کشمیر میں سردی نے پوری طرح دستک نہیں دی، مگر آگ کے واقعات کی خبریں مختلف علاقوں سے آنے لگی ہیں۔ یہ ایک تشویش ناک علامت ہے جو ہمیں موسمِ سرما کی آمد سے پہلے ہی محتاط کر رہی ہے۔ ہر سال جیسے ہی درجۂ حرارت گرتا ہے اور لوگ ہیٹر، کنگری، بوخاری اور برقی آلات کا استعمال بڑھاتے ہیں، ویسے ہی آتشزدگی کے واقعات میں بھی اضافہ دیکھنے کو ملتا ہے۔
اعداد و شمار اس حقیقت کی تصدیق کرتے ہیں کہ کشمیر میں آگ کے حادثات کوئی معمولی مسئلہ نہیں رہے۔ صرف گزشتہ برس سری نگر میں ہی چھ سو کے قریب آگ کے واقعات رپورٹ ہوئے، جب کہ پورے جموں و کشمیر میں دو ہزار سے زائد آتشزدگیاں ریکارڈ کی گئیں جن میں ہزاروں مکانات اور دکانیں متاثر ہوئیں۔ کئی قیمتی جانیں ضائع ہوئیں اور مالی نقصان کروڑوں میں پہنچ گیا۔ان حالات میں سب سے زیادہ ضرورت بیداری اور ذمہ داری کی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ موسمِ سرما کے آغاز سے پہلے ہی بڑے پیمانے پر آگ سے بچاؤ کی آگاہی مہم شروع کرے۔ ریڈیو، ٹی وی، سوشل میڈیا اور مساجد کے ذریعے لوگوں کو احتیاطی تدابیر یاد دلائی جائیں۔ گھروں اور بازاروں میں برقی وائرنگ کی جانچ لازمی قرار دی جائے اور فائر بریگیڈ کی استعداد کار بڑھائی جائے تاکہ کسی بھی واقعے پر فوری کارروائی ممکن ہو۔
تاہم یہ ذمہ داری صرف حکومت پر نہیں ڈالی جا سکتی۔ ہر شہری کا فرض ہے کہ وہ اپنے گھر میں فائر سیفٹی کا خیال رکھے۔ ہیٹر یا کنگری کو رات کے وقت بند رکھنا، برقی آلات کی حالت چیک کرنا، اور خشک اشیاء کو کھلی جگہ پر نہ رکھنا جیسے اقدامات چھوٹی مگر مؤثر احتیاطیں ہیں۔
اگر ہم بروقت احتیاط نہ کریں تو یہ حسن کسی ایک لمحے کی بے توجہی سے راکھ میں بدل سکتا ہے۔ اس موسمِ سرما ہمیں یاد رکھنا ہوگا کہ سردی سے بچنے کے لیے گرمی ضروری ہے، مگر حفاظت اس سے کہیں زیادہ ضروری ہے۔
آگ وارت کی خبریںموصول ہونے لگی
آگ وارت کی خبریںموصول ہونے لگی
کشمیر میں سردی نے پوری طرح دستک نہیں دی، مگر آگ کے واقعات کی خبریں مختلف علاقوں سے آنے لگی ہیں۔ یہ ایک تشویش ناک علامت ہے جو ہمیں موسمِ سرما کی آمد سے پہلے ہی محتاط کر رہی ہے۔ ہر سال جیسے ہی درجۂ حرارت گرتا ہے اور لوگ ہیٹر، کنگری، بوخاری اور برقی آلات کا استعمال بڑھاتے ہیں، ویسے ہی آتشزدگی کے واقعات میں بھی اضافہ دیکھنے کو ملتا ہے۔
اعداد و شمار اس حقیقت کی تصدیق کرتے ہیں کہ کشمیر میں آگ کے حادثات کوئی معمولی مسئلہ نہیں رہے۔ صرف گزشتہ برس سری نگر میں ہی چھ سو کے قریب آگ کے واقعات رپورٹ ہوئے، جب کہ پورے جموں و کشمیر میں دو ہزار سے زائد آتشزدگیاں ریکارڈ کی گئیں جن میں ہزاروں مکانات اور دکانیں متاثر ہوئیں۔ کئی قیمتی جانیں ضائع ہوئیں اور مالی نقصان کروڑوں میں پہنچ گیا۔ان حالات میں سب سے زیادہ ضرورت بیداری اور ذمہ داری کی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ موسمِ سرما کے آغاز سے پہلے ہی بڑے پیمانے پر آگ سے بچاؤ کی آگاہی مہم شروع کرے۔ ریڈیو، ٹی وی، سوشل میڈیا اور مساجد کے ذریعے لوگوں کو احتیاطی تدابیر یاد دلائی جائیں۔ گھروں اور بازاروں میں برقی وائرنگ کی جانچ لازمی قرار دی جائے اور فائر بریگیڈ کی استعداد کار بڑھائی جائے تاکہ کسی بھی واقعے پر فوری کارروائی ممکن ہو۔
تاہم یہ ذمہ داری صرف حکومت پر نہیں ڈالی جا سکتی۔ ہر شہری کا فرض ہے کہ وہ اپنے گھر میں فائر سیفٹی کا خیال رکھے۔ ہیٹر یا کنگری کو رات کے وقت بند رکھنا، برقی آلات کی حالت چیک کرنا، اور خشک اشیاء کو کھلی جگہ پر نہ رکھنا جیسے اقدامات چھوٹی مگر مؤثر احتیاطیں ہیں۔
اگر ہم بروقت احتیاط نہ کریں تو یہ حسن کسی ایک لمحے کی بے توجہی سے راکھ میں بدل سکتا ہے۔ اس موسمِ سرما ہمیں یاد رکھنا ہوگا کہ سردی سے بچنے کے لیے گرمی ضروری ہے، مگر حفاظت اس سے کہیں زیادہ ضروری ہے۔


