصلے کم نہ ہو سکے۔ انسان کے پاس معلومات تو بڑھتی گئیں، مگر دانائی کی کمی شدت سے محسوس ہوتی رہی۔
ہمارے سماج میں بھی یہ سال کئی سوال چھوڑ گیا۔ تعلیم، روزگار، انصاف اور امن جیسے بنیادی مسائل بدستور توجہ کے منتظر رہے۔ نوجوان نسل خواب تو دیکھتی ہے، مگر ان خوابوں کی تعبیر کے راستے میں رکاوٹیں کم نہیں۔ کہیں مایوسی ہے تو کہیں جہد مسلسل، کہیں خاموشی ہے تو کہیں غم۔ سال 2025 نے ہمیں یہ سکھایا کہ صرف شکایت کافی نہیں، ذمہ داری قبول کرنا اور عمل کرنا ناگزیر ہے۔
یہ سال ہر فرد کے لیے ایک امتحان رہا۔ کسی نے کامیابی دیکھی، کسی نے ناکامی۔ کسی نے اپنوں کو پایا، کسی نے کھویا۔ مگر ان تمام تجربات نے ہمیں مضبوط کیا، ہمیں صبر، برداشت اور شکر کا مفہوم سمجھایا۔ شاید یہی وقت کا سب سے بڑا سبق ہے کہ حالات جیسے بھی ہوں، انسان کو امید کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے۔
سال 2025 میرے لیے ذاتی اعتبار سے ایک نئے آغاز کی علامت بھی بن کر آیا۔ اسی سال میں نے پوڈکاسٹ سیدھی بات کے سفر کا آغاز کیا۔ میرے پوڈکاسٹ کو یہ نام میرے استاد محترم جناب ڈاکٹر محمد افضل میر صاحب نے دیا۔ یہ محض ایک ڈیجیٹل سرگرمی نہیں بلکہ مکالمے، سوال اور شعور کی تلاش کا ذریعہ تھا۔ اس پلیٹ فارم کے ذریعے مجھے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد سے بات کرنے، ان کے تجربات سننے اور سماج کے اہم مسائل کو عوام کے سامنے لانے کا موقع ملا۔ ہر گفتگو نے مجھے یہ احساس دلایا کہ سچائی اکثر خاموشی میں دب جاتی ہے، اور اسے آواز دینا بھی ایک ذمہ داری ہے۔
پوڈکاسٹ کا یہ سفر میرے لیے سیکھنے، سننے اور سمجھنے کا عمل رہا۔ میں نے محسوس کیا کہ اختلاف رائے دشمنی نہیں بلکہ فکری پختگی کی علامت ہے، اور سوال کرنا بغاوت نہیں بلکہ بہتری کی پہلی سیڑھی ہے۔ سال 2025 کے اختتام پر جب میں پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں تو یہ سفر مجھے حوصلہ دیتا ہے کہ اگر نیت درست ہو تو ایک چھوٹی سی کوشش بھی بڑے مکالمے کی بنیاد بن سکتی ہے۔ امید ہے کہ آنے والے برسوں میں یہ آواز مزید مضبوط، زیادہ بامقصد اور سماج کے لیے زیادہ مفید ثابت ہوگی۔
جب ہم 2025 کو الوداع کہہ رہے ہیں تو یہ عہد کرنے کا وقت ہے کہ آنے والا سال محض ایک نیا ہندسہ نہ ہو بلکہ ایک نئی سوچ، نیا کردار اور نئی ذمہ داری لے کر آئے۔ ہمیں نفرت کے بجائے محبت، بے حسی کے بجائے احساس اور ناانصافی کے بجائے انصاف کو چننا ہوگا۔ اگر ہم نے وقت سے سیکھ لیا، تو شاید آنے والے سال تاریخ کے نہیں بلکہ انسانیت کے لیے بہتر ثابت ہوں گے۔ ان شاءاللہ
سال 2025 نے ہمیں اجتماعی سطح پر یہ بھی احساس دلایا کہ مسائل کا حل صرف نعروں یا وقتی ردِعمل میں نہیں بلکہ طویل المدت سوچ اور مسلسل مکالمے میں پوشیدہ ہے۔ معاشروں کی تعمیر صرف عمارتوں اور سڑکوں سے نہیں ہوتی بلکہ اعتماد، شفافیت اور باہمی احترام سے ہوتی ہے۔ یہ سال ہمیں یہ سبق دے گیا کہ اگر ادارے مضبوط ہوں، قیادت جوابدہ ہو اور عوام باشعور ہوں تو مشکل ترین حالات میں بھی امید کی کرن زندہ رکھی جا سکتی ہے۔
خصوصاً نوجوانوں کے لیے 2025 ایک آئینہ ثابت ہوا۔ یہ آئینہ جس میں انہوں نے اپنی صلاحیتیں بھی دیکھیں اور اپنی کمزوریاں بھی۔ سوال یہ نہیں کہ مواقع کم کیوں ہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ ہم نے دستیاب مواقع سے کتنا انصاف کیا؟ یہ سال ہمیں خود احتسابی کی دعوت دیتا ہے کہ ہم اپنی ترجیحات کا ازسرِنو تعین کریں، علم کو محض ڈگری نہیں بلکہ ذمہ داری سمجھیں، اور ترقی کو صرف ذاتی کامیابی نہیں بلکہ اجتماعی فلاح سے جوڑیں۔
یوں 2025 صرف گزر جانے والا سال نہیں بلکہ ایک فکری وراثت چھوڑ گیا ہے۔ اگر ہم نے اس وراثت کو سنبھال لیا تو آنے والا وقت ہمارے لیے بہتر، منصفانہ اور زیادہ بامعنی ہو سکتا ہے۔ ورنہ تاریخ ایک بار پھر یہی سوال دہرائے گی کہ وقت تو ملا تھا، مگر کیا ہم نے اسے سمجھا بھی تھا؟

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں