احساس اور خواب کی شاعرہ: ڈاکٹر نصرتؔ عتیق

 

ڈاکٹر محبوب حسن

ڈاکٹرنصرتؔ عتیق کا تعلق سرزمین گورکھپور سے ہے۔ان کی پیدائش 22ْْ/مارچ1975/کو گورکھپور کے ایک علمی و ادبی خانوادے میں ہوئی۔ گھر کے ادبی ماحول نے انھیں اردو شعروادب کی طرف راغب کیا۔ موصوفہ درس و تدریس کے ساتھ ساتھ اردو شعر وادب سے بھی گہرا شغف رکھتی ہیں۔خوش آئندبات ہے کہ ڈاکٹر نصرتؔ بطور شاعرہ گورکھپور کی ادبی روایات کو مستحکم کرنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ اپنی مترنم آوازاور شائستہ لب و لہجہ کے سبب نصرتؔ عتیق کو مشاعروں کی دنیامیں بے پناہ شہرت حاصل ہے ۔ نصرتؔ عتیق نے مختلف شعری اصناف میں طبع آزمائی کی ہے۔ لیکن ان کا اصل تخلیقی جوہر غزلوں میں نظر آتا ہے۔موصوفہ کی شعری تخلیقات ادبی رسائل میں بھی تواتر کے ساتھ اشاعت پذیر ہوتی رہی ہیں۔نصرتؔ عتیق ادب کی جمالیاتی قدروں سے بخوبی آشنا ہیں۔ مشاعروں کی دنیا سے وابستگی کے باوجود ان کی شاعری میں تخلیقی سنجیدگی کاخوشگوار احساس ہوتا ہے۔نصرتؔ عتیق اردو اور ہندی دونوں لسانی حلقوں میں یکساں طور پر مشہور ہیں۔اردو شاعری کے عصری منظرنامے پر نصرتؔ عتیق اپنے منفرد شعری ڈکشن کے سبب منفرد شناخت رکھتی ہیں۔ ان کے متعدد مجموعۂ کلام منظر عام پر آچکے ہیں۔ ’’سلگتے احساس‘‘ ’’یادوں کی ریزگاری‘‘’’احساس کی امربیل‘‘ ’’جگنو ایک ستارہ‘‘ان کی تخلیقی بصیرت کی عمدہ مثالیں ہیں۔مذکورہ شعری مجموعے دیوناگری رسم الخط میں بھی شائع ہو چکے ہیں۔
اردو شاعرات اور خواتین قلم کاروں کا ذکر آتے ہی ہمارے ذہن میں نسائیت /تانیثیت کا تصور ابھرتا ہے۔یعنی ایک ایسا فکری رجحان یا نظریہ ، جس کے زیر اثرشاعرات اپنے داخلی جذبات و احساسات کا اظہار کرتی ہیں۔ عام طور پرخواتین ادیبوں کے تخلیقی سرمایے کا مطالعہ اسی مخصوص نظریہ/رجحان کے تحت کیا جاتا ہے۔رشید جہاں، عصمت چغتائی، ترنم ریاض، پروین شاکر ، کشور ناہید اور فہمیدہ ریاض جیسی خواتین تخلیق کاروں کے یہاں تانیثی افکارونظریات موجود ہیں۔ ان قلم کاروں نے اپنے حقوق کی بازیافت کے لیے آواز بلند کی۔ بعض خواتین تخلیق کاروں کے یہاں مرد اساس معاشرے کی بالا دستی کے خلاف صدائے احتجاج بھی سنائی پڑتی ہے۔ فکشن کے ساتھ ساتھ شاعری پر بھی تانیثیت کے اثرات مرتب ہوئے۔خواتین فکشن نگاروں کے دوش بہ دوش اردو شاعرات نے بھی نسوانی جذبات و احساسات کو تخلیقی حسن کے ساتھ پیش کیا۔شاعرات کی تخلیقات میں محبت ایک ایسا بنیادی حوالہ ہے، جس میں زندگی کا ادھورا پن موجود ہو۔یعنی ان کی شاعری میں ہجرووصال اور ادھوری حسرتوںکا ایک پرکیف تخلیقی بیانیہ نظر آتا ہے۔ اردو زبان و ادب کی معروف شاعرہ پروین شاکر اس کی خوبصورت مثال ہیں۔موجودہ دور کی متعدد شاعرات کے یہاں اس کے گہرے نقوش ثبت ہوئے۔
اردو زبان و ادب میں عورت ہمیشہ سے ہی موضوع بحث رہی ہے۔ لیکن ٖہمارے ادیبوں اور شاعروں نےFeminism کے نام پرپھیلنے والی سماجی، تہذیبی اور سیاسی بے راہ روی کو کبھی تسلیم نہیں کیا۔دراصل مشرقی اقدارو روایات کے باعث ہمارے یہاں مغرب زدہ تانیثی نظریہ زیادہ پھل پھول نہ سکا۔ علامہ اقبالؔ نے عورت ذات کے تقدس کا اعتراف کرتے ہوئے کہاہے ’’وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ‘‘ ۔ عورت در اصل ممتااور محبت کا خوبصورت پیکر ہے۔صبروضبط کی کی علامت ہے۔ وہ اپنی قربانیوں سے اس کائنات کو حسین بناتی ہے۔خواتین قلم کاروں کی تخلیقات کی بہترتفہیم کے لیے عورت ذات کی شخصیت اور اس کے مختلف روپ کو سمجھنا ضروری ہے۔ موجودہ دور میں بعض شاعرات تانیثیت کے گمراہ کن خیالات سے متاثر نظر آتی ہیں لیکن نصرتؔ عتیق نے اپنے تخلیقی سروکارکے لیے زندگی کے روشن اور مثبت پہلوؤں پر توجہ مرکوز کی ہے۔یہی وجہ ہے ان کی شاعری میں روایتی انداز فکر اور مشرقی طرز احساس کا گہرا عکس ابھرتا ہے۔ ان کی تخلیقی کائنات کا رشتہ ایک ایسے روشن خیال تصور حیات سے ہے، جہاں خواب اور حقیقت کے سارے رنگ موجود ہوں۔نصرتؔ عتیق کے چند اشعار ملاحظہ کیجیے:
حصار کھینچ دیا ہے، تیری محبت نے
تیری پناہ سے باہر میں جا نہیں سکتی
درد کوئی اور دے اے زندگی
ہم ابھی پوری طرح ٹوٹے نہیں
کوئی دستک نہ کوئی آہٹ
پھر مجھے انتظار کس کا ہے
ڈاکٹر نصرت ؔعتیق موجودہ دور کی ایک باکمال اورہر دل عزیزشاعرہ ہیں۔ان کا تخلیقی سفر خوش اسلوبی کے ساتھ جاری و ساری ہے۔ ان کی شاعری زندگی کے احساسات کا لمس معلوم پڑتی ہے۔ہر طرح کے خارجی اثرات کے برعکس وہ جو کچھ محسوس کرتی ہیں انھیں لفظوں کے پیکر میں ڈھالنے کا فن جانتی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ عام قاری/سامع کو ان کی شاعری میں اپنی زندگی کا عکس محسوس ہوتا ہے۔ موصوفہ کی تخلیقات کو کسی مخصوص فکری تناظر میں پرکھنا مناسب نہیں۔ ان کی شاعری میں فکرواحساس کی ایک حسین دنیا آباد ہے، جہاں زندگی کا ہر رنگ نظر آتا ہے۔ان کی غزلوں میں خوشی و غم، ہجرووصال اور ادھوری حسرتوں کی ایک خواب آمیز دنیا موجود ہے۔موصوفہ کی غزلوں میں مسرت کے ساتھ ساتھ بصیرت کا رنگ بھی ابھرتا ہے۔ انہوں نے فکرواحساس کی جمالیاتی اقدارکو خوبی سے نبھایا ہے
ڈاکٹر نصرتؔ عتیق کی غزلوں کے مطالعہ سے اندازہ ہوتا ہے انہوں نے عشق و محبت کے روایتی موضوعات کو خوبصورتی سے شعری پیکر میں ڈھالا ہے۔ در اصل محبت کے بغیرانسانی زندگی ادھوری ہے۔ محبت کے دامن میں ہی زندگی کی بقاہے۔ ہر دور میں شاعروں نے فلسفۂ محبت کو اپنی شاعری میں برتا ہے۔ شاعروں نے عشق حقیقی اور عشق مجازی یعنی عشق کے دونوں رنگوں سے اپنی تخلیقات کوآراستہ کیا ہے۔ لیلی مجنوں اور شیریں فرہاد جیسے کردار شعری استعارے کی صورت اختیار کر گئے۔ دنیا کی تمام زبانوں کی شاعری میں حسن و عشق کی تخلیقی روایتیں ہمیں دعوت فکر دیتی ہیں۔ اردو غزل کا ذکر آتے ہی عشق و محبت کا تصورابھرتا ہے۔غزل کے لغوی معنی اس جانب اشارہ کرتا ہے۔عشقیہ مضامین سے شروع ہونے والی یہ شعری روایت آج حیات و کائنات کی تمام تروسعتوں کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے۔ نصرتؔ عتیق کی غزلوں میں جگہ جگہ عشقیہ موضوعات اور ہجرووصال کا خوبصورت عکس ابھرتا ہے۔نصرتؔ کی غزلوں میں کسک آمیز جذبات کی عکاسی نظر آتی ہے۔ لیکن انہوں نے عام تخلیقی روش کے برعکس شدید جذباتیت سے گریز کیا ہے۔ راہ عشق میں کچھ کھونے کا ملال ہے تو کچھ پانے کی خوشی و مسرت بھی جھلکتی ہے۔ شاعرات نے عام طورپربے وفائی اور عشق کی ناکامی کے نتیجے میں پیدا ہونے والی مایوسی و اداسی کو نمایاں انداز میں پیش کیا ہے لیکن نصرتؔ کی غزلوں میں نا امیدی اور زندگی کے تئیں بیزاری کا احساس نہیں ہوتا۔ نصرتؔ عتیق کی پرورش خالص مشرقی روایات کے زیر اثر ہوئی ہے۔لہذ ان کی غزلوں میں فکر ی پاکیزگی اور تخلیقی تقدس موجود ہے۔نصرتؔ عتیق کے چندغزلیہ اشعار پیش خدمت ہیں:
کیا کیا نہ مجھ پہ بیت گئی تیرے ہجر میں
بس خیر یہ ہوئی کہ میں پاگل نہیں ہوئی
سیاست کرنے والے تو سیاست کر رہے ہیں
ہم ہی بے کار بیٹھے ہیں، محبت کر رہے ہیں
آج پھر نیند مجھ سے روٹھی گئی
آج پھر خواب میرا ٹوٹا ہے
قابل غور ہے کہ اردو غزل ہر زمانے میں بے جا تنقید کا شکار رہی ہے ۔ اس پر طرح طرح کے غیر منطقی و بے بنیاد الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں ۔ کبھی اسے نیم وحشی صنف سخن کہاگیا تو کبھی اس کی گردن زدنی کا حکم صادر کیاگیا۔ لیکن اس ناسازگارماحول کے باوجود یہ صنف آج بھی ہر خاص وعام کے دلوں کی دھڑکن بنی ہوئی ہے۔درحقیقت اردو غزل اپنی منفردفکری و فنی خصوصیات کی بنیاد پر تمام شعری اصناف پر فوقیت رکھتی ہے۔اردو اد ب کے لیے یہ اعزاز کی بات ہے کہ دوسری زبانوں میں بھی صنف غزل رفتہ رفتہ مقبول ہو رہی ہے۔خاص طور پر مشاعروں نے اردو غزل کی مقبولیت میں غیر معمولی اضافہ کیا۔ شعری محفلوں اور مشاعروں سے نصرتؔ عتیق کی گہری وابستگی رہی ہے۔ مشاعروں کے علاوہ ان کی شعری تخلیقات ادبی رسائل و جرائد میں بھی تسلسل کے ساتھ اشاعت پذیر ہوتی رہی ہیں۔
ڈاکٹر نصرتؔ عتیق موجودہ دور کی ایک ایسی ہر دل عزیز شاعرہ ہیں، جن کے یہاں فکری وسعت کے ساتھ ساتھ تخلیقی اظہار کی قوت موجود ہے۔ روایتی موضوعات کے دوش بہ دوش عصری مسائل پر بھی نصرتؔ عتیق کی گہری نظر ہے۔ ہماری عصری زندگی معاشرتی،سیاسی، تہذیبی اور اخلاقی زوال سے عبارت ہے۔ ہر طرف فرقہ وارانہ منافرت اور مذہبی تعصب کی آندھی چل رہی ہے۔ایسے صبرآزما ماحول میں انسان ایک انجانے خوف اور غیر یقینی صورت حال کا شکار ہے۔مادہ پرستی اور صارفیت کے اس دور میں انسان کی اخلاقی اقدارووایات بری طرح متاثر ہوئی ہیں ۔ رشتے ناطے اور انسانی قدریں شکست و ریخت کا شکار ہیں۔نصرتؔ عتیق کی غزلوں میں زوال پذیرتہذیبی, معاشرتی اقدار کی جھلک نظر آتی ہے۔ چند اشعار ملاحظہ ہوں:
سارے رشتے منافقت کے ہیں
پیار، اخلاص سب دکھاوا ہے
موبائلوں کے دور سے نقصان یہ ہوا
کاغذ پر لکھنے پڑھنے کی عادت چلی گئی
محفل ہے میرے عہد کے ایسے وزیر کی
بولی جہاں پہ لگتی ہے سب کے ضمیر کی
آپ سب کی نمک حرامی سے
ملک منسوب ہے غلامی سے
ملک نصرتؔ ہے وبا میں مبتلا
کیسی ہولی، عید کی کیسی خوشی
درج بالا اشعار کے مطالعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ نصرتؔ عتیق کی غزلوں کا فکری دائرہ محدود نہیں ہے بلکہ انہوں نے مختلف موضوعات کو تخلیقی سانچوں ڈھلا ہے۔ڈاکٹر نصرتؔ کی غزلیہ شاعری اپنی فکری وابستگی اور طرز احساس کے ساتھ ساتھ تکنیکی اعتبار سے بھی قارئین/سامعین کو متاثر کرتی ہے۔ نصرتؔ عتیق کی غزلوں میں کلاسیکی رنگ کے دوش بہ دوش جدید طرز اظہاربھی آشکارا ہے۔ مشکل پسندی سے قطع ٔنظرانہوں نے سادگی اور سلاست کی راہ اختیار کی۔ موصوفہ اپنی شاعری کو نئی تخلیقی راہوں سے گزارنے کے لیے کوشاں نظر آتی ہیں۔ان کے کلام میں نغمگی، شگفتگی اور تخلیقی روانی موجود ہے۔نصرتؔ عتیق نے اپنا منفرد تخلیقی محاورہ خلق کیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ موصوفہ اپنے ہم عصرشاعرات میں ممتاز و نمایاں نظرا ٓتی ہیں۔
نصرتؔ عتیق نے سستی شہرت و مقبولیت کے لیے شاعری کی جمالیاتی قدروں اور تخلیقی معیار کو کبھی نظرانداز نہیں کیا۔ انہوں نے اپنی شاعری میں مشکل علامتوں اوراستعاروں سے اجتناب برتا ہے۔غیر ضروری فنی تجربات سے قطعٔ نظران کے یہاں فکری بصیرت جھلکتی ہے۔نصرتؔ عتیق داخلی کیفیات کو شعری سانچوں میں ڈھالنے کاہنر جانتی ہیں۔نصرتؔ عتیق کی غزلیہ شاعری میں جگہ جگہ پیکر تراشی اور امیجری کی دلکش تصویریں نظر آتی ہیں۔ نصرتؔ عتیق کا تخلیقی شعور خواب اور احساس سے عبارت ہے۔ ان کی غزلیں محبت آمیز یادوں کا کولاژ ہیں۔نصرتؔ عتیق نے اپنے داخلی جذبات واحساسات کی بنیاد پر اپنی غزلوں کی عمارت تعمیر کی ہے۔در اصل ان کا تخلیقی تجربہ آپ بیتی سے جگ بیتی کا ایک ایسادلکش سفر ہے، جس میں ہر خاص و عام کو اپنی زندگی کا لمس محسوس ہوتا ہے۔اردو شاعروںاور ادیبوں نے تہذیبی زوال کو بھی خصوصی اہمیت دی ہے۔ کلاسیکی دور سے عصر حاضر تک بیشتر قلم کاروں نے تہذیبی و ثقافتی شکست و ریخت کوموضوع بحث بنایا۔ نصرتؔ عتیق کے یہاں تہذیب کے ٹوٹنے اور بکھرنے کا نوحہ بھی موجود ہے۔ چند اشعار پیش خدمت ہیں:
اہل زباں بھی ان کی حفاظت نہ کر سکے
ہوتے ہیں بند روز رسالے نئے نئے
فرہادؔ و قیسؔ قصۂ پارینہ ہو گئے
نصرتؔ ہیں عاشقوں کے حوالے نئے نئے
راکھ کو دیکھ کر ہوا محسوس
آگ میں کتنی پردہ داری ہے
نصرتؔ عتیق ستائش کی تمنا اور صلے کی پرواہ کیے بغیراپنے تخلیقی سفر پر رواں دواں ہیں۔خوش آئند بات ہے کہ ان کا تخلیقی سفر فکری اور فنی دونوں سطحوں پر ارتقائی مراحل سے گزر رہا ہے۔ گزشتہ چند برسوں سے نصرت ؔ عتیق نے اپنے تخلیقی سروکار کے سبب ناقدین ادب کو اپنی جانب متوجہ کیا ہے۔یہ بات بلا تردد کہی جا سکتی ہے کہ ڈاکٹر نصرت ؔ عتیق اپنے شعری امتیازات کے سبب بین الاقوامی سطح پربھی گورکھپور شہر کا نام روشن کر رہی ہیں۔انھیں شاعری سے فطری رغبت ہے۔ موصوفہ اپنے تخلیقی سفر میں فکرواحساس کے نئے نئے فکری جزیروں کی متلاشی نظر آتی ہیں۔ ان کے یہاں روایت کی پاسداری کے ساتھ ساتھ جدت پسندی کی آہٹ بھی محسوس ہوتی ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

بفلیاز پونچھ میں آگ لگنے سے 13 دکانیں جل کر خاکستر

پونچھ 7 جون: پونچھ ضلع کی تحصیل سورنکوٹ کے...

گھریلو ایل پی جی کی قیمت میں 29 روپے فی 14.2 کلوگرام سلنڈر کا اضافہ

نئی دہلی 7 جون: گھریلو کھانا پکانے والی گیس ایل...

شاعری

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

شاعری

جاوید قسیم شعر گوئی کی ہی پہچان سے سب جانتے...

دہلیز

راشیدہ یاسمین سارہ جب ہنستی تھی تو یوں محسوس ہوتا...

تازہ ترین خبریں

بفلیاز پونچھ میں آگ لگنے سے 13 دکانیں جل کر خاکستر

پونچھ 7 جون: پونچھ ضلع کی تحصیل سورنکوٹ کے...

گھریلو ایل پی جی کی قیمت میں 29 روپے فی 14.2 کلوگرام سلنڈر کا اضافہ

نئی دہلی 7 جون: گھریلو کھانا پکانے والی گیس ایل...

شاعری

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

شاعری

جاوید قسیم شعر گوئی کی ہی پہچان سے سب جانتے...

دہلیز

راشیدہ یاسمین سارہ جب ہنستی تھی تو یوں محسوس ہوتا...

احساس اور خواب کی شاعرہ: ڈاکٹر نصرتؔ عتیق

 

ڈاکٹر محبوب حسن

ڈاکٹرنصرتؔ عتیق کا تعلق سرزمین گورکھپور سے ہے۔ان کی پیدائش 22ْْ/مارچ1975/کو گورکھپور کے ایک علمی و ادبی خانوادے میں ہوئی۔ گھر کے ادبی ماحول نے انھیں اردو شعروادب کی طرف راغب کیا۔ موصوفہ درس و تدریس کے ساتھ ساتھ اردو شعر وادب سے بھی گہرا شغف رکھتی ہیں۔خوش آئندبات ہے کہ ڈاکٹر نصرتؔ بطور شاعرہ گورکھپور کی ادبی روایات کو مستحکم کرنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ اپنی مترنم آوازاور شائستہ لب و لہجہ کے سبب نصرتؔ عتیق کو مشاعروں کی دنیامیں بے پناہ شہرت حاصل ہے ۔ نصرتؔ عتیق نے مختلف شعری اصناف میں طبع آزمائی کی ہے۔ لیکن ان کا اصل تخلیقی جوہر غزلوں میں نظر آتا ہے۔موصوفہ کی شعری تخلیقات ادبی رسائل میں بھی تواتر کے ساتھ اشاعت پذیر ہوتی رہی ہیں۔نصرتؔ عتیق ادب کی جمالیاتی قدروں سے بخوبی آشنا ہیں۔ مشاعروں کی دنیا سے وابستگی کے باوجود ان کی شاعری میں تخلیقی سنجیدگی کاخوشگوار احساس ہوتا ہے۔نصرتؔ عتیق اردو اور ہندی دونوں لسانی حلقوں میں یکساں طور پر مشہور ہیں۔اردو شاعری کے عصری منظرنامے پر نصرتؔ عتیق اپنے منفرد شعری ڈکشن کے سبب منفرد شناخت رکھتی ہیں۔ ان کے متعدد مجموعۂ کلام منظر عام پر آچکے ہیں۔ ’’سلگتے احساس‘‘ ’’یادوں کی ریزگاری‘‘’’احساس کی امربیل‘‘ ’’جگنو ایک ستارہ‘‘ان کی تخلیقی بصیرت کی عمدہ مثالیں ہیں۔مذکورہ شعری مجموعے دیوناگری رسم الخط میں بھی شائع ہو چکے ہیں۔
اردو شاعرات اور خواتین قلم کاروں کا ذکر آتے ہی ہمارے ذہن میں نسائیت /تانیثیت کا تصور ابھرتا ہے۔یعنی ایک ایسا فکری رجحان یا نظریہ ، جس کے زیر اثرشاعرات اپنے داخلی جذبات و احساسات کا اظہار کرتی ہیں۔ عام طور پرخواتین ادیبوں کے تخلیقی سرمایے کا مطالعہ اسی مخصوص نظریہ/رجحان کے تحت کیا جاتا ہے۔رشید جہاں، عصمت چغتائی، ترنم ریاض، پروین شاکر ، کشور ناہید اور فہمیدہ ریاض جیسی خواتین تخلیق کاروں کے یہاں تانیثی افکارونظریات موجود ہیں۔ ان قلم کاروں نے اپنے حقوق کی بازیافت کے لیے آواز بلند کی۔ بعض خواتین تخلیق کاروں کے یہاں مرد اساس معاشرے کی بالا دستی کے خلاف صدائے احتجاج بھی سنائی پڑتی ہے۔ فکشن کے ساتھ ساتھ شاعری پر بھی تانیثیت کے اثرات مرتب ہوئے۔خواتین فکشن نگاروں کے دوش بہ دوش اردو شاعرات نے بھی نسوانی جذبات و احساسات کو تخلیقی حسن کے ساتھ پیش کیا۔شاعرات کی تخلیقات میں محبت ایک ایسا بنیادی حوالہ ہے، جس میں زندگی کا ادھورا پن موجود ہو۔یعنی ان کی شاعری میں ہجرووصال اور ادھوری حسرتوںکا ایک پرکیف تخلیقی بیانیہ نظر آتا ہے۔ اردو زبان و ادب کی معروف شاعرہ پروین شاکر اس کی خوبصورت مثال ہیں۔موجودہ دور کی متعدد شاعرات کے یہاں اس کے گہرے نقوش ثبت ہوئے۔
اردو زبان و ادب میں عورت ہمیشہ سے ہی موضوع بحث رہی ہے۔ لیکن ٖہمارے ادیبوں اور شاعروں نےFeminism کے نام پرپھیلنے والی سماجی، تہذیبی اور سیاسی بے راہ روی کو کبھی تسلیم نہیں کیا۔دراصل مشرقی اقدارو روایات کے باعث ہمارے یہاں مغرب زدہ تانیثی نظریہ زیادہ پھل پھول نہ سکا۔ علامہ اقبالؔ نے عورت ذات کے تقدس کا اعتراف کرتے ہوئے کہاہے ’’وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ‘‘ ۔ عورت در اصل ممتااور محبت کا خوبصورت پیکر ہے۔صبروضبط کی کی علامت ہے۔ وہ اپنی قربانیوں سے اس کائنات کو حسین بناتی ہے۔خواتین قلم کاروں کی تخلیقات کی بہترتفہیم کے لیے عورت ذات کی شخصیت اور اس کے مختلف روپ کو سمجھنا ضروری ہے۔ موجودہ دور میں بعض شاعرات تانیثیت کے گمراہ کن خیالات سے متاثر نظر آتی ہیں لیکن نصرتؔ عتیق نے اپنے تخلیقی سروکارکے لیے زندگی کے روشن اور مثبت پہلوؤں پر توجہ مرکوز کی ہے۔یہی وجہ ہے ان کی شاعری میں روایتی انداز فکر اور مشرقی طرز احساس کا گہرا عکس ابھرتا ہے۔ ان کی تخلیقی کائنات کا رشتہ ایک ایسے روشن خیال تصور حیات سے ہے، جہاں خواب اور حقیقت کے سارے رنگ موجود ہوں۔نصرتؔ عتیق کے چند اشعار ملاحظہ کیجیے:
حصار کھینچ دیا ہے، تیری محبت نے
تیری پناہ سے باہر میں جا نہیں سکتی
درد کوئی اور دے اے زندگی
ہم ابھی پوری طرح ٹوٹے نہیں
کوئی دستک نہ کوئی آہٹ
پھر مجھے انتظار کس کا ہے
ڈاکٹر نصرت ؔعتیق موجودہ دور کی ایک باکمال اورہر دل عزیزشاعرہ ہیں۔ان کا تخلیقی سفر خوش اسلوبی کے ساتھ جاری و ساری ہے۔ ان کی شاعری زندگی کے احساسات کا لمس معلوم پڑتی ہے۔ہر طرح کے خارجی اثرات کے برعکس وہ جو کچھ محسوس کرتی ہیں انھیں لفظوں کے پیکر میں ڈھالنے کا فن جانتی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ عام قاری/سامع کو ان کی شاعری میں اپنی زندگی کا عکس محسوس ہوتا ہے۔ موصوفہ کی تخلیقات کو کسی مخصوص فکری تناظر میں پرکھنا مناسب نہیں۔ ان کی شاعری میں فکرواحساس کی ایک حسین دنیا آباد ہے، جہاں زندگی کا ہر رنگ نظر آتا ہے۔ان کی غزلوں میں خوشی و غم، ہجرووصال اور ادھوری حسرتوں کی ایک خواب آمیز دنیا موجود ہے۔موصوفہ کی غزلوں میں مسرت کے ساتھ ساتھ بصیرت کا رنگ بھی ابھرتا ہے۔ انہوں نے فکرواحساس کی جمالیاتی اقدارکو خوبی سے نبھایا ہے
ڈاکٹر نصرتؔ عتیق کی غزلوں کے مطالعہ سے اندازہ ہوتا ہے انہوں نے عشق و محبت کے روایتی موضوعات کو خوبصورتی سے شعری پیکر میں ڈھالا ہے۔ در اصل محبت کے بغیرانسانی زندگی ادھوری ہے۔ محبت کے دامن میں ہی زندگی کی بقاہے۔ ہر دور میں شاعروں نے فلسفۂ محبت کو اپنی شاعری میں برتا ہے۔ شاعروں نے عشق حقیقی اور عشق مجازی یعنی عشق کے دونوں رنگوں سے اپنی تخلیقات کوآراستہ کیا ہے۔ لیلی مجنوں اور شیریں فرہاد جیسے کردار شعری استعارے کی صورت اختیار کر گئے۔ دنیا کی تمام زبانوں کی شاعری میں حسن و عشق کی تخلیقی روایتیں ہمیں دعوت فکر دیتی ہیں۔ اردو غزل کا ذکر آتے ہی عشق و محبت کا تصورابھرتا ہے۔غزل کے لغوی معنی اس جانب اشارہ کرتا ہے۔عشقیہ مضامین سے شروع ہونے والی یہ شعری روایت آج حیات و کائنات کی تمام تروسعتوں کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے۔ نصرتؔ عتیق کی غزلوں میں جگہ جگہ عشقیہ موضوعات اور ہجرووصال کا خوبصورت عکس ابھرتا ہے۔نصرتؔ کی غزلوں میں کسک آمیز جذبات کی عکاسی نظر آتی ہے۔ لیکن انہوں نے عام تخلیقی روش کے برعکس شدید جذباتیت سے گریز کیا ہے۔ راہ عشق میں کچھ کھونے کا ملال ہے تو کچھ پانے کی خوشی و مسرت بھی جھلکتی ہے۔ شاعرات نے عام طورپربے وفائی اور عشق کی ناکامی کے نتیجے میں پیدا ہونے والی مایوسی و اداسی کو نمایاں انداز میں پیش کیا ہے لیکن نصرتؔ کی غزلوں میں نا امیدی اور زندگی کے تئیں بیزاری کا احساس نہیں ہوتا۔ نصرتؔ عتیق کی پرورش خالص مشرقی روایات کے زیر اثر ہوئی ہے۔لہذ ان کی غزلوں میں فکر ی پاکیزگی اور تخلیقی تقدس موجود ہے۔نصرتؔ عتیق کے چندغزلیہ اشعار پیش خدمت ہیں:
کیا کیا نہ مجھ پہ بیت گئی تیرے ہجر میں
بس خیر یہ ہوئی کہ میں پاگل نہیں ہوئی
سیاست کرنے والے تو سیاست کر رہے ہیں
ہم ہی بے کار بیٹھے ہیں، محبت کر رہے ہیں
آج پھر نیند مجھ سے روٹھی گئی
آج پھر خواب میرا ٹوٹا ہے
قابل غور ہے کہ اردو غزل ہر زمانے میں بے جا تنقید کا شکار رہی ہے ۔ اس پر طرح طرح کے غیر منطقی و بے بنیاد الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں ۔ کبھی اسے نیم وحشی صنف سخن کہاگیا تو کبھی اس کی گردن زدنی کا حکم صادر کیاگیا۔ لیکن اس ناسازگارماحول کے باوجود یہ صنف آج بھی ہر خاص وعام کے دلوں کی دھڑکن بنی ہوئی ہے۔درحقیقت اردو غزل اپنی منفردفکری و فنی خصوصیات کی بنیاد پر تمام شعری اصناف پر فوقیت رکھتی ہے۔اردو اد ب کے لیے یہ اعزاز کی بات ہے کہ دوسری زبانوں میں بھی صنف غزل رفتہ رفتہ مقبول ہو رہی ہے۔خاص طور پر مشاعروں نے اردو غزل کی مقبولیت میں غیر معمولی اضافہ کیا۔ شعری محفلوں اور مشاعروں سے نصرتؔ عتیق کی گہری وابستگی رہی ہے۔ مشاعروں کے علاوہ ان کی شعری تخلیقات ادبی رسائل و جرائد میں بھی تسلسل کے ساتھ اشاعت پذیر ہوتی رہی ہیں۔
ڈاکٹر نصرتؔ عتیق موجودہ دور کی ایک ایسی ہر دل عزیز شاعرہ ہیں، جن کے یہاں فکری وسعت کے ساتھ ساتھ تخلیقی اظہار کی قوت موجود ہے۔ روایتی موضوعات کے دوش بہ دوش عصری مسائل پر بھی نصرتؔ عتیق کی گہری نظر ہے۔ ہماری عصری زندگی معاشرتی،سیاسی، تہذیبی اور اخلاقی زوال سے عبارت ہے۔ ہر طرف فرقہ وارانہ منافرت اور مذہبی تعصب کی آندھی چل رہی ہے۔ایسے صبرآزما ماحول میں انسان ایک انجانے خوف اور غیر یقینی صورت حال کا شکار ہے۔مادہ پرستی اور صارفیت کے اس دور میں انسان کی اخلاقی اقدارووایات بری طرح متاثر ہوئی ہیں ۔ رشتے ناطے اور انسانی قدریں شکست و ریخت کا شکار ہیں۔نصرتؔ عتیق کی غزلوں میں زوال پذیرتہذیبی, معاشرتی اقدار کی جھلک نظر آتی ہے۔ چند اشعار ملاحظہ ہوں:
سارے رشتے منافقت کے ہیں
پیار، اخلاص سب دکھاوا ہے
موبائلوں کے دور سے نقصان یہ ہوا
کاغذ پر لکھنے پڑھنے کی عادت چلی گئی
محفل ہے میرے عہد کے ایسے وزیر کی
بولی جہاں پہ لگتی ہے سب کے ضمیر کی
آپ سب کی نمک حرامی سے
ملک منسوب ہے غلامی سے
ملک نصرتؔ ہے وبا میں مبتلا
کیسی ہولی، عید کی کیسی خوشی
درج بالا اشعار کے مطالعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ نصرتؔ عتیق کی غزلوں کا فکری دائرہ محدود نہیں ہے بلکہ انہوں نے مختلف موضوعات کو تخلیقی سانچوں ڈھلا ہے۔ڈاکٹر نصرتؔ کی غزلیہ شاعری اپنی فکری وابستگی اور طرز احساس کے ساتھ ساتھ تکنیکی اعتبار سے بھی قارئین/سامعین کو متاثر کرتی ہے۔ نصرتؔ عتیق کی غزلوں میں کلاسیکی رنگ کے دوش بہ دوش جدید طرز اظہاربھی آشکارا ہے۔ مشکل پسندی سے قطع ٔنظرانہوں نے سادگی اور سلاست کی راہ اختیار کی۔ موصوفہ اپنی شاعری کو نئی تخلیقی راہوں سے گزارنے کے لیے کوشاں نظر آتی ہیں۔ان کے کلام میں نغمگی، شگفتگی اور تخلیقی روانی موجود ہے۔نصرتؔ عتیق نے اپنا منفرد تخلیقی محاورہ خلق کیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ موصوفہ اپنے ہم عصرشاعرات میں ممتاز و نمایاں نظرا ٓتی ہیں۔
نصرتؔ عتیق نے سستی شہرت و مقبولیت کے لیے شاعری کی جمالیاتی قدروں اور تخلیقی معیار کو کبھی نظرانداز نہیں کیا۔ انہوں نے اپنی شاعری میں مشکل علامتوں اوراستعاروں سے اجتناب برتا ہے۔غیر ضروری فنی تجربات سے قطعٔ نظران کے یہاں فکری بصیرت جھلکتی ہے۔نصرتؔ عتیق داخلی کیفیات کو شعری سانچوں میں ڈھالنے کاہنر جانتی ہیں۔نصرتؔ عتیق کی غزلیہ شاعری میں جگہ جگہ پیکر تراشی اور امیجری کی دلکش تصویریں نظر آتی ہیں۔ نصرتؔ عتیق کا تخلیقی شعور خواب اور احساس سے عبارت ہے۔ ان کی غزلیں محبت آمیز یادوں کا کولاژ ہیں۔نصرتؔ عتیق نے اپنے داخلی جذبات واحساسات کی بنیاد پر اپنی غزلوں کی عمارت تعمیر کی ہے۔در اصل ان کا تخلیقی تجربہ آپ بیتی سے جگ بیتی کا ایک ایسادلکش سفر ہے، جس میں ہر خاص و عام کو اپنی زندگی کا لمس محسوس ہوتا ہے۔اردو شاعروںاور ادیبوں نے تہذیبی زوال کو بھی خصوصی اہمیت دی ہے۔ کلاسیکی دور سے عصر حاضر تک بیشتر قلم کاروں نے تہذیبی و ثقافتی شکست و ریخت کوموضوع بحث بنایا۔ نصرتؔ عتیق کے یہاں تہذیب کے ٹوٹنے اور بکھرنے کا نوحہ بھی موجود ہے۔ چند اشعار پیش خدمت ہیں:
اہل زباں بھی ان کی حفاظت نہ کر سکے
ہوتے ہیں بند روز رسالے نئے نئے
فرہادؔ و قیسؔ قصۂ پارینہ ہو گئے
نصرتؔ ہیں عاشقوں کے حوالے نئے نئے
راکھ کو دیکھ کر ہوا محسوس
آگ میں کتنی پردہ داری ہے
نصرتؔ عتیق ستائش کی تمنا اور صلے کی پرواہ کیے بغیراپنے تخلیقی سفر پر رواں دواں ہیں۔خوش آئند بات ہے کہ ان کا تخلیقی سفر فکری اور فنی دونوں سطحوں پر ارتقائی مراحل سے گزر رہا ہے۔ گزشتہ چند برسوں سے نصرت ؔ عتیق نے اپنے تخلیقی سروکار کے سبب ناقدین ادب کو اپنی جانب متوجہ کیا ہے۔یہ بات بلا تردد کہی جا سکتی ہے کہ ڈاکٹر نصرت ؔ عتیق اپنے شعری امتیازات کے سبب بین الاقوامی سطح پربھی گورکھپور شہر کا نام روشن کر رہی ہیں۔انھیں شاعری سے فطری رغبت ہے۔ موصوفہ اپنے تخلیقی سفر میں فکرواحساس کے نئے نئے فکری جزیروں کی متلاشی نظر آتی ہیں۔ ان کے یہاں روایت کی پاسداری کے ساتھ ساتھ جدت پسندی کی آہٹ بھی محسوس ہوتی ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں