اسمبلی اجلاس محض ایک اجتماع نہیں

جموں و کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کا جاری سیشن صرف اراکینِ اسمبلی کا ایک رسمی اجتماع نہیں بلکہ عوامی امیدوں، سوالات اور احساسات کا مظہر ہے۔ اسمبلی کا ہر اجلاس دراصل عوام کے مسائل کے حل اور ان کے جذبات کی نمائندگی کے لیے ہوتا ہے۔ مگر افسوس کہ بعض اراکین کے طرزِ عمل سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ اس ایوان کی سنجیدگی اور تقدس سے ناآشنا ہیں۔
پہلے ہی دن کے پہلے اجلاس میں، جب ایوان مرحوم رہنماؤں کے ایصالِ ثواب کے لیے تعزیتی کلمات ادا کر رہا تھا، کچھ اراکین نے ایسا رویہ اختیار کیا جو نہ صرف افسوسناک تھا بلکہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ انہیں ایوانی آداب کی “کلاس” لینے کی سخت ضرورت ہے۔ تعزیتی موقع پر سیاسی طعن و تشنیع اور ذاتی اظہارِ برتری کا مظاہرہ، ایوان کی روح کے منافی ہے۔
اسمبلی میں اختلافِ رائے فطری ہے، لیکن اختلاف کا اظہار وقار، دلیل اور تحمل کے ساتھ ہونا چاہیے۔ عوام یہ توقع رکھتے ہیں کہ ان کے منتخب نمائندے ان کے مسائل، مطالبات اور سوالات کو پُرعزم اور پُرامن انداز میں اٹھائیں، نہ کہ ایوان کو محض ایک تماش گاہ بنا دیں۔
جمہوریت کا حسن اس میں ہے کہ بحث ہو، سوال اٹھیں، جواب دیے جائیں، مگر شائستگی اور نظم و ضبط کے ساتھ۔ یہی طرزِ عمل ایوان کے تقدس کو برقرار رکھتا ہے اور عوام کے اعتماد کو مضبوط کرتا ہے۔ اراکین کو یاد رکھنا چاہیے کہ اسمبلی عوام کی امانت ہے، اور اس کی حرمت برقرار رکھنا ان کی اولین ذمہ داری ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

تازہ ترین خبریں

اسمبلی اجلاس محض ایک اجتماع نہیں

جموں و کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کا جاری سیشن صرف اراکینِ اسمبلی کا ایک رسمی اجتماع نہیں بلکہ عوامی امیدوں، سوالات اور احساسات کا مظہر ہے۔ اسمبلی کا ہر اجلاس دراصل عوام کے مسائل کے حل اور ان کے جذبات کی نمائندگی کے لیے ہوتا ہے۔ مگر افسوس کہ بعض اراکین کے طرزِ عمل سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ اس ایوان کی سنجیدگی اور تقدس سے ناآشنا ہیں۔
پہلے ہی دن کے پہلے اجلاس میں، جب ایوان مرحوم رہنماؤں کے ایصالِ ثواب کے لیے تعزیتی کلمات ادا کر رہا تھا، کچھ اراکین نے ایسا رویہ اختیار کیا جو نہ صرف افسوسناک تھا بلکہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ انہیں ایوانی آداب کی “کلاس” لینے کی سخت ضرورت ہے۔ تعزیتی موقع پر سیاسی طعن و تشنیع اور ذاتی اظہارِ برتری کا مظاہرہ، ایوان کی روح کے منافی ہے۔
اسمبلی میں اختلافِ رائے فطری ہے، لیکن اختلاف کا اظہار وقار، دلیل اور تحمل کے ساتھ ہونا چاہیے۔ عوام یہ توقع رکھتے ہیں کہ ان کے منتخب نمائندے ان کے مسائل، مطالبات اور سوالات کو پُرعزم اور پُرامن انداز میں اٹھائیں، نہ کہ ایوان کو محض ایک تماش گاہ بنا دیں۔
جمہوریت کا حسن اس میں ہے کہ بحث ہو، سوال اٹھیں، جواب دیے جائیں، مگر شائستگی اور نظم و ضبط کے ساتھ۔ یہی طرزِ عمل ایوان کے تقدس کو برقرار رکھتا ہے اور عوام کے اعتماد کو مضبوط کرتا ہے۔ اراکین کو یاد رکھنا چاہیے کہ اسمبلی عوام کی امانت ہے، اور اس کی حرمت برقرار رکھنا ان کی اولین ذمہ داری ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں