
رئیس احمد کمار
قاضی گنڈ کشمیر
نگینہ انٹرنیشنل ملک کے معیاری اور معتبر اردو رسالوں میں شمار ہوتا ہے۔ یہ رسالہ وحشی سعید کی ادارت اور نور شاہ صاحب کی نگرانی میں مسلسل منظر عام پر آ رہا ہے۔ اس رسالے کی ایک اہم خصوصیت اور خوبی یہ ہے کہ اس میں نامور و معتبر ادیبوں کے ساتھ ساتھ نوآموز قلم کاروں کی نگارشات کو بھی جگہ دی جاتی ہے اور انہیں حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔ نگینہ انٹرنیشنل کا تازہ ادب نامہ جنوری تا اکتوبر 2025 حال ہی میں منظر عام پر آیا ہے اور ایک پروقار ادبی تقریب کے دوران ہوٹل شہنشاہ پیلس سرینگر میں اس کا اجرا کیا گیا۔ یہ شمارہ 176 صفحات پر مشتمل ہے اور اس کا سرورق دیدہ زیب اور قابل دید ہے۔ سرورق پر ہمدم کشمیری، بلراج بخشی اور اشرف آثاری کی تصاویر نظروں سے گزرتی ہیں جو سال رواں کے دوران مالک حقیقی سے جا ملے ہیں۔
بات سے بات، اداریہ میں تینوں ادبا ہمدم کشمیری، آنجہانی بلراج بخشی اور اشرف آثاری کو خوب صورت اور بہترین الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا گیا ہے اور ان کی ادب کے تئیں خدمات کو گنوایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ نوجوان نسل کے منشیات کی طرف بڑھتے رجحان کو بھی باعث تشویش قرار دیا گیا ہے اور اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ ہمیں فردی سطح پر بھی اس کی روک تھام کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔
اشرف عادل، ڈاکٹر علی عباس اور علی شاہد دلکش کی حمدیہ اور نعتیہ نظمیں بھی قارئین کی نگاہوں سے گزرتی ہیں۔ خوش فکر شاعر ہمدم کشمیری، سکندر مرزا کا ایک نہایت ہی پرکشش اور پرمغز مضمون ہے جس میں ہمدم کشمیری کی ادبی خدمات کو یاد کیا گیا ہے اور ان کے دونوں شعری مجموعوں لہو دھوپ کی اور ورق سادہ پر سیر حاصل گفتگو کی گئی ہے۔ بقول سکندر مرزا، ہمدم کشمیری کے دونوں مجموعوں میں شاعری کا معیار خوب سے خوب تر ہے۔ وہ ایک با ضمیر شاعر ہی نہیں بلکہ اپنے سماج، قوم اور دھرتی کے دکھوں کو گہرائی سے محسوس کرنے والا شاعر ہے۔
اشرف آثاری بحیثیت مبصر، ڈاکٹر ریاض توحیدی صاحب کا مدلل اور مفصل مضمون ان کی ادبی زندگی اور ادبی خدمات کا بھرپور احاطہ کرتا ہے۔ اشرف آثاری صاحب نے اپنی ادبی خدمات بحیثیت افسانہ نگار، شاعر اور بطور مبصر انجام دی ہیں، مگر ڈاکٹر ریاض توحیدی صاحب نے اس مضمون میں ان کی تبصرہ نگاری کا احاطہ کرتے ہوئے ان کی علمی صلاحیت، سنجیدہ مطالعے اور وسیع سوچ کو اجاگر کیا ہے۔ بقول ڈاکٹر ریاض توحیدی صاحب، اشرف آثاری کے سو سے زیادہ تبصرے اور مضامین میری نظر سے گزرے ہیں، جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ انہوں نے مطالعے کو حرز جاں بنایا تھا جو آج کے دور میں ادبی دوستی کی ایک مثال قرار دی جا سکتی ہے۔
بلراج بخشی پر ڈاکٹر جگموہن سنگھ کا طویل اور جامع مضمون اس شمارے کا حصہ ہے۔ مضمون نگار نے بلراج بخشی کی حالات زندگی اور ان کی ادبی خدمات پر مفصل روشنی ڈالی ہے۔ بلراج بخشی نہ صرف ایک مضمون نگار تھے بلکہ بحیثیت شاعر، افسانہ نگار، صحافی اور نقاد ان کی ادبی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ بقول مضمون نگار، بلراج بخشی نے عصر حاضر کے سیاسی، سماجی، تہذیبی اور اخلاقی موضوعات کو اپنے افسانوں کا موضوع بنایا۔ ان کے افسانوی مجموعے ایک بوند زندگی میں ایسے کئی افسانے ہیں جنہیں بلراج بخشی سے پہلے کسی اور نے نہیں چھوا تھا۔ علاوہ ازیں مضمون نگار نے بلراج بخشی کے تمام افسانوی اور شعری مجموعوں پر کھل کر بات کی ہے اور ان کی خوبیوں کو بیان کیا ہے۔
گواہ، پروفیسر محمد زمان آزردہ کا انشائیہ ہے۔ انشائیہ صنف اردو ادب کی مشکل ترین اصناف میں مانی جاتی ہے۔ انشائیہ تخلیق کرنا واقعی کار دارد والا معاملہ ہے۔ زبان و بیان پر مکمل دسترس رکھنے والے اور اس صنف پر خاصا عبور رکھنے والے قلم کار ہی ایک کامیاب انشائیہ تخلیق کر سکتے ہیں۔ وادی گلپوش سے تعلق رکھنے والے بہت ہی کم قلم کار معیاری انشائیے رقم کرتے ہیں۔ پروفیسر محمد زمان آزردہ جہاں کامیاب مضمون نگار اور نقاد کے طور پر برصغیر میں پہچانے جاتے ہیں وہیں انہیں انشائیہ لکھنے پر بھی مکمل دسترس حاصل ہے۔ نگینہ انٹرنیشنل کے اس شمارے میں شامل ان کا انشائیہ گواہ اس بات کا ثبوت ہے کہ انشائیہ نگار نے تمام زاویے مدنظر رکھ کر ایک کامیاب اور موثر انشائیہ رقم کیا ہے۔ انشائیے کا موضوع ایسا چنا گیا ہے کہ کھیلتے کھیلتے اور بات میں بات کرتے کرتے گواہ جیسا ایک معیاری اور کامیاب انشائیہ اپنے قارئین کے سپرد کر دیا گیا ہے۔
چوری اور سینہ زوری، انجینئر شفیع احمد کا اس شمارے میں شامل دوسرا انشائیہ ہے۔ قلمی نام ایس معشوق احمد وادی کشمیر کے ایک منجھے ہوئے اور ابھرتے ہوئے نوجوان قلم کار ہیں جو نہ صرف مضامین اور تبصراتی مضامین رقم کرتے ہیں بلکہ ان کا انشائیہ لکھنے کا فن واقعی قابل ستائش اور قابل تعریف ہے۔ ان کے بیشتر انشائیے صنف انشائیہ کی کسوٹی پر کھرے اترتے ہیں اور قارئین کو متاثر کیے بغیر نہیں رہتے۔ نگینہ کے اس شمارے میں شامل قلمی نام انشائیہ سلیس زبان میں لکھا گیا ایک کامیاب اور معیاری انشائیہ ہے۔ تخلیق کو پڑھ کر قاری کو معلوم ہو جاتا ہے کہ انشائیہ نگار نے اپنا قلمی نام رکھنے کے لیے کتنے مراحل طے کیے ہیں۔
وہ کون تھی، اس شمارے میں شامل چوتھا اور آخری انشائیہ ہے جو ڈاکٹر علیم خان فلکی نے رقم کیا ہے۔ قصہ دراصل یہ ہے، وحشی سعید کے افسانوں پر ایک مدلل اور طویل مفصل مضمون ڈاکٹر جاوید انور نے لکھا ہے جو اس شمارے کا حصہ ہے۔ جوش ملیح آبادی کی شاعری میں رومانوی پہلو، ڈاکٹر احسان عالم کا ایک خوب صورت اور قابل داد مضمون ہے۔ اس مضمون میں مضمون نگار نے نہ صرف جوش کو رومانوی شاعر قرار دیا ہے بلکہ اردو ادب میں جن شاعروں نے رومانوی شاعری کی ہے ان پر بھی تعارفی کلمات تحریر کیے ہیں، جیسے اقبال، عظمت اللہ، احسان دانش وغیرہ۔
منظومات کے باب میں جن نمائندہ شاعروں کے کلام کو اس شمارے کا حصہ بنایا گیا ہے اور جن کی شاعری اس میں درج ہے ان میں سیفی سروجنی، انور آفاقی، ڈاکٹر روف خیر، اشرف عادل، ڈاکٹر شبنم عشائی، مصداق عظمی، شمیم اختر، ڈاکٹر گلزار احمد وانی، ڈاکٹر شائستہ یوسف، علی شیدا، غلام نبی شاہد وغیرہ قابل ذکر ہیں۔
خماری آنکھیں، رحیم رہبر کی کہانی کا کشمیری ترجمہ رشید کانسپوری نے کیا ہے۔ ایک نوجوان لڑکا کس طرح اس بھول میں مبتلا رہتا ہے کہ سارہ، جو اسے پارک میں ملی تھی، شاید ایک آوارہ اور بدکردار لڑکی ہے، حالاں کہ وہ اسے اپنے جوانمرگ بھائی امجد کے روپ میں دیکھ رہی تھی۔
ڈاکٹر نزیر مشتاق کے تین افسانچے دولت، بلا عنوان اور نابینا اس شمارے میں شامل کیے گئے ہیں۔ تینوں افسانچے سماجی عکاسی کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ کیسے کیسے لوگ اور فرض کی ادائیگی، ڈاکٹر علی عباس کے دو افسانچے ہیں جو اس شمارے میں شامل کیے گئے ہیں۔ موجودہ دور کے انسانوں کی بے رحمی اور رشوت و جھوٹ جیسی بیماریوں میں مبتلا لوگوں کو ان افسانچوں کے ذریعے آگاہی دی گئی ہے۔
چور کی داڑھی میں تنکا اور خدا ہی حافظ، شیخ بشیر احمد کے دو افسانچے ہیں جو اس شمارے میں شامل ہوئے ہیں۔ کس طرح لوگ بجلی میٹر پر ہک لگا کر بے ایمانی کا کام انجام دیتے ہیں، جس میں ایک مولوی صاحب بھی پیچھے نہیں رہتے، افسانچوں کے ذریعے دکھایا گیا ہے۔ کتابوں کے ساتھ ہمارا رویہ کیسا رہتا ہے کہ چپل اور جوتوں کو الماریوں میں رکھا جاتا ہے، بلکہ کتابوں کو سڑک کنارے ریڑیوں پر بیچا جاتا ہے اور کتاب پڑھنے کے بجائے انہیں نظر انداز کر کے ناو بنا کر جھیل کی نذر کیا جاتا ہے۔
میاں فصیح اور دوہری موت، رشید راہگیر کے دو افسانچے ہیں جو اس شمارے میں درج ہیں اور چونکا دینے والے ثابت ہو رہے ہیں۔ بھائی، جاوید شبیر کا افسانچہ بیوی کی چال اور بہانوں کو بے نقاب کرتا ہوا اسے یہ سبق بھی دیتا ہے کہ سالا بھی بھائی کی طرح ہی ہوتا ہے۔
سوچ کا لمحہ، جناب وحشی سعید صاحب کا ایک پر درد افسانہ ہے۔ پر درد اس لیے کہ غریبی اور امیری ہمارے سماج میں نارمل زندگی کو ایب نارمل بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتیں۔ زندگی کی جو اپنی مٹھاس اور رنگ ہوتے ہیں انہیں بے رنگ بنانے پر تلی رہتی ہیں۔
فرشتے، محمد بشیر مالیرکوٹلوی کا یہ طویل اور جاندار افسانہ ہمارے سماج کو ایک آئینہ دکھاتا ہے۔ اب لوگ بیمار کی عیادت کرنے نہیں جاتے، ایک دوسرے کا دکھ درد نہیں سمجھتے، یہاں تک کہ میت کے کفن دفن اور جنازے میں شامل ہونا بھی بھاری بوجھ سمجھا جانے لگا ہے۔
للہ ایک ثواب بھیک میں دے دیں، صوفی بشیر بشر کا یہ خوب صورت اور پرمغز افسانہ نیکی اور بدی کے کاموں کے عوض آخرت میں جزا و سزا کی روداد سناتا ہے۔ امام صاحب ایک نیک بخت اور صوم و صلوٰۃ کی پابند عورت پر بے بنیاد الزامات لگا کر آخرت میں اسی سے منت سماجت کرتے ہیں کہ للہ ایک ثواب بھیک میں دے دیں۔
آب حیات، طارق شبنم کا افسانہ ہے جو جموں و کشمیر کے ضلع بانڈی پورہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ کئی سالوں سے وہ معیاری اور موثر افسانے تخلیق کرتے آ رہے ہیں۔ اب تک ان کے دو افسانوی مجموعے منظر عام پر آ چکے ہیں۔ اس شمارے میں شامل ان کا یہ افسانہ انسانی خود غرضی کو موضوع بنا کر یہ دکھانے کی کامیاب کوشش کرتا ہے کہ کس طرح خود غرض لوگوں نے جنگلات، آبی ذخائر اور دریاؤں پر ناجائز قبضہ جما کر خود اپنے لیے ہی مصیبتیں کھڑی کی ہیں۔
ممتا کے پھول، شمس الہدیٰ انصاری علیگ کا یہ افسانہ آدی باسی لوگوں کی روداد بیان کرتا ہے۔ جھارکھنڈ اور چھتیس گڑھ کے اکثر آدی باسی لوگوں کی زندگی نہ صرف اقتصادی اور سماجی طور پر اجیرن ہے بلکہ ان کی عورتوں کے ساتھ ہوسٹلوں، اسکولوں اور گھروں میں جس طرح جنسی استحصال کیا جاتا ہے، اس افسانے میں اسے بخوبی دکھایا گیا ہے۔
تبصرہ و تعارف کے باب میں ڈاکٹر ظہیر انصاری، سہیل سالم، رئیس احمد کمار، اقرا پرواز، ڈاکٹر پریمی رومانی اور گاش روحی کے تبصراتی مضامین قاری کی نظروں سے گزرتے ہیں۔ ادبی جھلکیاں باب میں جناب نور شاہ صاحب نے نگینہ انٹرنیشنل کی اس ادبی تقریب پر تفصیلی گفتگو کی ہے جو ہوٹل شہنشاہ پیلس میں منعقد کی گئی تھی۔ اس کے علاوہ ڈاکٹر اشرف آثاری کے انتقال کی خبر بھی ضبط تحریر میں لائی گئی ہے۔ علاوہ ازیں اقبال ہائی اسکول صورہ اور شیخ العالم ویلفیئر سوسائٹی کے زیر اہتمام منعقد دو ادبی تقریبات پر بھی تفصیل کے ساتھ جانکاری دی گئی ہے۔
نادم یگ، دینا ناتھ نادم کی حالات زندگی اور ادبی کارناموں پر مختصر مگر جامع مضمون نور شاہ صاحب نے تحریر کیا ہے، جس میں انہوں نے نادم صاحب کے ساتھ پہلی اور بعد کی ملاقاتوں پر روشنی ڈالی ہے۔ بقول ان کے نادم صاحب اب اس دنیا میں نہیں، لیکن نادم یگ آج بھی زندہ ہے۔
ڈوگری شاعری کے دو ستون، نور شاہ صاحب کا کیرن سنگھ مدھوکر اور وینو بھائی پنت دو معروف ڈوگری ادیبوں پر لکھا گیا ایک مفصل مضمون ہے جو اس شمارے کا حصہ بنا ہے۔
گفتگو باب میں ڈاکٹر شبیب رضوی صاحب کے ساتھ لیا گیا انٹرویو شامل کیا گیا ہے، جو نور شاہ صاحب، وجہہ احمد اندرابی اور ڈاکٹر اشرف آثاری نے اردو اکادمی جاتے وقت ریکارڈ کیا تھا۔ کشمیری صوفی شاعری کے متعلق یہ گفتگو قابل ستائش قرار دی جا سکتی ہے۔
ندیم صدیقی کا سلام بن رزاق پر ایک مضمون اس شمارے کا آخری حصہ ہے جسے قاری پڑھ سکتے ہیں۔ اردو زبان و ادب کے فروغ میں نگینہ انٹرنیشنل جو کلیدی کردار ادا کر رہا ہے وہ سنہرے حروف میں لکھے جانے کے قابل ہے۔ اللہ کرے یہ رسالہ دن دگنی اور رات چگنی ترقی کرے۔


