جنگ نیوز
وزیر اعظم نریندر مودی کی صدارت میں بدھ کو کابینہ کی سلامتی امور کی کمیٹی کا ایک اہم اجلاس ہوا، جس میں دہلی کے لال قلعہ کے نزدیک ہونے والے بم دھماکے کو "ملک دشمن عناصر کی جانب سے انجام دیا گیا سنگین دہشت گردانہ حملہ” قرار دیا گیا۔
اجلاس میں وزیر داخلہ امیت شاہ، وزیر دفاع راجناتھ سنگھ اور دیگر اعلیٰ حکام شریک ہوئے۔ وزیر اعظم کی رہائش گاہ لوک کلیان مارگ پر ہونے والے اجلاس میں کابینہ نے انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے ایک مذمتی قرارداد منظور کی۔
قرارداد میں کہا گیا کہ ملک نے ایک سنگین دہشت گردانہ واقعہ دیکھا ہے، جو لال قلعہ کے نزدیک کار دھماکے کی صورت میں پیش آیا، جس میں متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہوئے۔ کابینہ نے متاثرہ خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی اور طبی عملے و ایمرجنسی ٹیموں کے فوری ردِعمل کی تعریف کی۔
کابینہ نے اس "بزدلانہ اور سفاکانہ کارروائی” کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان ہر قسم کی دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی پر قائم ہے۔ اجلاس میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ واقعے کی تحقیقات انتہائی پیشہ ورانہ انداز میں تیز رفتاری سے مکمل کی جائیں گی تاکہ مجرموں اور ان کے سرپرستوں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔
بھوٹان کے دورے سے واپسی کے بعد وزیر اعظم مودی نے دہلی کے ایل این جے پی اسپتال میں دھماکے میں زخمی افراد کی عیادت کی۔ انہوں نے متاثرین اور ان کے اہل خانہ سے بات چیت کی ، ان کے علاج کے بارے میں دریافت کیا ، اور ان کی جلد اور مکمل صحت یابی کے لیے دعائیں کیں ۔وزیر اعظم نےاس واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انصاف کو یقینی بنانے کے لیے حکومت کے عزم کا اعادہ کیا ۔انہوں نے زور دے کر کہا کہ بم دھماکہ کی سازش میں ملوث افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا ۔


