جنگ وئب ڈیسک
جموں و کشمیر میں پچھلے تین مالی سالوں کے دوران ذیابیطس کے مریضوں میں خطرناک حد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس سے وادی غیر متعدی بیماریوں کے خطرے والے خطوں میں شامل ہو گئی ہے۔
صحت اور خاندانی بہبود کے وزیر مملکت پرتاپ راؤ جادھو کے مطابق 2023-24 میں5.21لاکھ افراد کی اسکریننگ کی گئی، جن میں سے 48623 نئے ذیابیطس کے مریض زیر علاج آئے۔ اگلے سال اسکریننگ بڑھ کر5.36 لاکھ ہوئی اور تشخیص شدہ مریضوں کی تعداد 83737 تک جا پہنچی۔ موجودہ مالی سال میں4.28 لاکھ افراد کی اسکریننگ ہو چکی ہے اور 85948 نئے مریض دریافت ہوئے۔
حکام کے مطابق اس اضافہ کی بنیادی وجوہات تمباکو اور الکحل کا استعمال، غیر صحت بخش غذا، جسمانی سرگرمی کی کمی، موٹاپا اور زیادہ نمک و چینی کی مقدار ہیں۔ تائرواڈ کے امراض میں اضافہ آٹومیمون بیماریوں، آیوڈین کی کمی اور سوزش سے منسلک ہے۔
وزارت صحت نے بتایا کہ قومی صحت مشن کے تحت 30 سال سے زائد عمر کے تمام بالغ افراد کی اسکریننگ کی جا رہی ہے، جس میں 770 ضلعی این سی ڈی کلینک اور کمیونٹی کی سطح پر 6000 سے زائد کلینک شامل ہیں۔ اس کے علاوہ، کارڈیک کیئر یونٹس اور خصوصی این سی ڈی کلینک قائم کر کے تشخیص اور علاج کو مضبوط بنایا جا رہا ہے۔
جموں و کشمیر میں بھی این سی ڈی پروگرام کے تحت مہمات جاری ہیں تاکہ پہلے کیسوں کی شناخت اور مریضوں کو بروقت زیر علاج رکھا جا سکے۔ حکام نے کہا کہ طرز زندگی کی مہمات اور کمیونٹی کی سطح پر صحت کی تعلیم مستقبل میں خطرات کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوں گی۔


