جنگ نیوز ڈیسک
سری نگر/اس سال کشمیر میں بلی کے کاٹنے کے 6500 سے زائد واقعات اینٹی ریبیز کلینک، ایس ایم ایچ ایس اسپتال سری نگر میں درج کیے گئے ہیں جو ایک سنگین تشویش کا باعث ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق بلی کے کاٹنے کے کیسز اب کتوں کے مقابلے میں زیادہ ہو چکے ہیں۔
محکمہ صحت کے حکام کے مطابق کووڈ کے بعد بلیوں کو بطور پالتو جانور رکھنے کا رجحان بڑھا ہے، تاہم بیشتر مالکان ویکسینیشن اور بنیادی نگہداشت کو نظرانداز کر رہے ہیں۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ بلیاں بھی ریبیز منتقل کر سکتی ہیں اگر انہیں بروقت ٹیکے نہ لگائے جائیں۔
اینٹی ریبیز کلینک کے ایک اہلکار کے مطابق نصف سے زیادہ جانوروں کے کاٹنے کے کیسز اب بلیوں سے متعلق ہیں۔ بلیوں کو ویکسین نہ لگانا، کیڑے مار ادویات نہ دینا اور صفائی کا خیال نہ رکھنا انسانوں میں متعدی بیماریوں کے خطرات بڑھا رہا ہے۔
طبی ماہرین نے پالتو بلیوں کی باقاعدہ ویکسینیشن، ڈی ورمنگ، صفائی اور احتیاطی تدابیر پر زور دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کاٹنے یا خراش کی صورت میں زخم کو فوراً صابن اور پانی سے دھونا اور طبی مدد حاصل کرنا ضروری ہے۔
ماہرین نے واضح کیا کہ گھبرانے کی ضرورت نہیں، مگر ذمہ دارانہ رویہ، صفائی اور آگاہی نہایت اہم ہے کیونکہ ریبیز ایک مہلک بیماری ہے جس کی علامات ظاہر ہونے کے بعد علاج ممکن نہیں رہتا۔
بشکریہ: کے این او


