غیر قانونی کان کنی کشمیر کی سرزمین کے لئے ایک ایسا بحران بنتی جارہی ہے جو محض ماحولیاتی نقصان تک محدود نہیں رہا بلکہ معاشرتی معاشی اور انتظامی ڈھانچے کو بھی اندر سے کھوکھلا کر رہا ہے۔ یہ مسئلہ برسوں سے موجود تھا مگر حالیہ برسوں میں اس کی شدت نے واضح کردیا ہے کہ اگر اسے سخت معیار کے ساتھ نہ روکا گیا تو آنے والی نسلیں اس کے نتائج بھگتنے پر مجبور ہوں گی۔
کشمیر کی ندیوں پہاڑیوں اور جنگلات سے بے دریغ نکالا جانے والا ریٹ بجری اور دیگر معدنیات قدرتی توازن کو بگاڑ رہے ہیں۔ دریائے جہلم سے لے کر دریا- سندھ کے معاون بہاؤ تک کئی مقامات پر مسلسل کان کنی نے نہ صرف دریا کی گہرائی بدل دی بلکہ زمینی پست سطحوں کو بھی غیر معمولی طور پر کمزور کردیا ہے۔ اس کے نتیجے میں سیلابی خطرات میں اضافہ پانی کے بہاؤ کی سمت میں بے ترتیبی مچھلیوں کی افزائش میں کمی اور زرعی زمینوں کی زرخیزی میں واضح گراوٹ دیکھنے میں آ رہی ہے۔
اس غیر قانونی کاروبار کے پیچھے مفاد پرست مافیا سرکاری چشم پوشی کا فائدہ اٹھا کر کروڑوں کی کمائی کررہا ہے جبکہ عام شہری اس کی قیمت اپنی زمین اپنے ماحول اور اپنے مستقبل سے ادا کر رہا ہے۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ قوانین موجود ہیں عدالتی ہدایات بھی بارہا جاری ہوچکی ہیں مگر عمل درآمد ہمیشہ سوالیہ نشان بن کر رہ گیا ہے۔ کئی بار چھاپے پڑتے ہیں مشینری ضبط بھی ہوتی ہے مگر اصل کردار قانون کی گرفت سے باہر رہتے ہیں اور کچھ عرصے بعد سب کچھ معمول پر لوٹ آتا ہے۔
یہ صورتحال صرف ماحولیاتی نہیں بلکہ انتظامی ناکامی بھی ہے۔ محکمہ جیالوجی و مائننگ سے لے کر ضلعی سطح کے حکام تک ہر سطح پر جواب دہی کا بحران نظر آتا ہے۔ جب تک نگرانی کا مضبوط نظام قائم نہیں ہوتا اور بڑے مگرمچھوں پر ہاتھ نہیں ڈالا جاتا غیر قانونی کان کنی کے خلاف لڑائی صرف اخباری بیانات تک محدود رہے گی۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ کشمیر میں معدنیات کے استعمال اور نکاسی کے لئے ایک جدید شفاف اور سخت نظام نافذ کیا جائے جس میں نگرانی کے لئے ٹیکنالوجی کا استعمال ہو باقاعدہ ڈرون مانیٹرنگ کی جائے اور خلاف ورزی پر فوری اور سخت کارروائی ہو۔ عدالتوں نے بھی اس موضوع پر کئی بار تشویش ظاہر کی ہے مگر اصل جنگ زمینی سطح پر لڑنی ہوگی جہاں مفادات کے جال مضبوط ہوچکے ہیں۔
کشمیر کی ندیوں اور پہاڑوں کا تحفظ محض ایک ماحولیاتی فریضہ نہیں بلکہ ایک قومی ذمہ داری ہے۔ اگر آج فیصلہ کن قدم نہ اٹھایا گیا تو چند سال بعد یہ خوبصورت وادی زمین کٹاؤ پانی کی قلت اور ماحولیاتی بے ترتیبی کا شکار ہو کر اپنا فطری حسن کھو بیٹھے گی۔ غیر قانونی کان کنی کو جڑ سے ختم کرنا اس وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے اور اس کے لئے کمزور کارروائی کافی نہیں بلکہ ایک واضح سخت اور بلا امتیاز پالیسی ناگزیر ہے۔
کشمیر کے مستقبل کو محفوظ رکھنے کے لئے وقت آگیا ہے کہ حکومت ادارے اور عوام سب مل کر اس مافیا کے سامنے ڈٹ جائیں کیونکہ جب زمین ہی سلامت نہ رہے تو ترقی کے تمام دعوے بے معنی ہو جاتے ہیں۔
غیر قانونی کان کنی سنگین خطرہ
غیر قانونی کان کنی سنگین خطرہ
غیر قانونی کان کنی کشمیر کی سرزمین کے لئے ایک ایسا بحران بنتی جارہی ہے جو محض ماحولیاتی نقصان تک محدود نہیں رہا بلکہ معاشرتی معاشی اور انتظامی ڈھانچے کو بھی اندر سے کھوکھلا کر رہا ہے۔ یہ مسئلہ برسوں سے موجود تھا مگر حالیہ برسوں میں اس کی شدت نے واضح کردیا ہے کہ اگر اسے سخت معیار کے ساتھ نہ روکا گیا تو آنے والی نسلیں اس کے نتائج بھگتنے پر مجبور ہوں گی۔
کشمیر کی ندیوں پہاڑیوں اور جنگلات سے بے دریغ نکالا جانے والا ریٹ بجری اور دیگر معدنیات قدرتی توازن کو بگاڑ رہے ہیں۔ دریائے جہلم سے لے کر دریا- سندھ کے معاون بہاؤ تک کئی مقامات پر مسلسل کان کنی نے نہ صرف دریا کی گہرائی بدل دی بلکہ زمینی پست سطحوں کو بھی غیر معمولی طور پر کمزور کردیا ہے۔ اس کے نتیجے میں سیلابی خطرات میں اضافہ پانی کے بہاؤ کی سمت میں بے ترتیبی مچھلیوں کی افزائش میں کمی اور زرعی زمینوں کی زرخیزی میں واضح گراوٹ دیکھنے میں آ رہی ہے۔
اس غیر قانونی کاروبار کے پیچھے مفاد پرست مافیا سرکاری چشم پوشی کا فائدہ اٹھا کر کروڑوں کی کمائی کررہا ہے جبکہ عام شہری اس کی قیمت اپنی زمین اپنے ماحول اور اپنے مستقبل سے ادا کر رہا ہے۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ قوانین موجود ہیں عدالتی ہدایات بھی بارہا جاری ہوچکی ہیں مگر عمل درآمد ہمیشہ سوالیہ نشان بن کر رہ گیا ہے۔ کئی بار چھاپے پڑتے ہیں مشینری ضبط بھی ہوتی ہے مگر اصل کردار قانون کی گرفت سے باہر رہتے ہیں اور کچھ عرصے بعد سب کچھ معمول پر لوٹ آتا ہے۔
یہ صورتحال صرف ماحولیاتی نہیں بلکہ انتظامی ناکامی بھی ہے۔ محکمہ جیالوجی و مائننگ سے لے کر ضلعی سطح کے حکام تک ہر سطح پر جواب دہی کا بحران نظر آتا ہے۔ جب تک نگرانی کا مضبوط نظام قائم نہیں ہوتا اور بڑے مگرمچھوں پر ہاتھ نہیں ڈالا جاتا غیر قانونی کان کنی کے خلاف لڑائی صرف اخباری بیانات تک محدود رہے گی۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ کشمیر میں معدنیات کے استعمال اور نکاسی کے لئے ایک جدید شفاف اور سخت نظام نافذ کیا جائے جس میں نگرانی کے لئے ٹیکنالوجی کا استعمال ہو باقاعدہ ڈرون مانیٹرنگ کی جائے اور خلاف ورزی پر فوری اور سخت کارروائی ہو۔ عدالتوں نے بھی اس موضوع پر کئی بار تشویش ظاہر کی ہے مگر اصل جنگ زمینی سطح پر لڑنی ہوگی جہاں مفادات کے جال مضبوط ہوچکے ہیں۔
کشمیر کی ندیوں اور پہاڑوں کا تحفظ محض ایک ماحولیاتی فریضہ نہیں بلکہ ایک قومی ذمہ داری ہے۔ اگر آج فیصلہ کن قدم نہ اٹھایا گیا تو چند سال بعد یہ خوبصورت وادی زمین کٹاؤ پانی کی قلت اور ماحولیاتی بے ترتیبی کا شکار ہو کر اپنا فطری حسن کھو بیٹھے گی۔ غیر قانونی کان کنی کو جڑ سے ختم کرنا اس وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے اور اس کے لئے کمزور کارروائی کافی نہیں بلکہ ایک واضح سخت اور بلا امتیاز پالیسی ناگزیر ہے۔
کشمیر کے مستقبل کو محفوظ رکھنے کے لئے وقت آگیا ہے کہ حکومت ادارے اور عوام سب مل کر اس مافیا کے سامنے ڈٹ جائیں کیونکہ جب زمین ہی سلامت نہ رہے تو ترقی کے تمام دعوے بے معنی ہو جاتے ہیں۔


