نشہ مُکت جموں و کشمیر ابھیان قابل داد

جموں و کشمیر میں منشیات کے خلاف جاری مہم ’’نشہ مُکت جموں و کشمیر ابھیان‘‘ اب ایک سرکاری مہم سے بڑھ کر ایک عوامی تحریک کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ اس مہم نے اس خاموش وبا کے خلاف اجتماعی شعور بیدار کیا ہے جو برسوں سے ہمارے معاشرے کو اندر ہی اندر کمزور کر رہی تھی۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، 7,847 منصوبہ بند سرگرمیوں میں سے 6,985 کامیابی کے ساتھ مکمل کی جا چکی ہیں۔ ان سرگرمیوں کے ذریعے تقریباً 3.5 لاکھ افراد کو براہِ راست شامل کیا گیا، جبکہ 1.11 لاکھ پیغامات عام شہریوں تک پہنچائے گئے۔ یہ اعداد محض اعداد نہیں بلکہ ایک اجتماعی بیداری اور ذمہ داری کا مظہر ہیں۔

مہم کی وسعت قابلِ ستائش ہے: 4,569 پروگرام پنچایتوں میں، 556 شہری بلدیاتی اداروں میں، اور 1,860 تعلیمی اداروں میں منعقد کیے گئے۔ ان سرگرمیوں میں مباحثے، مقابلے، پوڈکاسٹ، ایس ایم ایس مہمات اور معلوماتی خاکے شامل تھے جنہوں نے منشیات کے نقصانات کو عوام کے سامنے بامعنی انداز میں پیش کیا۔

اس مہم کی سب سے بڑی خوبی اس کا ہمہ جہت اندازِ کار ہے۔ ’’نشہ مُکت جموں و کشمیر ابھیان‘‘ صرف منشیات کے خلاف انتباہ نہیں بلکہ ایک فکری و سماجی مکالمے کی بنیاد ہے۔ یہ نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں کی طرف راغب کرتا ہے، والدین اور اساتذہ کو ذمہ داری کا احساس دلاتا ہے، اور پورے معاشرے میں بیداری کی لہر پیدا کرتا ہے۔

منشیات کا مسئلہ صرف صحت سے متعلق نہیں بلکہ یہ سماجی، اخلاقی اور معاشی زوال کا استعارہ بن چکا ہے۔ ہر اسکول میں ہونے والا مباحثہ، ہر گاؤں میں منعقدہ نشست، اور ہر بیداری پیغام ایک مضبوط اجتماعی ارادے کی علامت ہے کہ ہمارا معاشرہ اس لعنت کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

اب ضرورت اس بات کی ہے کہ اس مہم کو مزید وسعت دی جائے، اسے تعلیمی اداروں، میڈیا اور سماجی تنظیموں کا مستقل ایجنڈا بنایا جائے۔

’’نشہ مُکت جموں و کشمیر ابھیان‘‘ صرف ایک سرکاری منصوبہ نہیں بلکہ ایک اخلاقی فریضہ اور اجتماعی وعدہ ہے ۔ ایک ایسا وعدہ جو ہماری نوجوان نسل کے روشن، صحت مند اور باوقار مستقبل کی ضمانت بن سکتا ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

تازہ ترین خبریں

نشہ مُکت جموں و کشمیر ابھیان قابل داد

جموں و کشمیر میں منشیات کے خلاف جاری مہم ’’نشہ مُکت جموں و کشمیر ابھیان‘‘ اب ایک سرکاری مہم سے بڑھ کر ایک عوامی تحریک کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ اس مہم نے اس خاموش وبا کے خلاف اجتماعی شعور بیدار کیا ہے جو برسوں سے ہمارے معاشرے کو اندر ہی اندر کمزور کر رہی تھی۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، 7,847 منصوبہ بند سرگرمیوں میں سے 6,985 کامیابی کے ساتھ مکمل کی جا چکی ہیں۔ ان سرگرمیوں کے ذریعے تقریباً 3.5 لاکھ افراد کو براہِ راست شامل کیا گیا، جبکہ 1.11 لاکھ پیغامات عام شہریوں تک پہنچائے گئے۔ یہ اعداد محض اعداد نہیں بلکہ ایک اجتماعی بیداری اور ذمہ داری کا مظہر ہیں۔

مہم کی وسعت قابلِ ستائش ہے: 4,569 پروگرام پنچایتوں میں، 556 شہری بلدیاتی اداروں میں، اور 1,860 تعلیمی اداروں میں منعقد کیے گئے۔ ان سرگرمیوں میں مباحثے، مقابلے، پوڈکاسٹ، ایس ایم ایس مہمات اور معلوماتی خاکے شامل تھے جنہوں نے منشیات کے نقصانات کو عوام کے سامنے بامعنی انداز میں پیش کیا۔

اس مہم کی سب سے بڑی خوبی اس کا ہمہ جہت اندازِ کار ہے۔ ’’نشہ مُکت جموں و کشمیر ابھیان‘‘ صرف منشیات کے خلاف انتباہ نہیں بلکہ ایک فکری و سماجی مکالمے کی بنیاد ہے۔ یہ نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں کی طرف راغب کرتا ہے، والدین اور اساتذہ کو ذمہ داری کا احساس دلاتا ہے، اور پورے معاشرے میں بیداری کی لہر پیدا کرتا ہے۔

منشیات کا مسئلہ صرف صحت سے متعلق نہیں بلکہ یہ سماجی، اخلاقی اور معاشی زوال کا استعارہ بن چکا ہے۔ ہر اسکول میں ہونے والا مباحثہ، ہر گاؤں میں منعقدہ نشست، اور ہر بیداری پیغام ایک مضبوط اجتماعی ارادے کی علامت ہے کہ ہمارا معاشرہ اس لعنت کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

اب ضرورت اس بات کی ہے کہ اس مہم کو مزید وسعت دی جائے، اسے تعلیمی اداروں، میڈیا اور سماجی تنظیموں کا مستقل ایجنڈا بنایا جائے۔

’’نشہ مُکت جموں و کشمیر ابھیان‘‘ صرف ایک سرکاری منصوبہ نہیں بلکہ ایک اخلاقی فریضہ اور اجتماعی وعدہ ہے ۔ ایک ایسا وعدہ جو ہماری نوجوان نسل کے روشن، صحت مند اور باوقار مستقبل کی ضمانت بن سکتا ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں