جموں و کشمیر میں تعلیمی ڈھانچے کی ازسرنو تشکیل ایک ایسے دوراہے پر پہنچ چکی ہے جہاں نصابی اصلاحات محض انتظامی فیصلے نہیں رہیں بلکہ مستقبل کے تعلیمی رجحانات اور معاشرتی ضرورتوں کا تعین بھی کرتی ہیں۔ اسی تناظر میں جموں و کشمیر بورڈ آف اسکول ایجوکیشن کا دسویں جماعت میں ریاضی کو بیسک اور اسٹینڈرڈ سطحوں میں تقسیم کرنے کا فیصلہ ایک پیش رفت کے طور پر سامنے آیا ہے۔ یہ قدم نہ صرف قومی پالیسی کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہے بلکہ خطے کی تعلیمی حقیقتوں سے بھی گہرا تعلق رکھتا ہے۔
نیشنل ایجوکیشن پالیسی نے ایک ایسی لچکدار نصابی سمت کی نشاندہی کی تھی جس کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ طلبہ پر غیر ضروری دباؤ کم کیا جائے اور انہیں اپنی صلاحیتوں کے مطابق مضمون کی سطح منتخب کرنے کی آزادی دی جائے۔ بھارت کے مختلف علاقوں میں جب ریاضی کی یہ دو سطحیں متعارف کرائی گئیں تو اس کے حوصلہ افزا نتائج سامنے آئے۔ خاص طور پر وہ طلبہ جو سائنس یا ٹیکنیکل تعلیم کی طرف بڑھنا چاہتے تھے انہوں نے اسٹینڈرڈ سطح کا انتخاب کیا، جبکہ وہ طلبہ جنہیں ریاضی سے متعلق گہری مہارت کی ضرورت نہیں تھی، انہوں نے بیسک سطح کے ذریعے اپنی تعلیمی راہ زیادہ آسان اور موثر بنائی۔
وادی کے تعلیمی منظرنامے کو دیکھتے ہوئے یہ فیصلہ اس لئے بھی اہم ہے کہ یہاں کے اسکولوں میں مضامین کے انتخاب کی آزادی ہمیشہ محدود رہی ہے۔ اکثر طلبہ ایک ہی طرز کے نصاب میں الجھ کر اپنی دلچسپیوں اور مستقبل کی ترجیحات سے میل نہ کھانے والے دباؤ کا شکار ہوجاتے ہیں۔ ایسے میں ریاضی کو دو سطحوں میں تقسیم کرنے کا اقدام طلبہ کو اپنی صلاحیتوں کے مطابق راستہ منتخب کرنے کی سہولت فراہم کرے گا۔ بیسک ریاضی ان طلبہ کے لئے مناسب ہوگی جو آرٹس، ہیومینٹیز، سماجی علوم یا پیشہ ورانہ کورسز کی طرف جانا چاہتے ہیں، جبکہ اسٹینڈرڈ ریاضی ان طلبہ کے لئے ایک مضبوط بنیاد ثابت ہوگی جو سائنس، انجنیئرنگ، ٹیکنالوجی اور دیگر ٹیکنیکل شعبوں کا انتخاب کرنا چاہتے ہیں۔
البتہ اس فیصلے کی کامیابی کا انحصار صرف نصابی تبدیلی تک محدود نہیں رہے گا۔ اس کے لئے اساتذہ کی تربیت، امتحانی نظام کی شفافیت، اور اسکولوں میں مناسب رہنمائی کے نظام کی ضرورت لازمی ہے۔ اگر اس تقسیم کو محض ایک اضافی انتخاب کے طور پر نافذ کیا گیا اور طلبہ کو مناسب مشاورت فراہم نہ کی گئی تو اس کے نتائج الٹ بھی ہوسکتے ہیں۔ لہذا جے کے بوس کو چاہیے کہ وہ اسکولوں میں کیریئر کونسلنگ کے نظام کو مضبوط بنائیں تاکہ طلبہ اپنی دلچسپی، صلاحیت اور مستقبل کے اہداف کے مطابق درست فیصلہ کرسکیں۔
یہ بات بھی اہم ہے کہ جموں و کشمیر جیسے خطے میں جہاں تعلیمی ڈھانچہ لمبے عرصے سے مختلف رکاوٹوں کا شکار رہا ہے، ایسے اقدامات کو وسیع تر اصلاحات کے ساتھ جوڑنے کی ضرورت ہے۔ ٹیکنالوجی کی شمولیت، استاد شاگرد تناسب میں بہتری، انفراسٹرکچر کی مضبوطی، اور نصاب کے دیگر پہلوؤں میں لچک اس سمت میں ناگزیر عوامل ہیں۔ مجموعی طور پر ریاضی کو دو سطحوں میں تقسیم کرنے کا فیصلہ ایک مثبت تبدیلی کی علامت ہے۔ یہ نہ صرف طلبہ کے دباؤ کو کم کرے گا بلکہ انہیں اپنی حقیقی استعداد کے مطابق مستقبل کی تعلیمی راہ اختیار کرنے میں بھی مدد دے گا۔ اگر اس فیصلے کو موثر منصوبہ بندی اور مضبوط انتظامی ڈھانچے کے ذریعے نافذ کیا گیا تو یہ جموں و کشمیر کے تعلیمی مستقبل کے لئے ایک سنگ میل ثابت ہوسکتا ہے۔
تعلیمی نظام نئی منزل کی طرف
تعلیمی نظام نئی منزل کی طرف
جموں و کشمیر میں تعلیمی ڈھانچے کی ازسرنو تشکیل ایک ایسے دوراہے پر پہنچ چکی ہے جہاں نصابی اصلاحات محض انتظامی فیصلے نہیں رہیں بلکہ مستقبل کے تعلیمی رجحانات اور معاشرتی ضرورتوں کا تعین بھی کرتی ہیں۔ اسی تناظر میں جموں و کشمیر بورڈ آف اسکول ایجوکیشن کا دسویں جماعت میں ریاضی کو بیسک اور اسٹینڈرڈ سطحوں میں تقسیم کرنے کا فیصلہ ایک پیش رفت کے طور پر سامنے آیا ہے۔ یہ قدم نہ صرف قومی پالیسی کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہے بلکہ خطے کی تعلیمی حقیقتوں سے بھی گہرا تعلق رکھتا ہے۔
نیشنل ایجوکیشن پالیسی نے ایک ایسی لچکدار نصابی سمت کی نشاندہی کی تھی جس کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ طلبہ پر غیر ضروری دباؤ کم کیا جائے اور انہیں اپنی صلاحیتوں کے مطابق مضمون کی سطح منتخب کرنے کی آزادی دی جائے۔ بھارت کے مختلف علاقوں میں جب ریاضی کی یہ دو سطحیں متعارف کرائی گئیں تو اس کے حوصلہ افزا نتائج سامنے آئے۔ خاص طور پر وہ طلبہ جو سائنس یا ٹیکنیکل تعلیم کی طرف بڑھنا چاہتے تھے انہوں نے اسٹینڈرڈ سطح کا انتخاب کیا، جبکہ وہ طلبہ جنہیں ریاضی سے متعلق گہری مہارت کی ضرورت نہیں تھی، انہوں نے بیسک سطح کے ذریعے اپنی تعلیمی راہ زیادہ آسان اور موثر بنائی۔
وادی کے تعلیمی منظرنامے کو دیکھتے ہوئے یہ فیصلہ اس لئے بھی اہم ہے کہ یہاں کے اسکولوں میں مضامین کے انتخاب کی آزادی ہمیشہ محدود رہی ہے۔ اکثر طلبہ ایک ہی طرز کے نصاب میں الجھ کر اپنی دلچسپیوں اور مستقبل کی ترجیحات سے میل نہ کھانے والے دباؤ کا شکار ہوجاتے ہیں۔ ایسے میں ریاضی کو دو سطحوں میں تقسیم کرنے کا اقدام طلبہ کو اپنی صلاحیتوں کے مطابق راستہ منتخب کرنے کی سہولت فراہم کرے گا۔ بیسک ریاضی ان طلبہ کے لئے مناسب ہوگی جو آرٹس، ہیومینٹیز، سماجی علوم یا پیشہ ورانہ کورسز کی طرف جانا چاہتے ہیں، جبکہ اسٹینڈرڈ ریاضی ان طلبہ کے لئے ایک مضبوط بنیاد ثابت ہوگی جو سائنس، انجنیئرنگ، ٹیکنالوجی اور دیگر ٹیکنیکل شعبوں کا انتخاب کرنا چاہتے ہیں۔
البتہ اس فیصلے کی کامیابی کا انحصار صرف نصابی تبدیلی تک محدود نہیں رہے گا۔ اس کے لئے اساتذہ کی تربیت، امتحانی نظام کی شفافیت، اور اسکولوں میں مناسب رہنمائی کے نظام کی ضرورت لازمی ہے۔ اگر اس تقسیم کو محض ایک اضافی انتخاب کے طور پر نافذ کیا گیا اور طلبہ کو مناسب مشاورت فراہم نہ کی گئی تو اس کے نتائج الٹ بھی ہوسکتے ہیں۔ لہذا جے کے بوس کو چاہیے کہ وہ اسکولوں میں کیریئر کونسلنگ کے نظام کو مضبوط بنائیں تاکہ طلبہ اپنی دلچسپی، صلاحیت اور مستقبل کے اہداف کے مطابق درست فیصلہ کرسکیں۔
یہ بات بھی اہم ہے کہ جموں و کشمیر جیسے خطے میں جہاں تعلیمی ڈھانچہ لمبے عرصے سے مختلف رکاوٹوں کا شکار رہا ہے، ایسے اقدامات کو وسیع تر اصلاحات کے ساتھ جوڑنے کی ضرورت ہے۔ ٹیکنالوجی کی شمولیت، استاد شاگرد تناسب میں بہتری، انفراسٹرکچر کی مضبوطی، اور نصاب کے دیگر پہلوؤں میں لچک اس سمت میں ناگزیر عوامل ہیں۔ مجموعی طور پر ریاضی کو دو سطحوں میں تقسیم کرنے کا فیصلہ ایک مثبت تبدیلی کی علامت ہے۔ یہ نہ صرف طلبہ کے دباؤ کو کم کرے گا بلکہ انہیں اپنی حقیقی استعداد کے مطابق مستقبل کی تعلیمی راہ اختیار کرنے میں بھی مدد دے گا۔ اگر اس فیصلے کو موثر منصوبہ بندی اور مضبوط انتظامی ڈھانچے کے ذریعے نافذ کیا گیا تو یہ جموں و کشمیر کے تعلیمی مستقبل کے لئے ایک سنگ میل ثابت ہوسکتا ہے۔


