دہلی کے سلاطین فن تعمیر کے شوقین تھے!

 

ریاض فردوسی

ہندوستان کی سرزمین پر مسلمانوں کا پہلا حملہ عربوں نے کیا تھا۔ہندوستانی سرزمین پر پہلا اور آخری عرب حملہ آور محمد بن قاسم تھا جس نے 712ء میں سندھ کے راجہ داہر کو شکست دے کر دیبل بندرگاہ پر قبضہ کر لیا۔اس کے بعد تقریباً 275 سالوں تک ہندوستان کی سرزمین مسلمان حملہ اوروں سے محفوظ رہی۔ عربوں کے حملے کے بعد ہندوستان پر ترک مسلمانوں نے حملہ کیا۔ سنہ 986 میں غزنی کا سبکتگین جو غزنوی خاندان کا بانی الپتگین کا غلام تھا ،اس نے ہندو شاہی خاندان کے راجہ جے پال کو شکست دی۔ راجہ جے پال کی حکومت مشرقی افغانستان بشمول لغمان پنجاب، ملتان سرہند کے علاقوں میں قائم تھی۔ اس کے بعد سلطان محمود غزنوی نے جو سبکتگین کا لڑکا تھا اپنے باپ کی موت کے بعد 1000ء سے 1027ء کے درمیان ہندوستان پر 17 بار حملہ کیا اور اس کا اہم حملہ گجرات کے سومناتھ مندر کا حملہ تھا۔سلطان محمد غزنوی کے ہندوستان پر حملے کا بنیادی مقصد ہندوستان کی دولت کو لوٹ کر اپنے ملک میں لے جانا تھا۔محمود غزنوی کے ہندوستان پر حملے کے بعد تقریباً 165 سال تک ہندوستان پر کوئی خاص حملہ نہیں ہوا۔ ہندوستان میں مسلم سلطنت کا حقیقی بانی شہاب الدین محمد غوری کو سمجھا جاتا ہے جس نے اجمیر کے بادشاہ پرتھوی راج چوہان کو 1192ء میں ترائن کی دوسری جنگ میں شکست دی تھی۔محمد غوری کے انتقال کے بعد اس کا غلام قطب الدین ایبک نے 1206ء میں ہندوستان میں باقاعدہ ایک مسلم سلطنت قائم کی۔چونکہ قطب الدین ایبک ایک غلام تھا، اس لیے اس نے جس خاندان کی بنیاد ڈالی اسے غلام خاندان کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ 1206ء سے 1526ء تک دہلی کے تخت سے ہندوستان پر پانچ خاندانوں نے حکومت کی۔ یہ پانچ خاندان حسب ذیل ہیں۔ (i) غلام خاندان (1206-1290) (ii) خلجی خاندان (1290-1320) (iii) تغلق خاندان (1320-1414) (iv) سید خاندان (1414-1451) اور (v) لودی خاندان (1451-1526)
دہلی کے سلاطین صرف فاتحین اور منتظمین ہی نہیں تھے بلکہ وہ فن اور فن تعمیر کے عاشق بھی تھے سلطانی دور میں فن تعمیر کو کافی فروغ حاصل ہوا۔ دہلی سلاطین کے دور میں بہت سی عمارتیں، قلعے، مینار اور مساجد تعمیر کی گئیں۔دہلی کا پہلا سلطان جس نے تعمیراتی کام کا آغاز کیا وہ قطب الدین ایبک تھا۔ انہیں قطب مینار، قوۃ الاسلام مسجد اور ڈھائی دن کا جھوپڑا کی تعمیر کا سہرا دیا جاتا ہے۔
قطب مینار جنوبی دہلی، کے مہرولی علاقے میں واقع ہے۔ قطب مینار میٹرو اسٹیشن سے اتر کر یہاں تک پہنچا جا سکتا ہے۔ قطب مینار 1199ء اور 1220ء کے درمیان بنایا گیا تھا اور اس میں 399 سیڑھیاں ہیں۔ عام طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ اس ٹاور کا نام قطب الدین ایبک کے نام پر رکھا گیا ہے جنہوں نے اسے بنایا تھا، لیکن زیادہ امکان ہے کہ اس کا نام صوفی بزرگ خواجہ قطب الدین بختیار کاکی کے نام پر رکھا گیا۔دہلی کے آخری ہندو حکمران پرتھوی راج چوہان کو شکست دینے کے بعد قطب الدین ایبک نے اسے فتح کا مینار بنایا۔قطب مینار ہندوستان میں اسلامی حکومت کے آغاز کی نشانی سمجھی جاتی ‌ہے۔ یہ ایک پانچ منزلہ مینار ہے۔ یہ سرخ اور سرمئی ( grey) sandstone سے بنا ہے۔ مینار کی اونچائی 72.5 میٹر ہے ۔ مینار کا بنیاد (base ) چوڑا ہے اور مینار اوپر کی طرف پتلا اور تنگ ہوتا چلا گیا ہے۔ قطب الدین ایبک نے 1199 میں قطب مینار کی پہلی منزل کی تعمیر شروع کی۔اس کے بعد ایبک کا جانشین اور داماد شمس الدین التمش نے مزید تین منزلیں مکمل کیں۔ سنہ 1369ءمیں آسمانی بجلی (lightning) گرنے سے بالائی منزل تباہ ہو گیا جسے فیروز شاہ تغلق نے اپنے دور حکومت میں مرمت کروایی ۔ مینار کا فن تعمیر مشرق وسطیٰ کی مساجد کے انداز اور ڈیزائن سے بہت مختلف ہے۔ان ڈھانچوں کا ڈیزائن مقامی فن تعمیر جیسے ہندوستانی مندروں سے متاثر ہوا۔ سنہ 1505 میں زلزلے سے قطب مینار کو کافی نقصان پہنچا۔ اس وقت لودی خاندان کا سلطان سکندر لودی نے‌اس کی مرمت کروائی ۔ قطب مینار کی دیواروں پر عربی خطاطی ثبت ہے جن میں اس کی تاریخ اور قرآن کی آیات بھی شامل ہیں۔ 4 دسمبر 1981 کو ایک بھگدڑ کے دوران سیکڑوں سیاح ہلاک ہو گئے تھے تب سے ٹاور کو سیاحوں کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔
قطب مینار کے احاطے کے اندر ایک مسجد قایم ہے جو قوۃ الاسلام مسجد (Quwwat-ul-Islam ) کے نام سے جانا جاتا ہے۔ قوۃ الاسلام مسجد بھی قطب الدین ایبک نے 1192 میں تعمیر کروائی تھی اور 1196 میں مکمل ہوئی تھی۔ یہ سرخ سینڈ اسٹون (sandstone)، کوارٹز ( grey quartz) اور سفید سنگ مرمر (marble) سے بنا ہے، قوۃ الاسلام مسجد کی تعمیر مسلمانوں کے غلبہ ہند کے یادگار کے طور پر کیا گیا تھا۔ یہ ایک مستطیل (Rectangular) صحن (courtyard) پر مشتمل ہے جو cloisters سے گھرا ہوا ہے۔ یہ ہندوستان کی پہلی مسجد ہے جسے دہلی کے سلطان نے بنایا۔ اس مسجد کی توسیع بعد میں سلطان التتمش اور سلطان علاؤالدین خلجی نے کی۔
قوۃ الاسلام مسجد کے احاطے میں ایک ڈھانچہ کھڑا ہے جسے علاؤالدین کا دروازہ یا علائی دروازہ (Alai Darwaza) کہا جاتا ہے۔ یہ قوۃ الاسلام مسجد کا جنوبی گیٹ وے ہے۔ علائی دروازہ 1311 میں خلجی خاندان کے دہلی سلطان علاؤالدین خلجی نے تعمیر کیا تھا۔ پورا دروازہ سفید رنگ کے سنگ مرمروں کے ساتھ سرخ ریت کے پتھر سے بنا ہے۔ سرخ بلوا پتھر (red sandstone) اور سفید سنگ مرمر (white marble) کا استعمال بعد میں ہند اسلامی فن تعمیر کی ایک عام خصوصیت ہو گی۔ یہ ایک مربع نما گنبد والا گیٹ ہاؤس ہے جس میں محراب اور حجرہ ہے۔
یہ پہلی ہندوستانی یادگار ہے جسکی تعمیر اور آرائش اسلامی طریقوں سے کی گئی ۔ علاؤالدین خلجی کا منصوبہ یہ تھا کہ مسجد قوۃ الاسلام کو چار اطراف سے پھیلایا جائے۔ اگرچہ اس نے چار دروازے تعمیر کرنے کا منصوبہ بنایا، لیکن صرف الائی دروازہ ہی مکمل ہو سکا کیونکہ اس کی موت 1316 میں ہوئی تھی۔ یہ ہندوستان میں بنایا جانے والا پہلا حقیقی گنبد ہے، کیونکہ حقیقی گنبد کی تعمیر کی پچھلی کوششیں کامیاب نہیں ہوئیں۔علائی دروازہ کی دیواروں پر وسیع عربی خطاطی ہے اور اسکے دیواروں کی سطحوں پر خوبصورت پھولوں اور پتیوں کی تصویریں سبت ہیے۔ محرابیں گھوڑے کی نالی کی شکل کی ہیں، ہندوستان میں پہلی بار اس طرح کی محرابیں استعمال کی گئیں۔
قطب مینار کے بالمقابل قطب مینار اور قوۃ الاسلام مسجد کے احاطے میں الائی مینار (Alai minar ) واقع ہے۔اسے بھی سلطان علاؤالدین خلجی نے اپنی فتوحات کی یاد میں تعمیر کروایا تھا۔ انہوں نے اس مینار کو قطب مینار کی اونچائی سے دوگنا بنانے کا خواب دیکھا تھا۔ اس کی بنیاد قطب مینار سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔ اب اس کی اونچائی 25 میٹر ہے۔ پہلی منزل کی تکمیل کے بعد 1316 میں علاؤالدین خلجی کا انتقال ہو گیا۔ اس لیے اس کی مزید تعمیر ترک کر دی گئی اور بعد کے دور کے دہلی سلطانوں نے اس کی تعمیر کو دوبارہ شروع کرنے اور کام مکمل کرنے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ اپنے زمانے کے مشہور صوفی شاعر اور بزرگ امیر خسرو نے اپنی تصنیف تاریخ الائی میں علاؤالدین کے مسجد کی توسیع اور ایک اور مینار کی تعمیر کے ارادوں کا ذکر کیا ہے۔پتھر کا بنا ہوا الائی مینار ایک نامکمل مینار ہے جس میں خوبصورتی اور کشش نہیں ہے۔ یہاں پر سیاحوں کی زیادہ بھیڑ دیکھنے کو نہیں ملتی۔ اب اس کی صرف تاریخی اہمیت رہ گئی ہے۔قطب مینار کے احاطہ میں التتمش اور سلطان علاؤالدین خلجی کے قبریں موجود ہیں ۔بادشاہوں اور سلطانوں کے قبروں اور اللہ والوں کی قبروں میں ایک فرق یہ ہے کہ اول الذکر کے قبروں پر فاتحہ پڑھنے والا بھی نہیں ہوتا۔
لودی گارڈن (Lodi Gardens) نئی دہلی میں واقع ہے۔ یہ 90 ایکڑ پر پھیلا ہوا ہے۔ لودی گارڈین کا قریب ترین میٹرو اسٹیشن جورباغ (Jorbagh) ہے۔ یہاں سید خاندان کے آخری حکمران سلطان محمد شاہ اور سلطان سکندر لودی کی قبریں ہیں۔ محمد شاہ کی قبر باغ میں موجود مقبروں میں سب سے قدیم ہے۔ اسے 1444 میں محمد شاہ کے جانشین علاؤالدین عالم شاہ نے تعمیر کروایا تھا۔ مقبرے کی شکل آٹھ کونی (octagonal) ہے اور اس میں ہندو طرز کی چھتری شامل ہے۔ یہ ہند اسلامی فن تعمیر میں ہندو فن تعمیر کی خصوصیات کی ترکیب کی ایک اچھی مثال ہے ۔لودی گارڈن میں شیشہ گمبد (Shisha gumbad) اور بڑا گمبد (Bara gumbad) موجود ہے۔ بڑا گمبد باغات کے درمیان میں واقع ہے۔ یہ ایک بڑے ملبے سے تعمیر شدہ گنبد پر مشتمل ہے۔ اسے تین گنبد والی مسجد کے دروازے کے طور پر تعمیر کیا گیا تھا۔ بڑا گمبد اور مسجد دونوں 1494 میں سکندر لودی کے دور میں تعمیر کی گئیں۔ بڑا گمبد کے بالمقابل شیش گمبد ہے جس میں ایسی قبریں ہیں جن کے مکینوں کا نام معلوم نہیں ہے۔
دہلی میں حوض خاص(Hauz Khas ) میٹرو اسٹیشن سے کچھ فاصلہ پر ایک تاریخی مقام ہے‌ جو حوض خاص گاؤں (Hauz Khas village) کے نام‌ سے مشہور ہے حالانکہ یہ ایک شہر ہے۔ اس شہر کا نام حوض خاص جھیل کے نام پر رکھا گیا ہے۔ حوض خاص ایک قدیم آبی ذخائر کا نام ہے۔ اردو زبان میں”حوض "کا مطلب ہے "پانی کا ٹینک” یا جھیل اور "خاص” کا مطلب ہے "شاہی”، یعنی حوض خاص کا مطلب ہے "شاہی ٹینک”۔ پانی کی اس بڑی ٹینک یا حوض کو سب سے پہلے سلطان علاؤالدین خلجی نے تعمیر کروایا تھا ۔ اس نے یہ جھیل سری (Siri ) قلعہ کے باشندوں کو پانی کی فراہمی کے لیے تعمیر کروایا تھا۔ ۔ سری قدیم دہلی کا دوسرا شہر تھا جس کی بنیاد سلطان علاؤالدین نے رکھی تھی۔ ابتداء میں علاؤالدین خلجی کے نام‌ بر پانی کا یہ جھیل الائی حوض کے نام سے جانا جاتا تھا۔ بعد میں سلطان فیروز شاہ تغلق نے اس ٹینک کی دوبارہ کھدائی کی اور اس کے جنوبی اور مشرقی کناروں پر کئی عمارتیں تعمیر کروائی جنہیں حوض خاص یا شاہی ٹینک کہا جاتا ہے۔حوض خاص کے اس احاطہ میں فیروز شاہ تغلق کی قبر اور دوسرے نامعلوم لوگوں کی بھی قبریں ہیں ۔ یہ قبریں اوپر سے مربع نما‌ octagonal چھتری سے ڈھکا ہوا ہے۔۔ 1507 میں سکندر لودی کے دور حکومت میں اس کی مرمت کی گئی۔فیروز شاہ تغلق نے 1354 میں حوض خاص کے احاطہ میں مدرسہ اور مسجد تعمیر کروائی۔مدرسہ کی بالائی منزل سے کئی سیڑھیاں نیچے ٹینک تک جاتی ہیں۔۔ جب تیمور نے 1399 میں دہلی پر حملہ کیا وہ اس ٹینک اور ارد گرد کی عمارتوں کو دیکھ کر بہت متاثر ہوا تھا۔ حوض خاص کے گرد و پیش میں رہائشی مکانیں بن گیی ہیں۔ یہاں بھی سیاحوں کی کم‌ بھیڑ ہوتی ہے ۔
ہندوستان کے مسلم حکمرانوں پر اکثر ایسے لوگوں کی طرف سے الزام لگایا جاتا ہے جنہیں تاریخ کا علم نہیں ہے کہ انہوں نے اس ملک کی دولت کو لوٹا۔ یہ محمود غزنوی کے بارے میں درست ہو سکتا ہے لیکن عام طور پر سب سلطانوں اور شہنشاہوں کے لیے نہیں۔ ہندوستان کی فتح کے بعد دہلی کے سلطانوں نے یہیں رہنے کا فیصلہ کیا اور یہیں وفات پائی اور یہیں دفن ہوئے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ وسط ایشیا اور افغانستان سے آئے تھے لیکن انہوں نے اس ملک کو اپنا مسکن بنایا، اور جدید معنوں میں ہندوستان کے شہری بن گئے۔ انہوں نے ہندوستان کے وسائل کو ہندوستان میں ہی استعمال کیا اور انہیں تعمیراتی یادگاروں مینار و مساجد کی تعمیر میں خرچ کیا۔ ہر روز مقامی لوگ، ملک اور دنیا کے دوسرے حصوں سے لوگ آتے ہیں اور ان تاریخی تعمیراتی یادگاروں کو دیکھتے ہیں اور ان پر فخر محسوس کرتے ہیں۔ ہماری حکومت ان یادگاروں سے کروڑوں میں ریونیو کما رہی ہے۔ دہلی کے سلاطین اپنی قبروں سے ہمارے ملک کو مالی فوائد پہنجا رہے ہیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

