SKIMS صورہ جیسے حساس طبی مرکز کے آس پاس سیاہ ریچھ کی موجودگی کسی معمولی واقعے کا اشارہ نہیں۔ یہ صرف جنگلی حیات کی نقل مکانی نہیں بلکہ ایک بڑی اور خطرناک انتظامی کمزوری کی نشاندہی ہے۔ پچھلے چند روز سے نگین، سدرہ بل، نسیم باغ اور اب صورہ کے اطراف ریچھ کی دید اور اس کے باوجود محکمہ وائلڈ لائف کی خاموشی نے پورے علاقے کو غیر معمولی بے یقینی اور خوف میں مبتلا کر دیا ہے۔ ریاستی اداروں کی یہ روش بدانتظامی سے بڑھ کر واضح لاپرواہی کا روپ دھار چکی ہے۔
جس علاقے میں روزانہ ہزاروں شہری اسپتال، اسکول، بازار اور عبادت گاہوں کے راستے گزرتے ہوں وہاں ایک آوارہ ریچھ کی حرکت معمولی خطرہ نہیں۔ یہاں بچوں اور بزرگوں سمیت ہر طبقے کی زندگی براہ راست داؤ پر لگتی ہے۔ اس کے باوجود زمینی سطح پر کوئی منظم کارروائی یا حفاظتی انتظام دکھائی نہیں دیتا۔ متعلقہ محکمے کی کارکردگی محض بیانات تک محدود ہے جبکہ عملی سرگرمیوں کا وجود نہ ہونے کے برابر ہے۔
حکومتی اداروں کی بے حسی نے اس خطرے کو مزید بڑھا دیا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے سب کسی حادثے کے وقوع پذیر ہونے کا انتظار کر رہے ہوں تاکہ بعد میں رسمی نوٹس اور اعلانیہ افسوس کے پیغامات جاری کیے جائیں۔ یہ طرز عمل نہ صرف غیر ذمہ دارانہ ہے بلکہ ریاستی مشنری کی بنیادی روح کے خلاف بھی ہے۔
عوام کو عملاً اپنے تحفظ کے لیے خود اقدامات کرنا پڑ رہے ہیں جبکہ متعلقہ ادارے آرام سے اپنی ذمہ داریوں سے پہلو تہی کیے بیٹھے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر خدا نخواستہ کوئی جان لیوا واقعہ پیش آیا تو جواب دہ کون ہو گا۔ یہ ذمہ داری کس کے سر ڈالی جائے گی۔
عوامی سلامتی ریاستی اداروں کا اولین فرض ہے۔ اسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ اگر ادارے ایسی بنیادی ذمہ داریوں سے ہی منہ موڑ لیں تو ان کے وجود کی حیثیت زیر سوال آ جاتی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ محکمہ وائلڈ لائف فوری طور پر متحرک ہو، مؤثر حکمت عملی اپنائے اور زمینی کارروائی کو یقینی بنائے۔
یہ معاملہ محض ایک جانور کی نقل و حرکت کا نہیں بلکہ انسانی جانوں کے تحفظ کا ہے۔ ریاست اگر اس بنیادی فریضے میں ناکام رہی تو اس ناکامی کے نتائج ناقابل تلافی ہوں گے۔ وقت آ گیا ہے کہ ادارے جاگیں اور اپنی ذمہ داری نبھائیں، ورنہ خمیازہ عوام کو بھگتنا پڑے گا۔
ریچھ آزاد، محکمے خاموش
ریچھ آزاد، محکمے خاموش
SKIMS صورہ جیسے حساس طبی مرکز کے آس پاس سیاہ ریچھ کی موجودگی کسی معمولی واقعے کا اشارہ نہیں۔ یہ صرف جنگلی حیات کی نقل مکانی نہیں بلکہ ایک بڑی اور خطرناک انتظامی کمزوری کی نشاندہی ہے۔ پچھلے چند روز سے نگین، سدرہ بل، نسیم باغ اور اب صورہ کے اطراف ریچھ کی دید اور اس کے باوجود محکمہ وائلڈ لائف کی خاموشی نے پورے علاقے کو غیر معمولی بے یقینی اور خوف میں مبتلا کر دیا ہے۔ ریاستی اداروں کی یہ روش بدانتظامی سے بڑھ کر واضح لاپرواہی کا روپ دھار چکی ہے۔
جس علاقے میں روزانہ ہزاروں شہری اسپتال، اسکول، بازار اور عبادت گاہوں کے راستے گزرتے ہوں وہاں ایک آوارہ ریچھ کی حرکت معمولی خطرہ نہیں۔ یہاں بچوں اور بزرگوں سمیت ہر طبقے کی زندگی براہ راست داؤ پر لگتی ہے۔ اس کے باوجود زمینی سطح پر کوئی منظم کارروائی یا حفاظتی انتظام دکھائی نہیں دیتا۔ متعلقہ محکمے کی کارکردگی محض بیانات تک محدود ہے جبکہ عملی سرگرمیوں کا وجود نہ ہونے کے برابر ہے۔
حکومتی اداروں کی بے حسی نے اس خطرے کو مزید بڑھا دیا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے سب کسی حادثے کے وقوع پذیر ہونے کا انتظار کر رہے ہوں تاکہ بعد میں رسمی نوٹس اور اعلانیہ افسوس کے پیغامات جاری کیے جائیں۔ یہ طرز عمل نہ صرف غیر ذمہ دارانہ ہے بلکہ ریاستی مشنری کی بنیادی روح کے خلاف بھی ہے۔
عوام کو عملاً اپنے تحفظ کے لیے خود اقدامات کرنا پڑ رہے ہیں جبکہ متعلقہ ادارے آرام سے اپنی ذمہ داریوں سے پہلو تہی کیے بیٹھے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر خدا نخواستہ کوئی جان لیوا واقعہ پیش آیا تو جواب دہ کون ہو گا۔ یہ ذمہ داری کس کے سر ڈالی جائے گی۔
عوامی سلامتی ریاستی اداروں کا اولین فرض ہے۔ اسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ اگر ادارے ایسی بنیادی ذمہ داریوں سے ہی منہ موڑ لیں تو ان کے وجود کی حیثیت زیر سوال آ جاتی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ محکمہ وائلڈ لائف فوری طور پر متحرک ہو، مؤثر حکمت عملی اپنائے اور زمینی کارروائی کو یقینی بنائے۔
یہ معاملہ محض ایک جانور کی نقل و حرکت کا نہیں بلکہ انسانی جانوں کے تحفظ کا ہے۔ ریاست اگر اس بنیادی فریضے میں ناکام رہی تو اس ناکامی کے نتائج ناقابل تلافی ہوں گے۔ وقت آ گیا ہے کہ ادارے جاگیں اور اپنی ذمہ داری نبھائیں، ورنہ خمیازہ عوام کو بھگتنا پڑے گا۔


