ہندستان ٹائمز لیڈرشپ سمٹ 2025: BJPکی انتخابی مشینری بے مثال

جنگ نیوز ڈیسک

سرینگر/جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ اور نیشنل کانفرنس کے رہنما عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ اپوزیشن انڈیا بلاک اس وقت "لائف سپورٹ” پر ہے اور اندرونی اختلافات و انتخابی حکمت عملی کی ناکامی کے باعث "آئی سی یو” میں جانے کے خطرے سے دوچار ہے۔ وہ ہندوستان ٹائمز لیڈرشپ سمٹ میں خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے بہار انتخابات کے بعد بلاک کی حالت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ کبھی کبھار جھٹکے سے یہ اتحاد سنبھلتا ہے مگر پھر نتائج جیسے بہار کے سامنے آتے ہیں تو دوبارہ گر جاتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ انڈیا بلاک کی غلطیوں نے نتیش کمار کو دوبارہ این ڈی اے کی طرف دھکیل دیا۔ عمر عبداللہ نے بی جے پی کی انتخابی حکمت عملی کو "بے مثال” قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکمران جماعت ہر انتخاب کو زندگی اور موت کی جنگ سمجھ کر لڑتی ہے، جبکہ اپوزیشن اکثر لاپرواہی کا مظاہرہ کرتی ہے۔ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کے 24×7 سیاسی ماڈل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بی جے پی ایک انتخاب ختم ہوتے ہی اگلے میدان میں اتر جاتی ہے، جبکہ اپوزیشن دو ماہ پہلے ہی تیاری شروع کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن اگر بی جے پی کو سنجیدہ چیلنج دینا چاہتی ہے تو اسے کانگریس کے گرد متحد ہونا ہوگا، کیونکہ کانگریس ہی واحد جماعت ہے جس کی ملک گیر موجودگی ہے۔ انہوں نے مسلم ووٹ بینک کے حوالے سے کہا کہ روایتی جماعتوں نے کمیونٹی کو نظرانداز کیا ہے، جس سے اے آئی ایم آئی ایم جیسی جماعتوں کو فائدہ ہوا ہے۔ عمر عبداللہ نے 2024 کے عام انتخابات کو "مرکز کے لیے عوامی پیغام” قرار دیا اور کہا کہ اس کے بعد حکومت نے اپنے اندازِ حکمرانی کو اتحادی فارمیٹ میں ڈھالا۔ انہوں نے کہا کہ "یہ حکومت اب خود کو بی جے پی نہیں بلکہ این ڈی اے کہتی ہے، یہ چھوٹی تبدیلیاں ہیں مگر اہم ہیں۔” ای وی ایم کے بارے میں انہوں نے کہا کہ وہ کبھی اس رائے کے حامی نہیں رہے کہ مشینیں دھاندلی زدہ ہیں، تاہم انتخابی فہرستوں اور حلقہ بندیوں کے ذریعے انتخابات میں "ہیرا پھیری” ممکن ہے۔
انہوں نے جموں و کشمیر میں حالیہ حلقہ بندی کو "انتخابی ہیرا پھیری” قرار دیا اور زور دیا کہ ووٹر لسٹ میں کسی بھی تبدیلی کو شفاف اور منصفانہ طریقے سے کیا جانا چاہیے۔ لطیفے کے انداز میں انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر ان کا موقف والد فاروق عبداللہ سے مختلف ہے، جو واٹس ایپ پر آنے والی ہر چیز پر یقین رکھتے ہیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

DYSS بڈگام کے زیر اہتمام ’’فٹ انڈیا رن‘‘، ہزاروں طلبہ کی پُرجوش شرکت

  جنگ نیوز ڈیسک بڈگام: محکمہ DYSS بڈگام نے ’’فٹ انڈیا...

محکمہ آیوش پلوامہ نے کرکٹ اکیڈمی کے سربراہ ارشد ماگرے کی حوصلہ افزائی کی

جنگ نیوز ڈیسک  پلوامہ/تنہا ایاز /محکمہ آیوش پلوامہ کی جانب...

13 سالہ لڑکی کے ساتھ مبینہ جنسی زیادتی، معاملہ درج

سرینگر جنگ پولیس نے پوکسو (POCSO) ایکٹ کے تحت تحقیقات...

تازہ ترین خبریں

DYSS بڈگام کے زیر اہتمام ’’فٹ انڈیا رن‘‘، ہزاروں طلبہ کی پُرجوش شرکت

  جنگ نیوز ڈیسک بڈگام: محکمہ DYSS بڈگام نے ’’فٹ انڈیا...

محکمہ آیوش پلوامہ نے کرکٹ اکیڈمی کے سربراہ ارشد ماگرے کی حوصلہ افزائی کی

جنگ نیوز ڈیسک  پلوامہ/تنہا ایاز /محکمہ آیوش پلوامہ کی جانب...

13 سالہ لڑکی کے ساتھ مبینہ جنسی زیادتی، معاملہ درج

سرینگر جنگ پولیس نے پوکسو (POCSO) ایکٹ کے تحت تحقیقات...

ہندستان ٹائمز لیڈرشپ سمٹ 2025: BJPکی انتخابی مشینری بے مثال

جنگ نیوز ڈیسک

سرینگر/جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ اور نیشنل کانفرنس کے رہنما عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ اپوزیشن انڈیا بلاک اس وقت "لائف سپورٹ” پر ہے اور اندرونی اختلافات و انتخابی حکمت عملی کی ناکامی کے باعث "آئی سی یو” میں جانے کے خطرے سے دوچار ہے۔ وہ ہندوستان ٹائمز لیڈرشپ سمٹ میں خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے بہار انتخابات کے بعد بلاک کی حالت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ کبھی کبھار جھٹکے سے یہ اتحاد سنبھلتا ہے مگر پھر نتائج جیسے بہار کے سامنے آتے ہیں تو دوبارہ گر جاتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ انڈیا بلاک کی غلطیوں نے نتیش کمار کو دوبارہ این ڈی اے کی طرف دھکیل دیا۔ عمر عبداللہ نے بی جے پی کی انتخابی حکمت عملی کو "بے مثال” قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکمران جماعت ہر انتخاب کو زندگی اور موت کی جنگ سمجھ کر لڑتی ہے، جبکہ اپوزیشن اکثر لاپرواہی کا مظاہرہ کرتی ہے۔ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کے 24×7 سیاسی ماڈل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بی جے پی ایک انتخاب ختم ہوتے ہی اگلے میدان میں اتر جاتی ہے، جبکہ اپوزیشن دو ماہ پہلے ہی تیاری شروع کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن اگر بی جے پی کو سنجیدہ چیلنج دینا چاہتی ہے تو اسے کانگریس کے گرد متحد ہونا ہوگا، کیونکہ کانگریس ہی واحد جماعت ہے جس کی ملک گیر موجودگی ہے۔ انہوں نے مسلم ووٹ بینک کے حوالے سے کہا کہ روایتی جماعتوں نے کمیونٹی کو نظرانداز کیا ہے، جس سے اے آئی ایم آئی ایم جیسی جماعتوں کو فائدہ ہوا ہے۔ عمر عبداللہ نے 2024 کے عام انتخابات کو "مرکز کے لیے عوامی پیغام” قرار دیا اور کہا کہ اس کے بعد حکومت نے اپنے اندازِ حکمرانی کو اتحادی فارمیٹ میں ڈھالا۔ انہوں نے کہا کہ "یہ حکومت اب خود کو بی جے پی نہیں بلکہ این ڈی اے کہتی ہے، یہ چھوٹی تبدیلیاں ہیں مگر اہم ہیں۔” ای وی ایم کے بارے میں انہوں نے کہا کہ وہ کبھی اس رائے کے حامی نہیں رہے کہ مشینیں دھاندلی زدہ ہیں، تاہم انتخابی فہرستوں اور حلقہ بندیوں کے ذریعے انتخابات میں "ہیرا پھیری” ممکن ہے۔
انہوں نے جموں و کشمیر میں حالیہ حلقہ بندی کو "انتخابی ہیرا پھیری” قرار دیا اور زور دیا کہ ووٹر لسٹ میں کسی بھی تبدیلی کو شفاف اور منصفانہ طریقے سے کیا جانا چاہیے۔ لطیفے کے انداز میں انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر ان کا موقف والد فاروق عبداللہ سے مختلف ہے، جو واٹس ایپ پر آنے والی ہر چیز پر یقین رکھتے ہیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں