بڈگام اور نگروٹہ میں ضمنی انتخابات کے اعلان کے ساتھ ہی سیاسی جماعتوں کے درمیان زبانی جنگ کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ الزامات، دعوے، وعدے اور بیانات کا ایک شور برپا ہے۔ وہی پرانے نعرے، وہی چہرے اور وہی سیاسی کھیل جیسے ہر انتخاب سے پہلے ایک نیا ڈرامہ اسٹیج کیا جاتا ہے۔
عوامی مسائل پر مہینوں خاموش رہنے والے رہنما اب اچانک عوام کے "خیرخواہ” بن گئے ہیں۔ مہنگائی، بے روزگاری، صحت، تعلیم اور بنیادی سہولیات جیسے اصل مسائل کہیں پسِ منظر میں چلے گئے ہیں، اور ان کی جگہ سیاسی بیان بازی نے لے لی ہے۔ افسوس کہ انتخابات کے دن قریب آتے ہی سیاست دانوں کو عوام یاد آتی ہے، لیکن جیتنے کے بعد وہی عوام بھول جاتی ہے۔
یہ سب کچھ کوئی نیا منظر نہیں، بلکہ برسوں سے جاری ایک پرانی روایت ہے۔ سیاسی جماعتیں انتخابات کو خدمت کا نہیں بلکہ طاقت کے حصول کا ذریعہ سمجھتی ہیں۔ عوام کے جذبات اور مذہبی یا علاقائی حساسیت کو استعمال کر کے ووٹ حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہی وہ روش ہے جس نے جمہوریت کی روح کو کمزور کیا ہے۔
بڈگام اور نگروٹہ کے عوام کو چاہیے کہ وہ اس بار محض نعرے سننے کے بجائے سوال کریں پچھلے وعدے کہاں گئے؟ ترقی کے جو دعوے کیے گئے تھے، ان کا انجام کیا ہوا؟ اگر عوام ہر بار اسی تماشے کا حصہ بنے رہے تو حالات کبھی نہیں بدلیں گے۔
وقت کا تقاضا ہے کہ عوام سیاسی اداکاری کے اس اسٹیج سے ہٹ کر اپنے ضمیر کی آواز سنیں۔ قیادت کا انتخاب کارکردگی کی بنیاد پر ہو، نہ کہ جذباتی نعروں پر۔ یہی بیداری حقیقی جمہوریت کی بنیاد بن سکتی ہے۔


