پہلگام حملے کے بعد سیاحوں کا اعتماد بحال

جنگ نیوز

اپریل میں پہلگام میں پیش آنے والے دہشت گردانہ حملے کے بعد پیدا ہونے والی بے یقینی اور جمود کے مہینوں کے بعد کشمیر کی سیاحت نے ایک مرتبہ پھر غیر معمولی بحالی کا مظاہرہ کیا ہے۔ نئے سال کی تقریبات سے قبل وادی کے بڑے سیاحتی مقامات میں ہوٹلوں اور گیسٹ ہاؤسز کی بھرپور بکنگ اس بات کی غماز ہے کہ سیاحوں کا اعتماد دوبارہ بحال ہو رہا ہے۔
محکمہ موسمیات کی جانب سے نئے سال کے آس پاس تازہ برف باری کی پیش گوئی کے بعد ملک کے مختلف حصوں سے سیاحوں کی آمد میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ اس رجحان نے اس صنعت کو سہارا دیا ہے جو اپریل کے واقعے کے بعد شدید مالی نقصان اور بے روزگاری سے دوچار ہو گئی تھی۔
کشمیر کے ممتاز اسکی ریزورٹ گلمرگ میں ہوٹلوں کی گنجائش تقریباً سو فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ پہلگام میں بھی ہوٹلوں کی بکنگ اسی فیصد سے تجاوز کر گئی ہے، جب کہ سونمرگ میں بھی صورتحال حوصلہ افزا بتائی جا رہی ہے۔ سیاحتی مراکز میں رونقیں لوٹ آئی ہیں اور بازاروں میں چہل پہل نمایاں ہے۔
گلمرگ کے ایک ہوٹل منتظم کے مطابق یہ بحالی سیاحت کے شعبے کے لیے ایک فیصلہ کن موڑ کی حیثیت رکھتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اپریل کے بعد شدید خسارے کا سامنا رہا، تاہم کرسمس کے موقع پر مکمل بکنگ ہوئی اور نئے سال کے لیے بھی ہوٹل تقریباً بھر چکے ہیں۔ ان کے بقول ملکی سیاحوں نے اس موسم میں بیرون ملک کے بجائے کشمیر کو ترجیح دی ہے۔
محکمہ سیاحت کے ایک سینئر عہدیدار نے بھی موسم سرما کی سیاحت میں نمایاں بہتری کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ گلمرگ بدستور ملک کا سرمائی کھیلوں کا مرکز ہے اور ہوٹلوں کی گنجائش تقریباً مکمل ہو چکی ہے۔ ان کے مطابق یہ صورتحال مقامی معیشت کے لیے نہایت خوش آئند ہے۔
سیاحوں کے تجربے کو مزید بہتر بنانے کے لیے حکومت کی جانب سے مقامی پکوانوں پر مبنی فوڈ فیسٹیولز، دیگر ریاستوں اور بین الاقوامی ذائقوں کے اسٹالز کے علاوہ سرمائی کھیلوں کے مقابلے بھی منعقد کیے جا رہے ہیں۔سیاحتی آپریٹروں کے مطابق اپریل کے بعد پہلی مرتبہ بکنگ میں واضح اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ایک ٹور آپریٹر طفیل احمد کا کہنا تھا کہ انکوائریوں اور آمد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور آئندہ دنوں میں مزید بہتری کی توقع ہے۔سیاحت کی بحالی سے ان افراد کو بھی راحت ملی ہے جو روزگار کے لیے اس شعبے پر انحصار کرتے ہیں۔ گلمرگ کے ایک پونی والا غلام محمد کے مطابق گزشتہ ایک ہفتے سے سیاحتی سرگرمیوں میں خاصا اضافہ ہوا ہے اور وہ روزانہ معقول آمدنی حاصل کر رہے ہیں۔وادی کا رخ کرنے والے سیاحوں نے کشمیر کی سلامتی پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ گجرات سے آئے ایک سیاح مہیش گپتا کا کہنا تھا کہ انہیں کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہیں ہوا اور کشمیر ملک کے دیگر حصوں کی طرح محفوظ ہے۔ ان کے مطابق ایک واقعہ اس حسین خطے کی سیاحت سے لوگوں کو باز نہیں رکھ سکتا۔
مجموعی طور پر نئے سال سے قبل کشمیر میں سیاحت کی یہ بحالی نہ صرف معاشی سرگرمیوں کے لیے امید کی کرن ہے بلکہ اس امر کی علامت بھی ہے کہ اعتماد اور معمولاتِ زندگی بتدریج واپس آ رہے ہیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

اسکول کے اندر لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں 7 سالہ طالب علم جاں بحق

  ہندواڑہ، 1 اگست  حکام نے ہفتے کے روز بتایا کہ...

کمرشل ایل- پی- جی کی قیمتوں میں کمی

  نئی دہلی، 1 اگست: ہوٹلوں اور ریسٹورنٹس جیسے اداروں...

بالسٹک میزائلوں اور ڈرونز کا حملہ: 3 افراد ہلاک، ایک درجن سے زائد زخمی

  کیف، 01 اگست: مقامی حکام کے مطابق، جمعہ اور ہفتے...

SKUAST-K اور نقش رائل آرٹس کے درمیان پشمینہ مصنوعات کی جدت کے لئے معاہدہ

جنگ نیوز ڈیسک SKUAST-K نے کشمیر کی روایتی پشمینہ صنعت...

جموں و کشمیر میں عمارتوں کی اجازت نامہ فیس یکساں

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/جموں و کشمیر حکومت کے محکمہ ہاؤسنگ...

تازہ ترین خبریں

اسکول کے اندر لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں 7 سالہ طالب علم جاں بحق

  ہندواڑہ، 1 اگست  حکام نے ہفتے کے روز بتایا کہ...

کمرشل ایل- پی- جی کی قیمتوں میں کمی

  نئی دہلی، 1 اگست: ہوٹلوں اور ریسٹورنٹس جیسے اداروں...

بالسٹک میزائلوں اور ڈرونز کا حملہ: 3 افراد ہلاک، ایک درجن سے زائد زخمی

  کیف، 01 اگست: مقامی حکام کے مطابق، جمعہ اور ہفتے...

SKUAST-K اور نقش رائل آرٹس کے درمیان پشمینہ مصنوعات کی جدت کے لئے معاہدہ

جنگ نیوز ڈیسک SKUAST-K نے کشمیر کی روایتی پشمینہ صنعت...

جموں و کشمیر میں عمارتوں کی اجازت نامہ فیس یکساں

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/جموں و کشمیر حکومت کے محکمہ ہاؤسنگ...

پہلگام حملے کے بعد سیاحوں کا اعتماد بحال

جنگ نیوز

اپریل میں پہلگام میں پیش آنے والے دہشت گردانہ حملے کے بعد پیدا ہونے والی بے یقینی اور جمود کے مہینوں کے بعد کشمیر کی سیاحت نے ایک مرتبہ پھر غیر معمولی بحالی کا مظاہرہ کیا ہے۔ نئے سال کی تقریبات سے قبل وادی کے بڑے سیاحتی مقامات میں ہوٹلوں اور گیسٹ ہاؤسز کی بھرپور بکنگ اس بات کی غماز ہے کہ سیاحوں کا اعتماد دوبارہ بحال ہو رہا ہے۔
محکمہ موسمیات کی جانب سے نئے سال کے آس پاس تازہ برف باری کی پیش گوئی کے بعد ملک کے مختلف حصوں سے سیاحوں کی آمد میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ اس رجحان نے اس صنعت کو سہارا دیا ہے جو اپریل کے واقعے کے بعد شدید مالی نقصان اور بے روزگاری سے دوچار ہو گئی تھی۔
کشمیر کے ممتاز اسکی ریزورٹ گلمرگ میں ہوٹلوں کی گنجائش تقریباً سو فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ پہلگام میں بھی ہوٹلوں کی بکنگ اسی فیصد سے تجاوز کر گئی ہے، جب کہ سونمرگ میں بھی صورتحال حوصلہ افزا بتائی جا رہی ہے۔ سیاحتی مراکز میں رونقیں لوٹ آئی ہیں اور بازاروں میں چہل پہل نمایاں ہے۔
گلمرگ کے ایک ہوٹل منتظم کے مطابق یہ بحالی سیاحت کے شعبے کے لیے ایک فیصلہ کن موڑ کی حیثیت رکھتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اپریل کے بعد شدید خسارے کا سامنا رہا، تاہم کرسمس کے موقع پر مکمل بکنگ ہوئی اور نئے سال کے لیے بھی ہوٹل تقریباً بھر چکے ہیں۔ ان کے بقول ملکی سیاحوں نے اس موسم میں بیرون ملک کے بجائے کشمیر کو ترجیح دی ہے۔
محکمہ سیاحت کے ایک سینئر عہدیدار نے بھی موسم سرما کی سیاحت میں نمایاں بہتری کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ گلمرگ بدستور ملک کا سرمائی کھیلوں کا مرکز ہے اور ہوٹلوں کی گنجائش تقریباً مکمل ہو چکی ہے۔ ان کے مطابق یہ صورتحال مقامی معیشت کے لیے نہایت خوش آئند ہے۔
سیاحوں کے تجربے کو مزید بہتر بنانے کے لیے حکومت کی جانب سے مقامی پکوانوں پر مبنی فوڈ فیسٹیولز، دیگر ریاستوں اور بین الاقوامی ذائقوں کے اسٹالز کے علاوہ سرمائی کھیلوں کے مقابلے بھی منعقد کیے جا رہے ہیں۔سیاحتی آپریٹروں کے مطابق اپریل کے بعد پہلی مرتبہ بکنگ میں واضح اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ایک ٹور آپریٹر طفیل احمد کا کہنا تھا کہ انکوائریوں اور آمد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور آئندہ دنوں میں مزید بہتری کی توقع ہے۔سیاحت کی بحالی سے ان افراد کو بھی راحت ملی ہے جو روزگار کے لیے اس شعبے پر انحصار کرتے ہیں۔ گلمرگ کے ایک پونی والا غلام محمد کے مطابق گزشتہ ایک ہفتے سے سیاحتی سرگرمیوں میں خاصا اضافہ ہوا ہے اور وہ روزانہ معقول آمدنی حاصل کر رہے ہیں۔وادی کا رخ کرنے والے سیاحوں نے کشمیر کی سلامتی پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ گجرات سے آئے ایک سیاح مہیش گپتا کا کہنا تھا کہ انہیں کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہیں ہوا اور کشمیر ملک کے دیگر حصوں کی طرح محفوظ ہے۔ ان کے مطابق ایک واقعہ اس حسین خطے کی سیاحت سے لوگوں کو باز نہیں رکھ سکتا۔
مجموعی طور پر نئے سال سے قبل کشمیر میں سیاحت کی یہ بحالی نہ صرف معاشی سرگرمیوں کے لیے امید کی کرن ہے بلکہ اس امر کی علامت بھی ہے کہ اعتماد اور معمولاتِ زندگی بتدریج واپس آ رہے ہیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں