جنگ نیوز ڈیسک
سرینگر: صحافتی برتری کے اعزاز میں ایک تاریخی اقدام کے طور پر، پریس کلب آف کشمیر نے کشمیر کے لیجنڈری صحافی، ادیب، اور شاعر مرحوم غلام نبی خیال کی غیر معمولی میراث کی یاد میں "خیال سالانہ ایوارڈ”کے قیام کا اعلان کیا ہے۔
یہ اعلان پریس کلب آف کشمیر کے صدر سلیم پنڈت نے وِزڈم فرسٹWisdom First کے زیر اہتمام امرو سنگھ کلب، سرینگر میں منعقدہ ایک خراج تحسین تقریب کے دوران کیا، جس کا عنوان تھا”غلام نبی خیال کی یاد: ایک فکری آواز جنوبی ایشیا کے ممتاز کثیر اللسانی ادیب، مصنف، شاعر، اور صحافی کے لیے خراج عقیدت”۔
پنڈت نے کہا کہ یہ ایوارڈ ہر سال ایک ایسے نوجوان صحافی کو دیا جائے گا جو غیر معمولی ایمانداری، ہمت، اور پیشے کے تئیں عزم کا مظاہرہ کرے۔ انہوں نے کہا، "یہ ایوارڈ محض ایک شناخت کا نشان نہیں ہے؛ یہ خیال صاحب کی سچائی، دانشمندی، اور نڈر صحافت کے تئیں زندگی بھر کی لگن کو مجسم کرتا ہے۔”خیال کی شاندار پیشہ ورانہ زندگی کو یاد کرتے ہوئے، پنڈت نےکہا خیال صاحب ایک ایسی ہستی جن کی متعدد زبانوں پر مہارت نے کئی دہائیوں تک کشمیر کے صحافتی منظرنامے کو گہرائی سے متاثر کیا۔ خیال کا پیشہ ورانہ سفر عالمی شہرت یافتہ میڈیا اداروں تک پھیلا، جن میں ٹائم میگزین، انڈیا ٹوڈے، دی اسٹیٹسمین، دی گارڈین (لندن)، پی ٹی آئی، وائس آف امریکہ، اور دی ایلسٹریٹڈ ویکلی آف انڈیا شامل ہیں۔ اپنے آخری برسوں میں، انہوں نے 2003 سے انگریزی ہفت روزہ وائس آف کشمیر کے ایڈیٹر کے طور پر خدمات انجام دیں۔
پنڈت نے زور دیا کہ پریس کلب آف کشمیر کو اس اقدام پر بے حد فخر ہے، جو اگلے سال باضابطہ طور پر ایوارڈ پیش کرے گا۔ انہوں نے کہا، “اس سالانہ شناخت کے ذریعے، ہم امید کرتے ہیں کہ کشمیری صحافیوں کی نئی نسل کو خیال صاحب کے فکری گہرائی اور اخلاقی یقین کے ساتھ برتری حاصل کرنے کی ترغیب ملے گی۔”
یہ اعلان پریس انفارمیشن بیورو، دوردرشن نیوز، اور ڈائریکٹوریٹ آف انفارمیشن اینڈ پبلک ریلیشنز کے سینئر عہدیداروں کی موجودگی میں کیا گیا، جن کے ساتھ صحافیوں، ادبی شخصیات، میڈیا طلبہ، اور کئی سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کی ایک معزز جماعت بھی موجود تھی۔اپنی قدردانی کا اظہار کرتے ہوئے، پنڈت نے وِزڈم فرسٹ Wisdom Firstٹیم کی تعریف کی کہ انہوں نے ایک ایسی تقریب منعقد کی جو نہ صرف خیال صاحب کے دیرپا تعاون کو خراج تحسین پیش کرتی ہے بلکہ ان کی فکری اور صحافتی میراث کو محفوظ رکھنے اور آگے بڑھانے کی اہمیت کو بھی اجاگر کرتی ہے۔


