
قیصر محمود عراقی
ادب عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی تہذیب وشائستگی کے ہیں۔ اصطلاح میں اپنے جذبات ، احساسات اور خیالات کو متاثر کن انداز میں پیش کرنا ادب کہلاتا ہے۔لفظ ادب دو معنوں میں استعمال ہوتا ہے،ایک معنی میں یہ دوسروں کی عزت واحترام کیلئے استعمال ہوتا ہے، جسے انگریزی زبان میں Respectکہتے ہیں، دوسرے معنوںمیںادب میںہر زمانے کی تہذیب ، ثقافت اور اس کی سماجی، معاشی اور اقتصادی زندگی کی تصویریں چلتی پھرتی اور جیتی جاگتی نظر آتی ہے۔ اگر سوچا جائے کہ ادب تخلیق کیسے ہوتا ہے تو زندگی کی کینوس پر بکھرے رنگوں کو قوت گویائی لفظ دیتے ہیں، لفظ گھٹے میٹھے، تیز وترش ، شہد کی طرح شیریںاور پچے کی طرح شریر ہوتے ہیں، لفظ نہ تو ساری کائنات پر جامد سکوت طاری رہے، زمین چپ، آسمان چپ، محبت کا سارا جہان چپ، محبت حقیقی ہو یا مجازی، بات سچی ہو یا جھوٹی، ایک دوسرے سے بات کرتی ہو یا کسی پر غصہ کرنا ہو ہر چیز اپنے اظہار کیلئے لفظوں کا محتاج ہوتا ہے۔ ادب انسان کی فطرت میں شامل ہے کہ جو کچھ وہ جانتا ، سوچتااور محسوس کرتا ہے اس کا اظہار کرنے میں خوشی محسوس کرتا ہے۔ انسان خوش ہو یا غمگین وہ ہر بات دوسرے انسان کو بتانے میں خوشی محسوس کرتا ہے اور وہ یہ سمجھتا ہے کہ اگر وہ اپنے جذبات کا اظہار دوسروں سے کرے تو اس کا دل ہلکا ہوجاتا ہے۔ اگر انسان محض اپنے علم کو دوسروں تک پہنچانے کی بجائے اپنے جذبات اور احساسات کی آمیزش کرے تو وہ تخلیق ادب کے منصب پر فائض ہوسکتا ہے۔
انسانی معاشرے کو اپنی بنائی ہوئی تمام چیزوںمیں سب سے زیادہ عزیز اپنی زبان اور ادبیات ہوا کرتی ہے۔ عربوں کا آپ نے سوا پوری دنیا کو عجم (گونگا)کہنا اور انگریزوں کا اپنے عروج واقتدار کے زمانے میں شیکسپیئر کے ڈراموں کو اپنے تمام مقبوضات پر ترجیح دینا اسی محبت اور فخر کا آئینہ دار ہے۔ ادب معاشرے کا ترجمان اور ناقد ہوتا ہے، ادب اپنے دامن میںاپنے عہد کے سیاسی ، سماجی، معاشرتی اور اقتصادی مسائل کو سمیٹ کر رکھتا ہے۔ شاعری کا جذبہ ہو یا کسی موضوع پر لکھنا ہو یا کسی قوم کو بیدار کرنا ہو یہ جذبہ کسی ادیب کے دل میں ہی پیدا ہوتا ہے۔ میرؔ، غالبؔ اور اقبالؔنے جہاں زندگی کی بنیادی قدروںاور انسانی مسائل کو اپنے ادب میں سمو دیا ہے، اپنی فکر اور اپنے جذبات کی آمیزش کی ہے، یہی امتزاج انکی فن کو عظمت اور بلندیوں پر لے گئے۔ گہرے شعور اور احساسات کی بدولت ہی انسانیت کے بارے میں دردمندوں کا جذبہ شاعر اور ادیب کے دل میں ہی پیدا ہوتا ہے۔ وہ زندگی میں قدم قدم پر غور کرنے اور انسانی محرومی اور ناکامی پر لکھنے پر مجبور ہوتا ہے، سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے، یہی وہ جذبہ ہے جو ادیب کی زندگی کا اقدار بلند کرنے اور انسانیت کے غم کو دور کرنے کے بارے میںغور وفکر پر مجبور کرتا ہے اور یہی سماجی ، اجتماعی جذبہ معاشرہ میں ادب اور ادیب کا منصب اور مقام متعین کرتا ہے۔ ادب عوام سے رابطے کا بہترین ذریعہ ہے، اسی لئے ادب کو اصلاح کیلئے چنا جاتا ہے، کچھ لوگوں کیلئے مذہب ادب کیلئے مناسب موضوع نہیںلیکن در حقیقت قرآن پاک ، ادب اور زندگی ایک مثلث کے تین کونے ہیں، قرآن پاک ایک مکمل ضابطہ حیات ہے اور قرآن مجید بھی ادب کی ایک بہترین صورت ہے۔ برصغیر کے ادیبوں اور شاعروں نے ناقابل فراموش خدمات دیں ہیں، جیسے:سرسید احمد خان نے نہ صرف خود اصلاح ادب تخلیق کیا بلکہ اپنے ہم عصر شاعروں اور ادیبوں کو اصلاحی تحریک کے جھنڈے تلے جمع کیا اور ان کی تخلیقی صلاحیتیوں کو قومی خیر خواہی کیلئے استعمال کیا ۔ شاعر مشرق علامہ اقبالؔبر صغیر کے وہ ادیب ہیں جنہوں نے انگریزوں کی سیاسی اور اقتصادی غلامی میں جکڑے ہوئے مسلمانان ہند کو اپنی شاعری کے ذریعہ بیداری کا پیغام دیا۔
ادب نے آج تک انسانی سماج کے اندر موجود مختلف نفرتوں کا مقابلہ کیا ہے، ذات پات ، عقیدہ، نسل ، رنگ ، طبقاتی اور لسانی تقسیم، فرقہ واریت اور آج اکیسویں صدی کی نئی نفرتوں کی باڑھ کے سامنے انسان دوستی، رواداری اور افہام وتفہیم کا بند ادب نے باندھا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس وقت دنیا میں چھ ہزار زبانیں ہیں، یہ زبانیںموجود ہیںجو مٹ گئی ان کا ادب انسان کو انسان سے ، فطرت اور ان کی عنایتوں سے عشق کرنا سکھاتاہے۔ یہ بات بھی اپنی جگہ بالکل سچ ہے کہ بر صغیر میں جب فرقہ واریت کی بنیاد پر نفرت کی کالی آندھی چلی تو ہمارے کچھ ادیبوںنے مایوسی کے عالم میں یہ اعلان کیا کہ انسان مرگیا ہے، عین اُسی وقت کرشنؔ چندر، منٹوؔ، عصمتؔ، احمد ندیمؔ قاسمی، خوشونتؔ سنگھ، فیضیؔ، سردار جعفریؔ، امرتا پریتمؔ، جگن ناتھ آزادؔ، ساحر لدؔھیانوی اور ان کے بعد آنے والے قرۃ العین حیدرؔ، مہندرؔ ناتھ، جوگندرؔپال کے علاوہ اور ان گنت نامور اور گمنام ادیبوں کی تحریروںمیں اس زندہ انسان کے دل کی دھڑکنیں سنائی دے رہی تھیں، یہ انسان ہمیشہ سے موجود تھا اورہمیشہ موجود رہے گا۔ وحشت اور بربریت کے زبانوں میں بھی ادب اور ادبیت نے انسان کو زندہ رکھا ہے ہمارے ان ادیبوں کی تحریریں فرقہ واریت سے لڑائی لڑرہی تھیں اور بھڑکتی ہوئی آگ کو ٹھنڈا کررہی تھیں، بعد میں آنے والوں نے بھی یہ کام کیا اور آج بھی کررہے ہیں اس دنیا کی ہر زبان ، ہر زبانے اور ہر زمین کے ادب کا ذہن افق تا افق ، آسمان کی طرح پھیلا ہوا ہوتا ہے، تب ہی وہ اپنے دامن میں انہیں بھی سمیٹ لیتا ہے جو نفرت کرتے ہیں، کیونکہ ابتدائی دور سے آج تک سماج کی بنیاد پر ہی ادب کی تعمیر ہوتی چلی آئی ہے، اگرچہ ادب کی تعمیر کرنے والے اپنے غور وفکر سے ادب کو سنوارتے ہیں، پھر بھی سماج کے حالات اور واقعات اس کو متاثر کئے بغیر نہیں رہ سکتے۔ ہمیشہ سے سماج میں تغیر وتبدل ہوتے آئے ہیں، اسی کے مطابق ادب میں تبدیلیاں ہوتی رہی ہیں، اسی لئے ہر علاقے اور ہر زمانے کے ادب میں یکسانیت نہیں پائی جاتی ۔ ہر علاقہ کا ادب وہاں سے سماجی حالات کے مطابق تشکیل ہوتا ہے۔
ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں