یوم وفات پر اپنے قلمی و فکری رہنما کو خراج عقیدت

بلال بشیر بٹ
مدیر اعلیٰ
سرینگر جنگ
یہ ایک حقیقت ہے کہ قلمکاروں کو معاشرے کا آئینہ کہا جاتا ہے اوریہی تعارف ایک تجربہ کار صحافی، ادیب، شاعر، اسکالر ،مصنف اور وادی کشمیر کے صف اول کے ادیب غلام نبی خیال ؔکا بھی ہے جنہوں نے اپنے پورے کیرئیر میں صرف پیشہ ورانہ سرگرمیوںکو ترجیح دی۔اپنے آخری وقت میں بھی وہ اپنا وقت اوراپنی مہارت اہم ادبی اور تمدنی کاموں کے لئے وقف کرتے رہے جو انہیںایک مایہ ناز ادیب و تمدن ساز کے طور متعارف کرتا ہے ۔
4 مارچ 1939ء کو جلال الدین میر اور تاجہ بیگم کے ہاں پرانے شہر سری نگر کے علاقے گوجوارہ ، حول میں پیدا ہونے والے غلام نبی خیال نے اپنی ابتدائی تعلیم اسلامیہ اسکول، راجوری کدل سری نگر سے حاصل کی۔ کشمیر یونیورسٹی سے ڈگری یافتہ خیال کو انگریزی، اردو، فارسی اور کشمیری زبانوں پر عبور حاصل تھا۔ وہ اورینٹل کالج، سری نگر اور کشمیر یونیورسٹی سری نگر کے شعبہ صحافت میں وزیٹنگ پروفیسر رہ چکے ہیں۔
غلام نبی خیال کو ان کی کشمیری کتاب گاشِری منار کے لئے باوقار ساہتیہ اکادمی (انڈین اکیڈمی آف لیٹرز) کا ایوارڈ ملا، تاہم اپنے اصولوں پر ثابت قدم اور وفادار رہتے ہوئے انھوں نے 2015 میں یہ ایوارڈ مصنف ایم ایم کلبرگی کے قتل اور "ملک میں عدم برداشت کی لہر”کے احتجاج میں واپس کر دیا۔65 برسوں سے ادب اور صحافت کے شعبوں میں اپنی خدمات انجام دینے کے دوران خیال صاحب نے انگریزی، اردو اور کشمیری زبانوں میں تقریباً تین درجن کتابیں شائع کیں۔
ایک مایہ ناز ادبی شخصیت ہونے کے علاوہ غلام نبی خیال کشمیر میں صحافت کا ایک جانا پہچانا نام ہے جنہوں نے بالترتیب 1955 اور 1961 میں کشمیری زبان کے دو ادبی رسالوںکونگ پوش اور گلریز کے علاوہ ایک اردو ہفت روزہ محاذ، سری نگر، 1964 میں ایڈٹ کیا۔ ایک طرح سے وہ کشمیری صحافت کے علمبردار بن گئے جب انہوں نے پہلا کشمیری اخبار وطن 1965-68 اور اقبال اردو ہفتہ وار 1968 کی بنیاد رکھی۔خیال صاحب اپنی زندگی کے آخری دور میں 2003 سے انگریزی ہفت روزہ وائس آف کشمیر کی ایڈیٹنگ کر رہے تھے جس دوران مجھے 09-2008میں اپنے صحافتی کیریئر کا آغاز کرنے کا اعزاز حاصل ہوا۔
ایک معروف صحافی کے طور پر خیال ٹائم میگزین، انڈیا ٹوڈے، نئی دہلی، سٹیٹسمین، نئی دہلی، دی گارڈین، لندن، وائس آف امریکہ، السٹریٹڈ ویکلی آف انڈیا، ممبئی وغیرہ کے کشمیرکے نامہ نگار بھی رہ چکے ہیں۔خیال ؔ اپنی پوری زندگی میں اپنے مثبت نظریہ پر قائم رہے۔ ایسی بہت سی مثالیں ہیں جن میں انہوں نے من گھڑت کہانی کاروں اورموقع پرست سیاست دانوں کو آئینہ دکھانے کی جسارت کی۔
خیال جیل میں
غلام نبی خیال کو درگاہ حضرت بل سری نگر میں ایک جلسے میں جموں و کشمیر کے اس وقت کے وزیر اعظم غلام محمد بخشی کے خادم محی الدین کے قتل کے جھوٹے الزام میں دو سال کے لئے جیل بھیج دیا گیاتھا۔خیال ان درجنوں لوگوں میں شامل تھے جنہیں 1959 میں بخشی کے نوکر کو قتل کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ تاہم جب خیال نے جیل میں رباعیات عمر خیام کا کشمیری ترجمہ مکمل کیا تو اسے بخشی حکومت نے رہا کر دیا اور بعد میں انہیں جموں و کشمیر اکیڈمی آف آرٹ، کلچر اینڈ لینگویجزمیں ملازمت دی گئی جس کے بعد انہوں نے دو سال ملازمت کرکے چھوڑ دی۔

طرز تحریر
فیض احمد فیض سے متاثرخیال ؔبلاشبہ معاشرے کا آئینہ دار تھے۔وہ ہمیشہ دوسروں کے لئے ہمدردی کا مظاہرہ کرتے تھے۔ اختر محی الدین، امین کامل اور دینا ناتھ ندیم جیسے ادباء کے لئے ان کا احترام ان کی پسندیدگی کے بارے میں بتاتا ہے۔خیال ؔکی تحریروں میں خصائص اور خوبیوں کا ایک انوکھا امتزاج ہے جو انہیں نام نہادمصنفوں کے ہجوم سے الگ کرتا ہے۔
90 کی دہائی
90 کی دہائی میں شورش کے دوران خیال صاحب نے دنیا میں کشمیر کے تعلق سے کئی اہم بریکنگ نیوز رپورٹ کیں ۔خاص طور پربڈگام کے چرار شریف میں مست گل کا انٹرویو کرنے کے لئے انہیں بندوق برداروں نے ’اغوا‘ کیا تھا۔ انہوں نے انتہائی پیچیدہ اور خطرناک مسائل کا احاطہ کرنے میں زبردست جرات کا مظاہرہ کیاہے۔خیال نے 1991 میں سری نگر میںشورش کے دوران ایک اسرائیلی سیاح کو بچانے میں اہم کردار ادا کیا۔
13 جولائی 1964 کا واقعہ
13 جولائی 1964 کو خواجہ بازار سرینگر میں مزار شہدا میں ایک بڑا جلسہ نکلا۔ غلام نبی خیال نے اپنی نظم "سون وطن” پڑھی،
یہ چھ چون وطن، یہ چھ میون وطن،
یمی وطنک دعوا دار چھی اسی۔
شیخ عبداللہ جو اس وقت اجلاس کی صدارت کر رہے تھے، اچانک جذباتی ہو گئے اور پندرہ منٹ سے زیادہ جاری رہنے والے اس منظر کے ساتھ خیال کی تعریف میں تالیاں بجانا شروع کر دیں۔ پھر اس نے خیال صاحب کو گلے لگایا اور کہا، "ہمیں تم پر فخر ہے۔” ایک لاکھ سامعین میں خیال اپنے اشعار بلند آواز میں پڑھ رہے تھے:
یہ چھُ چون وطن، یہِ چھ میون وطن،
یمی وطنک دعوا دار چھی اسی۔
(یہ ہمارا مادر وطن ہے، یہ میرا مادر وطن ہے، ہم اس دھرتی کے دعویدار ہیں)۔
الیکٹرانک میڈیا
خیال سب سے زیادہ مقبول ایک سو چار قسط پر مبنی ڈرامہ شب رنگ کے اسکرپٹ اور اسکرین پلے رائٹر تھے۔ انہوں نے ایک اور مقبول ہفتہ وار پروگرامNews Week بھی پیش کیا۔خیال گزشتہ چار دہائیوں سے ریڈیو کشمیر اور ٹیلی ویژن سے وابستہ تھے۔غلام نبی خیال کے پروڈیوس اور ڈائریکٹ کردہ دیگر ٹیلی ویژن سیریلز جن میں زرین کلام، میراث، گائے جا کشمیر، گاشیری منار، جہیز کی لعنت اور وغیرہ شامل ہیں۔
امتیازات
بین الاقوامی بنگلہ دیش کانفرنس، نئی دہلی، 1971 میں مندوب۔ مہمان خصوصی جشن خیال۔ خواتین کی ادبی سوسائٹی، مرادآباد، یوپی، فروری 1976 کے زیر اہتمام۔
سکریٹری، آل انڈیا اردو ایڈیٹرز کانفرنس، 1976۔
مزاح اور طنز پر آل انڈیا کانفرنس، بھوپال، اکتوبر 1982 کی صدارت کی۔
ممبر، جنرل کونسل، آل انڈیا اردو رائٹرز اینڈ جرنلسٹ فورم، پٹنہ، 1985۔
1979 اور پھر 1989 میں ہندوستانی پریس وفد کے رہنما کے طور پر عراق کا دورہ کیا۔
آل انڈیا نیشنل سمپوزیم آف پوئٹس، نئی دہلی، جنوری 1982 میں کشمیری زبان کی نمائندگی کی۔
ممبر، اردو ایڈوائزری کمیٹی، نیشنل بک ٹرسٹ، نئی دہلی، 1986۔
ممبر: ایڈوائزری کمیٹی، اقبال انسٹی ٹیوٹ، یونیورسٹی آف کشمیر
ممبر: اردو ایڈوائزری کمیٹی، کشمیر یونیورسٹی
شراکتیں
اردو شاعری اور نثر دونوں میں غلام نبی خیال کی خدمات آجکل نئی دہلی، اخبار نو دہلی، باز یافت سری نگر، بسون سدی دہلی، انشاء کلکتہ، پگڈندی امرتسر، تحریک نئی دہلی، تمیر سری نگر، حرمت اسلام آباد، جیسے رسالوں میں شائع ہوئی ہیں۔ راہی جالندھر، راوی لندن، روبی دہلی، سب راس حیدرآباد، شب خون الٰہ آباد، شعر بمبئی، شیرازہ سری نگر، صبا حیدرآباد، صدا لندن، فکر التحقیق نئی دہلی، معاصر لاہور، ماہ نو لاہور، نگارش امرتسر، نیا دور لکھنو، نیا سفر الہ آباد، ندا ئے ملت لاہور، قومی ڈائجسٹ لاہور، اردو دنیا نئی دہلی، اور زندگی لاہور۔
اشاعتیں
کشمیری: لولوک پاراو، رباعیات عمر خیام، پرگاش، شاعری، ویور، وقت نامہ، زنجوری ہند ساز، بیٹا ادب، محمود گامی، کاشُر نثر، گاشیری منار، اکہ نندون، میڈیہ، قلم پارہ، الہیات عمر خیام۔ اردو: اقبال اور تحریک آزادی کشمیر،خیابانِ کشمیر، کاروان خیال، اظہار خیال، فکرخیال،خیالات۔ انگلش: چنار کے پتے، چنار رنگ، کشمیر میں ترقی پسند ادبی تحریک، میری کہانی میرا کشمیر
وفات
غلام نبی خیال اتوار کی صبح 15 اکتوبر 2023 کوصنعت نگر میں واقع اپنی رہائش گاہ پر 85 سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔ ان کے پسماندگان میں ان کی اہلیہ رفیقہ جبین، دو بیٹے کامران اور عرفان اور ایک بیٹی ہے۔
بلاشبہ خیال نے ہمت کے ساتھ وہ قدم اٹھایا جہاں دوسروں کو چلنے سے ڈر لگتا تھا، کئی مواقع پر ایک صحافی کی حیثیت سے انہوں نے چھپی ہوئی کہانیوں سے پردہ اٹھایا،آپ کے قلم کی سیاہی دریا کی طرح دل سے صفحوں تک بہتی تھی۔صحافت میں میرے پہلے استاد ہونے کے ناطے میںخیال ؔصاحب کی بے انتہا قدر کرتا ہوں۔ جب تک سچائی کی جستجو جاری رہے گی، انصاف اور ہمدردی کی روشنی دنیا کے ہمارے حصے میں چمکتی رہے گی۔آہ خیال ؔ
آپ کے قلم کی سیاہی دریا کی طرح دل سے صفحوں تک بہتی تھی


