جنگ نیوز ڈیسک
ممبئی/شعبۂ اردو ممبئی یونیورسٹی کے زیر اہتمام ’’مہاراشٹر اور کشمیر کے مابین سماجی، ثقافتی اور ادبی روابط‘‘ کے موضوع پر ایک خصوصی لیکچر کا انعقاد آج جے پی نائک بھون میں کیا گیا۔ اس اہم پروگرام کی صدارت ممبئی یونیورسٹی کے ڈائریکٹر ڈی ایل ایل ای پروفیسر بلی رام گائیکواڑ نے کی۔ بطور مہمانِ خصوصی سینٹرل یونیورسٹی آف کشمیر کے ممتاز محقق اور سینئر ادیب پروفیسر شاد رمضان نے اظہارِ خیال کیا، جبکہ ساہتیہ اکیڈمی کے ایگزیکیوٹیو ممبر اور شعبۂ ہندی کے معروف اسکالر پنڈت ڈاکٹر نریندر پاٹھک نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
اپنے جامع اور علمی خطاب میں پروفیسر شاد رمضان نے تاریخ اور تہذیب کے حوالوں سے بتایا کہ ادب انسانیت کا مشترکہ سرمایہ ہے اور زبان خواہ کوئی بھی ہو، اس کا بنیادی مقصد انسان کے جذبات اور مسائل کا اظہار ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم ہندوستان کی مختلف زبانوں کے ادب کا مطالعہ کریں تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ عام آدمی کے دکھ، درد، خواب اور جدوجہد سب زبانوں میں یکساں طور پر نمایاں ہیں۔
انہوں نے مہاراشٹر اور کشمیر کے ادیبوں، شعرا اور دانشوروں کے باہمی روابط کی تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ادبی سطح پر یہ قربت مزید مضبوط کیے جانے کی ضرورت ہے۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے پنڈت ڈاکٹر نریندر پاٹھک نے بچپن سے اردو زبان سے اپنے تعلق کی دل چسپ روداد بیان کی اور کہا کہ زبانیں کبھی نفرت یا سیاست کا موضوع نہیں بن سکتیں، بلکہ یہ محبت اور رشتہ سازی کا ذریعہ ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیاست دان زبان کے نام پر منافرت پھیلاتے ہیں، جبکہ ادیب اور دانشور ہمیشہ پل بناتے ہیں، دیواریں نہیں۔
صدارتی خطاب میں پروفیسر بلی رام گائیکواڑ نے کہا کہ ادب دلوں کو جوڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور زبانوں کا لین دین تہذیبی اور فکری وسعت پیدا کرتا ہے۔ انہوں نے اس مفید پروگرام کے انعقاد پر صدر شعبۂ اردو ڈاکٹر عبداللہ امتیاز اور پوری ٹیم کا شکریہ ادا کیا۔
اپنے اظہارِ تشکر میں ڈاکٹر عبداللہ امتیاز نے کہا کہ زبان کسی کی جاگیر نہیں ہوتی، یہ انسان کے اظہار کا سب سے طاقتور ذریعہ ہے اور ادیب اپنی حساسیت کی بدولت معاشرتی اتحاد میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مہاراشٹر اور کشمیر کے درمیان ادبی تبادلے کو باقاعدہ شکل دینے کے لیے آئندہ اقدامات کیے جائیں گے۔
پروگرام کے اختتام پر طلبہ، اساتذہ اور مہمانوں کے سوالات و جوابات کا سیشن بھی منعقد ہوا، جس میں زبان اور ادب کے حوالے سے نہایت مفید گفتگو سامنے آئی۔


