جنگ نیوز ڈیسک
جموں و کشمیر میں گزشتہ پانچ برسوں میں تقریباً پچاس ہزار جبکہ لداخ میں دو ہزار سے زائد راشن کارڈ منسوخ کیے گئے۔ مرکز نے بتایا کہ یہ کارروائی ملک گیر سطح پر مستحقین کی تصدیق اور سبسڈی شدہ غذائی اجناس کی منصفانہ تقسیم یقینی بنانے کے لیے کی گئی۔
اعداد و شمار کے مطابق جموں و کشمیر میں 2021 سے 2025 تک مجموعی طور پر 49810 راشن کارڈ حذف ہوئے، جب کہ لداخ میں اسی عرصے کے دوران 2081 کارڈ منسوخ کیے گئے۔ یہ عمل اس بڑے ڈیٹا اینالیٹکس پروجیکٹ کے بعد تیز کیا گیا جس نے51.8 کروڑ مشکوک مستحقین کی نشاندہی کی تھی، جن میں ڈپلیکیٹ کارڈ ہولڈرز، غیر فعال کارڈ اور نابالغوں کے نام پر واحد فرد کے کارڈ شامل تھے۔
مرکز کے مطابق ڈیجیٹائزیشن، آدھار لنکنگ اور ڈی ڈپلیکیشن جیسے اقدامات سے ملک بھر میں25.2 کروڑ کارڈ ختم کیے گئے تاکہ ٹارگیٹڈ پبلک ڈسٹری بیوشن سسٹم کے تحت غذائی اجناس صرف اصل مستحقین تک پہنچیں۔


