بلال بشیر بٹ
سری نگر/ جنگ نیوز/سال 2026 کے آغاز کے ساتھ اکیسویں صدی کے پہلے پچیس برس مکمل ہو چکے ہیں، جو اس صدی کے چار بنیادی ادوار میں سے پہلے ستون کی تکمیل کی علامت ہیں۔ یہ پچیس سال عالمی سطح پر غیر معمولی تبدیلیوں، تیز رفتار ترقی اور سنگین چیلنجز سے بھرپور رہے۔
اس وقت دنیا کو متعدد مسائل کا سامنا ہے جن میں جنگیں اور مسلح تنازعات، ماحولیاتی تبدیلی، قدرتی وسائل کی تیزی سے کمی، معاشی عدم استحکام، بڑھتی ہوئی سماجی ناہمواری اور مصنوعی ذہانت کے پھیلاؤ سے پیدا ہونے والے اخلاقی اور روزگار سے متعلق خدشات شامل ہیں۔ ٹیکنالوجی کی رفتار نے انسانی معاشروں کو نئی سہولتیں تو فراہم کیں، مگر اس کے ساتھ نئے خطرات بھی جنم ہوئیں۔
عالمی مبصرین کا کہنا ہے کہ اب نظریں اکیسویں صدی کے اگلے دو ادوار پر مرکوز ہیں، جن سے یہ امید وابستہ کی جا رہی ہے کہ وہ امن، استحکام اور پائیدار خوشحالی کی مضبوط بنیاد رکھیں گے۔ باہمی تعاون، ذمہ دارانہ ٹیکنالوجی کے استعمال، ماحولیاتی تحفظ اور انسان دوست ترقی کو مستقبل کی کامیابی کی کنجی قرار دیا جا رہا ہے۔
نئے سال کے ساتھ دنیا ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے جہاں ماضی کے تجربات سے سبق سیکھ کر بہتر اور متوازن عالمی نظام کی تشکیل کی توقع کی جا رہی ہے۔


