ریٹائرڈ افراد کی دوبارہ تقرری !

ادارہ جاتی انصاف کا تقاضا ہے کہ سرکاری خدمات سے ریٹائر ہونے کے بعد کوئی بھی شخص دوبارہ سرکاری یا اثر رکھنے والے اداروں میں جگہ نہ پائے۔ برسوں کی ملازمت اور تمام مراعات کے بعد اگر وہی افراد نئے جواز تراش کر دوبارہ عہدوں پر قابض ہو جائیں تو یہ نوجوان نسل کے حق میں کھلی ناانصافی ہے۔ کشمیر میں یہ رجحان اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ کچھ ریٹائرڈ لوگ مسجد کمیٹیوں، سیاست یا سماجی اداروں میں اثر نہ ملنے کے بعد اپنے تعلقات اور سیاسی روابط استعمال کر کے خود کو دوبارہ بااثر عہدوں تک لے آتے ہیں۔ اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ میرٹ پر اعتماد کمزور ہوتا ہے اور نوجوان مایوسی کا شکار ہو جاتے ہیں۔
تجربے کی اہمیت اپنی جگہ مگر اسے دوبارہ ملازمت کی بنیاد بنانا نظام کے بنیادی اصولوں سے انحراف ہے۔ اگر کوئی شخص واقعی اپنی بصیرت قوم کے لئے وقف کرنا چاہتا ہے تو وہ رضاکارانہ طور پر بھی خدمات دے سکتا ہے۔ دنیا کی بہت سی مثالیں بتاتی ہیں کہ سینئر افراد مشورہ دیتے ہیں مگر بھاری تنخواہیں اور مراعات نہیں لیتے۔ کشمیر میں الٹا صورتحال ہے کہ بجٹ کا بڑا حصہ ایسے افراد کی دوبارہ تقرریوں پر خرچ ہوتا ہے جس سے نئے منصوبے اور نوجوانوں کے لئے مواقع مسلسل سکڑتے جا رہے ہیں۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ بیشتر ایسی تقرریاں مضبوط تعلقات اور سیاسی سفارشات کا نتیجہ ہوتی ہیں جس سے اداروں کی کارکردگی متاثر اور شفافیت کمزور ہوتی ہے۔ ایسے افراد جو پہلے ہی قابل اعتراض کارکردگی رکھتے تھے دوبارہ عہدوں پر بیٹھ کر نظام کو مزید بوجھل بنا دیتے ہیں۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ایک واضح پالیسی بنائی جائے جس کے تحت کوئی بھی ریٹائرڈ فرد دوبارہ سرکاری یا سرکاری اثر رکھنے والے عہدے پر نہ آئے۔ تجربے سے فائدہ اٹھانا ہو تو مشاورتی یا رضاکارانہ خدمات کا راستہ موجود ہے۔ کشمیر کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لئے نئے خیالات اور نوجوان صلاحیتوں کو جگہ دینا ناگزیر ہے۔ یہی انصاف ہے اور یہی خطے کی ترقی کے لئے درست راستہ ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

پٹن کی تین نوجوان سائیکلسٹوں کی نمایاں کارکردگی، آسیہ اقبال کی مبارکباد

اختر علی بارہمولہ/جنگ نیوز/اسپورٹس پروموٹر اور جموں و کشمیر ایمپاورمنٹ...

کابینہ ردوبدل کے بعد نیشنل کانفرنس کی اندرونی سیاست گرم

بلال بشیر بٹ جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/کابینہ میں حالیہ توسیع...

تخلیق کار یا مشینی مصنف؟

دب محض الفاظ کی ترتیب نہیں بلکہ انسانی احساسات،...

اسکمز میڈیکل کالج بمنہ میں ہفتۂ بیداریٔ نگرانی کا اہتمام

اقبال بیگ سری نگر/ جنگ نیوز/شیرِ کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف...

صوفی بزرگ حضرت احمد صاحب بٹواریؒ کا عرس احمد نگر سرینگر میں منایا گیا

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر /صوفی میڈیا سروسز/وادیِ کشمیر کے معروف...

تازہ ترین خبریں

پٹن کی تین نوجوان سائیکلسٹوں کی نمایاں کارکردگی، آسیہ اقبال کی مبارکباد

اختر علی بارہمولہ/جنگ نیوز/اسپورٹس پروموٹر اور جموں و کشمیر ایمپاورمنٹ...

کابینہ ردوبدل کے بعد نیشنل کانفرنس کی اندرونی سیاست گرم

بلال بشیر بٹ جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/کابینہ میں حالیہ توسیع...

تخلیق کار یا مشینی مصنف؟

دب محض الفاظ کی ترتیب نہیں بلکہ انسانی احساسات،...

اسکمز میڈیکل کالج بمنہ میں ہفتۂ بیداریٔ نگرانی کا اہتمام

اقبال بیگ سری نگر/ جنگ نیوز/شیرِ کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف...

صوفی بزرگ حضرت احمد صاحب بٹواریؒ کا عرس احمد نگر سرینگر میں منایا گیا

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر /صوفی میڈیا سروسز/وادیِ کشمیر کے معروف...

ریٹائرڈ افراد کی دوبارہ تقرری !

ادارہ جاتی انصاف کا تقاضا ہے کہ سرکاری خدمات سے ریٹائر ہونے کے بعد کوئی بھی شخص دوبارہ سرکاری یا اثر رکھنے والے اداروں میں جگہ نہ پائے۔ برسوں کی ملازمت اور تمام مراعات کے بعد اگر وہی افراد نئے جواز تراش کر دوبارہ عہدوں پر قابض ہو جائیں تو یہ نوجوان نسل کے حق میں کھلی ناانصافی ہے۔ کشمیر میں یہ رجحان اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ کچھ ریٹائرڈ لوگ مسجد کمیٹیوں، سیاست یا سماجی اداروں میں اثر نہ ملنے کے بعد اپنے تعلقات اور سیاسی روابط استعمال کر کے خود کو دوبارہ بااثر عہدوں تک لے آتے ہیں۔ اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ میرٹ پر اعتماد کمزور ہوتا ہے اور نوجوان مایوسی کا شکار ہو جاتے ہیں۔
تجربے کی اہمیت اپنی جگہ مگر اسے دوبارہ ملازمت کی بنیاد بنانا نظام کے بنیادی اصولوں سے انحراف ہے۔ اگر کوئی شخص واقعی اپنی بصیرت قوم کے لئے وقف کرنا چاہتا ہے تو وہ رضاکارانہ طور پر بھی خدمات دے سکتا ہے۔ دنیا کی بہت سی مثالیں بتاتی ہیں کہ سینئر افراد مشورہ دیتے ہیں مگر بھاری تنخواہیں اور مراعات نہیں لیتے۔ کشمیر میں الٹا صورتحال ہے کہ بجٹ کا بڑا حصہ ایسے افراد کی دوبارہ تقرریوں پر خرچ ہوتا ہے جس سے نئے منصوبے اور نوجوانوں کے لئے مواقع مسلسل سکڑتے جا رہے ہیں۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ بیشتر ایسی تقرریاں مضبوط تعلقات اور سیاسی سفارشات کا نتیجہ ہوتی ہیں جس سے اداروں کی کارکردگی متاثر اور شفافیت کمزور ہوتی ہے۔ ایسے افراد جو پہلے ہی قابل اعتراض کارکردگی رکھتے تھے دوبارہ عہدوں پر بیٹھ کر نظام کو مزید بوجھل بنا دیتے ہیں۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ایک واضح پالیسی بنائی جائے جس کے تحت کوئی بھی ریٹائرڈ فرد دوبارہ سرکاری یا سرکاری اثر رکھنے والے عہدے پر نہ آئے۔ تجربے سے فائدہ اٹھانا ہو تو مشاورتی یا رضاکارانہ خدمات کا راستہ موجود ہے۔ کشمیر کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لئے نئے خیالات اور نوجوان صلاحیتوں کو جگہ دینا ناگزیر ہے۔ یہی انصاف ہے اور یہی خطے کی ترقی کے لئے درست راستہ ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں