افغانستان، پاکستان اور بھارت: ایک نیا آتش فشاں

 

 

سہیل خان
سرینگر

اکتوبر 2025 میں افغانستان اور پاکستان کے درمیان دوراند لائن پر ہونے والی شدید جھڑپوں نے جنوبی ایشیا کو ایک بار پھر تشویش ناک کشیدگی میں مبتلا کر دیا۔ 11 اور 12 اکتوبر کی درمیانی رات ہونے والی لڑائی پچھلے کئی برسوں میں سب سے خونریز تصادم قرار دی گئی، جس کی بنیاد 9 اکتوبر کو کابل پر پاکستان کے متنازع فضائی حملے نے رکھی۔ اسلام آباد کا دعویٰ تھا کہ یہ کارروائی تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے سربراہ نور ولی محسود کو نشانہ بنانے کے لیے تھی، مگر بمباری شہری علاقے میں ہوئی جس سے کم از کم 15 بے گناہ شہری ہلاک ہوئے۔
اس واقعے کے بعد توپ خانے کی گولہ باری، ڈرون حملے، اور سرحد پار جوابی کارروائیاں شروع ہو گئیں۔ کنڑ اور پکتیکا کے افغان صوبے اور پاکستان کے باجوڑ و خیبر علاقے دھوئیں سے بھر گئے۔ تجارتی راستے بند ہو گئے اور طورخم و اسپن بولدک جیسے گزرگاہوں پر ہزاروں ٹرک پھنس گئے۔
پاکستانی فوج نے اپنی کارروائی کو دفاعی اقدام قرار دیا اور دعویٰ کیا کہ طالبان نے اس کے 20 سے زائد سرحدی چوکیوں پر “بلا اشتعال” حملے کیے۔ فوجی ترجمان کے مطابق 200 سے زائد طالبان جنگجو اور ٹی ٹی پی سے وابستہ افراد مارے گئے، جب کہ پاکستان کے 23 اہلکار ہلاک اور 29 زخمی ہوئے۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے افغان کارروائی کو “وحشیانہ اور بلا جواز” کہا، اور افغان سفیر کو طلب کر کے کابل پر الزام عائد کیا کہ وہ ٹی ٹی پی کو پناہ دے رہا ہے۔
دوسری طرف طالبان حکومت نے جھڑپوں کو اپنی سرزمین پر پاکستانی حملوں کا جواب قرار دیا۔ وزارتِ دفاع کابل نے کہا کہ پاکستانی فضائی حملے میں عام شہری مارے گئے، جس کے بعد افغان افواج نے جوابی کارروائی کی۔ طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے 58 پاکستانی فوجیوں کی ہلاکت اور صرف 9 افغان اہلکاروں کی شہادت کا دعویٰ کیا۔ طالبان نے اس تصادم کو “اسلامی امارت کی خودمختاری کا دفاع” قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ دوراند لائن کو ایک “نوآبادیاتی سرحد” نہیں مانتے۔
سعودی عرب اور قطر کی فوری ثالثی سے 12 اکتوبر کو جنگ بندی ممکن ہوئی۔ سعودی حکومت نے واضح کیا کہ جاری کشیدگی حج انتظامات اور خلیجی ترسیلاتِ زر کو متاثر کر سکتی ہے، جب کہ قطر نے آن لائن مذاکرات کے ذریعے فریقین کو سیز فائر پر آمادہ کیا۔ تاہم 13 اکتوبر تک طورخم بند رہا اور اقوامِ متحدہ کے مطابق تقریباً 5 ہزار پشتون شہری بے گھر ہوئے۔
یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں تھا۔ 2007 سے اب تک دونوں ممالک کے درمیان درجنوں بار سرحدی جھڑپیں ہو چکی ہیں، جن کی بڑی وجہ باڑ کی تعمیر، سرحدی دراندازی اور ٹی ٹی پی کی سرگرمیاں ہیں۔ طالبان کے 2021 میں دوبارہ برسرِ اقتدار آنے کے بعد ان واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ پاکستان کے مطابق سرحدی باڑ کا 98 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے، مگر افغانستان اسے جارحانہ اقدام سمجھتا ہے۔
طالبان حکومت کا الزام ہے کہ پاکستان داعش خراسان (IS-KP) کو افغانستان میں بدامنی پھیلانے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ ذبیح اللہ مجاہد نے الزام لگایا کہ آئی ایس آئی ان دہشت گردوں کو بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں تربیت دیتی ہے۔ طالبان کے انٹیلی جنس سربراہ عبد الحق واثق نے کہا کہ “بیرونی طاقتیں” داعش کو افغانستان کے بجائے بیرونِ ملک کارروائیوں کے لیے استعمال کر رہی ہیں۔
اسی دوران طالبان کے قائم مقام وزیرِ خارجہ امیر خان متقی بھارت کے ایک ہفتہ طویل دورے پر دہلی میں موجود تھے۔ یہ 2021 کے بعد طالبان کا بھارت کو دیا گیا سب سے اعلیٰ سطحی دورہ تھا۔ متقی نے وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر سے ملاقات میں بھارت کے کابل مشن کو مکمل سفارت خانے کی حیثیت دینے اور 500 ملین ڈالر کی انسانی امداد کی بحالی پر اتفاق کیا۔ طالبان نے کہا کہ وہ بھارتی سرمایہ کاری کو ایران کی چاہ بہار بندرگاہ کے ذریعے لانے کے خواہاں ہیں تاکہ پاکستان پر انحصار کم کیا جا سکے۔
متقی نے اپنی پریس کانفرنس میں پاکستان پر “باغی عناصر” کو فروغ دینے اور داعش خراسان کی سرپرستی کا الزام لگایا۔ اسلام آباد نے ان بیانات پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے بھارت پر الزام عائد کیا کہ وہ کابل کو سفارتی طور پر پاکستان کے خلاف استعمال کر رہا ہے۔
یہ دورہ دراصل افغانستان کی خارجہ پالیسی میں ایک بڑی تبدیلی کی علامت ہے۔ پاکستان جس نے طالبان کی سیاسی واپسی میں مرکزی کردار ادا کیا تھا، اب انہی طالبان سے براہِ راست محاذ آرائی میں ہے۔ بھارت کی جانب رجحان نے کابل کو نئی سفارتی راہیں فراہم کی ہیں، مگر اس کے نتیجے میں پاکستان کے اندر ٹی ٹی پی کی سرگرمیوں میں اضافہ ہوا ہے۔
سعودی اور قطری ثالثی نے وقتی طور پر کشیدگی کم ضرور کی ہے، مگر بنیادی مسائل اپنی جگہ موجود ہیں: ٹی ٹی پی کی پناہ گاہیں، دوراند لائن کی حیثیت، اور تجارت پر اختیار کے سوالات۔ اگر طالبان واقعی پاکستان مخالف گروہوں پر قابو نہیں پاتے، تو سرحد ایک بار پھر دھماکہ خیز صورت اختیار کر سکتی ہے۔
اکتوبر 2025 کا بحران اس حقیقت کو عیاں کرتا ہے کہ افغانستان اور پاکستان کے درمیان تعلقات اب مکمل طور پر نئے مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔ طالبان کی بھارت کے ساتھ قربت اور سعودی-قطری مداخلت نے جنوبی ایشیا کی سلامتی کے توازن کو ازسرِ نو متعین کر دیا ہے۔ پاکستان ایک ایسے افغانستان کے سامنے ہے جو اب اس کے اثر سے آزاد ہو چکا ہے، مگر بداعتمادی کی دیوار اب بھی قائم ہے۔
جیسا کہ امیر خان متقی نے نئی دہلی میں کہا:
“افغانستان امن چاہتا ہے — مگر اپنی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔”
ززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

شاعری

جاوید قسیم شعر گوئی کی ہی پہچان سے سب جانتے...

دہلیز

راشیدہ یاسمین سارہ جب ہنستی تھی تو یوں محسوس ہوتا...

لال چوک میں ماحول دوست باغ قائم

جنگ  نیوز محکمہ فلوریکلچر کشمیر نے سوچھ بھارت مشن کے...

ممتا کی ’تنہا‘ ہونے کی تیاری؟

  (حافظ)افتخاراحمدقادری بھارتی سیاست میں گزشتہ چند برسوں کے دوران...

تازہ ترین خبریں

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

شاعری

جاوید قسیم شعر گوئی کی ہی پہچان سے سب جانتے...

دہلیز

راشیدہ یاسمین سارہ جب ہنستی تھی تو یوں محسوس ہوتا...

لال چوک میں ماحول دوست باغ قائم

جنگ  نیوز محکمہ فلوریکلچر کشمیر نے سوچھ بھارت مشن کے...

ممتا کی ’تنہا‘ ہونے کی تیاری؟

  (حافظ)افتخاراحمدقادری بھارتی سیاست میں گزشتہ چند برسوں کے دوران...

افغانستان، پاکستان اور بھارت: ایک نیا آتش فشاں

 

 

سہیل خان
سرینگر

اکتوبر 2025 میں افغانستان اور پاکستان کے درمیان دوراند لائن پر ہونے والی شدید جھڑپوں نے جنوبی ایشیا کو ایک بار پھر تشویش ناک کشیدگی میں مبتلا کر دیا۔ 11 اور 12 اکتوبر کی درمیانی رات ہونے والی لڑائی پچھلے کئی برسوں میں سب سے خونریز تصادم قرار دی گئی، جس کی بنیاد 9 اکتوبر کو کابل پر پاکستان کے متنازع فضائی حملے نے رکھی۔ اسلام آباد کا دعویٰ تھا کہ یہ کارروائی تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے سربراہ نور ولی محسود کو نشانہ بنانے کے لیے تھی، مگر بمباری شہری علاقے میں ہوئی جس سے کم از کم 15 بے گناہ شہری ہلاک ہوئے۔
اس واقعے کے بعد توپ خانے کی گولہ باری، ڈرون حملے، اور سرحد پار جوابی کارروائیاں شروع ہو گئیں۔ کنڑ اور پکتیکا کے افغان صوبے اور پاکستان کے باجوڑ و خیبر علاقے دھوئیں سے بھر گئے۔ تجارتی راستے بند ہو گئے اور طورخم و اسپن بولدک جیسے گزرگاہوں پر ہزاروں ٹرک پھنس گئے۔
پاکستانی فوج نے اپنی کارروائی کو دفاعی اقدام قرار دیا اور دعویٰ کیا کہ طالبان نے اس کے 20 سے زائد سرحدی چوکیوں پر “بلا اشتعال” حملے کیے۔ فوجی ترجمان کے مطابق 200 سے زائد طالبان جنگجو اور ٹی ٹی پی سے وابستہ افراد مارے گئے، جب کہ پاکستان کے 23 اہلکار ہلاک اور 29 زخمی ہوئے۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے افغان کارروائی کو “وحشیانہ اور بلا جواز” کہا، اور افغان سفیر کو طلب کر کے کابل پر الزام عائد کیا کہ وہ ٹی ٹی پی کو پناہ دے رہا ہے۔
دوسری طرف طالبان حکومت نے جھڑپوں کو اپنی سرزمین پر پاکستانی حملوں کا جواب قرار دیا۔ وزارتِ دفاع کابل نے کہا کہ پاکستانی فضائی حملے میں عام شہری مارے گئے، جس کے بعد افغان افواج نے جوابی کارروائی کی۔ طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے 58 پاکستانی فوجیوں کی ہلاکت اور صرف 9 افغان اہلکاروں کی شہادت کا دعویٰ کیا۔ طالبان نے اس تصادم کو “اسلامی امارت کی خودمختاری کا دفاع” قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ دوراند لائن کو ایک “نوآبادیاتی سرحد” نہیں مانتے۔
سعودی عرب اور قطر کی فوری ثالثی سے 12 اکتوبر کو جنگ بندی ممکن ہوئی۔ سعودی حکومت نے واضح کیا کہ جاری کشیدگی حج انتظامات اور خلیجی ترسیلاتِ زر کو متاثر کر سکتی ہے، جب کہ قطر نے آن لائن مذاکرات کے ذریعے فریقین کو سیز فائر پر آمادہ کیا۔ تاہم 13 اکتوبر تک طورخم بند رہا اور اقوامِ متحدہ کے مطابق تقریباً 5 ہزار پشتون شہری بے گھر ہوئے۔
یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں تھا۔ 2007 سے اب تک دونوں ممالک کے درمیان درجنوں بار سرحدی جھڑپیں ہو چکی ہیں، جن کی بڑی وجہ باڑ کی تعمیر، سرحدی دراندازی اور ٹی ٹی پی کی سرگرمیاں ہیں۔ طالبان کے 2021 میں دوبارہ برسرِ اقتدار آنے کے بعد ان واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ پاکستان کے مطابق سرحدی باڑ کا 98 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے، مگر افغانستان اسے جارحانہ اقدام سمجھتا ہے۔
طالبان حکومت کا الزام ہے کہ پاکستان داعش خراسان (IS-KP) کو افغانستان میں بدامنی پھیلانے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ ذبیح اللہ مجاہد نے الزام لگایا کہ آئی ایس آئی ان دہشت گردوں کو بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں تربیت دیتی ہے۔ طالبان کے انٹیلی جنس سربراہ عبد الحق واثق نے کہا کہ “بیرونی طاقتیں” داعش کو افغانستان کے بجائے بیرونِ ملک کارروائیوں کے لیے استعمال کر رہی ہیں۔
اسی دوران طالبان کے قائم مقام وزیرِ خارجہ امیر خان متقی بھارت کے ایک ہفتہ طویل دورے پر دہلی میں موجود تھے۔ یہ 2021 کے بعد طالبان کا بھارت کو دیا گیا سب سے اعلیٰ سطحی دورہ تھا۔ متقی نے وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر سے ملاقات میں بھارت کے کابل مشن کو مکمل سفارت خانے کی حیثیت دینے اور 500 ملین ڈالر کی انسانی امداد کی بحالی پر اتفاق کیا۔ طالبان نے کہا کہ وہ بھارتی سرمایہ کاری کو ایران کی چاہ بہار بندرگاہ کے ذریعے لانے کے خواہاں ہیں تاکہ پاکستان پر انحصار کم کیا جا سکے۔
متقی نے اپنی پریس کانفرنس میں پاکستان پر “باغی عناصر” کو فروغ دینے اور داعش خراسان کی سرپرستی کا الزام لگایا۔ اسلام آباد نے ان بیانات پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے بھارت پر الزام عائد کیا کہ وہ کابل کو سفارتی طور پر پاکستان کے خلاف استعمال کر رہا ہے۔
یہ دورہ دراصل افغانستان کی خارجہ پالیسی میں ایک بڑی تبدیلی کی علامت ہے۔ پاکستان جس نے طالبان کی سیاسی واپسی میں مرکزی کردار ادا کیا تھا، اب انہی طالبان سے براہِ راست محاذ آرائی میں ہے۔ بھارت کی جانب رجحان نے کابل کو نئی سفارتی راہیں فراہم کی ہیں، مگر اس کے نتیجے میں پاکستان کے اندر ٹی ٹی پی کی سرگرمیوں میں اضافہ ہوا ہے۔
سعودی اور قطری ثالثی نے وقتی طور پر کشیدگی کم ضرور کی ہے، مگر بنیادی مسائل اپنی جگہ موجود ہیں: ٹی ٹی پی کی پناہ گاہیں، دوراند لائن کی حیثیت، اور تجارت پر اختیار کے سوالات۔ اگر طالبان واقعی پاکستان مخالف گروہوں پر قابو نہیں پاتے، تو سرحد ایک بار پھر دھماکہ خیز صورت اختیار کر سکتی ہے۔
اکتوبر 2025 کا بحران اس حقیقت کو عیاں کرتا ہے کہ افغانستان اور پاکستان کے درمیان تعلقات اب مکمل طور پر نئے مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔ طالبان کی بھارت کے ساتھ قربت اور سعودی-قطری مداخلت نے جنوبی ایشیا کی سلامتی کے توازن کو ازسرِ نو متعین کر دیا ہے۔ پاکستان ایک ایسے افغانستان کے سامنے ہے جو اب اس کے اثر سے آزاد ہو چکا ہے، مگر بداعتمادی کی دیوار اب بھی قائم ہے۔
جیسا کہ امیر خان متقی نے نئی دہلی میں کہا:
“افغانستان امن چاہتا ہے — مگر اپنی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔”
ززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں