سرکاری اسکول اصلاحات کے علمبردار

لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کا یہ کہنا کہ آنے والے برسوں میں بھارت کی تعلیمی اور تدریسی اصلاحات کی قیادت سرکاری اسکول کریں گے، ایک بروقت اور بصیرت افروز بیان ہے۔ عرصۂ دراز سے ملک میں معیاری تعلیم کا تصور نجی اداروں کے گرد محدود ہو کر رہ گیا تھا، جس نے سرکاری اسکولوں کے کردار اور اُن کے اندر پوشیدہ امکانات کو پسِ پشت ڈال دیا۔
اگر بھارت کو حقیقی معنوں میں تعلیمی مساوات اور جدت حاصل کرنی ہے تو اس کے لیے سب سے پہلے سرکاری اسکولوں کی بحالی اور مضبوطی ضروری ہے۔ یہ ادارے صرف غریب یا نادار طبقے کے لیے نہیں بلکہ ایک ایسے تعلیمی نظام کی اساس ہیں جو شمولیت، مساوات اور سماجی انصاف پر مبنی ہو۔
تاہم اصلاحات صرف نعروں یا دعووں سے ممکن نہیں ہوتیں۔ اس کے لیے اساتذہ کو مرکزی حیثیت دینا ہوگی۔ اساتذہ ہی کسی بھی علمی انقلاب کے اصل معمار ہوتے ہیں۔ لہٰذا انہیں تربیت، حوصلہ افزائی اور باقاعدہ جانچ کے مواقع فراہم کیے جائیں۔ جیسا کہ لیفٹیننٹ گورنر نے اشارہ کیا، اساتذہ میں جوش و حرارت اور کارکردگی کی جانچ تعلیمی معیار بہتر بنانے کے لئے ناگزیر ہے۔ سرکاری اسکولوں میں باقاعدہ معائنہ، تدریسی نگرانی اور کارکردگی کی شفاف رپورٹنگ معمول بننی چاہیے۔
اسی کے ساتھ ساتھ سرکاری اسکولوں میں طلبہ کے اندراج کو بڑھانے پر بھی زور دینا ضروری ہے۔ جدید سہولیات، ڈیجیٹل اوزار اور تخلیقی تدریسی طریقوں سے یہ ادارے دوبارہ قابلِ فخر مراکز بن سکتے ہیں۔ جب والدین ان اسکولوں کو آخری نہیں بلکہ پہلی ترجیح سمجھنے لگیں گے، تب بھارت حقیقی تعلیمی انقلاب کی جانب قدم بڑھا چکا ہوگا۔
بھارت کی تعلیمی اصلاحات کا مستقبل نجی اداروں کی محدود چمک میں نہیں بلکہ بااختیار سرکاری تعلیم کے فروغ میں پوشیدہ ہے۔ اگر دیانت دارانہ نگرانی، پرعزم اساتذہ اور عوامی شراکت کو یقینی بنایا جائے تو سرکاری اسکول یقیناً اس انقلاب کی قیادت کر سکتے ہیں اور معیاری، جامع تعلیم کا خواب حقیقت بن سکتا ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

اسکمز میڈیکل کالج بمنہ میں ہفتۂ بیداریٔ نگرانی کا اہتمام

اقبال بیگ سری نگر/ جنگ نیوز/شیرِ کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف...

صوفی بزرگ حضرت احمد صاحب بٹواریؒ کا عرس احمد نگر سرینگر میں منایا گیا

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر /صوفی میڈیا سروسز/وادیِ کشمیر کے معروف...

امیت شاہ کیNCDC کو آئندہ 25 برس کا منصوبۂ عمل تیار کرنے کی ہدایت

جنگ نیوز نئی دہلی/مرکزی وزیر داخلہ و وزیرِ تعاون امیت...

’ ہنسی کے رنگ، سنگیت کے سنگ‘ :DIPRکے کلچرل یونٹ نے سری نگر میں پروگرام کا انعقادکیا

جنگ  نیوز  سری نگر/محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ (ڈی آئی...

جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ کے ججوں کی تقرری کے لئے 9 وکلا کی سفارش

جنگ نیوز نئی دہلی// سپریم کورٹ کالجیم نے 29 اکتوبر...

تازہ ترین خبریں

اسکمز میڈیکل کالج بمنہ میں ہفتۂ بیداریٔ نگرانی کا اہتمام

اقبال بیگ سری نگر/ جنگ نیوز/شیرِ کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف...

صوفی بزرگ حضرت احمد صاحب بٹواریؒ کا عرس احمد نگر سرینگر میں منایا گیا

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر /صوفی میڈیا سروسز/وادیِ کشمیر کے معروف...

امیت شاہ کیNCDC کو آئندہ 25 برس کا منصوبۂ عمل تیار کرنے کی ہدایت

جنگ نیوز نئی دہلی/مرکزی وزیر داخلہ و وزیرِ تعاون امیت...

’ ہنسی کے رنگ، سنگیت کے سنگ‘ :DIPRکے کلچرل یونٹ نے سری نگر میں پروگرام کا انعقادکیا

جنگ  نیوز  سری نگر/محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ (ڈی آئی...

جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ کے ججوں کی تقرری کے لئے 9 وکلا کی سفارش

جنگ نیوز نئی دہلی// سپریم کورٹ کالجیم نے 29 اکتوبر...

سرکاری اسکول اصلاحات کے علمبردار

لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کا یہ کہنا کہ آنے والے برسوں میں بھارت کی تعلیمی اور تدریسی اصلاحات کی قیادت سرکاری اسکول کریں گے، ایک بروقت اور بصیرت افروز بیان ہے۔ عرصۂ دراز سے ملک میں معیاری تعلیم کا تصور نجی اداروں کے گرد محدود ہو کر رہ گیا تھا، جس نے سرکاری اسکولوں کے کردار اور اُن کے اندر پوشیدہ امکانات کو پسِ پشت ڈال دیا۔
اگر بھارت کو حقیقی معنوں میں تعلیمی مساوات اور جدت حاصل کرنی ہے تو اس کے لیے سب سے پہلے سرکاری اسکولوں کی بحالی اور مضبوطی ضروری ہے۔ یہ ادارے صرف غریب یا نادار طبقے کے لیے نہیں بلکہ ایک ایسے تعلیمی نظام کی اساس ہیں جو شمولیت، مساوات اور سماجی انصاف پر مبنی ہو۔
تاہم اصلاحات صرف نعروں یا دعووں سے ممکن نہیں ہوتیں۔ اس کے لیے اساتذہ کو مرکزی حیثیت دینا ہوگی۔ اساتذہ ہی کسی بھی علمی انقلاب کے اصل معمار ہوتے ہیں۔ لہٰذا انہیں تربیت، حوصلہ افزائی اور باقاعدہ جانچ کے مواقع فراہم کیے جائیں۔ جیسا کہ لیفٹیننٹ گورنر نے اشارہ کیا، اساتذہ میں جوش و حرارت اور کارکردگی کی جانچ تعلیمی معیار بہتر بنانے کے لئے ناگزیر ہے۔ سرکاری اسکولوں میں باقاعدہ معائنہ، تدریسی نگرانی اور کارکردگی کی شفاف رپورٹنگ معمول بننی چاہیے۔
اسی کے ساتھ ساتھ سرکاری اسکولوں میں طلبہ کے اندراج کو بڑھانے پر بھی زور دینا ضروری ہے۔ جدید سہولیات، ڈیجیٹل اوزار اور تخلیقی تدریسی طریقوں سے یہ ادارے دوبارہ قابلِ فخر مراکز بن سکتے ہیں۔ جب والدین ان اسکولوں کو آخری نہیں بلکہ پہلی ترجیح سمجھنے لگیں گے، تب بھارت حقیقی تعلیمی انقلاب کی جانب قدم بڑھا چکا ہوگا۔
بھارت کی تعلیمی اصلاحات کا مستقبل نجی اداروں کی محدود چمک میں نہیں بلکہ بااختیار سرکاری تعلیم کے فروغ میں پوشیدہ ہے۔ اگر دیانت دارانہ نگرانی، پرعزم اساتذہ اور عوامی شراکت کو یقینی بنایا جائے تو سرکاری اسکول یقیناً اس انقلاب کی قیادت کر سکتے ہیں اور معیاری، جامع تعلیم کا خواب حقیقت بن سکتا ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں