پُر شکوہ تقریب پر غلام نبی خیالؔ کو خراجِ عقیدت

جنگ نیوز ڈیسک

سرینگر / وادیٔ کشمیر ہمیشہ سے صاحبِ بصیرت شخصیات کی آماجگاہ رہی ہے . ایسے دانشور جن کے قلم، فکر اور وجدان نے وادی کے فکری و ادبی افق کو منور کیا۔ انہی درخشاں ناموں میں ایک نام غلام نبی خیال کا بھی ہے جو ایک منجھے ہوئے شاعر، ممتاز مترجم، ہمہ جہت ادیب اور سب سے بڑھ کر ایک بےباک صحافی تھے، جنہوں نے سچائی کا پرچم ہمیشہ بلند رکھا۔
ان خیالات کا اظہار مقررین نے ایک پروقار تقریب میں کیا جس کا عنوان تھا:
"یادِ غلام نبی خیال- ایک صاحبِ فکر آواز: جنوبی ایشیا کے ممتاز کثیراللسانی مصنف، شاعر، ادیب اور صحافی کو خراجِ عقیدت”۔
ان کی دوسری برسی کے موقع پر یہ یادگار تقریب سرینگر کے امرسنگھ کلب میں منعقد ہوئی۔ یہ تقریب وزڈم فرسٹWisdom First کے زیرِ اہتمام منعقد کی گئی، جو ادب اور صحافت کے فروغ کے لیے وقف ایک موقر تنظیم ہے۔
تقریب کے آغاز پر ڈائریکٹر وزڈم فرسٹ اور ایڈیٹر ڈیلی سرینگر جنگ، بلال بشیر بٹ نے سامعین کا خیرمقدم کیا اور خیال صاحب کے اہلِ خانہ، کامران خیال، عرفان خیال اور ڈاکٹر صبا خیال کا پیغام پیش کیا۔
اس کے بعد صدر وزڈم فرنٹ خورشید اے قریشی نے معزز مقررین کو اسٹیج پر مدعو کیا اور خیال صاحب کی یاد میں خراجِ عقیدت پیش کیا۔
تقریب کی نظامت معروف صحافی رمیض مخدومی نے نہایت خوش اسلوبی سے انجام دی۔
تقریب میں مختلف شعبۂ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی ممتاز شخصیات ، سینئر صحافی، معروف شعراء، ادباء اور سیاسی رہنما شریک ہوئے اور سب نے غلام نبی خیال کی زندگی، خدمات اور فکری ورثے کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
یہ دن، دراصل خیال صاحب کے فکری ورثے پر غور و فکر اور ان کے قلم کی حرارت و سچائی کے جذبے کو یاد کرنے کا دن تھا۔ مقررین نے کہا کہ خیال صاحب نے اپنے قلم کے ذریعے زبان و بیان میں نئی جہتیں پیدا کیں۔
مقررین نے کہا کہ ان کی شاعری انسانی تجربے کے درد سے معمور تھی، جب کہ ان کی نثر سچائی کی روشنی سے منور تھی اور وہ روشنی جو آج بھی ہر باضمیر صحافی کے لیے رہنمائی کا چراغ ہے۔ ان کے تراجم، ان کی فکری بصیرت اور ان کے ادب میں رچی ثقافتی خوشبو آج بھی قارئین کے دلوں میں زندہ ہے۔
مقررین نے غلام نبی خیال کے ہمہ جہت کمالات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ وہ صرف ایک ادیب نہیں بلکہ ایک فکر، ایک وژن تھے جنہوں نے انسانیت، سچائی اور فنی دیانت کو الفاظ کے ذریعے بلند ترین مقام تک پہنچایا۔ خیال صاحب کو ایک ایسی جامع شخصیت کے طور پر یاد کیا گیا جنہوں نے اپنے قلم کو ایمانداری اور انسانیت کا عَلَم بنا دیا۔
تقریب میں شرکت کرنے والوں میں ممتاز ادباء، سینئر صحافی، شعراء اور سماجی شخصیات شامل تھیں، جن میں نمایاں نام ہیں:
حسرت گڈہ، ڈاکٹر ستیش ومل، پروفیسر فاروق فیاض، جوائنٹ ڈائریکٹر انفارمیشن سید شہنواز بخاری، صدر پریس کلب کشمیر سلیم پنڈت، نامور کارٹونسٹ بشیر احمد بشیر، ڈپٹی ڈائریکٹر انفارمیشن احسان الحق چشتی، صحافی امداد ساقی، ادیب شوکت شفیع، برہان حسین کلچرل آفیسر ڈی آئی پی آر، سینئر افسران پریس انفارمیشن بیورو اور دوردرشن شبیر احمد ڈار، مدثر امین، ماجد پنڈت، ڈی آئی پی آر افسر شکیل شان، جاوید ککرو، منظور ظہور چشتی، ایڈیٹر صوفی میڈیا سروس۔
سیاسی و سماجی حلقوں کی نمائندگی کرنے والوں میں طاہر سید (نیشنل کانفرنس)، سید تجمل (پی ڈی پی)، منظور بٹ (بی جے پی)، امتیاز چشتی (جے کے پی سی)، انعام النبی (اے آئی پی)، فردوس بابا، جگموہن سنگھ رینہ (جے کے اے پی) اور ڈاکٹر نواب ناصر (عام آدمی پارٹی) شامل تھے۔
معروف صحافیوں میں محمد اسلم بٹ (کے این ایس)، صنم اعجاز (وائس ٹی وی)، ناظم نذیر (تعمیل ارشاد) اعجازاحمد وارنے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا، جب کہ متعدد دیگر میڈیا شخصیات نے بھی مرحوم کے فکری و صحافتی کارناموں کو سراہا۔
تقریب کے اختتام پر ڈائریکٹوریٹ آف انفارمیشن کے اشتراک سے ایک موسیقی نشست کا بھی اہتمام کیا گیا، جس میں گلوکار عاقب اسعد نے خیال صاحب کے غزلوں کو دلکش انداز میں پیش کیا اور ان کی شاعری کی لازوال خوبصورتی کو پھر سے زندہ کیا۔
تقریب میں اسلامک یونیورسٹی کے طلباء ، نوجوان قلمکاروں اور ذرائع ابلاغ کے نمائیندوں کو اعزازت سے نوازا گیا۔
آخر میں مقررین نے کہا کہ غلام نبی خیال صرف ایک نام نہیں بلکہ ایک عہد، ایک تحریک اور ایک درخشاں روایت کا استعارہ ہیں۔
ان کا قلم آج بھی زندہ ہے۔
ان کی فکر آج بھی روشنی بانٹ رہی ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

بفلیاز پونچھ میں آگ لگنے سے 13 دکانیں جل کر خاکستر

پونچھ 7 جون: پونچھ ضلع کی تحصیل سورنکوٹ کے...

گھریلو ایل پی جی کی قیمت میں 29 روپے فی 14.2 کلوگرام سلنڈر کا اضافہ

نئی دہلی 7 جون: گھریلو کھانا پکانے والی گیس ایل...

شاعری

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

شاعری

جاوید قسیم شعر گوئی کی ہی پہچان سے سب جانتے...

دہلیز

راشیدہ یاسمین سارہ جب ہنستی تھی تو یوں محسوس ہوتا...

تازہ ترین خبریں

بفلیاز پونچھ میں آگ لگنے سے 13 دکانیں جل کر خاکستر

پونچھ 7 جون: پونچھ ضلع کی تحصیل سورنکوٹ کے...

گھریلو ایل پی جی کی قیمت میں 29 روپے فی 14.2 کلوگرام سلنڈر کا اضافہ

نئی دہلی 7 جون: گھریلو کھانا پکانے والی گیس ایل...

شاعری

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

شاعری

جاوید قسیم شعر گوئی کی ہی پہچان سے سب جانتے...

دہلیز

راشیدہ یاسمین سارہ جب ہنستی تھی تو یوں محسوس ہوتا...

پُر شکوہ تقریب پر غلام نبی خیالؔ کو خراجِ عقیدت

جنگ نیوز ڈیسک

سرینگر / وادیٔ کشمیر ہمیشہ سے صاحبِ بصیرت شخصیات کی آماجگاہ رہی ہے . ایسے دانشور جن کے قلم، فکر اور وجدان نے وادی کے فکری و ادبی افق کو منور کیا۔ انہی درخشاں ناموں میں ایک نام غلام نبی خیال کا بھی ہے جو ایک منجھے ہوئے شاعر، ممتاز مترجم، ہمہ جہت ادیب اور سب سے بڑھ کر ایک بےباک صحافی تھے، جنہوں نے سچائی کا پرچم ہمیشہ بلند رکھا۔
ان خیالات کا اظہار مقررین نے ایک پروقار تقریب میں کیا جس کا عنوان تھا:
"یادِ غلام نبی خیال- ایک صاحبِ فکر آواز: جنوبی ایشیا کے ممتاز کثیراللسانی مصنف، شاعر، ادیب اور صحافی کو خراجِ عقیدت”۔
ان کی دوسری برسی کے موقع پر یہ یادگار تقریب سرینگر کے امرسنگھ کلب میں منعقد ہوئی۔ یہ تقریب وزڈم فرسٹWisdom First کے زیرِ اہتمام منعقد کی گئی، جو ادب اور صحافت کے فروغ کے لیے وقف ایک موقر تنظیم ہے۔
تقریب کے آغاز پر ڈائریکٹر وزڈم فرسٹ اور ایڈیٹر ڈیلی سرینگر جنگ، بلال بشیر بٹ نے سامعین کا خیرمقدم کیا اور خیال صاحب کے اہلِ خانہ، کامران خیال، عرفان خیال اور ڈاکٹر صبا خیال کا پیغام پیش کیا۔
اس کے بعد صدر وزڈم فرنٹ خورشید اے قریشی نے معزز مقررین کو اسٹیج پر مدعو کیا اور خیال صاحب کی یاد میں خراجِ عقیدت پیش کیا۔
تقریب کی نظامت معروف صحافی رمیض مخدومی نے نہایت خوش اسلوبی سے انجام دی۔
تقریب میں مختلف شعبۂ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی ممتاز شخصیات ، سینئر صحافی، معروف شعراء، ادباء اور سیاسی رہنما شریک ہوئے اور سب نے غلام نبی خیال کی زندگی، خدمات اور فکری ورثے کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
یہ دن، دراصل خیال صاحب کے فکری ورثے پر غور و فکر اور ان کے قلم کی حرارت و سچائی کے جذبے کو یاد کرنے کا دن تھا۔ مقررین نے کہا کہ خیال صاحب نے اپنے قلم کے ذریعے زبان و بیان میں نئی جہتیں پیدا کیں۔
مقررین نے کہا کہ ان کی شاعری انسانی تجربے کے درد سے معمور تھی، جب کہ ان کی نثر سچائی کی روشنی سے منور تھی اور وہ روشنی جو آج بھی ہر باضمیر صحافی کے لیے رہنمائی کا چراغ ہے۔ ان کے تراجم، ان کی فکری بصیرت اور ان کے ادب میں رچی ثقافتی خوشبو آج بھی قارئین کے دلوں میں زندہ ہے۔
مقررین نے غلام نبی خیال کے ہمہ جہت کمالات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ وہ صرف ایک ادیب نہیں بلکہ ایک فکر، ایک وژن تھے جنہوں نے انسانیت، سچائی اور فنی دیانت کو الفاظ کے ذریعے بلند ترین مقام تک پہنچایا۔ خیال صاحب کو ایک ایسی جامع شخصیت کے طور پر یاد کیا گیا جنہوں نے اپنے قلم کو ایمانداری اور انسانیت کا عَلَم بنا دیا۔
تقریب میں شرکت کرنے والوں میں ممتاز ادباء، سینئر صحافی، شعراء اور سماجی شخصیات شامل تھیں، جن میں نمایاں نام ہیں:
حسرت گڈہ، ڈاکٹر ستیش ومل، پروفیسر فاروق فیاض، جوائنٹ ڈائریکٹر انفارمیشن سید شہنواز بخاری، صدر پریس کلب کشمیر سلیم پنڈت، نامور کارٹونسٹ بشیر احمد بشیر، ڈپٹی ڈائریکٹر انفارمیشن احسان الحق چشتی، صحافی امداد ساقی، ادیب شوکت شفیع، برہان حسین کلچرل آفیسر ڈی آئی پی آر، سینئر افسران پریس انفارمیشن بیورو اور دوردرشن شبیر احمد ڈار، مدثر امین، ماجد پنڈت، ڈی آئی پی آر افسر شکیل شان، جاوید ککرو، منظور ظہور چشتی، ایڈیٹر صوفی میڈیا سروس۔
سیاسی و سماجی حلقوں کی نمائندگی کرنے والوں میں طاہر سید (نیشنل کانفرنس)، سید تجمل (پی ڈی پی)، منظور بٹ (بی جے پی)، امتیاز چشتی (جے کے پی سی)، انعام النبی (اے آئی پی)، فردوس بابا، جگموہن سنگھ رینہ (جے کے اے پی) اور ڈاکٹر نواب ناصر (عام آدمی پارٹی) شامل تھے۔
معروف صحافیوں میں محمد اسلم بٹ (کے این ایس)، صنم اعجاز (وائس ٹی وی)، ناظم نذیر (تعمیل ارشاد) اعجازاحمد وارنے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا، جب کہ متعدد دیگر میڈیا شخصیات نے بھی مرحوم کے فکری و صحافتی کارناموں کو سراہا۔
تقریب کے اختتام پر ڈائریکٹوریٹ آف انفارمیشن کے اشتراک سے ایک موسیقی نشست کا بھی اہتمام کیا گیا، جس میں گلوکار عاقب اسعد نے خیال صاحب کے غزلوں کو دلکش انداز میں پیش کیا اور ان کی شاعری کی لازوال خوبصورتی کو پھر سے زندہ کیا۔
تقریب میں اسلامک یونیورسٹی کے طلباء ، نوجوان قلمکاروں اور ذرائع ابلاغ کے نمائیندوں کو اعزازت سے نوازا گیا۔
آخر میں مقررین نے کہا کہ غلام نبی خیال صرف ایک نام نہیں بلکہ ایک عہد، ایک تحریک اور ایک درخشاں روایت کا استعارہ ہیں۔
ان کا قلم آج بھی زندہ ہے۔
ان کی فکر آج بھی روشنی بانٹ رہی ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں