اسلام اور طلاق کا نظام

مفتی محمد مصعب ندوی 
اسلام دنیا کا وہ واحد مقدس مذہب ہے جس نے انسانی زندگی کے تمام گوشوں میں مکمل رہنمائی کی ہے،ہر ہر گوشہ میں اعتدال و توازن کے ساتھ عادلانہ نظام پیش کیا ہے جس پر عمل کرنا فطری و طبعی امور کی طرح بالکل سہل و آسان ہے،آج ہم بات کرتے ہیں اسلام کے عادلانہ نظام طلاق کی،شریعت اسلامی نے رشتہ نکاح کی نہ صرف حوصلہ افزائی فرمائی ہے بلکہ اسکو انبیاء کی سنت قرار دیا ہے اس میں پائیداری اور دوام مقصود ہوتا ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ کبھی کبھی آپس میں نفرت کی آگ سلگ جاتی ہے اور دل کے آبگینے ٹوٹ جاتے ہیں، پھر انسان یہ محسوس کرنے لگتا ہے کہ نکاح کو برقرار رکھنے میں مقاصد نکاح فوت ہو جائیں گے،تو شریعت اسلامی نے’’أبغض الحلال إلیٰ اللّٰہ عز وجل الطلاق‘‘(حلال چیزوں میں اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ ناپسندیدہ چیز طلاق ہے)کہتے ہو، طلاق کی اجازت دی ہے اور یہ شریعت اسلامی کا نقص نہیں بلکہ اس کا اعجاز ہے جس طرح ایسا مکان مکمل نہیں ہو سکتا جس میں صرف اندر جانے کا راستہ ہو اور باہر نکلنے کا کوئی راستہ نہ ہو اسی طرح نکاح کا وہ قانون بھی انسانی ضرورتوں کو پورا نہیں کر سکتا جس میں رشتہ کو قائم کرنے کے بعد بوقت ضرورت ختم کرنے کی گنجائش نہ ہو۔
دیگر مذاہب نے طلاق کا نظام اسلام سے لیا ہے
جیسے کہ دین ہنود و عیسائیت میں مرد و عورت کو موت کے سوا کوئی چیز نجات نہیں دلا سکتی تھی،پھر بعد میں انہوں نے اسلام کے اس الہامی نظام سے خوشہ چینی کی لیکن اب بھی وہ افراط و تفریط کے شکار ہیں اس کے برخلاف اسلام نے طلاق کا جو نظام پیش کیا ہے وہ تمام افراط و تفریط سے پاک ہے اس نے طلاق کو نہ بالکل حرام قرار دیا ہے اور نہ ہی اس کی بے لگام اجازت دی ہے، کیونکہ اصل اسلامی تعلیمات کا منشاء ہی یہی ہے کہ نکاح پائدار اور خوشگوار ہو معمولی معمولی باتوں پر طلاق کو پسند نہیں کیا گیابلکہ ایک جگہ کہا گیا کہ جو عورت بغیر کسی ٹھوس وجہ کے شوہر سے طلاق کا مطالبہ کرے قیامت کے روز اسے جنت کی خوشبو بھی نہیں ملے گی۔
اسلام میں طلاق سے پہلے اصلاح کی تدبیریں
اگر شوہر کو بیوی کی طرف سے کوئی ناگوار بات پیش آ جائے تو طلاق سے پہلے اسلام نے اصلاح کی تدبیریں بتلائیں ہیں، پہلے تو یہ کہا کہ وہ اپنی بیوی کی خوبیوں کا تصور کرے:(اگر تمہیں بیویوں کی طرف سے کوئی چیز ناگوار لگتی ہے تو یہ ممکن ہے کہ کسی ایک بات میں خرابی ہو باقی بہت سی اچھائیاں بھی اللّٰہ نے ان میں رکھی ہیں۔)( القرآن)
پھر اگر کوئی بات شوہر کے لئے ناقابل برداشت ہو تو بھی طلاق دینے کے بجائےمرد کو اسکی تاکید کی گئی ہے کہ وہ بتدریج یعنی آہستہ آہستہ اس کی اصلاح کی فکر کرے: (اور جن عورتوں سے تمہیں سرکشی کا خطرہ ہو تو انہیں سمجھاؤ اور بستر سے انہیں جدا کر دو اور انہیں ایسی مار بھی مار سکتے ہو جس سے انہیں کوئی نقصان نہ ہو، پھر اگر وہ تمہارا کہا مان جائیں تو ان پر الزام لگانے کے لیے بہانے مت تلاش کرو، بے شک اللہ سب سے اوپر بڑا ہے۔)( القرآن)
پھر اگر زوجین کے درمیان اختلاف شدید ہو اور اصلاح کے مذکورہ طریقوں سے کام نہ بنے تو زوجین کے اقرباء کو اصلاح کی کوشش کرنے کے لئے کہا گیا ہے: (اور اگر تم کو میاں بیوی کے جھگڑے کا خوف ہو تو ایک مُنْصِفْ مرد کے گھروالوں کی طرف سے اور ایک مُنْصِفْ عورت کے گھروالوں کی طرف سے بھیجو یہ دونوں اگر صلح کرنا چاہیں گے اور دونوں حکم (یعنی جن کو بھیجا گیا ہے وہ صلح کرانے والے ہوں گے نہ کہ آگ لگانے والے) تو اللہ ان کے درمیان اتفاق پیدا کردے گا۔ بیشک اللہ خوب جاننے والا،خبردار ہے۔)( القرآن )
پھر اگر اصلاح کی یہ کوششیں بھی باور نہ ہوں تو اسکا مطلب یہ ہے کہ دونوں کی فطرت اور دونوں کی طبائع میں اتنا تضاد ہے کہ اب رشتہ نکاح کو ان پر مسلط رکھنا بھی ظلم ہے ایسی صورت میں مرد کو اگرچہ طلاق کی اجازت ہے لیکن ساتھ ہی یہ کہہ کر کہ’’أبغض الحلال إلیٰ اللّٰہ عز وجل الطلاق‘‘ (یعنی حلال چیزوں میں اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ نا پسندیدہ عمل طلاق ہے) یہ اسلام کی بہترین اخلاقی تعلیمات ہیں۔
 طلاق دینے کا صحیح طریقہ
اب طلاق دی کس طرح جائے اس کو بھی واضح کر دیا گیا،طلاق دینے کے لئے یہ ضروری قرار دیا گیا کہ وہ ایسے طہر یعنی پاکی میں ہو جس میں صحبت نہ ہوئی ہو تاکہ کسی وقتی منافرت کی وجہ سے طلاق نہ دی جائے اور عورت کے لئے بھی آسانی ہو حکم یہ ہے کہ صرف ایک طلاق دے کر چھوڑ دے تاکہ اگر حالات رو بہ اصلاح ہونے لگیں تو رجوع کرنا ممکن ہو اور عدت کے بعد بھی تجدید نکاح کی گنجائش ہو یہی احسن اور سب سے افضل طریقہ ہے۔ دوسرا طریقہ جس میں عورت مغلظہ ہو جاتی ہے وہ یہ کہ ہر طہر یعنی ہر پاکی میں ایک طلاق دے یہاں تک کہ تین طلاق مکمل ہو جائیں اس طریقہ میں تقریبا دو مہینہ سوچ بچار کے مل جائیں گے۔ اگر بیک وقت تین طلاق دی جائیں یا ایک ہی پاکی میں دو یا تین طلاق دی جائیں یا ایسی پاکی میں طلاق دی جائے جس میں صحبت کی ہو تو طلاق دینے والا گنہگار ہوگا کیونکہ ان طریقوں پر طلاق دینا حرام ہے اور اللہ کے غضب کا باعث ہے، یہ الگ بات ہے کہ طلاق واقع ہو جائے گی کیونکہ کسی فعل یعنی کسی کام کا ناجائز اور ممنوع ہونا اس کے مؤثر (اثر انداز) ہونے سے کبھی مانع نہیں ہوتا۔
اسلام میں تین ہی طلاق کی حد کیوں؟
تین ہی طلاق کی حد اسلام نے اس لئے متعین کر دی کہ زمانہ جاہلیت میں عورتوں پر ظلم کرنے کا ایک طریقہ یہ بھی رائج تھا کہ شوہر بیوی کو طلاق دیتا پھر عدت گذرنے سے پہلے رجوع کر لیتا اسی طرح کرتا رہتا بے چاری عورت اس کے چنگل میں پھنسی رہتی اسے آزادی نہ ملتی تھی اسلام نے تین طلاق کی حد متعین کر دی تاکہ تین کے بعد عورت کو آزادی مل جائے اس پر کسی طرح کا کوئی ظلم نہ ہو سکے۔
طلاق کا اختیار صرف مردوں کو کیوں؟
ساتھ ہی اسلام نے طلاق کا اختیار صرف مردوں کو دیا،اس پر بہت سے معاندین اسلام دشمن اسلام اور تعصب زدہ لوگ چاند پر تھوکنے کی کوشش کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اسلام نے طلاق کا اختیار مردوں کو دے کر عورتوں کے ساتھ نا انصافی کی ہے حالانکہ یہ ان کی کم فہمی کی بات ہے،کیونکہ عورتیں فطری طور پر جذباتی اور عجلت پسند جلد باز ہوتی ہیں اس لئے طلاق جیسے حساس معاملے میں ان سے متوازن فیصلہ مشکل ہے (اور یہ بھی ظاہر ہے کہ قدرتی طور پر معاہدہ نکاح کے دونوں فریق میں مرد کو خلقی اعتبار سے قوت طاقت و غلبہ حاصل ہے، اب اگر مرد کو طلاق دے کر نجات پانے کا موقع حاصل نہ ہو تو وہ ظلم کا راستہ اختیار کرتا ہے اور عدالت کی تگ و دو کے بجائے چاہتا ہے کہ عورت ہی کو اپنی راہ سے ہٹا دے اس طرح عورتوں کو قتل اور نذر آتش کرنے کے واقعات پیش آتے ہیںجو ہندوستان میں روز مرہ کا معمول ہے اور رہ گئی بات شوہر کے خلاف کاروائی کی تو دنیا کے اکثر ممالک میں منصوبہ قتل کے جرم کو ثابت کرنا جوئے شیر لانے سے کم نہیں ہے،ہندوستان جیسے ملک میں جتنی دشواری مرد کو عدالت سے طلاق لینے میں ہوتی ہے اس سے کم میں قتل کی سزا سے اپنے آپ کو بچا لیتا ہے،یہی وجہ ہے کہ ہندوستان میں مسلم سماج میں دلہنوں کو جلانے کے واقعات بہ مقابلہ ہندو سماج کے صفر میں ہے (قاموس الفقہ) افسوس کہ قانون طلاق جو شریعت اسلامی کا اعجاز اور اسکی حقانیت کی دلیل تھی جس سے مغرب و مشرق کے ہر قانون نے خوشہ چینی کی ہے۔دشمنوں کی نگاہ میں یہی سب سے بڑا عیب لگتا ہے جبکہ اسلام نے عورتوں کو یہ اجازت دے رکھی ہے کہ معقول وجوہ کی بنیاد پر خلع کر سکتی ہے اور خاص حالات میں عدالت کے ذریعہ نکاح فسخ کرا سکتی ہے۔
گزارش
اب آخر میں یہ بات عرض کرنی ہے کہ جس طرح سے اسلام نے اعتدال کے ساتھ نظامِ طلاق پیش کیا ہے حقیقت تو یہ ہے کہ اگر اسلام کے نظام کو ٹھیک ٹھیک سمجھا جائے اور صحیح طور پر اُس پر عمل کیا جائے تو نکاح و طلاق کے تمام قضیے بآسانی حل ہو سکتے ہیں،معاشرتی نظام خوشگوار ہو سکتا ہے، پھر کسی بھی دشمن دین کو ہماری پاکیزہ شریعت میں مداخلت کرنے کا موقع نہ ملے سکے گا۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

بفلیاز پونچھ میں آگ لگنے سے 13 دکانیں جل کر خاکستر

پونچھ 7 جون: پونچھ ضلع کی تحصیل سورنکوٹ کے...

گھریلو ایل پی جی کی قیمت میں 29 روپے فی 14.2 کلوگرام سلنڈر کا اضافہ

نئی دہلی 7 جون: گھریلو کھانا پکانے والی گیس ایل...

شاعری

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

شاعری

جاوید قسیم شعر گوئی کی ہی پہچان سے سب جانتے...

دہلیز

راشیدہ یاسمین سارہ جب ہنستی تھی تو یوں محسوس ہوتا...

تازہ ترین خبریں

بفلیاز پونچھ میں آگ لگنے سے 13 دکانیں جل کر خاکستر

پونچھ 7 جون: پونچھ ضلع کی تحصیل سورنکوٹ کے...

گھریلو ایل پی جی کی قیمت میں 29 روپے فی 14.2 کلوگرام سلنڈر کا اضافہ

نئی دہلی 7 جون: گھریلو کھانا پکانے والی گیس ایل...

شاعری

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

شاعری

جاوید قسیم شعر گوئی کی ہی پہچان سے سب جانتے...

دہلیز

راشیدہ یاسمین سارہ جب ہنستی تھی تو یوں محسوس ہوتا...

اسلام اور طلاق کا نظام

مفتی محمد مصعب ندوی 
اسلام دنیا کا وہ واحد مقدس مذہب ہے جس نے انسانی زندگی کے تمام گوشوں میں مکمل رہنمائی کی ہے،ہر ہر گوشہ میں اعتدال و توازن کے ساتھ عادلانہ نظام پیش کیا ہے جس پر عمل کرنا فطری و طبعی امور کی طرح بالکل سہل و آسان ہے،آج ہم بات کرتے ہیں اسلام کے عادلانہ نظام طلاق کی،شریعت اسلامی نے رشتہ نکاح کی نہ صرف حوصلہ افزائی فرمائی ہے بلکہ اسکو انبیاء کی سنت قرار دیا ہے اس میں پائیداری اور دوام مقصود ہوتا ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ کبھی کبھی آپس میں نفرت کی آگ سلگ جاتی ہے اور دل کے آبگینے ٹوٹ جاتے ہیں، پھر انسان یہ محسوس کرنے لگتا ہے کہ نکاح کو برقرار رکھنے میں مقاصد نکاح فوت ہو جائیں گے،تو شریعت اسلامی نے’’أبغض الحلال إلیٰ اللّٰہ عز وجل الطلاق‘‘(حلال چیزوں میں اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ ناپسندیدہ چیز طلاق ہے)کہتے ہو، طلاق کی اجازت دی ہے اور یہ شریعت اسلامی کا نقص نہیں بلکہ اس کا اعجاز ہے جس طرح ایسا مکان مکمل نہیں ہو سکتا جس میں صرف اندر جانے کا راستہ ہو اور باہر نکلنے کا کوئی راستہ نہ ہو اسی طرح نکاح کا وہ قانون بھی انسانی ضرورتوں کو پورا نہیں کر سکتا جس میں رشتہ کو قائم کرنے کے بعد بوقت ضرورت ختم کرنے کی گنجائش نہ ہو۔
دیگر مذاہب نے طلاق کا نظام اسلام سے لیا ہے
جیسے کہ دین ہنود و عیسائیت میں مرد و عورت کو موت کے سوا کوئی چیز نجات نہیں دلا سکتی تھی،پھر بعد میں انہوں نے اسلام کے اس الہامی نظام سے خوشہ چینی کی لیکن اب بھی وہ افراط و تفریط کے شکار ہیں اس کے برخلاف اسلام نے طلاق کا جو نظام پیش کیا ہے وہ تمام افراط و تفریط سے پاک ہے اس نے طلاق کو نہ بالکل حرام قرار دیا ہے اور نہ ہی اس کی بے لگام اجازت دی ہے، کیونکہ اصل اسلامی تعلیمات کا منشاء ہی یہی ہے کہ نکاح پائدار اور خوشگوار ہو معمولی معمولی باتوں پر طلاق کو پسند نہیں کیا گیابلکہ ایک جگہ کہا گیا کہ جو عورت بغیر کسی ٹھوس وجہ کے شوہر سے طلاق کا مطالبہ کرے قیامت کے روز اسے جنت کی خوشبو بھی نہیں ملے گی۔
اسلام میں طلاق سے پہلے اصلاح کی تدبیریں
اگر شوہر کو بیوی کی طرف سے کوئی ناگوار بات پیش آ جائے تو طلاق سے پہلے اسلام نے اصلاح کی تدبیریں بتلائیں ہیں، پہلے تو یہ کہا کہ وہ اپنی بیوی کی خوبیوں کا تصور کرے:(اگر تمہیں بیویوں کی طرف سے کوئی چیز ناگوار لگتی ہے تو یہ ممکن ہے کہ کسی ایک بات میں خرابی ہو باقی بہت سی اچھائیاں بھی اللّٰہ نے ان میں رکھی ہیں۔)( القرآن)
پھر اگر کوئی بات شوہر کے لئے ناقابل برداشت ہو تو بھی طلاق دینے کے بجائےمرد کو اسکی تاکید کی گئی ہے کہ وہ بتدریج یعنی آہستہ آہستہ اس کی اصلاح کی فکر کرے: (اور جن عورتوں سے تمہیں سرکشی کا خطرہ ہو تو انہیں سمجھاؤ اور بستر سے انہیں جدا کر دو اور انہیں ایسی مار بھی مار سکتے ہو جس سے انہیں کوئی نقصان نہ ہو، پھر اگر وہ تمہارا کہا مان جائیں تو ان پر الزام لگانے کے لیے بہانے مت تلاش کرو، بے شک اللہ سب سے اوپر بڑا ہے۔)( القرآن)
پھر اگر زوجین کے درمیان اختلاف شدید ہو اور اصلاح کے مذکورہ طریقوں سے کام نہ بنے تو زوجین کے اقرباء کو اصلاح کی کوشش کرنے کے لئے کہا گیا ہے: (اور اگر تم کو میاں بیوی کے جھگڑے کا خوف ہو تو ایک مُنْصِفْ مرد کے گھروالوں کی طرف سے اور ایک مُنْصِفْ عورت کے گھروالوں کی طرف سے بھیجو یہ دونوں اگر صلح کرنا چاہیں گے اور دونوں حکم (یعنی جن کو بھیجا گیا ہے وہ صلح کرانے والے ہوں گے نہ کہ آگ لگانے والے) تو اللہ ان کے درمیان اتفاق پیدا کردے گا۔ بیشک اللہ خوب جاننے والا،خبردار ہے۔)( القرآن )
پھر اگر اصلاح کی یہ کوششیں بھی باور نہ ہوں تو اسکا مطلب یہ ہے کہ دونوں کی فطرت اور دونوں کی طبائع میں اتنا تضاد ہے کہ اب رشتہ نکاح کو ان پر مسلط رکھنا بھی ظلم ہے ایسی صورت میں مرد کو اگرچہ طلاق کی اجازت ہے لیکن ساتھ ہی یہ کہہ کر کہ’’أبغض الحلال إلیٰ اللّٰہ عز وجل الطلاق‘‘ (یعنی حلال چیزوں میں اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ نا پسندیدہ عمل طلاق ہے) یہ اسلام کی بہترین اخلاقی تعلیمات ہیں۔
 طلاق دینے کا صحیح طریقہ
اب طلاق دی کس طرح جائے اس کو بھی واضح کر دیا گیا،طلاق دینے کے لئے یہ ضروری قرار دیا گیا کہ وہ ایسے طہر یعنی پاکی میں ہو جس میں صحبت نہ ہوئی ہو تاکہ کسی وقتی منافرت کی وجہ سے طلاق نہ دی جائے اور عورت کے لئے بھی آسانی ہو حکم یہ ہے کہ صرف ایک طلاق دے کر چھوڑ دے تاکہ اگر حالات رو بہ اصلاح ہونے لگیں تو رجوع کرنا ممکن ہو اور عدت کے بعد بھی تجدید نکاح کی گنجائش ہو یہی احسن اور سب سے افضل طریقہ ہے۔ دوسرا طریقہ جس میں عورت مغلظہ ہو جاتی ہے وہ یہ کہ ہر طہر یعنی ہر پاکی میں ایک طلاق دے یہاں تک کہ تین طلاق مکمل ہو جائیں اس طریقہ میں تقریبا دو مہینہ سوچ بچار کے مل جائیں گے۔ اگر بیک وقت تین طلاق دی جائیں یا ایک ہی پاکی میں دو یا تین طلاق دی جائیں یا ایسی پاکی میں طلاق دی جائے جس میں صحبت کی ہو تو طلاق دینے والا گنہگار ہوگا کیونکہ ان طریقوں پر طلاق دینا حرام ہے اور اللہ کے غضب کا باعث ہے، یہ الگ بات ہے کہ طلاق واقع ہو جائے گی کیونکہ کسی فعل یعنی کسی کام کا ناجائز اور ممنوع ہونا اس کے مؤثر (اثر انداز) ہونے سے کبھی مانع نہیں ہوتا۔
اسلام میں تین ہی طلاق کی حد کیوں؟
تین ہی طلاق کی حد اسلام نے اس لئے متعین کر دی کہ زمانہ جاہلیت میں عورتوں پر ظلم کرنے کا ایک طریقہ یہ بھی رائج تھا کہ شوہر بیوی کو طلاق دیتا پھر عدت گذرنے سے پہلے رجوع کر لیتا اسی طرح کرتا رہتا بے چاری عورت اس کے چنگل میں پھنسی رہتی اسے آزادی نہ ملتی تھی اسلام نے تین طلاق کی حد متعین کر دی تاکہ تین کے بعد عورت کو آزادی مل جائے اس پر کسی طرح کا کوئی ظلم نہ ہو سکے۔
طلاق کا اختیار صرف مردوں کو کیوں؟
ساتھ ہی اسلام نے طلاق کا اختیار صرف مردوں کو دیا،اس پر بہت سے معاندین اسلام دشمن اسلام اور تعصب زدہ لوگ چاند پر تھوکنے کی کوشش کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اسلام نے طلاق کا اختیار مردوں کو دے کر عورتوں کے ساتھ نا انصافی کی ہے حالانکہ یہ ان کی کم فہمی کی بات ہے،کیونکہ عورتیں فطری طور پر جذباتی اور عجلت پسند جلد باز ہوتی ہیں اس لئے طلاق جیسے حساس معاملے میں ان سے متوازن فیصلہ مشکل ہے (اور یہ بھی ظاہر ہے کہ قدرتی طور پر معاہدہ نکاح کے دونوں فریق میں مرد کو خلقی اعتبار سے قوت طاقت و غلبہ حاصل ہے، اب اگر مرد کو طلاق دے کر نجات پانے کا موقع حاصل نہ ہو تو وہ ظلم کا راستہ اختیار کرتا ہے اور عدالت کی تگ و دو کے بجائے چاہتا ہے کہ عورت ہی کو اپنی راہ سے ہٹا دے اس طرح عورتوں کو قتل اور نذر آتش کرنے کے واقعات پیش آتے ہیںجو ہندوستان میں روز مرہ کا معمول ہے اور رہ گئی بات شوہر کے خلاف کاروائی کی تو دنیا کے اکثر ممالک میں منصوبہ قتل کے جرم کو ثابت کرنا جوئے شیر لانے سے کم نہیں ہے،ہندوستان جیسے ملک میں جتنی دشواری مرد کو عدالت سے طلاق لینے میں ہوتی ہے اس سے کم میں قتل کی سزا سے اپنے آپ کو بچا لیتا ہے،یہی وجہ ہے کہ ہندوستان میں مسلم سماج میں دلہنوں کو جلانے کے واقعات بہ مقابلہ ہندو سماج کے صفر میں ہے (قاموس الفقہ) افسوس کہ قانون طلاق جو شریعت اسلامی کا اعجاز اور اسکی حقانیت کی دلیل تھی جس سے مغرب و مشرق کے ہر قانون نے خوشہ چینی کی ہے۔دشمنوں کی نگاہ میں یہی سب سے بڑا عیب لگتا ہے جبکہ اسلام نے عورتوں کو یہ اجازت دے رکھی ہے کہ معقول وجوہ کی بنیاد پر خلع کر سکتی ہے اور خاص حالات میں عدالت کے ذریعہ نکاح فسخ کرا سکتی ہے۔
گزارش
اب آخر میں یہ بات عرض کرنی ہے کہ جس طرح سے اسلام نے اعتدال کے ساتھ نظامِ طلاق پیش کیا ہے حقیقت تو یہ ہے کہ اگر اسلام کے نظام کو ٹھیک ٹھیک سمجھا جائے اور صحیح طور پر اُس پر عمل کیا جائے تو نکاح و طلاق کے تمام قضیے بآسانی حل ہو سکتے ہیں،معاشرتی نظام خوشگوار ہو سکتا ہے، پھر کسی بھی دشمن دین کو ہماری پاکیزہ شریعت میں مداخلت کرنے کا موقع نہ ملے سکے گا۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں