عمیر محمد خان
ریسرچ اسکالر
مقامات انسان کی حیات میں اہم ہوتے ہیں۔ قوموں کےاوج وزوال کے سفر میں بھی مقامات اہم کردار ادا کرتے ہیں ۔ سفر اوج میں مقام قوم کو ثریا کی بلندی سے آگے لے جاتے ہیں ۔قوموں کے سفر میں وہ قوم آگے بڑھتی ہے جو ایک مقام سے دوسرے مقام کا سفر جاری رکھتی ہے ۔
کیا چیز انسان کو ناکام بنا دیتی ہے ؟ زندگی کی دوڑ میں ہمیں کون سی چیز یں پیچھے دھکیل دیتی ہیں؟ قومیں کس وجہ سے پچھڑ جاتی ہیں؟ اس کے وجوہات و اسباب کیا ہیں؟ وہ کون سے رموز و علائم ہیں جس کی بدولت قوم عروج کی راہ پر گامزن نہیں ہو پاتی ہے ؟
چلئے ان تمام سوالات کے جوابات حاصل کرنے کی سعی کرتے ہیں ۔۔۔
سب سے پہلی چیز نااہلی ہے دوسری چیز محنت کا فقدان ہے۔تیسری چیز راہ زندگی کا غلط انتخاب و کج فکری ہے۔چوتھی چیز عناصرِ اصلیت کی کمی۔ پانچویں چیز تن آسانی، چھٹی چیز روحانیت کا انخلاء ہے۔
یہ تمام بدخصائل ہیں جو قوم کے قوت وجبرت کے حصول میں مانع ہوتے ہیں۔ کسی قوم میں زور طاقت و قوت کی کمی واقع ہو جائے تو یہ تمام ادنیٰ خصائل قوموں میں پیدا ہو جاتے ہیں۔یہی وہ چیز ہے جو انسانوں میں نخوت گھمنڈ ،کبر، اڑیل پن پیدا کرتا ہے ۔افراد جب رائے کو مقدم و اہم سمجھیں مگر اس کے نتائج اس کے برعکس مل رہے ہو ں تو یہ بھی قوموں کی قوت و طاقت کے حصول میں ناکامی کا سبب بنتی ہے ۔
ارشادِ ربانی ہے
اَلْقِیَا فِیْ جَهَنَّمَ كُلَّ كَفَّارٍ عَنِیْدٍۙ
حکم ہو گا تم دونوں جہنّم میں ڈال دو ہر بڑے ناشکرے ہٹ دھرم کو۔
کسی (دینی)بات کودرست جاننے کے باوجود ہٹ دھرمی کی بناء پر اس کی مخالفت کرنا عناد حق کہلاتا ہے۔باطنی بیماریوں کی معلومات،صفحہ۱۵۳)
اقبال نااہلی کو قومی زوال ونیستی کا موجب سمجھتےتھے۔اس سے قوت کا حصول ممکن ہے اور نہ ہی ترقی کی منزل۔
نا اہل کو حاصل ہے کبھی قوت و جبروت
ہے خوار زمانے میں کبھی جوہرِ ذاتی
مناصب وعہدے جب نا اہلوں کو تفویض ہوں تو قومی ترقی خیال خام ہے ۔ مسندوں ومناصب سے جوہرِ ذاتی پیدا نہیں ہوتے ہیں ۔ بلکہ جوہرِ ذاتی سے مسندوں کو عروج ودوام نصیب ہوتا ہے ۔ بالکل اسی طرح قومی ترقی اس پر موقوف ہے ۔ نظریہِ اسلام بھی اسی اصول کی حمایت کرتاہے ۔
مستدرک حاکم اور طبرانی کی روایت ہے کہ ”جس شخص نے کوئی عہدہ کسی شخص کے سپرد کیا، حالاں کہ اس کے علم میں تھا کہ دوسرا آدمی اس عہدہ کے لیے اس سے زیادہ قابل اور اہل ہے تو اس نے اللہ کی خیانت کی اور رسول کی اور سارے مسلمانوں کی۔“(مستدرک حاکم)
نااہلی سے نہ حصولِ قوت ممکن ہے اور نہ ہی قومی وملی عروج ۔۔۔
ایسی قوم زوال و نیستی کا موجب بنتی ہے ۔۔۔
اقبال نے جہان نو کا تصور پیش کیا ۔(اقبال جہان نو کا شاعر اس عنوان پر میری دو قسطوں کا ضرور مطالعہ کیجئے) جہان نو کی کے پیدا ہونے کے مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ کسی قسم کا تعمیراتی انقلاب پیدا ہو۔ نئے شہر قصبوں قریو ں کی حسن آرائی نہیں ۔جہان نو کا مطلب تعمیراتی اور معماراتی انقلا ب ہرگز نہیں ہے بلکہ یہ اس کا جز لازم ضرور ہے ۔ سب سے پہلے ایک شخصی انقلاب پیدا ہو پھر معاشرتی، اس کے بعد سماجی ، تمدنی ، سیاسی، تہذیبی ، معاشی، علمی و فنی انقلاب برپا ہو۔ جہان نو کے لئے زندگی کی تمام جہتوں میں انقلاب اور تبدیلی انتہائی ضروری ہے۔اس تمام مادی انقلابات کے بعد روحانی دنیا کی کایا پلٹ ہوناجہان نو کے لیے ضروری ہے۔روح اور جسم کے سنگم سے ہی جہان نو کی پیدائش کے امکانات واضح ہوتے ہیں۔مادیت روح کے بغیر ر اندر سے کھوکھلی ہے۔روح مادیت کا گھر ہے۔دونوں لازم و ملزوم ہیں۔ دونوں کے خلط ملط و ارتباط سے تغیرات، تبدل اور انقلابات برپا ہوتے ہیں۔ کسی ایک کی زیادتی انسان کے لیے تباہ کن ہوتی ہے۔صرف روحانیت تاریک الدنیا کی راہ پر ڈال دیتی ہے اور صرف مادیت انسانیت اور مروت کو کچل دیتی ہے ۔ روحانیت کے بغیر چنگیزی اور تیموری پروان چڑھتی ہے۔اور صرف روحانیت سے سامریت اور صباحیت جنم لیتے ہیں۔ جہاں آرائی کے لئے روح و مادیت، کردار وعمل، قوت و طاقت، ہنرمندی وکاریگری، اولعزمی و اعلیٰ ظرفی ،سخت کوشی و محنت ،جوہر اصلیت و پاک طینتی تمام عناصرِ ضروریہ ہیں۔ جم غفیر اور بھیڑ جنونیت کی پیداوار ہوسکتے ہیں کسی قوم کے آثارِ عروج نہیں۔۔۔۔!!!
نہ سلیقہ مجھ میں کلیم کا نہ قرینہ تجھ میں خلیل کا
میں ہلاک جادوئے سامری تو قتیل شیوہ آزری
عناصرِ اصلیت وہ جواہر اصلی ہیں جو کسی قوم کی اوج و ترقی کے لئے ضروری ہوتے ہیں ۔مطلوب جواہر کے آپسی اختلاط نہ ہو تو سالمہ کا وجود نہیں ہو پاتا ہے۔بالکل اسی طرح قومی افراد میں اصلی جواہر نہ ہو ں تو ایک قومی سالمیت جنم نہیں لے پاتی ہے۔ایسے افراد ایک جگہ مجتمع تو ہو سکتے ہیں ۔ لیکن قومی سالمیت اور ترقی کے لئے جو اوصاف و جواہر مطلوب ہوتے ہیں وہ نہ میسر ہوں تو قومی ترقی میں یہ مانعِ عظیم ثابت ہو جاتا ہے ۔ مختلف اصناف میں گوناگوں صلاحیتوں کے مالکان کا ہونا انتہائی ضروری ہوتا ہے۔ اور یہ ہی کسی قوم کی ترقی کی بنیاد بن جاتے ہیں۔ مختلف میدانوں میں میں تنزلی اور پستی کی وجہ بھی یہ جوہرِ اصلیت کی کمی ہے۔کالے رنگ میں ہمہ قسم کے رنگوں کی آمیزش کرنے سے اس کی رنگت ابیض وسفید نہیں ہو سکتی ہے ۔اسی طرح سے جب تک سفید رنگ اس میں شامل نہ کریں ، ایک نئے رنگ کا وجود نہیں ہو پاتا ہے اور نہ ہی سفیدی نکھرسکتی ہے ۔ بالکل اسی طرح کسی قوم و افراد میں جوہر اصلی رکھنے والے ہمہ قسم کے افراد شامل نہ ہو ں تب تک ایک نیا رنگ اور نیرنگی پیدا نہیں ہوسکتی ہے۔ اور نیرنگی کسی قوم میں تغیر ، تبدیلی اورانقلاب پیدا کرنے میں کارگر ثابت ہوتی ہے۔اس لئے جوہرِ اصلی ہی کایا پلٹ کروا سکتا ہے۔ اس لئے افراد میں جوہر اصلی کے ساتھ ہمہ رنگی و ہم آہنگی ہونا انتہائی ضروری ہے۔یہی ایک سالمیت کے بنیاد ہے ۔ترقی کی بنیاد ہے اور عروج کی سیڑھی ہے۔
بتان رنگ و خوں کو توڑ کر ملت میں گم ہوجا
نہ تورانی رہے باقی نہ ایرانی نہ افغانی
اقبال کا نظریہ عروج افراد کی محنت و لگن پر منحصر ہے ۔محنت کا فقدان بھی قوموں کو دھیرے دھیرے ماردیتا ہے ۔ان کی ترقی وترویج کی رفتار کو سست کردیتا ہے اور بلاآخر تنزلی میں دھکیل دیتا ہے ۔ اور غیر محسوس انداز سے وہ قوم پستی کا شکار ہو جاتی ہے ۔اسکی قوت فکر وعمل فنا ہو جاتی ہے۔ اس لئے محنت اور لگن قوموں کو دوام بخشتی ہے۔ افراد قوم محن و سخت کوشی کے عادی ہوں تو قوم ژندہ رہتی ہے ۔چستی و پھرتی سے افعال واعمال کئے جاتے ہیں۔ آگے بڑھنے کی رفتار میں اضافہ ہوتا ہے۔ ترقی کی طرف قدم بڑھتے چلے جاتے ہیں۔
یہ کاروانِ ہستی ہے تیز گام ایسا
قومیں کچل گئی ہیں جس کی رواروی میں محنت و جستجو نے انسان کو دریافتوں اور ایجادات پر مامور کیا ۔ محنت ومشقت نے انسان کے تقدیر کے دروازے کھولے۔ جو افراد اس ہنر میں یکتا ہوتے ہیں وہ دنیا میں مقام بنانے ہیں ۔ترقی محنت کے راستے سے ہی حاصل کی جا سکتی ہے ۔دنیا کی عروج یافتہ قوموں نے محنت و کوشش سے ہی اپنی تقدیر بنائی ہے ۔ وہ محنت ہی تو ہے جس نے جرمنی کو عروج بخشا، وہ محنت ہی تو ہے جس نے جاپان کو ترقی کی بلندیاں عطا کی ۔وہ محنت ہی تو ہے جس نے چین کو ہنر مندی کا بے نظیر ملک بنایا ۔ وہ محنت وجستجو تو ہے جس نے روس وامریکہ کوخلائے بسیط کےسر بستہ بھید و راز کو افشاں کرنے کا ہنر دیا ۔ عسکری آلات میں پر قوت ممالک میں تبدیل کردیا۔ اور جس نے بھی قرار اور سکون تلاش کیا وہ کچل گئے ہیں ۔ مقام پر رکنے والے پیچھے رہ جاتے ہیں ۔اور جو اقوام محنت و تگ ودو کے خوگر ہوتے ہیں وہ بہت آگے نکل جاتے ہیں ۔ اس لئے جنبش سے ہی راہیں نکلتی ہیں ، جنبش و کوشش سے ہی آسمان کے دروازے کھلتے ہیں ۔محنت ولگن کی بدولت ہی آسمان زمین سا بچھ جاتا ہے۔
The doors will be opened to those who are bold enough to knock.
الغرض جنبش و محنت شعاری وسعتیں پیدا کرتی ہیں ۔قوموں کی ترقی کا کارواں محن و جفا کشی سے ہی آگے بڑھتا ہے۔۔۔۔
جنبش سے ہے زندگی جہاں کی
یہ رسم قدیم ہے یہاں کی
اس رہ میں مقام بے محل ہے
پوشیدہ قرار میں اجل ہے
چلنے والے نکل گئے ہیں!
جو ٹھیرے ذرا کچل گئے ہیں
تن آسانی ، سکون و ثبات ،اور فقدان محن، زندگی کی دوڑ میں ہمیں پیچھے دھکیل دیتی ہے ۔سبک روی، تیز گامی، محنت وجستجو، تقویم حیات کو پسند ہے ۔ بدلتی ہوئی تقویم ہی زندگی کا راز ہے۔ اور قومی تقویم میں محنت ہی برگ و بار لاتی ہے۔ نئے فن و نئی دنیا عالم شہود میں جلوہ گر ہوتے ہیں۔۔ ۔
فریبِ نظر ہے سکون و ثبات
تڑپتا ہے ہر ذرہ کائنات
ٹھہرتا نہیں کاروان وجود
کہ ہر لحظہ ہے تازہ شان وجود
دنیاوی تاریخ میں سکون وامن میں کوئ کارنامے انجام پذیر نہیں ہوئے ہیں۔ ہمیشہ کار ہائے نمایاں سوز و ساز، بے چینی و اضطراب، جستجو و تڑ پ ، مصائب وآلام،نے ہی برپا کئے ہیں ۔قوموں نے ترقی وترویج سخت کوشی و جانفشانی سے ہی حاصل کیا ہے۔ جور و ظلم کے تھپیڑوں نے ہی قوموں کو زندہ کیا ہے۔زندہ قومیں ہر حال میں آگئے بڑھتی رہتی ہیں۔
سمجھتا ہے تو راز ہے زندگی
فقط ذوقِ پرواز ہے زندگی
بہت اس نے دیکھے ہیں پست و بلند
سفر اس کو منزل سے بڑھ کر پسند
افراد قوم کوشش و سعی تو کرتے ہیں ۔بڑھنے کی اپنی اپنی تمنا کو جگائے بھی ہوتے ہیں ۔ مگر قومی سرخروئی نصیب نہیں ہو پاتی ہے۔اس کی بنیادی وجہ کج فکری اور راہِ زندگی کا غلط انتخاب ہے۔ چالیس برسوں تک جن راہوں اور راستوں پر چلنے سے کامیابی نصیب نہ ہوں اس کے باوجود ان راہوں کو تبدیل نہ کیا جائے تو یہ کج فکری کی علامت ہے۔اور جب قومیں اس میں مبتلا ہوتی ہیں تو آگے ترقی نہیں کر پاتی ہیں ۔احتساب نہ کرنا، انا اور ہٹ دھرمی سے انہی راستوں پر ڈٹے رہنا ایک زندہ قوم کی علامت نہیں ہے۔ اس بات سے کسی کو انکار نہیں کہ ہمیں چھوٹی چھوٹی کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں ۔ سیاسی تعلیمی اور تجارتی میدانوں میں ہم نے کچھ کارنامے ضرور انجام دیئے ہیں۔ مگر من جملہ بحیثیت قوم عالم وہ مقام حاصل نہیں کر سکے جو 75 سال میں قوموں کو تگ و دو کے بعد حاصل ہوتا ہے۔ ہیروشیما اور ناگاساکی 1945 کی بدترین بربادی کے بعد جاپان نے بہت ترقی کی جس کی کوئی نظیر نہیں مل سکتی ہے۔مغربی جرمنی اور مشرقی جرمنی نے ، نہ صرف جنگ عظیم دوم کے بعد ایک ترقی یافتہ ملک بن کر عالم اقوام میں کھڑا ہوا بلکہ اپنی سرحدوں کے نشانوں کو بھی مٹا دیا ۔ دلوں کے افتراق کے فاصلے کو پا ٹ دیا ۔اسے کہتے ہیں سچی را ہیں ،سچی رہنمائی اور سچی سرخروئی ۔۔۔۔ اسےکہا جاسکتا راہ زندگی کا ایک بہترین انتخاب اور کج فکری سے اجتناب ۔۔۔۔!! نتائج ہمارے سامنے ہیں ایک زندہ قوم، ایک محنتی قوم ، ایک تعلیم یافتہ قوم ایک سلجھی ہوئی قوم، ایک سچی قوم ایک مضبوط قوم، ایک طاقتور قوم، اور ایک ترقی یافتہ قوم۔۔۔۔۔ یہ کوئی خواب نہیں حقیقت ہے ۔ایک زندہ حقیقت جس کو ہم جھٹلا نہیں سکتے ہیں ۔
ہرایک مقام سے آگے مقام ہے تیرا
حیات ذوقِ سفر کے سوا کچھ اور نہیں
ززز


