خزاں کی دلکشی کے بیچ دھواں

کشمیر کی خزاں اپنی مثال آپ ہے۔ سرخ و سنہری پتوں سے سجے چنار، دھوپ کی نرم لہریں، اور ٹھنڈی ہوا کا لمس اس وادی کو ایک زندہ تصویر میں بدل دیتے ہیں۔ یہ موسم نہ صرف حسن کا جشن ہے بلکہ کشمیری تہذیب کی پہچان بھی ہے۔ سیاح ہوں یا مقامی لوگ، سب اس دلکش ماحول سے روحانی تازگی محسوس کرتے ہیں۔ لیکن اس خوبصورت منظر نامے کے بیچ ایک تشویشناک رویہ بڑھتا جا رہا ہے۔ وادی میں اور خاص طور پر آبادی کے قریب چنار کے گرتے ہوئے پتوں کو جلانے کا رجحان عام ہو چکا ہے۔ ایک طرف چنار کی شاخوں پر سنہری روشنی رقص کرتی ہے، دوسری طرف انہی پتوں کا دھواں فضا کو آلودہ کر رہا ہے۔ یہ منظر نہ صرف خزاں کے جمال کو ماند کرتا ہے بلکہ انسانی صحت کے لئے بھی خطرہ بن چکا ہے۔
پتوں کو جلانے سے پیدا ہونے والا دھواں سانس کی بیماریوں، دمہ، الرجی اور آنکھوں کی تکلیف کو بڑھاتا ہے۔ سردیوں کی آمد کے ساتھ فضا میں نمی اور دھوئیں کا امتزاج فضائی آلودگی کو مزید سنگین بنا دیتا ہے۔ بزرگ، بچے اور مریض اس آلودگی سے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ یہی نہیں، مسلسل دھواں ماحول کے مجموعی توازن پر بھی بوجھ ڈال رہا ہے۔ گرتے پتوں کے بہتر متبادل موجود ہیں۔ انہیں کھاد کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے، بایو ماس یا نامیاتی کھیتی کے لئے کام میں لایا جا سکتا ہے، یا مخصوص مقامات پر جمع کرکے سائنسی طریقے سے ٹھکانے لگایا جا سکتا ہے۔ یہ طریقے ماحول دوست بھی ہیں اور صحت کے لئے نقصان دہ بھی نہیں۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ متعلقہ ادارے، بلدیاتی حکام اور شہری خود اس مسئلے کی سنجیدگی کو سمجھیں۔ آگاہی مہمات چلائی جائیں، متبادل طریقے متعارف ہوں، اور چنار کے پتوں کو جلانے پر مناسب پابندی اور نگرانی یقینی بنائی جائے۔ کشمیری عوام کو بھی چاہیے کہ وہ خود اس عمل سے گریز کریں اور دوسروں کو بھی اس سے روکیں۔ خزاں کشمیر کا تحفہ ہے۔ اس تحفے کی حفاظت ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ چنار کے پتوں کا دھواں اس وادی کے حسن اور صحت دونوں کا دشمن ہے۔ اگر ہم آج اس غیر ذمہ دارانہ عمل کو نہ روکے تو آنے والی نسلیں اس خوبصورتی کا تجربہ شاید اسی شدت اور پاکیزگی کے ساتھ نہ کر سکیں جو آج ہمیں میسر ہے۔ خزاں کو محفوظ رکھنا ہمارے اجتماعی شعور اور ذمہ داری کا امتحان ہے، اور یہ امتحان ہمیں کامیابی سے پاس کرنا چاہیے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

کابینہ ردوبدل کے بعد نیشنل کانفرنس کی اندرونی سیاست گرم

بلال بشیر بٹ جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/کابینہ میں حالیہ توسیع...

تخلیق کار یا مشینی مصنف؟

دب محض الفاظ کی ترتیب نہیں بلکہ انسانی احساسات،...

اسکمز میڈیکل کالج بمنہ میں ہفتۂ بیداریٔ نگرانی کا اہتمام

اقبال بیگ سری نگر/ جنگ نیوز/شیرِ کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف...

صوفی بزرگ حضرت احمد صاحب بٹواریؒ کا عرس احمد نگر سرینگر میں منایا گیا

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر /صوفی میڈیا سروسز/وادیِ کشمیر کے معروف...

امیت شاہ کیNCDC کو آئندہ 25 برس کا منصوبۂ عمل تیار کرنے کی ہدایت

جنگ نیوز نئی دہلی/مرکزی وزیر داخلہ و وزیرِ تعاون امیت...

تازہ ترین خبریں

کابینہ ردوبدل کے بعد نیشنل کانفرنس کی اندرونی سیاست گرم

بلال بشیر بٹ جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/کابینہ میں حالیہ توسیع...

تخلیق کار یا مشینی مصنف؟

دب محض الفاظ کی ترتیب نہیں بلکہ انسانی احساسات،...

اسکمز میڈیکل کالج بمنہ میں ہفتۂ بیداریٔ نگرانی کا اہتمام

اقبال بیگ سری نگر/ جنگ نیوز/شیرِ کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف...

صوفی بزرگ حضرت احمد صاحب بٹواریؒ کا عرس احمد نگر سرینگر میں منایا گیا

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر /صوفی میڈیا سروسز/وادیِ کشمیر کے معروف...

امیت شاہ کیNCDC کو آئندہ 25 برس کا منصوبۂ عمل تیار کرنے کی ہدایت

جنگ نیوز نئی دہلی/مرکزی وزیر داخلہ و وزیرِ تعاون امیت...

خزاں کی دلکشی کے بیچ دھواں

کشمیر کی خزاں اپنی مثال آپ ہے۔ سرخ و سنہری پتوں سے سجے چنار، دھوپ کی نرم لہریں، اور ٹھنڈی ہوا کا لمس اس وادی کو ایک زندہ تصویر میں بدل دیتے ہیں۔ یہ موسم نہ صرف حسن کا جشن ہے بلکہ کشمیری تہذیب کی پہچان بھی ہے۔ سیاح ہوں یا مقامی لوگ، سب اس دلکش ماحول سے روحانی تازگی محسوس کرتے ہیں۔ لیکن اس خوبصورت منظر نامے کے بیچ ایک تشویشناک رویہ بڑھتا جا رہا ہے۔ وادی میں اور خاص طور پر آبادی کے قریب چنار کے گرتے ہوئے پتوں کو جلانے کا رجحان عام ہو چکا ہے۔ ایک طرف چنار کی شاخوں پر سنہری روشنی رقص کرتی ہے، دوسری طرف انہی پتوں کا دھواں فضا کو آلودہ کر رہا ہے۔ یہ منظر نہ صرف خزاں کے جمال کو ماند کرتا ہے بلکہ انسانی صحت کے لئے بھی خطرہ بن چکا ہے۔
پتوں کو جلانے سے پیدا ہونے والا دھواں سانس کی بیماریوں، دمہ، الرجی اور آنکھوں کی تکلیف کو بڑھاتا ہے۔ سردیوں کی آمد کے ساتھ فضا میں نمی اور دھوئیں کا امتزاج فضائی آلودگی کو مزید سنگین بنا دیتا ہے۔ بزرگ، بچے اور مریض اس آلودگی سے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ یہی نہیں، مسلسل دھواں ماحول کے مجموعی توازن پر بھی بوجھ ڈال رہا ہے۔ گرتے پتوں کے بہتر متبادل موجود ہیں۔ انہیں کھاد کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے، بایو ماس یا نامیاتی کھیتی کے لئے کام میں لایا جا سکتا ہے، یا مخصوص مقامات پر جمع کرکے سائنسی طریقے سے ٹھکانے لگایا جا سکتا ہے۔ یہ طریقے ماحول دوست بھی ہیں اور صحت کے لئے نقصان دہ بھی نہیں۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ متعلقہ ادارے، بلدیاتی حکام اور شہری خود اس مسئلے کی سنجیدگی کو سمجھیں۔ آگاہی مہمات چلائی جائیں، متبادل طریقے متعارف ہوں، اور چنار کے پتوں کو جلانے پر مناسب پابندی اور نگرانی یقینی بنائی جائے۔ کشمیری عوام کو بھی چاہیے کہ وہ خود اس عمل سے گریز کریں اور دوسروں کو بھی اس سے روکیں۔ خزاں کشمیر کا تحفہ ہے۔ اس تحفے کی حفاظت ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ چنار کے پتوں کا دھواں اس وادی کے حسن اور صحت دونوں کا دشمن ہے۔ اگر ہم آج اس غیر ذمہ دارانہ عمل کو نہ روکے تو آنے والی نسلیں اس خوبصورتی کا تجربہ شاید اسی شدت اور پاکیزگی کے ساتھ نہ کر سکیں جو آج ہمیں میسر ہے۔ خزاں کو محفوظ رکھنا ہمارے اجتماعی شعور اور ذمہ داری کا امتحان ہے، اور یہ امتحان ہمیں کامیابی سے پاس کرنا چاہیے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں