پس ماندہ خاندانوں کی بے بسی اور سرکاری ا نظام

سرکاری ملازم کے انتقال کے بعد اس کے خاندان کو جس کرب ناک بیوروکریسی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، وہ ہمارے نظام کی بے حسی اور انتظامی بدنظمی کی واضح تصویر ہے۔ ایک طرف گھر کا کفیل دنیا سے رخصت ہوتا ہے، دوسری طرف ریاست کا رویہ اس المیے کو کئی گنا بڑھا دیتا ہے۔
جیسے ہی ملازم کا انتقال ہوتا ہے، متعلقہ محکمہ اس کی تنخواہ فوری طور پر روک دیتا ہے۔ چاہے خاندان کے پاس کوئی دوسرا ذریعہ معاش نہ ہو، ڈی ڈی او ایک لمحے کی تاخیر کے بغیر ادائیگی بند کر دیتا ہے۔ اگر ملازم مثلاً انتیس نومبر کو وفات پائے تو اس کی انتیس دن کی تنخواہ بھی تب تک نہیں ملتی جب تک پنشن کیس مکمل نہ ہو جائے۔ یہ عمل آٹھ ماہ سے دو برس تک کھنچتا ہے۔ اس دوران بچے، خواہ اسکول یا کالج میں زیر تعلیم ہوں، اور مکمل طور پر والد کی آمدنی پر منحصر ہوں، ایک پیسے کے محتاج رہ جاتے ہیں۔
اس سانحے کے بعد خاندان جن دفاتر کے چکر کاٹنے پر مجبور ہوتا ہے، وہ کسی اذیت ناک امتحان سے کم نہیں۔ بوڑھے والدین، رنج میں ڈوبی بیوہ، اور معصوم بچے، سبھی کو پچاس سے سو مرتبہ مختلف دفتروں میں حاضری دینا پڑتی ہے۔ ڈی ڈی او، پٹواری، چوکیدار، سرپنچ، لمبر دار، تحصیلدار، اے سی آر، ڈپٹی کمشنر، میونسپل ادارے، یو ٹی فنڈ آفس، اے جی آفس، اسپتال، عدالتیں، بینک، کوئی بھی جگہ ایسی نہیں جہاں مرحوم کے اہل خانہ کو دھکے نہ کھانے پڑیں۔
ہر مرحلہ غیر معیاری، غیر وقت بند، اور مکمل طور پر کلرکوں اور افسران کی مرضی پر منحصر ہے۔ عدالتوں میں جانشینی سرٹیفکیٹ کے لیے بیان ریکارڈ کرانے میں ہفتے نہیں، مہینے لگ جاتے ہیں۔ وکلا کی فیس کے نام پر اہل خانہ کو مرحوم کی جمع پونجی کا خاصا حصہ بھی ادا کرنا پڑتا ہے۔
مزید افسوسناک پہلو یہ ہے کہ حکومت کا نام نہاد آن لائن نظام کسی مزاح سے کم نہیں۔ اصل کارروائی اب بھی کاغذی فائلوں پر ہی ہوتی ہے جبکہ آن لائن صرف اسکین شدہ کاغذات چڑھا دیے جاتے ہیں۔ یوں ایک دھوکہ دہی پر مبنی دوہرا نظام پورے عمل کو مزید غیر شفاف بنا دیتا ہے۔
اگر واقعی وزیر اعلیٰ سوگوار خاندانوں کو ریلیف دینا چاہتے ہیں تو محض بیانات کافی نہیں۔ پورے نظام کی ازسر نو تعمیر ناگزیر ہے۔ ہر مرحلے کے لیے مختصر مدت کی پابندی، افسران کی جوابدہی، اور متعلقہ محکموں کی باہمی ہم آہنگی یقینی بنائی جائے۔ اس کے علاوہ ایک الگ سرکاری ونگ یا محکمہ تشکیل دینا وقت کی اہم ضرورت ہے جو ایسے خاندانوں کا ہاتھ تھامے، اور تنخواہ بند ہونے اور پنشن شروع ہونے کے درمیان کوئی خلا نہ رہنے دے۔ جی پی ایف، دیگر جمع شدہ رقوم، اور ایس آر او 43 (موجودہ RAS) کے تحت ملازمت کا آرڈر چھ ماہ کے اندر یا وارث کے اہل ہونے کے دن ہی جاری کیا جائے۔
یہ صرف انتظامی اصلاح نہیں، بلکہ انسانی ذمہ داری ہے۔ ریاست کو اپنے محنت کشوں کے خاندانوں کے ساتھ وہی احترام اور سہارا فراہم کرنا ہوگا جس کے یہ حقیقی مستحق ہیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

پہلگام کے آرو کے قریب سڑک حادثہ میں دو افراد ہلاک، چھ زخمی

سری نگر، 17 جون پہلگام کے قریب ارو وادی روڈ...

تالاب میں نہاتے ہوئے نوجوان کی ہوی موت

کپواڑہ، 17جون شمالی کشمیر کے کپواڑہ ضلع کے ہائیہامہ کے...

زمینی تنازعہ میں بھائی نے کر دیا بھائی کا قتل

ضلع راجوری کے سب ڈویژن تھنہ منڈی کی پنچایت...

سچائی مکالمے سے نہیں ڈرتی

ام ماریہ حق آج دنیا مذہب، ثقافت، زبان اور نظریات...

پنڈت نہرو کے انڈیا سے مودی جی کے بھارت تک کا سفر

ہردیپ سنگھ پوری مرکزی وزیر پیٹرولیم اور قدرتی گیس وزیرِاعظم نریندر مودی...

تازہ ترین خبریں

پہلگام کے آرو کے قریب سڑک حادثہ میں دو افراد ہلاک، چھ زخمی

سری نگر، 17 جون پہلگام کے قریب ارو وادی روڈ...

تالاب میں نہاتے ہوئے نوجوان کی ہوی موت

کپواڑہ، 17جون شمالی کشمیر کے کپواڑہ ضلع کے ہائیہامہ کے...

زمینی تنازعہ میں بھائی نے کر دیا بھائی کا قتل

ضلع راجوری کے سب ڈویژن تھنہ منڈی کی پنچایت...

سچائی مکالمے سے نہیں ڈرتی

ام ماریہ حق آج دنیا مذہب، ثقافت، زبان اور نظریات...

پنڈت نہرو کے انڈیا سے مودی جی کے بھارت تک کا سفر

ہردیپ سنگھ پوری مرکزی وزیر پیٹرولیم اور قدرتی گیس وزیرِاعظم نریندر مودی...

پس ماندہ خاندانوں کی بے بسی اور سرکاری ا نظام

سرکاری ملازم کے انتقال کے بعد اس کے خاندان کو جس کرب ناک بیوروکریسی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، وہ ہمارے نظام کی بے حسی اور انتظامی بدنظمی کی واضح تصویر ہے۔ ایک طرف گھر کا کفیل دنیا سے رخصت ہوتا ہے، دوسری طرف ریاست کا رویہ اس المیے کو کئی گنا بڑھا دیتا ہے۔
جیسے ہی ملازم کا انتقال ہوتا ہے، متعلقہ محکمہ اس کی تنخواہ فوری طور پر روک دیتا ہے۔ چاہے خاندان کے پاس کوئی دوسرا ذریعہ معاش نہ ہو، ڈی ڈی او ایک لمحے کی تاخیر کے بغیر ادائیگی بند کر دیتا ہے۔ اگر ملازم مثلاً انتیس نومبر کو وفات پائے تو اس کی انتیس دن کی تنخواہ بھی تب تک نہیں ملتی جب تک پنشن کیس مکمل نہ ہو جائے۔ یہ عمل آٹھ ماہ سے دو برس تک کھنچتا ہے۔ اس دوران بچے، خواہ اسکول یا کالج میں زیر تعلیم ہوں، اور مکمل طور پر والد کی آمدنی پر منحصر ہوں، ایک پیسے کے محتاج رہ جاتے ہیں۔
اس سانحے کے بعد خاندان جن دفاتر کے چکر کاٹنے پر مجبور ہوتا ہے، وہ کسی اذیت ناک امتحان سے کم نہیں۔ بوڑھے والدین، رنج میں ڈوبی بیوہ، اور معصوم بچے، سبھی کو پچاس سے سو مرتبہ مختلف دفتروں میں حاضری دینا پڑتی ہے۔ ڈی ڈی او، پٹواری، چوکیدار، سرپنچ، لمبر دار، تحصیلدار، اے سی آر، ڈپٹی کمشنر، میونسپل ادارے، یو ٹی فنڈ آفس، اے جی آفس، اسپتال، عدالتیں، بینک، کوئی بھی جگہ ایسی نہیں جہاں مرحوم کے اہل خانہ کو دھکے نہ کھانے پڑیں۔
ہر مرحلہ غیر معیاری، غیر وقت بند، اور مکمل طور پر کلرکوں اور افسران کی مرضی پر منحصر ہے۔ عدالتوں میں جانشینی سرٹیفکیٹ کے لیے بیان ریکارڈ کرانے میں ہفتے نہیں، مہینے لگ جاتے ہیں۔ وکلا کی فیس کے نام پر اہل خانہ کو مرحوم کی جمع پونجی کا خاصا حصہ بھی ادا کرنا پڑتا ہے۔
مزید افسوسناک پہلو یہ ہے کہ حکومت کا نام نہاد آن لائن نظام کسی مزاح سے کم نہیں۔ اصل کارروائی اب بھی کاغذی فائلوں پر ہی ہوتی ہے جبکہ آن لائن صرف اسکین شدہ کاغذات چڑھا دیے جاتے ہیں۔ یوں ایک دھوکہ دہی پر مبنی دوہرا نظام پورے عمل کو مزید غیر شفاف بنا دیتا ہے۔
اگر واقعی وزیر اعلیٰ سوگوار خاندانوں کو ریلیف دینا چاہتے ہیں تو محض بیانات کافی نہیں۔ پورے نظام کی ازسر نو تعمیر ناگزیر ہے۔ ہر مرحلے کے لیے مختصر مدت کی پابندی، افسران کی جوابدہی، اور متعلقہ محکموں کی باہمی ہم آہنگی یقینی بنائی جائے۔ اس کے علاوہ ایک الگ سرکاری ونگ یا محکمہ تشکیل دینا وقت کی اہم ضرورت ہے جو ایسے خاندانوں کا ہاتھ تھامے، اور تنخواہ بند ہونے اور پنشن شروع ہونے کے درمیان کوئی خلا نہ رہنے دے۔ جی پی ایف، دیگر جمع شدہ رقوم، اور ایس آر او 43 (موجودہ RAS) کے تحت ملازمت کا آرڈر چھ ماہ کے اندر یا وارث کے اہل ہونے کے دن ہی جاری کیا جائے۔
یہ صرف انتظامی اصلاح نہیں، بلکہ انسانی ذمہ داری ہے۔ ریاست کو اپنے محنت کشوں کے خاندانوں کے ساتھ وہی احترام اور سہارا فراہم کرنا ہوگا جس کے یہ حقیقی مستحق ہیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں