جنگ نیوز ڈیسک
حاجن/ 26 اکتوبر
آج ٹاون ہال حاجن میں حلقہ ادب سوناواری نے ایک پروقار تقریب میں اپنے اسلاف کو شاندار خراج پیش کیا۔ یہ تقریب معتبر شاعر اور افسانہ نگار مرحوم غلام حسن تسکین کو منسوب کی گئی۔ تقریب کا آغاز تلاوت کلام پاک اور نعت رسولِ مقبول سے ہوا۔ اس کے بعد یاسین قادری نے مرحومین کے حق میں دعاے مغفرت کی۔ تقریب کی پہلی نشست کی صدارت کشمیر یونیورسٹی کے ڈین آرٹس شیخ محمد اعجاز نے کی جبکہ ادبی مرکز کمراز کے سرپرست ڈاکٹر رفیق مہمان ذی وقار رہے اُن کے ہمراہ فیاظ تلگامی اور الحاج غلام نبی ڈار بھی ایوان میں موجود رہے۔ الحاج غلام نبی ڈار نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا۔ اس نشست میں مجید مجازی نے حلقہ کا سالانہ رپورٹ پیش کیا۔ ڈاکٹر ریاض الحسن نے "سانی اسلاف” کے موضوع پر ایک مدلل مقالہ پیش کیا۔ ایوان صدارت نے حاجن کو ایک مردم خیز زمین بیایا۔ اپنے خطبے میں صدر نشست نے پروفیسر شیخ محمد اعجاز نے کشمیری زبان کی بقاء کے لئے کئی سوالات اٹھاے۔ انہوں حاجن کی تاریخی حیثیت کو تسلیم کرتے ہوے اس زمین کو خراج پیش کیا۔ اس نشست میں پروفسیر نسیم شفائی کو اُن کی گراں قدر ادبی خدمات کے لئے خلعت حاجنی سے نوازا گیا۔
تقریب کی دوسری نشست کی صدارت پروفیسر شاد رمضان نے کی جبکہ اُ ن کے ساتھ ایوان میں ادبی مرکز کمراز کے صدر محمد امین بٹ ، ڈاکٹر جی این حلیم اور پروفیسر اسماعیل آشنا بھی ایوان میں موجود رہے۔ نشست کے آغاز میں شاکر شفیع نے کلیدی خطبہ پیش کیا جبکہ عبدالخالق شمس نے غلام حسن تسکین کی خدمات پر ایک پرمغز مقالہ پیش کیا۔ سید عابد گوہر نے گلستان اور تسکین صاحب کے بارے میں اپنے خوبصورت تاثرات پیش کئے۔ اس موقعہ پر ارشادالحمید کو توصیفی سند سے نوازا گیا۔ اپنے تاثرات میں ایوان نے حلقہ ادب اور اس کے زعماء کو تاریخ ساز اور عہد ساز قرار دیا۔ اپنے صدارتی خطبے میں پروفیسر شاد رمضان نے حلقہ ادب کے کاز کو اہم اور بڑا قرار دیا۔ اس تقریب میں شمیم رشید، سلیم یوسف، مہتاب منظور اور غلام نبی منظور نے منظوم خراج پیش کیا۔ تقریب کے آخر پر نذیر جاوید نے خطبہ استقبالیہ پہش کیا۔ تقریب کی نظامت کے فرائض معراج بن سیف نے خوبصورت انداز میں انجام دئے۔ اس تقریب کو منعقد کرنے میں امیزنگ کولیکشن حاجن نے مالی معاونت کی جبکہ ادبی مرکز کمراز کی سرپرستی میں تقریب منعقد ہوئی۔ اس تقریب میں وادی کے اطراف و اکناف سے آے ہوے ادیبوں، قلمکاروں ، سیول سوسائٹی ممبران ، اساتذہ اور طالب علموں نے شرکت کی۔
حلقہ ادب سوناواری کا اپنے اسلاف کو شاندار خراج
حلقہ ادب سوناواری کا اپنے اسلاف کو شاندار خراج
جنگ نیوز ڈیسک
حاجن/ 26 اکتوبر
آج ٹاون ہال حاجن میں حلقہ ادب سوناواری نے ایک پروقار تقریب میں اپنے اسلاف کو شاندار خراج پیش کیا۔ یہ تقریب معتبر شاعر اور افسانہ نگار مرحوم غلام حسن تسکین کو منسوب کی گئی۔ تقریب کا آغاز تلاوت کلام پاک اور نعت رسولِ مقبول سے ہوا۔ اس کے بعد یاسین قادری نے مرحومین کے حق میں دعاے مغفرت کی۔ تقریب کی پہلی نشست کی صدارت کشمیر یونیورسٹی کے ڈین آرٹس شیخ محمد اعجاز نے کی جبکہ ادبی مرکز کمراز کے سرپرست ڈاکٹر رفیق مہمان ذی وقار رہے اُن کے ہمراہ فیاظ تلگامی اور الحاج غلام نبی ڈار بھی ایوان میں موجود رہے۔ الحاج غلام نبی ڈار نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا۔ اس نشست میں مجید مجازی نے حلقہ کا سالانہ رپورٹ پیش کیا۔ ڈاکٹر ریاض الحسن نے "سانی اسلاف” کے موضوع پر ایک مدلل مقالہ پیش کیا۔ ایوان صدارت نے حاجن کو ایک مردم خیز زمین بیایا۔ اپنے خطبے میں صدر نشست نے پروفیسر شیخ محمد اعجاز نے کشمیری زبان کی بقاء کے لئے کئی سوالات اٹھاے۔ انہوں حاجن کی تاریخی حیثیت کو تسلیم کرتے ہوے اس زمین کو خراج پیش کیا۔ اس نشست میں پروفسیر نسیم شفائی کو اُن کی گراں قدر ادبی خدمات کے لئے خلعت حاجنی سے نوازا گیا۔
تقریب کی دوسری نشست کی صدارت پروفیسر شاد رمضان نے کی جبکہ اُ ن کے ساتھ ایوان میں ادبی مرکز کمراز کے صدر محمد امین بٹ ، ڈاکٹر جی این حلیم اور پروفیسر اسماعیل آشنا بھی ایوان میں موجود رہے۔ نشست کے آغاز میں شاکر شفیع نے کلیدی خطبہ پیش کیا جبکہ عبدالخالق شمس نے غلام حسن تسکین کی خدمات پر ایک پرمغز مقالہ پیش کیا۔ سید عابد گوہر نے گلستان اور تسکین صاحب کے بارے میں اپنے خوبصورت تاثرات پیش کئے۔ اس موقعہ پر ارشادالحمید کو توصیفی سند سے نوازا گیا۔ اپنے تاثرات میں ایوان نے حلقہ ادب اور اس کے زعماء کو تاریخ ساز اور عہد ساز قرار دیا۔ اپنے صدارتی خطبے میں پروفیسر شاد رمضان نے حلقہ ادب کے کاز کو اہم اور بڑا قرار دیا۔ اس تقریب میں شمیم رشید، سلیم یوسف، مہتاب منظور اور غلام نبی منظور نے منظوم خراج پیش کیا۔ تقریب کے آخر پر نذیر جاوید نے خطبہ استقبالیہ پہش کیا۔ تقریب کی نظامت کے فرائض معراج بن سیف نے خوبصورت انداز میں انجام دئے۔ اس تقریب کو منعقد کرنے میں امیزنگ کولیکشن حاجن نے مالی معاونت کی جبکہ ادبی مرکز کمراز کی سرپرستی میں تقریب منعقد ہوئی۔ اس تقریب میں وادی کے اطراف و اکناف سے آے ہوے ادیبوں، قلمکاروں ، سیول سوسائٹی ممبران ، اساتذہ اور طالب علموں نے شرکت کی۔


