’سیکولر اتحاد‘ اپنی موت آپ مر رہا ہے؟

جموں و کشمیر کی سیاست ایک بار پھر غیر یقینی کے دھندلکے میں ہے۔ کانگریس پارٹی کا نیشنل کانفرنس کے طلب کردہ مشترکہ حکمتِ عملی اجلاس میں شرکت سے انکار محض ایک وقتی ناراضگی نہیں بلکہ اس وسیع تر”سیکولر اتحاد” کے بطن میں پلتی بےاعتمادی کا اظہار ہے، جسے کبھی بی جے پی کے خلاف جمہوری دیوار کے طور پر پیش کیا جاتا تھا۔
یہ اجلاس جو نیشنل کانفرنس نے آئندہ راجیہ سبھا انتخابات اور خزاں سیشن کے ایجنڈے پر اتفاقِ رائے کے لیے بلایا تھا، دراصل اتحاد کی بقا کا امتحان بن گیا۔ کانگریس کے ریاستی صدر طارق حمید قریا نے اپنی پارٹی کا الگ اجلاس بلا کر این سی کی میزبانی سے فاصلہ اختیار کیا، گویا پیغام دیا کہ کشمیر کی سیکولر سیاست اب ایک دوسرے پر اعتماد نہیں کرتی۔
یہ واقعہ محض ایک تنظیمی اختلاف نہیں بلکہ نظریاتی بحران کی علامت ہے۔ 2019 کے بعد سے نیشنل کانفرنس اور کانگریس نے بارہا”مشترکہ مزاحمت” کا نعرہ بلند کیا، مگر زمینی حقیقت یہ ہے کہ دونوں جماعتیں اپنی اپنی انتخابی زمین کے دفاع میں ایک دوسرے کو کمزور کرنے میں مصروف ہیں۔ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی خاموشی اور دیگر علاقائی جماعتوں کی موقع پرستی نے اس اتحاد کو مزید بےجان بنا دیا ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا جموں و کشمیر میں واقعی کوئی”سیکولر اتحاد” باقی رہ گیا ہے؟ یا یہ محض اقتدار کے امکانات کا عارضی اشتراک تھا جو پہلی سیاسی آزمائش پر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گیا؟
نیشنل کانفرنس خود کو وادی کی واحد نمائندہ جماعت سمجھتی ہے، مگر وہ کانگریس کو برابر کی شراکت دینے سے گریز کرتی ہے۔ دوسری طرف کانگریس کا خیال ہے کہ این سی کشمیر میں اپنی بالادستی قائم رکھنے کے لیے ہر اتحاد کو مشروط رکھتی ہے۔ یہی رویہ”اپوزیشن اتحاد” کو ایک نعرے سے آگے بڑھنے نہیں دیتا۔
اس کے سیاسی مضمرات گہرے ہیں۔ مرکز کی سیاست میں جہاں بی جے پی ہندوتوا کے بیانیے کے ساتھ مضبوطی سے کھڑی ہے، وہیں جموں و کشمیر میں”سیکولر اتحاد”کی تقسیم دراصل بی جے پی کے لیے سب سے بڑا تحفہ ہے۔ اتحاد کے نام پر جن جماعتوں نے عوام کو بی جے پی مخالف محاذ کی امید دلائی تھی، وہ اب ایک دوسرے کے لیے مشتبہ بن چکی ہیں۔
عوام کی ترجیحات اب بدل چکی ہیں۔ وادی اور جموں کے شہری سیاسی نعرے نہیں بلکہ عملی رہنمائی چاہتے ہیں۔ اگر یہ جماعتیں باہمی ضد اور اقتدار کی کھینچا تانی میں مصروف رہیں، تو نہ صرف ان کا اتحاد ٹوٹے گا بلکہ ان کی عوامی ساکھ بھی۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

اسکمز میڈیکل کالج بمنہ میں ہفتۂ بیداریٔ نگرانی کا اہتمام

اقبال بیگ سری نگر/ جنگ نیوز/شیرِ کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف...

صوفی بزرگ حضرت احمد صاحب بٹواریؒ کا عرس احمد نگر سرینگر میں منایا گیا

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر /صوفی میڈیا سروسز/وادیِ کشمیر کے معروف...

امیت شاہ کیNCDC کو آئندہ 25 برس کا منصوبۂ عمل تیار کرنے کی ہدایت

جنگ نیوز نئی دہلی/مرکزی وزیر داخلہ و وزیرِ تعاون امیت...

’ ہنسی کے رنگ، سنگیت کے سنگ‘ :DIPRکے کلچرل یونٹ نے سری نگر میں پروگرام کا انعقادکیا

جنگ  نیوز  سری نگر/محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ (ڈی آئی...

جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ کے ججوں کی تقرری کے لئے 9 وکلا کی سفارش

جنگ نیوز نئی دہلی// سپریم کورٹ کالجیم نے 29 اکتوبر...

تازہ ترین خبریں

اسکمز میڈیکل کالج بمنہ میں ہفتۂ بیداریٔ نگرانی کا اہتمام

اقبال بیگ سری نگر/ جنگ نیوز/شیرِ کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف...

صوفی بزرگ حضرت احمد صاحب بٹواریؒ کا عرس احمد نگر سرینگر میں منایا گیا

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر /صوفی میڈیا سروسز/وادیِ کشمیر کے معروف...

امیت شاہ کیNCDC کو آئندہ 25 برس کا منصوبۂ عمل تیار کرنے کی ہدایت

جنگ نیوز نئی دہلی/مرکزی وزیر داخلہ و وزیرِ تعاون امیت...

’ ہنسی کے رنگ، سنگیت کے سنگ‘ :DIPRکے کلچرل یونٹ نے سری نگر میں پروگرام کا انعقادکیا

جنگ  نیوز  سری نگر/محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ (ڈی آئی...

جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ کے ججوں کی تقرری کے لئے 9 وکلا کی سفارش

جنگ نیوز نئی دہلی// سپریم کورٹ کالجیم نے 29 اکتوبر...

’سیکولر اتحاد‘ اپنی موت آپ مر رہا ہے؟

جموں و کشمیر کی سیاست ایک بار پھر غیر یقینی کے دھندلکے میں ہے۔ کانگریس پارٹی کا نیشنل کانفرنس کے طلب کردہ مشترکہ حکمتِ عملی اجلاس میں شرکت سے انکار محض ایک وقتی ناراضگی نہیں بلکہ اس وسیع تر”سیکولر اتحاد” کے بطن میں پلتی بےاعتمادی کا اظہار ہے، جسے کبھی بی جے پی کے خلاف جمہوری دیوار کے طور پر پیش کیا جاتا تھا۔
یہ اجلاس جو نیشنل کانفرنس نے آئندہ راجیہ سبھا انتخابات اور خزاں سیشن کے ایجنڈے پر اتفاقِ رائے کے لیے بلایا تھا، دراصل اتحاد کی بقا کا امتحان بن گیا۔ کانگریس کے ریاستی صدر طارق حمید قریا نے اپنی پارٹی کا الگ اجلاس بلا کر این سی کی میزبانی سے فاصلہ اختیار کیا، گویا پیغام دیا کہ کشمیر کی سیکولر سیاست اب ایک دوسرے پر اعتماد نہیں کرتی۔
یہ واقعہ محض ایک تنظیمی اختلاف نہیں بلکہ نظریاتی بحران کی علامت ہے۔ 2019 کے بعد سے نیشنل کانفرنس اور کانگریس نے بارہا”مشترکہ مزاحمت” کا نعرہ بلند کیا، مگر زمینی حقیقت یہ ہے کہ دونوں جماعتیں اپنی اپنی انتخابی زمین کے دفاع میں ایک دوسرے کو کمزور کرنے میں مصروف ہیں۔ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی خاموشی اور دیگر علاقائی جماعتوں کی موقع پرستی نے اس اتحاد کو مزید بےجان بنا دیا ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا جموں و کشمیر میں واقعی کوئی”سیکولر اتحاد” باقی رہ گیا ہے؟ یا یہ محض اقتدار کے امکانات کا عارضی اشتراک تھا جو پہلی سیاسی آزمائش پر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گیا؟
نیشنل کانفرنس خود کو وادی کی واحد نمائندہ جماعت سمجھتی ہے، مگر وہ کانگریس کو برابر کی شراکت دینے سے گریز کرتی ہے۔ دوسری طرف کانگریس کا خیال ہے کہ این سی کشمیر میں اپنی بالادستی قائم رکھنے کے لیے ہر اتحاد کو مشروط رکھتی ہے۔ یہی رویہ”اپوزیشن اتحاد” کو ایک نعرے سے آگے بڑھنے نہیں دیتا۔
اس کے سیاسی مضمرات گہرے ہیں۔ مرکز کی سیاست میں جہاں بی جے پی ہندوتوا کے بیانیے کے ساتھ مضبوطی سے کھڑی ہے، وہیں جموں و کشمیر میں”سیکولر اتحاد”کی تقسیم دراصل بی جے پی کے لیے سب سے بڑا تحفہ ہے۔ اتحاد کے نام پر جن جماعتوں نے عوام کو بی جے پی مخالف محاذ کی امید دلائی تھی، وہ اب ایک دوسرے کے لیے مشتبہ بن چکی ہیں۔
عوام کی ترجیحات اب بدل چکی ہیں۔ وادی اور جموں کے شہری سیاسی نعرے نہیں بلکہ عملی رہنمائی چاہتے ہیں۔ اگر یہ جماعتیں باہمی ضد اور اقتدار کی کھینچا تانی میں مصروف رہیں، تو نہ صرف ان کا اتحاد ٹوٹے گا بلکہ ان کی عوامی ساکھ بھی۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں