
انوار الحسن وسطوی
ڈاکٹر محمد واسع ظفر استاذ و سابق صدر، شعبہ تعلیم، پٹنہ یونیورسٹی، پٹنہ کا دینیات اور اسلامیات سے گہرا شغف جگ ظاہر ہے۔ اس حقیقت کا پتہ اردو اخبارات و رسائل کے ان قاریوں کو بخوبی ہے جو وقتاً فوقتاً اخبارات و رسائل میں اسلامیات اور دینیات کے تعلق سے ان کے مضامین اور مقالے دیکھتے اور پڑھتے رہتے ہیں۔ راقم السطور بھی اکثر ڈاکٹر صاحب موصوف کی اس نوعیت کی بیش قیمتی تحریروں سے مستفیض ہوتا رہتا ہے۔ گذشتہ ستمبر (۲۰۲۵ء) میں موصوف کی ایک اہم کتاب ’’عورت رسول اکرم ﷺ کی نظر میں‘‘ کے مطالعہ کا شرف اس ناچیز کو حاصل ہوا تھا۔ راقم السطور نے اس کتاب کے مطالعہ کے بعد بخوبی یہ محسوس کیا کہ ڈاکٹر محمد واسع ظفر صاحب کے دل میں اپنے دین و مذہب سے ایک ایسی والہانہ محبت ہے کہ انہوں نے اپنی اس کتاب کے ذریعہ مذہب اسلام کے ماننے والوں اور اس کے مخالفین دونوں کو یہ بتانے کی کامیاب سعی کی کہ اسلام میں عورتوں کو کیا وقار اور کیا مقام حاصل ہے۔ ڈاکٹر صاحب موصوف جیسی دینی و مذہبی بصیرت چند دیگر مسلم پروفیسروں میں بھی ہے لیکن عموماً وہ حضرات ان موضوعات پر خامہ فرسائی کرنا اپنی ہتک عزتی سمجھتے ہیں کہ کہیں کوئی انھیں ’’مولوی‘‘ نہ سمجھ بیٹھے لیکن ڈاکٹر صاحب موصوف کو اس کی کوئی پروا نہیں، وہ بغیر کسی تردد کے اپنا علمی فریضہ انجام دیتے رہتے ہیں۔
ڈاکٹر صاحب کی دو تازہ تصنیف ’’تحصیل علم دین میں اصلاح نیت‘‘ اور ’’تجارت میں اسلام کی رہنمائی‘‘ گذشتہ ماہ بدست عزیزی محمد ارشد حسین ، اسسٹنٹ پروفیسر، شعبہ تعلیم، پٹنہ یونیورسٹی تحفتاً موصول ہوئی ہیں۔ میں نے ڈاکٹر صاحب موصوف کی ان دونوں کتابوں کا بھی حسب سابق مطالعہ کرکے اپنے علم اور اپنی معلومات میں اضافہ کیا اور ضروری سمجھا کہ قاری کو بھی اس نیکی میں شریک کرلوں۔ ان دونوں کتابوں کے مطالعہ کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا کہ ڈاکٹر محمد واسع ظفر صاحب کو اللہ رب العزت نے روزی حاصل کرنے کے لیے نہ صرف پروفیسری کی ملازمت عطا کی بلکہ انھیں داعیٔ اسلام ہونے کی دولت سے بھی سرفراز کیا ہے۔یہ عظیم دولت اللہ رب العزت جس کو چاہے بخش دے، یہ اس کا کرم خاص ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان بلکہ ہر جاندار کو اس کے جسم میں ایک ’’دل ‘‘ بھی دے رکھا جو ہر وقت دھڑکتا ہے رہتا ہے۔ تاہم دل کا دھڑکنا ایک عام بات ہے لیکن اس کا تڑپنا اور بے چین رہنا، ایک خاص بات ہے۔ بلاشبہ اﷲ تعالیٰ نے ڈاکٹر محمد واسع ظفر کو ایک تڑپتا اور بے چین دل دے کر پیدا کیا ہے۔ ان کے دل کی تڑپ اور بے چینی یہ بتاتی ہے کہ ان کے دل میں یہ خیال ہمہ وقت ہچکولے مارتا رہتا ہے کہ مسلم معاشرے کو تمام شعبۂ ہائے زندگی میں کس طرح اسلامی نہج پر لایا جائے اور اﷲ تعالیٰ ا و ر اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے وضع کیے ہوئے طریقوں کو کس طرح اہل ایمان کی زندگی کا حصہ بنایا جائے۔ اسی فکر اور سوچ کے نتیجے میں وہ ایسے ایسے اسلامی موضوعات پر خامہ فرسائی کرتے ہیںجس جانب عام لوگوں کی نگاہیں نہیں جاتی ہیں۔ یہاں راقم السطور قاری حضرات کو موصوف کی مذکورہ دو کتابوں سے متعارف کرانا ضروری سمجھتا ہے تاکہ قاری بھی ان کی مذہب پسندی اور ان کی اسلام دوستی کو محسوس کریں اور اپنی زندگی کو بھی بامعنی، بامقصد اور اسلامی نہج پر ڈھالنے کی اپنے دل میں تڑپ پیدا کریں۔
ڈاکٹر صاحب موصوف کی کتاب ’’تحصیل علم دین میں اصلاح نیت‘‘ ۴۴؍ صفحات پر مشتمل ہے جس میں ان کے دو مضامین شامل ہیں ۔ اول ’’تحصیل علم دین میں نیت کی درستی ضروری‘‘ اور دوم ’’تحصیل علم دین میں نیت کے مستحسن پہلو‘‘۔ پہلے مضمون میں ڈاکٹر صاحب نے ایک طالب علم کے لیے تحصیل علم دین میں نیت کی درستگی اور اخلاص کو ضروری قرار دیا ہے جب کہ دوسرے مضمون میں انہوں نے تحصیل علم دین میں نیت کے عملی و مستحسن پہلوؤں پر توجہ دینے کی ضرورت بتائی ہے۔ یہ دونوں ہی مضامین حصول علم دین کے خواہش مند طلبہ کے لیے قابل مطالعہ اور قابل عمل نکات پر مشتمل ہیں۔ ڈاکٹر صاحب نے اپنے ان مضامین کو آیات قرآنی اور احادیث نبویؐ کے حوالوں سے مدلل بنانے کی بھرپور سعی کی ہے۔ دینیات سے شغف رکھنے والوں کے لیے عموماً اور دینی مدارس میں زیر تعلیم طلبہ کے لیے خصوصاً اس کتاب کا مطالعہ نہایت سود مند ثابت ہوسکتا ہے۔ ان مضامین کے لکھنے کا اصل مقصد کیا ہے، اس کی وضاحت مصنف موصوف نے کتاب ہٰذا میں شامل اپنی تحریر ’’پیش لفظ‘‘ میں ان الفاظ میں کیا ہے: ’’تحصیل علم کے دوران کسی شخص کی نیت اور عزم و ارادے کیا ہیں، اس کا اثر اس کی عملی زندگی (Practical Life) پر ضرور پڑتا ہے۔۔۔۔ طلبہ علم تو حاصل کررہے ہوتے ہیں لیکن ان کے سامنے تحصیل علم کی نیت، مقاصد و عزائم واضح نہیں ہوتے۔ ان ہی سب نکات پر غور و فکر نے احقر کو اس بات پر آمادہ کیا کہ تحصیل علم میں نیت کے موضوع پر مضامین لکھوں۔ امید ہے کہ تحصیل علم دین سے جڑے دیوانوں کے لیے یہ مضامین مفیدثابت ہوں گے۔‘‘ (تحصیل علم دین میں اصلاح نیت، صفحہ ۱۲)
ڈاکٹر صاحب موصوف کی دوسری کتاب جو حال میں زیر مطالعہ رہی ’’تجارت میں اسلام کی رہنمائی‘‘ ہے۔ اﷲ کے رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک مشہور حدیث ہے جس کا مفہوم ہے: ’’سچا اور امانت دارتاجر نبیوں ، صدیقوں اور شہداء کے ساتھ جنت میں داخل ہوگا۔‘‘ اس حدیث نے ڈاکٹر محمد واسع ظفر صاحب کو اس نیکی کی جانب راغب کیا کہ وہ تجارت کے تعلق سے مستقل ایک کتاب تصنیف کریںجس سے تجارت پیشہ لوگوں کی اسلامی نقطۂ نظر سے رہنمائی ہوجائے۔ مذکورہ کتاب ۹۲؍صفحات پر مشتمل ہے۔ مصنف مذکور نے اپنی اس کتاب کے ذریعہ تجارت کی اہمیت، اس کی فضیلت اور اس کے بنیادی اصول و ضوابط کو ۲۴؍ ذیلی عناوین میں منقسم کرکے قاری کو تجارت کے اسلامی اصول اور احکام سے واقف کرانے کی قابل تحسین کاوش کی ہے۔ اس کتاب کو تصنیف دینے کا خاص مقصد ملت کے ان افراد کی رہنمائی کرنا ہے جو تجارت کے پیشے سے یا تو منسلک ہیں یا اس پیشے سے منسلک ہونے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ دنیا میں ڈھیر سارے پیشے ہیںلیکن تجارت جیسے پاک پیشے کے تعلق سے کتاب تصنیف کرنا مصنف موصوف کی دین داری اور ان کی اسلام پسندی کی دلیل ہے۔ مصنف نے اپنی اس کتاب میں تجارت کی اہمیت و فضیلت کو بتاتے ہوئے تجارت پیشہ لوگوں کو یہ بتایا ہے کہ حرام اشیاء کی خرید و فروخت سے کیوں اور کس طرح اجتناب کیا جائے، جو چیز اپنی ملکیت اور قبضے میں نہ ہو اس کی بیع سے کیوں پرہیز کیا جائے، خریدار کو کس طرح صحیح مشورہ دیا جائے، اور کم منافع پر کس طرح اکتفا کرلیا جائے۔ ان مشوروں کے علاوہ اسلامی ضابطہ کے مطابق یہ بھی بتایا گیا ہے کہ تجارت میں کن اعمال سے بچنا ضروری ہے۔ مثلاً دھوکا دینا، جھوٹ بولنا، جعلی کرنسی کا استعمال کرنا، ناپ تول میں کمی کرنا، ذخیرہ اندوزی کرنا وغیرہ۔یہ وہ اعمال ہیں جنھیں ہمارے اکثر تاجر پیشہ لوگ غلط نہیں سمجھتے اور ان معاملات میں اسلام کے کیا رہنما اصول ہیں، ان سے نابلد اور ناواقف ہیں۔ ہم میں سے بہتوں کو یہ معلوم بھی نہیں ہے کہ اسلام نے تجارت کے شعبہ میں کیا رہنما اصول وضع کر رکھے ہیں اور کس طرح تاجروں کی رہنمائی کی ہے۔ قابل مبارکباد ہیں ڈاکٹر محمد واسع ظفر صاحب جنہوں نے تجارت میں اسلامی اصولوں اور ضابطوں سے نابلد اور ناواقف لوگوں کی رہنمائی اور واقفیت کے لیے اس کتاب کی تصنیف کا فریضہ انجام دیا۔ مصنف موصوف نے اپنی اس کتاب کے ’’پیش لفظ‘‘ میں کتاب کی افادیت کے تعلق سے بجا تحریر فرمایا ہے: ’’تجارت سے وابستہ افراد کے لئے تو ان شاء اللہ یہ کتاب مفید ثابت ہوگی ہی، عام لوگوں کے لئے بھی اس کا مطالعہ سودمند ثابت ہوگا کیوں کہ خرید و فروخت ایسی چیز ہے جس سے ہر ایک کو واسطہ پڑتا ہی ہے۔ اس لیے یہ سمجھ کر کہ یہ رسالہ (کتاب) صرف تاجروں کے لیے ہے، اس کے مطالعے سے تساہل نہ برتیں۔‘‘ (تجارت میں اسلام کی رہنمائی، صفحہ ۲۰)
دعا ہے کہ اللہ رب العزت ڈاکٹر محمد واسع ظفر صاحب کی مذکورہ دونوں کتابوں سے ملت کے افراد کو مستفیض ہونے کی توفیق بخشے اور ڈاکٹر صاحب موصوف کے لیے انھیں توشہ آخرت بنادے، آمین! مذکورہ دونوں کتابیں ، ’’صائمہ پبلی کیشن‘‘، لنگر ٹولی، پٹنہ، ’’بک امپوریم‘‘، سبزی باغ، پٹنہ ، ’’ آفتاب بک ڈپو‘‘، سبزی باغ، پٹنہ کے علاوہ ’’ناولٹی بکس‘‘، قلعہ گھاٹ، دربھنگہ، ’’ یونیورسل بک ہائوس‘‘، شمشاد مارکیٹ، علی گڑھ اور ’’دفتر مدرسہ قاسمیہ‘‘، بینی آباد، مظفر پور (بہار) سے حاصل کی جاسکتی ہیں۔ کتابوں کے تعلق سے مزید معلومات کے لیے مصنف کتاب ڈاکٹر محمد واسع ظفر سے براہ راست رابطہ کا نمبر ہے: ۹۴۷۱۸۶۷۱۰۸ ۔
٭٭٭٭٭
ادارہ سری نگر جنگ جناب ڈاکٹرمحمد واسع ظفر صاحب کو ان کی مزید دو نئی تخلیقات پر مبارکباد پیش کرتا ہے۔