طویل عرصے تک بیٹھنا صحت کے لیے بڑا خطرہ

سرینگر، 13 جون انتباہ کہ طویل عرصے تک بیٹھنا صحت...

سڑک حادثے میں 75 سالہ خاتون کی موت، دو زخمی

شمالی کشمیر سڑک حادثے میں 75 سالہ خاتون کی موت،...

تازہ ترین خبریں

طویل عرصے تک بیٹھنا صحت کے لیے بڑا خطرہ

سرینگر، 13 جون انتباہ کہ طویل عرصے تک بیٹھنا صحت...

سڑک حادثے میں 75 سالہ خاتون کی موت، دو زخمی

شمالی کشمیر سڑک حادثے میں 75 سالہ خاتون کی موت،...

دہلی کے سلاطین فن تعمیر کے شوقین تھے!

 

ریاض فردوسی

ہندوستان کی سرزمین پر مسلمانوں کا پہلا حملہ عربوں نے کیا تھا۔ہندوستانی سرزمین پر پہلا اور آخری عرب حملہ آور محمد بن قاسم تھا جس نے 712ء میں سندھ کے راجہ داہر کو شکست دے کر دیبل بندرگاہ پر قبضہ کر لیا۔اس کے بعد تقریباً 275 سالوں تک ہندوستان کی سرزمین مسلمان حملہ اوروں سے محفوظ رہی۔ عربوں کے حملے کے بعد ہندوستان پر ترک مسلمانوں نے حملہ کیا۔ سنہ 986 میں غزنی کا سبکتگین جو غزنوی خاندان کا بانی الپتگین کا غلام تھا ،اس نے ہندو شاہی خاندان کے راجہ جے پال کو شکست دی۔ راجہ جے پال کی حکومت مشرقی افغانستان بشمول لغمان پنجاب، ملتان سرہند کے علاقوں میں قائم تھی۔ اس کے بعد سلطان محمود غزنوی نے جو سبکتگین کا لڑکا تھا اپنے باپ کی موت کے بعد 1000ء سے 1027ء کے درمیان ہندوستان پر 17 بار حملہ کیا اور اس کا اہم حملہ گجرات کے سومناتھ مندر کا حملہ تھا۔سلطان محمد غزنوی کے ہندوستان پر حملے کا بنیادی مقصد ہندوستان کی دولت کو لوٹ کر اپنے ملک میں لے جانا تھا۔محمود غزنوی کے ہندوستان پر حملے کے بعد تقریباً 165 سال تک ہندوستان پر کوئی خاص حملہ نہیں ہوا۔ ہندوستان میں مسلم سلطنت کا حقیقی بانی شہاب الدین محمد غوری کو سمجھا جاتا ہے جس نے اجمیر کے بادشاہ پرتھوی راج چوہان کو 1192ء میں ترائن کی دوسری جنگ میں شکست دی تھی۔محمد غوری کے انتقال کے بعد اس کا غلام قطب الدین ایبک نے 1206ء میں ہندوستان میں باقاعدہ ایک مسلم سلطنت قائم کی۔چونکہ قطب الدین ایبک ایک غلام تھا، اس لیے اس نے جس خاندان کی بنیاد ڈالی اسے غلام خاندان کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ 1206ء سے 1526ء تک دہلی کے تخت سے ہندوستان پر پانچ خاندانوں نے حکومت کی۔ یہ پانچ خاندان حسب ذیل ہیں۔ (i) غلام خاندان (1206-1290) (ii) خلجی خاندان (1290-1320) (iii) تغلق خاندان (1320-1414) (iv) سید خاندان (1414-1451) اور (v) لودی خاندان (1451-1526)
دہلی کے سلاطین صرف فاتحین اور منتظمین ہی نہیں تھے بلکہ وہ فن اور فن تعمیر کے عاشق بھی تھے سلطانی دور میں فن تعمیر کو کافی فروغ حاصل ہوا۔ دہلی سلاطین کے دور میں بہت سی عمارتیں، قلعے، مینار اور مساجد تعمیر کی گئیں۔دہلی کا پہلا سلطان جس نے تعمیراتی کام کا آغاز کیا وہ قطب الدین ایبک تھا۔ انہیں قطب مینار، قوۃ الاسلام مسجد اور ڈھائی دن کا جھوپڑا کی تعمیر کا سہرا دیا جاتا ہے۔
قطب مینار جنوبی دہلی، کے مہرولی علاقے میں واقع ہے۔ قطب مینار میٹرو اسٹیشن سے اتر کر یہاں تک پہنچا جا سکتا ہے۔ قطب مینار 1199ء اور 1220ء کے درمیان بنایا گیا تھا اور اس میں 399 سیڑھیاں ہیں۔ عام طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ اس ٹاور کا نام قطب الدین ایبک کے نام پر رکھا گیا ہے جنہوں نے اسے بنایا تھا، لیکن زیادہ امکان ہے کہ اس کا نام صوفی بزرگ خواجہ قطب الدین بختیار کاکی کے نام پر رکھا گیا۔دہلی کے آخری ہندو حکمران پرتھوی راج چوہان کو شکست دینے کے بعد قطب الدین ایبک نے اسے فتح کا مینار بنایا۔قطب مینار ہندوستان میں اسلامی حکومت کے آغاز کی نشانی سمجھی جاتی ‌ہے۔ یہ ایک پانچ منزلہ مینار ہے۔ یہ سرخ اور سرمئی ( grey) sandstone سے بنا ہے۔ مینار کی اونچائی 72.5 میٹر ہے ۔ مینار کا بنیاد (base ) چوڑا ہے اور مینار اوپر کی طرف پتلا اور تنگ ہوتا چلا گیا ہے۔ قطب الدین ایبک نے 1199 میں قطب مینار کی پہلی منزل کی تعمیر شروع کی۔اس کے بعد ایبک کا جانشین اور داماد شمس الدین التمش نے مزید تین منزلیں مکمل کیں۔ سنہ 1369ءمیں آسمانی بجلی (lightning) گرنے سے بالائی منزل تباہ ہو گیا جسے فیروز شاہ تغلق نے اپنے دور حکومت میں مرمت کروایی ۔ مینار کا فن تعمیر مشرق وسطیٰ کی مساجد کے انداز اور ڈیزائن سے بہت مختلف ہے۔ان ڈھانچوں کا ڈیزائن مقامی فن تعمیر جیسے ہندوستانی مندروں سے متاثر ہوا۔ سنہ 1505 میں زلزلے سے قطب مینار کو کافی نقصان پہنچا۔ اس وقت لودی خاندان کا سلطان سکندر لودی نے‌اس کی مرمت کروائی ۔ قطب مینار کی دیواروں پر عربی خطاطی ثبت ہے جن میں اس کی تاریخ اور قرآن کی آیات بھی شامل ہیں۔ 4 دسمبر 1981 کو ایک بھگدڑ کے دوران سیکڑوں سیاح ہلاک ہو گئے تھے تب سے ٹاور کو سیاحوں کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔
قطب مینار کے احاطے کے اندر ایک مسجد قایم ہے جو قوۃ الاسلام مسجد (Quwwat-ul-Islam ) کے نام سے جانا جاتا ہے۔ قوۃ الاسلام مسجد بھی قطب الدین ایبک نے 1192 میں تعمیر کروائی تھی اور 1196 میں مکمل ہوئی تھی۔ یہ سرخ سینڈ اسٹون (sandstone)، کوارٹز ( grey quartz) اور سفید سنگ مرمر (marble) سے بنا ہے، قوۃ الاسلام مسجد کی تعمیر مسلمانوں کے غلبہ ہند کے یادگار کے طور پر کیا گیا تھا۔ یہ ایک مستطیل (Rectangular) صحن (courtyard) پر مشتمل ہے جو cloisters سے گھرا ہوا ہے۔ یہ ہندوستان کی پہلی مسجد ہے جسے دہلی کے سلطان نے بنایا۔ اس مسجد کی توسیع بعد میں سلطان التتمش اور سلطان علاؤالدین خلجی نے کی۔
قوۃ الاسلام مسجد کے احاطے میں ایک ڈھانچہ کھڑا ہے جسے علاؤالدین کا دروازہ یا علائی دروازہ (Alai Darwaza) کہا جاتا ہے۔ یہ قوۃ الاسلام مسجد کا جنوبی گیٹ وے ہے۔ علائی دروازہ 1311 میں خلجی خاندان کے دہلی سلطان علاؤالدین خلجی نے تعمیر کیا تھا۔ پورا دروازہ سفید رنگ کے سنگ مرمروں کے ساتھ سرخ ریت کے پتھر سے بنا ہے۔ سرخ بلوا پتھر (red sandstone) اور سفید سنگ مرمر (white marble) کا استعمال بعد میں ہند اسلامی فن تعمیر کی ایک عام خصوصیت ہو گی۔ یہ ایک مربع نما گنبد والا گیٹ ہاؤس ہے جس میں محراب اور حجرہ ہے۔
یہ پہلی ہندوستانی یادگار ہے جسکی تعمیر اور آرائش اسلامی طریقوں سے کی گئی ۔ علاؤالدین خلجی کا منصوبہ یہ تھا کہ مسجد قوۃ الاسلام کو چار اطراف سے پھیلایا جائے۔ اگرچہ اس نے چار دروازے تعمیر کرنے کا منصوبہ بنایا، لیکن صرف الائی دروازہ ہی مکمل ہو سکا کیونکہ اس کی موت 1316 میں ہوئی تھی۔ یہ ہندوستان میں بنایا جانے والا پہلا حقیقی گنبد ہے، کیونکہ حقیقی گنبد کی تعمیر کی پچھلی کوششیں کامیاب نہیں ہوئیں۔علائی دروازہ کی دیواروں پر وسیع عربی خطاطی ہے اور اسکے دیواروں کی سطحوں پر خوبصورت پھولوں اور پتیوں کی تصویریں سبت ہیے۔ محرابیں گھوڑے کی نالی کی شکل کی ہیں، ہندوستان میں پہلی بار اس طرح کی محرابیں استعمال کی گئیں۔
قطب مینار کے بالمقابل قطب مینار اور قوۃ الاسلام مسجد کے احاطے میں الائی مینار (Alai minar ) واقع ہے۔اسے بھی سلطان علاؤالدین خلجی نے اپنی فتوحات کی یاد میں تعمیر کروایا تھا۔ انہوں نے اس مینار کو قطب مینار کی اونچائی سے دوگنا بنانے کا خواب دیکھا تھا۔ اس کی بنیاد قطب مینار سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔ اب اس کی اونچائی 25 میٹر ہے۔ پہلی منزل کی تکمیل کے بعد 1316 میں علاؤالدین خلجی کا انتقال ہو گیا۔ اس لیے اس کی مزید تعمیر ترک کر دی گئی اور بعد کے دور کے دہلی سلطانوں نے اس کی تعمیر کو دوبارہ شروع کرنے اور کام مکمل کرنے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ اپنے زمانے کے مشہور صوفی شاعر اور بزرگ امیر خسرو نے اپنی تصنیف تاریخ الائی میں علاؤالدین کے مسجد کی توسیع اور ایک اور مینار کی تعمیر کے ارادوں کا ذکر کیا ہے۔پتھر کا بنا ہوا الائی مینار ایک نامکمل مینار ہے جس میں خوبصورتی اور کشش نہیں ہے۔ یہاں پر سیاحوں کی زیادہ بھیڑ دیکھنے کو نہیں ملتی۔ اب اس کی صرف تاریخی اہمیت رہ گئی ہے۔قطب مینار کے احاطہ میں التتمش اور سلطان علاؤالدین خلجی کے قبریں موجود ہیں ۔بادشاہوں اور سلطانوں کے قبروں اور اللہ والوں کی قبروں میں ایک فرق یہ ہے کہ اول الذکر کے قبروں پر فاتحہ پڑھنے والا بھی نہیں ہوتا۔
لودی گارڈن (Lodi Gardens) نئی دہلی میں واقع ہے۔ یہ 90 ایکڑ پر پھیلا ہوا ہے۔ لودی گارڈین کا قریب ترین میٹرو اسٹیشن جورباغ (Jorbagh) ہے۔ یہاں سید خاندان کے آخری حکمران سلطان محمد شاہ اور سلطان سکندر لودی کی قبریں ہیں۔ محمد شاہ کی قبر باغ میں موجود مقبروں میں سب سے قدیم ہے۔ اسے 1444 میں محمد شاہ کے جانشین علاؤالدین عالم شاہ نے تعمیر کروایا تھا۔ مقبرے کی شکل آٹھ کونی (octagonal) ہے اور اس میں ہندو طرز کی چھتری شامل ہے۔ یہ ہند اسلامی فن تعمیر میں ہندو فن تعمیر کی خصوصیات کی ترکیب کی ایک اچھی مثال ہے ۔لودی گارڈن میں شیشہ گمبد (Shisha gumbad) اور بڑا گمبد (Bara gumbad) موجود ہے۔ بڑا گمبد باغات کے درمیان میں واقع ہے۔ یہ ایک بڑے ملبے سے تعمیر شدہ گنبد پر مشتمل ہے۔ اسے تین گنبد والی مسجد کے دروازے کے طور پر تعمیر کیا گیا تھا۔ بڑا گمبد اور مسجد دونوں 1494 میں سکندر لودی کے دور میں تعمیر کی گئیں۔ بڑا گمبد کے بالمقابل شیش گمبد ہے جس میں ایسی قبریں ہیں جن کے مکینوں کا نام معلوم نہیں ہے۔
دہلی میں حوض خاص(Hauz Khas ) میٹرو اسٹیشن سے کچھ فاصلہ پر ایک تاریخی مقام ہے‌ جو حوض خاص گاؤں (Hauz Khas village) کے نام‌ سے مشہور ہے حالانکہ یہ ایک شہر ہے۔ اس شہر کا نام حوض خاص جھیل کے نام پر رکھا گیا ہے۔ حوض خاص ایک قدیم آبی ذخائر کا نام ہے۔ اردو زبان میں”حوض "کا مطلب ہے "پانی کا ٹینک” یا جھیل اور "خاص” کا مطلب ہے "شاہی”، یعنی حوض خاص کا مطلب ہے "شاہی ٹینک”۔ پانی کی اس بڑی ٹینک یا حوض کو سب سے پہلے سلطان علاؤالدین خلجی نے تعمیر کروایا تھا ۔ اس نے یہ جھیل سری (Siri ) قلعہ کے باشندوں کو پانی کی فراہمی کے لیے تعمیر کروایا تھا۔ ۔ سری قدیم دہلی کا دوسرا شہر تھا جس کی بنیاد سلطان علاؤالدین نے رکھی تھی۔ ابتداء میں علاؤالدین خلجی کے نام‌ بر پانی کا یہ جھیل الائی حوض کے نام سے جانا جاتا تھا۔ بعد میں سلطان فیروز شاہ تغلق نے اس ٹینک کی دوبارہ کھدائی کی اور اس کے جنوبی اور مشرقی کناروں پر کئی عمارتیں تعمیر کروائی جنہیں حوض خاص یا شاہی ٹینک کہا جاتا ہے۔حوض خاص کے اس احاطہ میں فیروز شاہ تغلق کی قبر اور دوسرے نامعلوم لوگوں کی بھی قبریں ہیں ۔ یہ قبریں اوپر سے مربع نما‌ octagonal چھتری سے ڈھکا ہوا ہے۔۔ 1507 میں سکندر لودی کے دور حکومت میں اس کی مرمت کی گئی۔فیروز شاہ تغلق نے 1354 میں حوض خاص کے احاطہ میں مدرسہ اور مسجد تعمیر کروائی۔مدرسہ کی بالائی منزل سے کئی سیڑھیاں نیچے ٹینک تک جاتی ہیں۔۔ جب تیمور نے 1399 میں دہلی پر حملہ کیا وہ اس ٹینک اور ارد گرد کی عمارتوں کو دیکھ کر بہت متاثر ہوا تھا۔ حوض خاص کے گرد و پیش میں رہائشی مکانیں بن گیی ہیں۔ یہاں بھی سیاحوں کی کم‌ بھیڑ ہوتی ہے ۔
ہندوستان کے مسلم حکمرانوں پر اکثر ایسے لوگوں کی طرف سے الزام لگایا جاتا ہے جنہیں تاریخ کا علم نہیں ہے کہ انہوں نے اس ملک کی دولت کو لوٹا۔ یہ محمود غزنوی کے بارے میں درست ہو سکتا ہے لیکن عام طور پر سب سلطانوں اور شہنشاہوں کے لیے نہیں۔ ہندوستان کی فتح کے بعد دہلی کے سلطانوں نے یہیں رہنے کا فیصلہ کیا اور یہیں وفات پائی اور یہیں دفن ہوئے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ وسط ایشیا اور افغانستان سے آئے تھے لیکن انہوں نے اس ملک کو اپنا مسکن بنایا، اور جدید معنوں میں ہندوستان کے شہری بن گئے۔ انہوں نے ہندوستان کے وسائل کو ہندوستان میں ہی استعمال کیا اور انہیں تعمیراتی یادگاروں مینار و مساجد کی تعمیر میں خرچ کیا۔ ہر روز مقامی لوگ، ملک اور دنیا کے دوسرے حصوں سے لوگ آتے ہیں اور ان تاریخی تعمیراتی یادگاروں کو دیکھتے ہیں اور ان پر فخر محسوس کرتے ہیں۔ ہماری حکومت ان یادگاروں سے کروڑوں میں ریونیو کما رہی ہے۔ دہلی کے سلاطین اپنی قبروں سے ہمارے ملک کو مالی فوائد پہنجا رہے ہیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں