نئے سال کی آمد گزرے سال کامحاسبہ

 

بشیر اطہر

دنیا بھر میں جب ایک سال اپنے اختتام کو پہنچتا ہے اور نیا سال دستک دیتا ہے تو لوگ ایک دوسرے کو خوشی خوشی “نئے سال کی مبارکباد” دیتے ہیں۔ یہ رسم اتنی عام ہو چکی ہے کہ اب اس پر سوچنا بھی غیر ضروری سمجھا جاتا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا واقعی ہر گزرتا ہوا سال مبارکباد کا مستحق ہوتا ہے؟
مبارکباد دراصل کسی ایسی کامیابی پر دی جاتی ہے جو نہ صرف فرد کے لیے باعثِ فخر ہو بلکہ سماج کے لیے بھی مفید ثابت ہو۔ اگر محض ایک سال کا گزر جانا ہی خوشی کی دلیل ہے تو پھر احتساب، شعور اور ذمہ داری کا مفہوم کہاں کھڑا رہ جاتا ہے؟
اصل سوال یہ ہونا چاہیے کہ ہم نے اس گزرے ہوئے سال میں کیا کھویا اور کیا پایا؟
اگر ہم نے اپنی نوکری حاصل کر لی، نیا مکان بنا لیا، یا گھر میں شادی ہو گئی تو کیا یہی کامیابی کی آخری تعریف ہے؟ یا پھر اصل کامیابی یہ ہے کہ ہم برائیوں سے کتنے دور رہے، ہمسایوں کے ساتھ ہمارا سلوک کیسا رہا، ہم نے رشوت، ناانصافی اور خود غرضی سے کس حد تک اجتناب کیا؟اگر ہم کسی منصب پر فائز ہیں تو کیا ہم نے اپنے اختیار کو رحمت بنایا یا زحمت؟
اگر ہم افسر ہیں تو کیا ہمارے ماتحت ہمیں خوف کی علامت سمجھتے ہیں یا اعتماد کی؟
اگر ہم عام شہری ہیں تو کیا ہم دوسروں کے لیے آسانی بنے یا مزید بوجھ؟ان تمام سوالات کا جواب دیے بغیر “نیا سال مبارک” کہنا محض ایک کھوکھلا جملہ ہے۔
اگر ہماری برائیوں کا پلڑا بھاری ہے تو مبارکباد نہیں، بلکہ “اِنّا لِلّٰہِ وَاِنّا اِلَیہِ رَاجِعُون” کہنے کا مقام ہےکیونکہ ایک اور قیمتی سال نادانی میں ضائع ہو گیا، جو اب کبھی واپس نہیں آئے گا۔
ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ ہر گزرتا سال ہماری زندگی میں کمی کا اعلان ہے، اضافہ نہیں۔ کون جانتا ہے کہ کون سا سال، کون سی رات ہماری آخری ہو؟ اگر ہم اپنے خالق کے حضور برائیوں کا بوجھ اٹھائے حاضر ہوئے تو کیا ہمارے پاس کوئی عذر ہوگا؟
میں اپنے آپ سے سوال کرتا ہوں:
اگر میرا سلوک خلقِ خدا کے ساتھ درست نہیں، اگر میں کسی کے کام نہ آ سکوں، یا ہر خدمت کا معاوضہ طلب کروں—تو کیا میں واقعی انسان کہلانے کا حق رکھتا ہوں؟انسان ہونے کا مقصد یہی ہے کہ ہم بلا لالچ، بلا خود غرضی، دوسروں کے لیے آسانی پیدا کریں۔
نئے سال میں قدم رکھنے سے پہلے ہمیں نعرے نہیں بلکہ منصوبے بنانے چاہئیں ایسے منصوبے جو اخلاق، کردار اور خدمت پر مبنی ہوں۔
ہمیں نفسِ امّارہ، لالچ، رشوت، اور خود غرضی کی غلامی سے خود کو آزاد کرنا ہوگا، ورنہ ہم سماج کے لیے مثال نہیں بلکہ داغ بن جائیں گے۔
افسوس کا مقام یہ ہے کہ ہم نے احتساب کو چھوڑ کر محض تقریبات کو اپنا لیا ہے۔ گلمرگ جیسے مقامات پر ہونے والی سالِ نو کی تقریبات میں ہماری نوجوان نسل کی شرکت ایک تلخ حقیقت ہے۔ شور، فحاشی اور بے مقصد تفریح کو ترقی کا نام دے دیا گیا ہےاور اس سے بھی زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ بعض والدین خود اس رویے کی سرپرستی کرتے ہیں۔
جب دینی اجتماعات ہوں تو تشہیر محدود رہتی ہے، مگر غیر اخلاقی کنسرٹس کے لیے لاکھوں ہاتھ آگے بڑھ جاتے ہیں۔ یہ تضاد واضح پیغام دیتا ہے کہ ہم شعوری یا لاشعوری طور پر کس راستے کا انتخاب کر چکے ہیں۔
میری باتیں کڑوی ضرور ہیں، مگر نیت تلخ نہیں۔ میں اپنی قوم کو ڈوبتے سورج کی طرح نہیں دیکھنا چاہتا، بلکہ ایک ایسے سورج کی مانند دیکھنا چاہتا ہوں جو اپنی روشنی سے دنیا کو منور کرے۔
میری سب سے گزارش ہے کہ غیر اخلاقی اور غیر اسلامی تقریبات کا بائیکاٹ کیا جائےان کی تشہیر سے اجتناب کیا جائےنئے سال کی مبارکباد کو رسم نہیں، احتساب بنایا جائے
اگر ہم واقعی نیا سال بہتر بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں خود کو بدلنا ہوگاورنہ سال بدلتے رہیں گے،ہم وہیں کے وہیں رہیں گے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

جموں کشمیر میں شادی کی تقریب کے دوران مکان گرنے سے 20 زخمی

سری نگر: جموں و کشمیر کے ضلع ریاسی کی تحصیل...

بفلیاز پونچھ میں آگ لگنے سے 13 دکانیں جل کر خاکستر

پونچھ 7 جون: پونچھ ضلع کی تحصیل سورنکوٹ کے...

گھریلو ایل پی جی کی قیمت میں 29 روپے فی 14.2 کلوگرام سلنڈر کا اضافہ

نئی دہلی 7 جون: گھریلو کھانا پکانے والی گیس ایل...

شاعری

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

تازہ ترین خبریں

جموں کشمیر میں شادی کی تقریب کے دوران مکان گرنے سے 20 زخمی

سری نگر: جموں و کشمیر کے ضلع ریاسی کی تحصیل...

بفلیاز پونچھ میں آگ لگنے سے 13 دکانیں جل کر خاکستر

پونچھ 7 جون: پونچھ ضلع کی تحصیل سورنکوٹ کے...

گھریلو ایل پی جی کی قیمت میں 29 روپے فی 14.2 کلوگرام سلنڈر کا اضافہ

نئی دہلی 7 جون: گھریلو کھانا پکانے والی گیس ایل...

شاعری

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

نئے سال کی آمد گزرے سال کامحاسبہ

 

بشیر اطہر

دنیا بھر میں جب ایک سال اپنے اختتام کو پہنچتا ہے اور نیا سال دستک دیتا ہے تو لوگ ایک دوسرے کو خوشی خوشی “نئے سال کی مبارکباد” دیتے ہیں۔ یہ رسم اتنی عام ہو چکی ہے کہ اب اس پر سوچنا بھی غیر ضروری سمجھا جاتا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا واقعی ہر گزرتا ہوا سال مبارکباد کا مستحق ہوتا ہے؟
مبارکباد دراصل کسی ایسی کامیابی پر دی جاتی ہے جو نہ صرف فرد کے لیے باعثِ فخر ہو بلکہ سماج کے لیے بھی مفید ثابت ہو۔ اگر محض ایک سال کا گزر جانا ہی خوشی کی دلیل ہے تو پھر احتساب، شعور اور ذمہ داری کا مفہوم کہاں کھڑا رہ جاتا ہے؟
اصل سوال یہ ہونا چاہیے کہ ہم نے اس گزرے ہوئے سال میں کیا کھویا اور کیا پایا؟
اگر ہم نے اپنی نوکری حاصل کر لی، نیا مکان بنا لیا، یا گھر میں شادی ہو گئی تو کیا یہی کامیابی کی آخری تعریف ہے؟ یا پھر اصل کامیابی یہ ہے کہ ہم برائیوں سے کتنے دور رہے، ہمسایوں کے ساتھ ہمارا سلوک کیسا رہا، ہم نے رشوت، ناانصافی اور خود غرضی سے کس حد تک اجتناب کیا؟اگر ہم کسی منصب پر فائز ہیں تو کیا ہم نے اپنے اختیار کو رحمت بنایا یا زحمت؟
اگر ہم افسر ہیں تو کیا ہمارے ماتحت ہمیں خوف کی علامت سمجھتے ہیں یا اعتماد کی؟
اگر ہم عام شہری ہیں تو کیا ہم دوسروں کے لیے آسانی بنے یا مزید بوجھ؟ان تمام سوالات کا جواب دیے بغیر “نیا سال مبارک” کہنا محض ایک کھوکھلا جملہ ہے۔
اگر ہماری برائیوں کا پلڑا بھاری ہے تو مبارکباد نہیں، بلکہ “اِنّا لِلّٰہِ وَاِنّا اِلَیہِ رَاجِعُون” کہنے کا مقام ہےکیونکہ ایک اور قیمتی سال نادانی میں ضائع ہو گیا، جو اب کبھی واپس نہیں آئے گا۔
ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ ہر گزرتا سال ہماری زندگی میں کمی کا اعلان ہے، اضافہ نہیں۔ کون جانتا ہے کہ کون سا سال، کون سی رات ہماری آخری ہو؟ اگر ہم اپنے خالق کے حضور برائیوں کا بوجھ اٹھائے حاضر ہوئے تو کیا ہمارے پاس کوئی عذر ہوگا؟
میں اپنے آپ سے سوال کرتا ہوں:
اگر میرا سلوک خلقِ خدا کے ساتھ درست نہیں، اگر میں کسی کے کام نہ آ سکوں، یا ہر خدمت کا معاوضہ طلب کروں—تو کیا میں واقعی انسان کہلانے کا حق رکھتا ہوں؟انسان ہونے کا مقصد یہی ہے کہ ہم بلا لالچ، بلا خود غرضی، دوسروں کے لیے آسانی پیدا کریں۔
نئے سال میں قدم رکھنے سے پہلے ہمیں نعرے نہیں بلکہ منصوبے بنانے چاہئیں ایسے منصوبے جو اخلاق، کردار اور خدمت پر مبنی ہوں۔
ہمیں نفسِ امّارہ، لالچ، رشوت، اور خود غرضی کی غلامی سے خود کو آزاد کرنا ہوگا، ورنہ ہم سماج کے لیے مثال نہیں بلکہ داغ بن جائیں گے۔
افسوس کا مقام یہ ہے کہ ہم نے احتساب کو چھوڑ کر محض تقریبات کو اپنا لیا ہے۔ گلمرگ جیسے مقامات پر ہونے والی سالِ نو کی تقریبات میں ہماری نوجوان نسل کی شرکت ایک تلخ حقیقت ہے۔ شور، فحاشی اور بے مقصد تفریح کو ترقی کا نام دے دیا گیا ہےاور اس سے بھی زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ بعض والدین خود اس رویے کی سرپرستی کرتے ہیں۔
جب دینی اجتماعات ہوں تو تشہیر محدود رہتی ہے، مگر غیر اخلاقی کنسرٹس کے لیے لاکھوں ہاتھ آگے بڑھ جاتے ہیں۔ یہ تضاد واضح پیغام دیتا ہے کہ ہم شعوری یا لاشعوری طور پر کس راستے کا انتخاب کر چکے ہیں۔
میری باتیں کڑوی ضرور ہیں، مگر نیت تلخ نہیں۔ میں اپنی قوم کو ڈوبتے سورج کی طرح نہیں دیکھنا چاہتا، بلکہ ایک ایسے سورج کی مانند دیکھنا چاہتا ہوں جو اپنی روشنی سے دنیا کو منور کرے۔
میری سب سے گزارش ہے کہ غیر اخلاقی اور غیر اسلامی تقریبات کا بائیکاٹ کیا جائےان کی تشہیر سے اجتناب کیا جائےنئے سال کی مبارکباد کو رسم نہیں، احتساب بنایا جائے
اگر ہم واقعی نیا سال بہتر بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں خود کو بدلنا ہوگاورنہ سال بدلتے رہیں گے،ہم وہیں کے وہیں رہیں گے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں