ذمہ دار رپورٹنگ وقت کی اہم ترین ضرورت!


مدثر رشید

آج کے تیز رفتار دور میں، جب خبر لمحوں میں دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک پہنچ جاتی ہے، صحافت کی ذمہ داری پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔ خبر رسانی کا اصل مقصد صرف واقعات سنانا نہیں، بلکہ معاشرے کو سچی، باوقار اور ذمہ دار معلومات فراہم کرنا بھی ہے۔ مگر افسوس کہ کچھ عرصے سے صحافت کے اسی بنیادی مقصد پر سنسنی، ریٹنگ اور دکھاوے کا غلبہ بڑھتا جا رہا ہے۔
گزشتہ برسوں میں ایک افسوسناک رجحان یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ جیسے ہی کوئی سانحہ پیش آتا ہے، کچھ میڈیا نمائندے کیمرے اٹھائے سیدھے متاثرہ خاندانوں کے گھروں تک پہنچ جاتے ہیں۔ وہ لمحے جب گھر میں غم اور صدمے کی خاموشی چھائی ہوتی ہے، وہاں لائٹس، مائیک اور کیمرے کا داخل ہونا نہ صرف غیر اخلاقی ہے بلکہ انسانی جذبات کی بے حرمتی بھی ہے۔
سب سے زیادہ دکھ دینے والی بات یہ ہے کہ بعض رپورٹرز جنازوں اور سوگ کے لمحات کو بھی ریکارڈنگ کا حصہ بنا دیتے ہیں، جیسے انسانی دکھ بھی اب “کانٹینٹ” کی شکل اختیار کر چکا ہو۔ سوال یہ ہے کہ اس کی ضرورت کیا ہے؟ کیا انسانی حرمت اب اتنی ارزاں ہو گئی ہے کہ اسے ویورشپ بڑھانے کی خاطر استعمال کیا جائے؟
ایسے حالات میں ہم اس بات کی بھرپور ستائش اور خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں کہ چند روز قبل گورنر انتظامیہ نے میڈیا اکریڈیشن سے متعلق جو نیا حکم نامہ جاری کیا، وہ نہایت قابلِ قدر قدم ہے۔ اس فیصلے کا مقصد یہی ہے کہ اصلی اور ذمہ دار میڈیا کی پہچان واضح ہو سکے، اور ان عناصر پر قدغن لگائی جا سکے جو محض ویورشپ بڑھانے کے لیے لوگوں کے دکھ اور تکلیف کو تماشا بناتے ہیں۔ یہ اقدام یقیناً صحافی برادری کے وقار کی بحالی کی طرف ایک مضبوط قدم ہے۔
صحافت کا بنیادی اصول ہمیشہ سچ کا ساتھ دینا رہا ہے۔ مگر سچ بیان کرنے کے ساتھ ساتھ اخلاقی حدود اور انسانی وقار کا تحفظ بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ غم کی کیفیت میں کسی کے سامنے مائیک رکھ کر یہ پوچھنا کہ “آپ کیسا محسوس کر رہے ہیں؟” بے حسی کی وہ مثال ہے جو زخموں کو اور گہرا کر دیتی ہے۔ ایسے وقت میں خاندانوں کی پرائیویسی کا احترام کرنا ہر صحافی کا فرض ہے۔
ذمہ دار صحافت یہی کہتی ہے کہ واقعہ ضرور رپورٹ ہو، حقائق بھی سامنے آئیں، مگر انسانی دکھ کو تماشہ نہ بنایا جائے۔ میڈیا معاشرے کا آئینہ ہے، اور آئینہ وہی معتبر ہوتا ہے جو حقیقت کو سنبھال کر دکھائے، بگاڑ کر نہیں۔
اگر میڈیا نمائندے ایسے نازک مواقع پر وقار، ہمدردی اور صحافتی اصولوں کا خیال رکھیں تو نہ صرف عوام کا اعتماد بڑھے گا بلکہ صحافت کا مقام بھی مزید بلند ہوگا۔
آخر میں یہی بات یاد رکھنی چاہیے کہ صحافت محض آزادی نہیں، ایک بڑی اخلاقی ذمہ داری بھی ہے۔ رپورٹنگ ضرور کیجیے… مگر انسانیت کی حرمت کے تقاضوں کے ساتھ۔

 

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

اسکمز میڈیکل کالج بمنہ میں ہفتۂ بیداریٔ نگرانی کا اہتمام

اقبال بیگ سری نگر/ جنگ نیوز/شیرِ کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف...

صوفی بزرگ حضرت احمد صاحب بٹواریؒ کا عرس احمد نگر سرینگر میں منایا گیا

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر /صوفی میڈیا سروسز/وادیِ کشمیر کے معروف...

امیت شاہ کیNCDC کو آئندہ 25 برس کا منصوبۂ عمل تیار کرنے کی ہدایت

جنگ نیوز نئی دہلی/مرکزی وزیر داخلہ و وزیرِ تعاون امیت...

’ ہنسی کے رنگ، سنگیت کے سنگ‘ :DIPRکے کلچرل یونٹ نے سری نگر میں پروگرام کا انعقادکیا

جنگ  نیوز  سری نگر/محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ (ڈی آئی...

جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ کے ججوں کی تقرری کے لئے 9 وکلا کی سفارش

جنگ نیوز نئی دہلی// سپریم کورٹ کالجیم نے 29 اکتوبر...

تازہ ترین خبریں

اسکمز میڈیکل کالج بمنہ میں ہفتۂ بیداریٔ نگرانی کا اہتمام

اقبال بیگ سری نگر/ جنگ نیوز/شیرِ کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف...

صوفی بزرگ حضرت احمد صاحب بٹواریؒ کا عرس احمد نگر سرینگر میں منایا گیا

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر /صوفی میڈیا سروسز/وادیِ کشمیر کے معروف...

امیت شاہ کیNCDC کو آئندہ 25 برس کا منصوبۂ عمل تیار کرنے کی ہدایت

جنگ نیوز نئی دہلی/مرکزی وزیر داخلہ و وزیرِ تعاون امیت...

’ ہنسی کے رنگ، سنگیت کے سنگ‘ :DIPRکے کلچرل یونٹ نے سری نگر میں پروگرام کا انعقادکیا

جنگ  نیوز  سری نگر/محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ (ڈی آئی...

جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ کے ججوں کی تقرری کے لئے 9 وکلا کی سفارش

جنگ نیوز نئی دہلی// سپریم کورٹ کالجیم نے 29 اکتوبر...

ذمہ دار رپورٹنگ وقت کی اہم ترین ضرورت!


مدثر رشید

آج کے تیز رفتار دور میں، جب خبر لمحوں میں دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک پہنچ جاتی ہے، صحافت کی ذمہ داری پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔ خبر رسانی کا اصل مقصد صرف واقعات سنانا نہیں، بلکہ معاشرے کو سچی، باوقار اور ذمہ دار معلومات فراہم کرنا بھی ہے۔ مگر افسوس کہ کچھ عرصے سے صحافت کے اسی بنیادی مقصد پر سنسنی، ریٹنگ اور دکھاوے کا غلبہ بڑھتا جا رہا ہے۔
گزشتہ برسوں میں ایک افسوسناک رجحان یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ جیسے ہی کوئی سانحہ پیش آتا ہے، کچھ میڈیا نمائندے کیمرے اٹھائے سیدھے متاثرہ خاندانوں کے گھروں تک پہنچ جاتے ہیں۔ وہ لمحے جب گھر میں غم اور صدمے کی خاموشی چھائی ہوتی ہے، وہاں لائٹس، مائیک اور کیمرے کا داخل ہونا نہ صرف غیر اخلاقی ہے بلکہ انسانی جذبات کی بے حرمتی بھی ہے۔
سب سے زیادہ دکھ دینے والی بات یہ ہے کہ بعض رپورٹرز جنازوں اور سوگ کے لمحات کو بھی ریکارڈنگ کا حصہ بنا دیتے ہیں، جیسے انسانی دکھ بھی اب “کانٹینٹ” کی شکل اختیار کر چکا ہو۔ سوال یہ ہے کہ اس کی ضرورت کیا ہے؟ کیا انسانی حرمت اب اتنی ارزاں ہو گئی ہے کہ اسے ویورشپ بڑھانے کی خاطر استعمال کیا جائے؟
ایسے حالات میں ہم اس بات کی بھرپور ستائش اور خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں کہ چند روز قبل گورنر انتظامیہ نے میڈیا اکریڈیشن سے متعلق جو نیا حکم نامہ جاری کیا، وہ نہایت قابلِ قدر قدم ہے۔ اس فیصلے کا مقصد یہی ہے کہ اصلی اور ذمہ دار میڈیا کی پہچان واضح ہو سکے، اور ان عناصر پر قدغن لگائی جا سکے جو محض ویورشپ بڑھانے کے لیے لوگوں کے دکھ اور تکلیف کو تماشا بناتے ہیں۔ یہ اقدام یقیناً صحافی برادری کے وقار کی بحالی کی طرف ایک مضبوط قدم ہے۔
صحافت کا بنیادی اصول ہمیشہ سچ کا ساتھ دینا رہا ہے۔ مگر سچ بیان کرنے کے ساتھ ساتھ اخلاقی حدود اور انسانی وقار کا تحفظ بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ غم کی کیفیت میں کسی کے سامنے مائیک رکھ کر یہ پوچھنا کہ “آپ کیسا محسوس کر رہے ہیں؟” بے حسی کی وہ مثال ہے جو زخموں کو اور گہرا کر دیتی ہے۔ ایسے وقت میں خاندانوں کی پرائیویسی کا احترام کرنا ہر صحافی کا فرض ہے۔
ذمہ دار صحافت یہی کہتی ہے کہ واقعہ ضرور رپورٹ ہو، حقائق بھی سامنے آئیں، مگر انسانی دکھ کو تماشہ نہ بنایا جائے۔ میڈیا معاشرے کا آئینہ ہے، اور آئینہ وہی معتبر ہوتا ہے جو حقیقت کو سنبھال کر دکھائے، بگاڑ کر نہیں۔
اگر میڈیا نمائندے ایسے نازک مواقع پر وقار، ہمدردی اور صحافتی اصولوں کا خیال رکھیں تو نہ صرف عوام کا اعتماد بڑھے گا بلکہ صحافت کا مقام بھی مزید بلند ہوگا۔
آخر میں یہی بات یاد رکھنی چاہیے کہ صحافت محض آزادی نہیں، ایک بڑی اخلاقی ذمہ داری بھی ہے۔ رپورٹنگ ضرور کیجیے… مگر انسانیت کی حرمت کے تقاضوں کے ساتھ۔

 

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں