بڈگام ضمنی انتخاب کی اہمیت

 

طارق گیلانی

جمہوریت میں ووٹ عوام کا سب سے طاقتور ہتھیار ہے۔ یہ صرف بیلٹ باکس میں بٹن دبانے کا عمل نہیں، بلکہ عوام کی مرضی، ذمہ داری اور جمہوری نظام پر ان کے ایمان کا اظہار ہے۔ ہر ووٹ کے ساتھ عوام کے خواب، امنگیں اور مستقبل کی سمت وابستہ ہوتی ہے۔ بااختیار ووٹر یہ طے کرتا ہے کہ کون سا لیڈر نمائندگی کرے گا اور کس نوعیت کی سیاست اور حکمرانی آگے بڑھے گی۔
جب عوام اہل، دیانتدار اور تجربہ کار نمائندے منتخب کرتے ہیں تو جمہوری نظام ترقی کرتا ہے، لیکن اگر قیادت کمزور یا موقع پرست ہو تو اس کے منفی اثرات پورے معاشرے پر مرتب ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بڈگام کا ضمنی انتخاب محض ایک نشست پر ہونے والا انتخاب نہیں، بلکہ عوامی مستقبل کے ایک بڑے فیصلے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
اکتوبر 2024 کے اسمبلی انتخابات میں نیشنل کانفرنس (این سی) نے پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کو 18485 ووٹوں کے فرق سے شکست دے کر اپنی پوزیشن مستحکم کی تھی۔ تاہم اس بار صورتِ حال بالکل مختلف ہے کیونکہ یہ انتخاب کثیرالجماعتی اور کثیرالجہتی شکل اختیار کرچکا ہے۔
بڈگام میں ہونے والے متوقع ضمنی انتخابات کے حوالے سے سیاسی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں، تاہم کئی بڑی جماعتیں ابھی تک اپنے امیدواروں کے اعلان سے گریزاں ہیں۔
اپنی پارٹی نے تاحال واضح نہیں کیا کہ وہ کس امیدوار کو میدان میں اتارے گی۔ یاد رہے کہ 2024 کے انتخابات میں اپنی پارٹی کے امیدوار منتظر مہی‌الدین نے نیشنل کانفرنس کے حق میں دستبرداری اختیار کی تھی۔ اس بار بھی امکان ہے کہ وہی پارٹی کے امیدوار ہوں، لیکن حتمی فیصلہ سامنے آنا ابھی باقی ہے۔
دوسری جانب نیشنل کانفرنس بھی اپنے امیدوار کے انتخاب میں تاخیر کا شکار دکھائی دیتی ہے۔ ذرائع کے مطابق پارٹی کے اندر مقامی اور غیر مقامی امیدواروں کے انتخاب پر اختلافات پائے جاتے ہیں۔ ایک دھڑا مقامیا میدوار کے حق میں ہے جبکہ دوسرا غیر مقامی امیدوار کو ترجیح دے رہا ہے، جس کے باعث فیصلہ مؤخر ہوتا جا رہا ہے۔
ادھر، جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ فرنٹ (JDF) جسے جماعتِ اسلامی کی حمایت حاصل ہے اور جو پیپلز ڈیموکریٹک فرنٹ (PDF) اور پیپلز کانفرنس جیسے سیاسی دھڑوں سے بھی منسلک ہے نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس ضمنی انتخاب میں بھرپور حصہ لے گی۔ حال ہی میری پارٹی قیادت کے ساتھ ملاقات میں انہوں نے واضح کیا کہ وہ انتخابی سیاست میں فعال کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہیں۔ سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ JDF کی میدان میں آمد پی ڈی پی کے ووٹ بینک میں واضح دراڑ ڈال سکتی ہے، جو کہ کشمیر کی سیاست پر دیرپا اثر ڈالنے والا عنصر ہو سکتا ہے۔
پی ڈی پی (PDP) جو کبھی ایک مضبوط علاقائی جماعت سمجھی جاتی تھی، اس انتخاب میں ناکامی کی صورت میں سیاسی طور پر مزید غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہو سکتی ہے۔ پارٹی کے لیے یہ انتخاب ایک کڑا امتحان ثابت ہو سکتا ہے۔
عوامی اتحاد پارٹی کے جنرل سیکریٹری نذیر احمد خان، جو مقامی مسائل سے گہری واقفیت اور عوامی روابط کے حوالے سے جانے جاتے ہیں، اگر انتخابی میدان میں اترتے ہیں تو سخت حریف ثابت ہو سکتے ہیں۔ ان کی شرکت سے مقابلہ خاصا دلچسپ ہو سکتا ہے۔
عوامی فورم بھی ضمنی انتخاب میں حصہ لینے پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔ فورم کی قیادت ایسے منجھے ہوئے سیاسی خاندانوں کے ہاتھ میں ہے جنہیں خطے کی سیاست میں گہرا تجربہ، عوامی قبولیت اور اثر و رسوخ حاصل ہے۔ ذرائع کے مطابق فورم کی قیادت دوسرے بااثر اور باعزم افراد سے رابطے میں ہے تاکہ ایک مؤثر انتخابی حکمتِ عملی تیار کی جا سکے۔ فورم کا بنیادی مقصد مؤثر نمائندگی، عوامی مسائل کا حل، اور شفاف و ترقی پسند سیاست کو فروغ دینا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ، کئی آزاد امیدوار بھی بڈگام کی انتخابی دوڑ میں شامل ہونے کی تیاری کر رہے ہیں۔ ماضی کے تجربات سے معلوم ہوتا ہے کہ آزاد امیدوار اکثر ووٹوں کی تقسیم میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، اور بعض اوقات فیصلہ کن حیثیت بھی اختیار کر لیتے ہیں۔ اس لیے ان کے اثرات کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
بڈگام کے عوام اب محض نعروں کے بجائے عملی وعدے اور کارکردگی دیکھ رہے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ ان کے حقیقی مسائل صرف سنجیدہ اور باصلاحیت قیادت ہی حل کر سکتی ہے۔ چند کلیدی مسائل یہ ہیں:
بڈگام میں جدید طبی سہولتوں کی کمی ایک سنگین مسئلہ ہے۔ یہاں اب تک کوئی میڈیکل کالج قائم نہیں کیا گیا، جس کی وجہ سے مریضوں کو معمولی علاج کے لیے بھی سرینگر جانا پڑتا ہے۔ اس سفر سے نہ صرف قیمتی وقت ضائع ہوتا ہے بلکہ غریب عوام کو اضافی مالی بوجھ بھی برداشت کرنا پڑتا ہے۔ اگر ضلع میں میڈیکل کالج قائم ہو جائے تو مقامی سطح پر علاج کی بہتر سہولتیں میسر آئیں گی، تعلیم کے نئے دروازے کھلیں گے اور روزگار کے مواقع بھی بڑھیں گے۔
سویہ بگ کے عوام طویل عرصے سے علیحدہ تحصیل دفتر کے قیام کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ مقامی سطح پر تحصیل دفتر کا قیام عوام کی دیرینہ مانگ پوری کرے گا اور انہیں کاموں کی انجام دہی میں آسانی حاصل ہوگی۔
اسی طرح چھون، مہوارہ، گلوان پورہ، ہرن اور دھرمنہ کو ماڈل ولیج کا درجہ دیا جانا چاہیے، تاکہ ان علاقوں میں بنیادی سہولیات، انفراسٹرکچر، تعلیم، صحت اور روزگار کے مواقع میں بہتری آئے، اور دیہی ترقی کو مؤثر انداز میں فروغ مل سکے۔
بڈگام کے متعدد علاقوں میں آج بھی صاف پینے کے پانی کی فراہمی ایک خواب بنی ہوئی ہے۔ سرکار اور متعلقہ محکموں کی جانب سے بارہا وعدے اور اعلانات کیے گئے، مگر زمین پر صورتحال جوں کی توں ہے۔ لوگ روزانہ آلودہ اور غیر صحت بخش پانی استعمال کرنے پر مجبور ہیں جس سے بیماریوں میں اضافہ ہورہا ہے۔ عوام کا کہنا ہے کہ نلوں میں یا تو پانی آتا ہی نہیں یا ناقص معیار کا ہوتا ہے۔ سرکار کی عدم توجہی نے اس سنگین مسئلے کو مزید گھمبیر بنا دیا ہے۔
بڑگام میں اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد طویل عرصے سے روزگار کے مواقع نہ ملنے کے باعث شدید مایوسی اور ذہنی دباؤ میں ہے۔ سرکاری بھرتیوں میں تاخیر اور نجی شعبے کی محدود گنجائش نے ان کے مسائل میں اضافہ کردیا ہے۔ مقامی نوجوان حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ فوری طور پر بے روزگاری الاؤنس جاری کیا جائے تاکہ کم از کم بنیادی مالی سہارا مل سکے۔ عوامی سطح پر یہ مطالبہ زور پکڑ رہا ہے اور احتجاجی آوازیں بلند ہورہی ہیں-
بڈگام میں سڑکوں کی خستہ حالی عوام کے لیے ایک نمایاں اور سنگین مسئلہ بن چکی ہے، جو روز مرہ سفر، معاشی سرگرمیوں اور حفاظتی پہلوؤں پر منفی اثر ڈال رہی ہے۔ ہمہامہ سے بڈگام تک مرکزی سڑک کو فوری طور پر ڈبل لین میں تبدیل کرنا نہ صرف ٹریفک کی روانی کو بہتر کرے گا بلکہ حادثات کے امکانات میں نمایاں کمی لائے گا۔ اسی طرح میرگڈ سے سویہ بگ تک سڑک کی توسیع دیہی آبادی کو بہتر نقل و حمل اور تجارت کے مواقع فراہم کرے گی۔ حیدرپورہ سے بڈگام، براستہ نارہ کرہ روڈ کی کشادگی ایک اہم متبادل راستہ پیدا کرے گی، جو مرکزی شاہراہ پر ٹریفک بوجھ کم کرنے کا مؤثر ذریعہ ثابت ہوگا اور عوام کو محفوظ، آرام دہ اور تیز تر سفری سہولتیں فراہم کرے گا، یوں ضلع کی مجموعی ترقی میں مدد ملے گی۔
بڈگام کے عوام اب پرانی سیاست اور محض انتخابی نعروں کو قبول کرنے پر آمادہ نہیں ہیں۔ وہ لیڈرشپ کا انتخاب منشور سے زیادہ اس کی سابقہ کارکردگی، شفافیت اور دیانت سے کر رہے ہیں۔ عوام یہ جان چکے ہیں کہ ان کا ووٹ صرف پارٹی لیبل پر نہیں بلکہ امیدوار کے کردار اور عملی صلاحیت پر دیا جانا چاہیے۔
بڈگام کا ضمنی انتخاب محض ایک نشست کا معاملہ نہیں، بلکہ عوامی شعور اور جمہوریت کی اصل روح کا امتحان ہے۔ یہ الیکشن اس بات کا فیصلہ کرے گا کہ آیا یہاں ترقی، شفافیت اور جوابدہی پر مبنی ایک نئی سیاسی سمت جنم لے گی یا پھر کھوکھلے نعروں اور پرانی روش کی سیاست برقرار رہے گی۔ اس اہم مرحلے پر بڈگام کے ووٹروں پر ایک بڑی سماجی و اخلاقی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے سیاسی مستقبل کو باشعور فیصلے سے نئی سمت دیں۔اگر عوام ہوش مندی اور بصیرت سے ووٹ کا استعمال کریں تو بڈگام اپنے دیرینہ خوابوں کی تعبیر حاصل کر سکتا ہے—جدید ہسپتال، صاف پانی، روزگار کے مواقع اور ایسا نظامِ حکومت جو عوام کی خدمت کے لیے ہو، نہ کہ سیاست کے لیے۔ یہاں ہر ووٹ محض ایک پرچی نہیں، بلکہ وہ پیغام ہے جو پورے جموں و کشمیر کے جمہوری مستقبل کی سمت متعین کرے گا: کیا عوام دیانت پر مبنی ترقی چاہتے ہیں یا ماضی کی غفلت پر قائم رہنا؟یہ انتخاب محض نمائندے کے چناؤ سے آگے بڑھ کر عوام کو موقع دیتا ہے کہ وہ نئے رخ کا تعین کریں—ایسی سیاست کا جو شفاف، جواب دہ اور ترقی پسند ہو، اور جو جمہوریت کو عوامی امنگوں کا حقیقی عکس بنا دے-

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

مجبور مسکراہٹ

ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی حسد ایک ایسی بیماری ہے کہ جب...

استاد کا پیشہ ایک قومی ذمہ داری ہے

محمد شبیر کھٹانہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی اور آئینی...

عمر سرکار کے 19 ماہ: کامیابیاں یا ناکامیاں؟

رشید پروینؔ  سوپور 3 جون 2026 کو این سی کا ایک گرینڈ...

خط

محمد شاکر لبانہ ڈنمارک کے تیسرے بڑے شہر آر ہوس...

میں رکشہ والا

شبیر احمد میر میں سڑک کے اس طرف جہونپڑیوں...

تازہ ترین خبریں

مجبور مسکراہٹ

ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی حسد ایک ایسی بیماری ہے کہ جب...

استاد کا پیشہ ایک قومی ذمہ داری ہے

محمد شبیر کھٹانہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی اور آئینی...

عمر سرکار کے 19 ماہ: کامیابیاں یا ناکامیاں؟

رشید پروینؔ  سوپور 3 جون 2026 کو این سی کا ایک گرینڈ...

خط

محمد شاکر لبانہ ڈنمارک کے تیسرے بڑے شہر آر ہوس...

میں رکشہ والا

شبیر احمد میر میں سڑک کے اس طرف جہونپڑیوں...

بڈگام ضمنی انتخاب کی اہمیت

 

طارق گیلانی

جمہوریت میں ووٹ عوام کا سب سے طاقتور ہتھیار ہے۔ یہ صرف بیلٹ باکس میں بٹن دبانے کا عمل نہیں، بلکہ عوام کی مرضی، ذمہ داری اور جمہوری نظام پر ان کے ایمان کا اظہار ہے۔ ہر ووٹ کے ساتھ عوام کے خواب، امنگیں اور مستقبل کی سمت وابستہ ہوتی ہے۔ بااختیار ووٹر یہ طے کرتا ہے کہ کون سا لیڈر نمائندگی کرے گا اور کس نوعیت کی سیاست اور حکمرانی آگے بڑھے گی۔
جب عوام اہل، دیانتدار اور تجربہ کار نمائندے منتخب کرتے ہیں تو جمہوری نظام ترقی کرتا ہے، لیکن اگر قیادت کمزور یا موقع پرست ہو تو اس کے منفی اثرات پورے معاشرے پر مرتب ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بڈگام کا ضمنی انتخاب محض ایک نشست پر ہونے والا انتخاب نہیں، بلکہ عوامی مستقبل کے ایک بڑے فیصلے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
اکتوبر 2024 کے اسمبلی انتخابات میں نیشنل کانفرنس (این سی) نے پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کو 18485 ووٹوں کے فرق سے شکست دے کر اپنی پوزیشن مستحکم کی تھی۔ تاہم اس بار صورتِ حال بالکل مختلف ہے کیونکہ یہ انتخاب کثیرالجماعتی اور کثیرالجہتی شکل اختیار کرچکا ہے۔
بڈگام میں ہونے والے متوقع ضمنی انتخابات کے حوالے سے سیاسی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں، تاہم کئی بڑی جماعتیں ابھی تک اپنے امیدواروں کے اعلان سے گریزاں ہیں۔
اپنی پارٹی نے تاحال واضح نہیں کیا کہ وہ کس امیدوار کو میدان میں اتارے گی۔ یاد رہے کہ 2024 کے انتخابات میں اپنی پارٹی کے امیدوار منتظر مہی‌الدین نے نیشنل کانفرنس کے حق میں دستبرداری اختیار کی تھی۔ اس بار بھی امکان ہے کہ وہی پارٹی کے امیدوار ہوں، لیکن حتمی فیصلہ سامنے آنا ابھی باقی ہے۔
دوسری جانب نیشنل کانفرنس بھی اپنے امیدوار کے انتخاب میں تاخیر کا شکار دکھائی دیتی ہے۔ ذرائع کے مطابق پارٹی کے اندر مقامی اور غیر مقامی امیدواروں کے انتخاب پر اختلافات پائے جاتے ہیں۔ ایک دھڑا مقامیا میدوار کے حق میں ہے جبکہ دوسرا غیر مقامی امیدوار کو ترجیح دے رہا ہے، جس کے باعث فیصلہ مؤخر ہوتا جا رہا ہے۔
ادھر، جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ فرنٹ (JDF) جسے جماعتِ اسلامی کی حمایت حاصل ہے اور جو پیپلز ڈیموکریٹک فرنٹ (PDF) اور پیپلز کانفرنس جیسے سیاسی دھڑوں سے بھی منسلک ہے نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس ضمنی انتخاب میں بھرپور حصہ لے گی۔ حال ہی میری پارٹی قیادت کے ساتھ ملاقات میں انہوں نے واضح کیا کہ وہ انتخابی سیاست میں فعال کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہیں۔ سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ JDF کی میدان میں آمد پی ڈی پی کے ووٹ بینک میں واضح دراڑ ڈال سکتی ہے، جو کہ کشمیر کی سیاست پر دیرپا اثر ڈالنے والا عنصر ہو سکتا ہے۔
پی ڈی پی (PDP) جو کبھی ایک مضبوط علاقائی جماعت سمجھی جاتی تھی، اس انتخاب میں ناکامی کی صورت میں سیاسی طور پر مزید غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہو سکتی ہے۔ پارٹی کے لیے یہ انتخاب ایک کڑا امتحان ثابت ہو سکتا ہے۔
عوامی اتحاد پارٹی کے جنرل سیکریٹری نذیر احمد خان، جو مقامی مسائل سے گہری واقفیت اور عوامی روابط کے حوالے سے جانے جاتے ہیں، اگر انتخابی میدان میں اترتے ہیں تو سخت حریف ثابت ہو سکتے ہیں۔ ان کی شرکت سے مقابلہ خاصا دلچسپ ہو سکتا ہے۔
عوامی فورم بھی ضمنی انتخاب میں حصہ لینے پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔ فورم کی قیادت ایسے منجھے ہوئے سیاسی خاندانوں کے ہاتھ میں ہے جنہیں خطے کی سیاست میں گہرا تجربہ، عوامی قبولیت اور اثر و رسوخ حاصل ہے۔ ذرائع کے مطابق فورم کی قیادت دوسرے بااثر اور باعزم افراد سے رابطے میں ہے تاکہ ایک مؤثر انتخابی حکمتِ عملی تیار کی جا سکے۔ فورم کا بنیادی مقصد مؤثر نمائندگی، عوامی مسائل کا حل، اور شفاف و ترقی پسند سیاست کو فروغ دینا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ، کئی آزاد امیدوار بھی بڈگام کی انتخابی دوڑ میں شامل ہونے کی تیاری کر رہے ہیں۔ ماضی کے تجربات سے معلوم ہوتا ہے کہ آزاد امیدوار اکثر ووٹوں کی تقسیم میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، اور بعض اوقات فیصلہ کن حیثیت بھی اختیار کر لیتے ہیں۔ اس لیے ان کے اثرات کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
بڈگام کے عوام اب محض نعروں کے بجائے عملی وعدے اور کارکردگی دیکھ رہے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ ان کے حقیقی مسائل صرف سنجیدہ اور باصلاحیت قیادت ہی حل کر سکتی ہے۔ چند کلیدی مسائل یہ ہیں:
بڈگام میں جدید طبی سہولتوں کی کمی ایک سنگین مسئلہ ہے۔ یہاں اب تک کوئی میڈیکل کالج قائم نہیں کیا گیا، جس کی وجہ سے مریضوں کو معمولی علاج کے لیے بھی سرینگر جانا پڑتا ہے۔ اس سفر سے نہ صرف قیمتی وقت ضائع ہوتا ہے بلکہ غریب عوام کو اضافی مالی بوجھ بھی برداشت کرنا پڑتا ہے۔ اگر ضلع میں میڈیکل کالج قائم ہو جائے تو مقامی سطح پر علاج کی بہتر سہولتیں میسر آئیں گی، تعلیم کے نئے دروازے کھلیں گے اور روزگار کے مواقع بھی بڑھیں گے۔
سویہ بگ کے عوام طویل عرصے سے علیحدہ تحصیل دفتر کے قیام کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ مقامی سطح پر تحصیل دفتر کا قیام عوام کی دیرینہ مانگ پوری کرے گا اور انہیں کاموں کی انجام دہی میں آسانی حاصل ہوگی۔
اسی طرح چھون، مہوارہ، گلوان پورہ، ہرن اور دھرمنہ کو ماڈل ولیج کا درجہ دیا جانا چاہیے، تاکہ ان علاقوں میں بنیادی سہولیات، انفراسٹرکچر، تعلیم، صحت اور روزگار کے مواقع میں بہتری آئے، اور دیہی ترقی کو مؤثر انداز میں فروغ مل سکے۔
بڈگام کے متعدد علاقوں میں آج بھی صاف پینے کے پانی کی فراہمی ایک خواب بنی ہوئی ہے۔ سرکار اور متعلقہ محکموں کی جانب سے بارہا وعدے اور اعلانات کیے گئے، مگر زمین پر صورتحال جوں کی توں ہے۔ لوگ روزانہ آلودہ اور غیر صحت بخش پانی استعمال کرنے پر مجبور ہیں جس سے بیماریوں میں اضافہ ہورہا ہے۔ عوام کا کہنا ہے کہ نلوں میں یا تو پانی آتا ہی نہیں یا ناقص معیار کا ہوتا ہے۔ سرکار کی عدم توجہی نے اس سنگین مسئلے کو مزید گھمبیر بنا دیا ہے۔
بڑگام میں اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد طویل عرصے سے روزگار کے مواقع نہ ملنے کے باعث شدید مایوسی اور ذہنی دباؤ میں ہے۔ سرکاری بھرتیوں میں تاخیر اور نجی شعبے کی محدود گنجائش نے ان کے مسائل میں اضافہ کردیا ہے۔ مقامی نوجوان حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ فوری طور پر بے روزگاری الاؤنس جاری کیا جائے تاکہ کم از کم بنیادی مالی سہارا مل سکے۔ عوامی سطح پر یہ مطالبہ زور پکڑ رہا ہے اور احتجاجی آوازیں بلند ہورہی ہیں-
بڈگام میں سڑکوں کی خستہ حالی عوام کے لیے ایک نمایاں اور سنگین مسئلہ بن چکی ہے، جو روز مرہ سفر، معاشی سرگرمیوں اور حفاظتی پہلوؤں پر منفی اثر ڈال رہی ہے۔ ہمہامہ سے بڈگام تک مرکزی سڑک کو فوری طور پر ڈبل لین میں تبدیل کرنا نہ صرف ٹریفک کی روانی کو بہتر کرے گا بلکہ حادثات کے امکانات میں نمایاں کمی لائے گا۔ اسی طرح میرگڈ سے سویہ بگ تک سڑک کی توسیع دیہی آبادی کو بہتر نقل و حمل اور تجارت کے مواقع فراہم کرے گی۔ حیدرپورہ سے بڈگام، براستہ نارہ کرہ روڈ کی کشادگی ایک اہم متبادل راستہ پیدا کرے گی، جو مرکزی شاہراہ پر ٹریفک بوجھ کم کرنے کا مؤثر ذریعہ ثابت ہوگا اور عوام کو محفوظ، آرام دہ اور تیز تر سفری سہولتیں فراہم کرے گا، یوں ضلع کی مجموعی ترقی میں مدد ملے گی۔
بڈگام کے عوام اب پرانی سیاست اور محض انتخابی نعروں کو قبول کرنے پر آمادہ نہیں ہیں۔ وہ لیڈرشپ کا انتخاب منشور سے زیادہ اس کی سابقہ کارکردگی، شفافیت اور دیانت سے کر رہے ہیں۔ عوام یہ جان چکے ہیں کہ ان کا ووٹ صرف پارٹی لیبل پر نہیں بلکہ امیدوار کے کردار اور عملی صلاحیت پر دیا جانا چاہیے۔
بڈگام کا ضمنی انتخاب محض ایک نشست کا معاملہ نہیں، بلکہ عوامی شعور اور جمہوریت کی اصل روح کا امتحان ہے۔ یہ الیکشن اس بات کا فیصلہ کرے گا کہ آیا یہاں ترقی، شفافیت اور جوابدہی پر مبنی ایک نئی سیاسی سمت جنم لے گی یا پھر کھوکھلے نعروں اور پرانی روش کی سیاست برقرار رہے گی۔ اس اہم مرحلے پر بڈگام کے ووٹروں پر ایک بڑی سماجی و اخلاقی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے سیاسی مستقبل کو باشعور فیصلے سے نئی سمت دیں۔اگر عوام ہوش مندی اور بصیرت سے ووٹ کا استعمال کریں تو بڈگام اپنے دیرینہ خوابوں کی تعبیر حاصل کر سکتا ہے—جدید ہسپتال، صاف پانی، روزگار کے مواقع اور ایسا نظامِ حکومت جو عوام کی خدمت کے لیے ہو، نہ کہ سیاست کے لیے۔ یہاں ہر ووٹ محض ایک پرچی نہیں، بلکہ وہ پیغام ہے جو پورے جموں و کشمیر کے جمہوری مستقبل کی سمت متعین کرے گا: کیا عوام دیانت پر مبنی ترقی چاہتے ہیں یا ماضی کی غفلت پر قائم رہنا؟یہ انتخاب محض نمائندے کے چناؤ سے آگے بڑھ کر عوام کو موقع دیتا ہے کہ وہ نئے رخ کا تعین کریں—ایسی سیاست کا جو شفاف، جواب دہ اور ترقی پسند ہو، اور جو جمہوریت کو عوامی امنگوں کا حقیقی عکس بنا دے-

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں