ریاض فردوسی
جب بھی ہم سنتے ہیں کہ ہمارے پیارے نبی حضرت محمد مصطفی ﷺ سے متعلق کوئی گستاخانہ کلمات بولے یا لکھے گیے ہیں،تو ہم مسلمانوں کو اپنے غم و غصہ کا اظہار کرنا ایک فطری ردعمل ہے لیکن مسلمانوں کے علماء اور مسلم سیاسی رہنماؤں کا فرض ہے کہ وہ عوام کے اس غم و غصہ کا اظہار کرنے کا صحیح طریقہ اور راستہ دکھائیں۔
ہمیں اپنے غم اور ناراضگی کا اظہار پر امن طریقے سے کرنا چاہیے۔
ہمیں بھارت کے قانون کی حدود میں رہ کر اور آئین کی شقوں کے مطابق احتجاج اور مظاہرہ کرنا چاہیے۔حالیہ دنوں میں ہم نے دیکھا ہے کہ مسلمانوں سے نفرت اور دشمنی رکھنے والی ایک خاص سیاسی پارٹی احتجاج کے نام پر کس طرح مسلمانوں کے گھروں کو بلڈوزر سے تباہ کیا ہے، مسلم نوجوانوں کو گرفتار کرکے ان کی پٹائی کی ہے اور ان کے خلاف ایف آئی آر درج کی ہے۔اس لیے ہمیں ایسی سرگرمیوں کے اجتناب کرنا چاہئے جو غیر قانونی اور غیر آئینی ہو اور جسے پولیس انتظامیہ کو مظاہرین کے خلاف سخت اقدامات اٹھانے کا حق دیتی ہو۔
ہمیں تشدد کا راستہ اختیار نہیں کرنا چاہیے اور نہ ہی سرکاری املاک کو تباہ کرنا چاہیے،اگر ہم ایسے کام کریں گے تو پولیس ہمیں بے رحمی سے پیٹے گی اور گرفتار کر کے عدالت میں بھیجے گی اور پھر ہم عدالتوں کے چکر لگاتے رہیں گے اور چند دنوں بعد کوئی ہماری پشت پر کھڑا نظر نہیں آئے گا اور ہماری زندگی برباد ہو جائے گی، ہمارے احتجاج کا مقصد حکومت کو اس بات پر آمادہ کرنا ہے کہ آئندہ ایسے واقعات کو دوبارہ کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے تاکہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی ماحول متاثر نہ ہو سکے۔
نبی اکرم ﷺ اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو مشرکین مکہ نے اس لیے ستایا کہ آپ ﷺ اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے مشرکین مکہ کو اللہ کے سوا دوسرے معبودوں کی عبادت کرنے سے منع کیا اور انہیں صرف ایک اللہ کی عبادت کرنے کی دعوت دی۔
اس عظیم مقصد کے لیے ہمارے نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو مشرکین مکہ کے ظلم و تشدد کا نشانہ بننا پڑا۔
آج مسلمانوں پر ایک مذہبی پوسٹر یا بینر لگانے پر حکومت کی طرف سے ظلم کیا گیا،اگر دینی اعتبار سے دیکھا جائے تو اس طرح کا پوسٹر یا بینر لگانا کوئی دین کا حکم میں سے نہیں ہے پھر بھی ایسا کرنے پر ہمیں ستایا گیا،اس کام کی جگہ اگر دین کی دعوت غیر مسلموں کو دینے کے باعث ہم پر ظلم و تشدد ہوتا تو اس کا اجر ہمیں ضرور ملتا لیکن ہم کبھی کبھی ایسا کام کرتے ہیں،جس کا نقصان ہمیں یہاں ہوتا ہے اور جس کا فائدہ کی امید اخرت میں بھی نہیں ہے۔
حضور ﷺ کی شان اقدس میں گستخانہ کلمہ یا دل آزار باتیں کہنے پر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے طرف سے ایک فطری ردعمل کا اظہار روایتوں میں پڑھنےکو ملتا ہے۔
سورۃ المجادلۃ، آیت نمبر۔22 کے شان نزول کے متعلق یہ بیان کی جاتی ہے کہ عبد اللہ رضی اللہ عنہ بن عبد اللہ بن ابی نبی کریم ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے نبی کریم ﷺ نے پانی نوش کیا انہوں نے عرض کی :یا رسول اللہ ﷺ آپ اپنے پانی میں سے کچھ پانی باقی چھوڑدیتے جسے میں اپنے باپ کو پلاتا،ممکن ہے اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ اس کے دل کو پاکیزہ بنا دیتا۔
رسول اللہ ﷺ نے ان کے لئے پانی چھوڑ دیا تو وہ پانی عبد اللہ بن ابی کے پاس لے آیے۔
عبد اللہ بن ابی نے کہا : یہ کیا چیز ہے ؟ بیٹے نے کہا!یہ نبی کریم ﷺ کا بچا ہوا پانی ہے تاکہ آپ اسے پیے ممکن ہے اللہ تعالیٰ آپ کے دل کو پاکیزہ بنائے۔
اس کے باپ نے اسے کہا : تو اپنی ماں کا بول کیوں نہیں لے آیا وہ اس پانی سے پاکیزہ تر تھا۔
بیٹا غضب ناک ہوگیا اور نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! کیا آپ مجھے اپنے باپ کو قتل کرنے کی اجازت نہیں دیں گے؟نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :” نہیں بلکہ تو اس کے ساتھ نرمی کر اور اس پر احسان کر۔
حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے والد ابو قحافہ نے نبی کریم ﷺ کو برا بھلا کہا جس پر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنے والد کو ایک تھپڑ مارا اور وہ اپنے منہ کے بل گرگیا۔پھر وہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اس کا ذکر آپ سے کیا۔حضور ﷺ نے فرمایا :” کیا تو نے ایسا کیا ہے؟ آئندہ ایسا نہ کرنا “۔
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کی : اس ذات کی قسم جس نے آپﷺ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے! اگر تلوار میرے قریب ہوتی تو میں اسے قتل کردیتا۔
فطری طور پر دونوں صحابی نے حضور ﷺ کی محبت میں اپنے اپنے طریقہ سے رد عمل کا اظہار کیا لیکن حضور ﷺ نے بیٹوں کو اپنے والد کے متعلق ایسا ردعمل کا اظہار کرنے سے منع فرمایا۔
سورہ لقمان آیت نمبر 14 میں اللہ تعالیٰ نے والدین کے حق میں بیٹوں کو یہ حکم دیا کہ اگر وہ دونوں تم سے اللہ کے ساتھ شرک کرنے کے لیے زبردستی کریں یا تم پر دباؤ ڈالے تو ہرگز ان کی اطاعت نہیں کرنا لیکن اس کے باوجود دنیاوی معاملات میں ان کے ساتھ بھلائی کا کام ضرور کرنا۔
اللہ تعالیٰ کے رسولوں کی تاریخ کا مطالعہ کرنے سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ جب اللہ کے رسولوں نے لوگوں کو دین کی دعوت پیش کی اور اللہ کا پیغام ان تک پہنچایا تو ان میں سے بعض لوگوں نے آگے بڑھ کر دین کو قبول کیا جب کہ لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے دین حق کو قبول کرنے سے انکار کردیا۔جن لوگوں نے دین کو قبول نہیں کیا انہوں نے نہ صرف زبانی طور پر دین کی مخالفت کی بلکہ اپنے باطل دین کا دفاع بھی کیا اور رسولوں کے مخالف اور دشمن بن گئے۔انہوں نے گستاخانہ الفاظ میں رسولوں کی توہین کی، انہیں اپنے جیسا عام آدمی سمجھ کر ان کی تحقیر کی اور انکی رسالت کا انکار کیا اور اپنے لوگوں کو یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ رسول جنات اور سحر کے زیر اثر ہیں۔انبیاء کے مخالفین اور دشمنوں نے انہیں دین کی تبلیغ اور اشاعت سے روکنے کی کوشش کی اور انہیں تبلیغ کے کام کے بدترین نتائج سے خبردار کیا۔انہوں نے ان سے کہا کہ اگر وہ ان کے قوم کے لوگوں کو مذہب کی طرف بلانے سے باز نہ آئے تو وہ ان کے خلاف سخت کارروائی کریں گے۔مثال کے طور پر جب موسیٰ علیہ السلام نے فرعون اور اس کے سرداروں کو دین کی دعوت پیش کی تب فرعون بولا کہ اگر تم نے میرے سوا کسی اور کو معبود بنایا تو میں تمہیں قید کرکے رہوں گا (سورۃ الشعراء۔آیت نمبر 29)
نوح علیہ السلام کو ان کی قوم نے کہا اے نوح ! اگر تم باز نہ رہے تو تم سنگسار ہو کر رہو گے (سورۃ الشعراء۔آیت نمبر 116)
لوط علیہ السلام کے مخاطبین نے کہا کہ اے لوط ! اگر تم باز نہ آئے تو تم لازماً یہاں سے نکال چھوڑے جائو گے(سورۃ الشعراء، آیت نمبر 167)
ابراہیم علیہ السلام کو ان کے والد نے کہا اے ابراہیم ! کیا تم میرے معبودوں سے برگشتہ ہورہے ہو ! اگر تم باز نہ آئے تو میں تمہیں سنگسار کردوں گا، تم مجھ سے ہمیشہ کے لیے دور اور دفع ہو !(سورۃ مريم۔ آیت نمبر 46)
اسی طرح شعیب علیہ السلام کی قوم نے کہا :اے شعیب، جو باتیں تم کہتے ہو اس کا بہت سا حصہ ہماری سمجھ میں نہیں آتا اور ہم تو تم کو اپنے اندر ایک کمزور وجود خیال کرتے ہیں اور اگر تمہارا خاندان نہ ہوتا تو ہم تم کو سنگسار کردیتے اور تم ہم پر کچھ بھاری نہیں(سورۃہود، آیت نمبر 91)۔
اللہ کے رسولوں کے دشمنوں کی شدید دشمنی اور مخالفت کے بعد بھی پیغمبروں نے اور ان کے پیروکاروں نے ان کے خلاف کسی رد عمل کا اظہار نہیں کیا اور نہ ہی ان کے خلاف کسی قسم کے اقدامات کئے۔اللہ کے رسولوں نے صبر و تحمل کے ساتھ اللہ کا پیغام لوگوں تک پہنچاتے رہے۔ان کے کسی بھی دل آزار باتوں کا جواب دل آزار باتوں سے نہیں دیا بلکہ شایستگی سے دین کی دعوت دیتے رہے اور جب مشکل وقت آیا تو انہوں نے صرف اللہ کی مدد پر بھروسہ کی اور اللہ سے مدد کی دعا کی۔ یہاں چند مثالیں درج ذیل ہیں:تو اس (نوح علیہ السلام) نے اپنے رب سے فریاد کی کہ میں مغلوب ہوں،اب تو ان سے انتقام لے(سورۃ القمر،آیت نمبر 10)اور نوح نے دعا کی، اے میرے رب ! تو زمین پر ان کافروں میں سے ایک متنفس کو بھی نہ چھوڑ (سورۃ نوح، آیت نمبر 26) اور موسیٰ نےدعا کی،اے ہمارے رب ! تو نے فرعون اور اس کے اعیان کو دنیا کی زندگی میں شان و شوکت اور مال و اسباب سے بہر مند کیا،اے ہمارے رب کہ وہ تیری راہ سے لوگوں کو بے راہ کریں،اے ہمارے رب ان کے مالوں کو مٹا دے اور ان کے دلوں کو بند کردے کہ وہ ایمان نہ لائیں یہاں تک کہ دیکھ لیں دردناک عذاب کو(سورۃ يونس۔ آیت نمبر 88)
اس( لوط علیہ السلام) نے دعا کی، اے رب ! اس مفسد قوم کے مقابل میں میری مدد کر۔(سورۃ العنكبوت، آیت نمبر 30)۔
پھر جب اللہ نے رسولوں کی دعا قبول فرمائی اور اللہ کی نصرت آیی تو جن لوگوں نے اللہ اور رسول پر ایمان نہیں لایا اور رسول کی اہانت کی اور ان کی استہزاء کی انہیں اللہ کی عذاب سے ہلاک کر دیا گیا۔ سورۃ الحجر آیت 95 میں اللہ تعالی کا ارشاد -ہے(ہم تمہیں ان لوگوں سے جو تم سے استہزاء کرتے ہیں بچانے کے لیے کافی ہیں)۔اس ایت میں اللہ تعالی کا واضح اعلان ہے کہ وہ خود ہی رسول ﷺ کے منکرین اور معاندین کے خلاف کاروائی کریگا اور اسے سخت سے سخت سزا دیگا،سورۃ الاحزاب آیت نمبر 57 میں اللہ تعالی فرماتا ہے کہ بےشک جو لوگ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کو ایذاء دیتے ہیں اللہ تعالیٰ ان پر دنیا و آخرت میں لعنت کرتا ہے اور ان کے لئے ذلیل کرنے والا عذاب تیار کر رکھا ہے،اس میں مسلمانوں کے لیے یہ سبق ہے کہ جب وہ کمزور ہو اور دشمن مضبوط ہو تو ہمیں دشمن سے اعراض کرنا چاہیے اور دشمن کے مقابل میں اللہ تعالیٰ سے نصرت کی دعا کرنی چاہیے۔مسلمانوں کو جو ایک بڑی ذمہ داری دی گئی ہے وہ یہ ہے کہ وہ ایک خیر امت بن کر دکھایےاور اس کے لیے ضروری ہے کہ مسلمان لوگوں کو معروف کا حکم دیے اور منکر سے روکے اور پھر اس کام کو انجام دینے میں اگر مسلمانوں کو مخالفین کے طرف سے اذیت پہنچایی جاتی ہے انہیں ستایا جاتا ہے تو انشاءاللہ مسلمانوں کو اللہ کی نصرت ضرور پہنچے گی لیکن شرط یہ ہے کہ مسلمان خیر امت کے منصب پر فائز ہونے کا اہل بنیں۔اللہ تعالیٰ خود چاہتا ہے کہ مسلمان اپنے اندر سے ایک گروہ کو اس کام پر مقرر کریں کہ وہ لوگوں کو نیکی اور بھلائی کی دعوت دے،معروف کا حکم کرے اور منکر سے روکیے۔
نبیوں کی بعثت کا سب سے بنیادی مقصد لوگوں کو اللہ کی طرف بلانا اور دینِ حق کی دعوت دینا ہے، تاکہ انسانوں پر اللہ کی حجت قائم ہو جائے اور قیامت کے دن ان کے پاس کوئی عذر باقی نہ رہے۔ انبیائے کرام کا کام لوگوں کو جنت کی خوشخبری دینا اور دوزخ کے عذاب سے ڈرانا بھی ہے۔
بعثت کے دیگر مقاصد میں شامل ہیں:
اللہ کی اطاعت کا حکم دینا: انبیاء کرام لوگوں کو اللہ کی بندگی اور فرمانبرداری کا حکم دیتے ہیں۔
لوگوں کو ایمان کی طرف بلانا: یہ انبیاء کرام کا ایک اہم فریضہ ہے کہ وہ لوگوں کو اللہ پر ایمان لانے کی دعوت دیں۔
انسانیت پر حجت قائم کرنا: اللہ تعالیٰ انبیاء کو اس لیے بھیجتا ہے تاکہ لوگ یہ نہ کہہ سکیں کہ انہیں علم نہیں تھا یا انہیں ہدایت نہیں ملی۔
قانونِ الٰہی کی تبلیغ: انبیاء کا کام اللہ کے نازل کردہ قوانین اور شریعت کی لوگوں تک تبلیغ کرنا ہے۔
اب کویی نبی یارسول تشریف نہیں لائیں گے،اس لیے یہ فرائض ہم پر ہیں کہ ہم آخری نبی ﷺ اور تمام انبیاء و رسل کے پیغام توحید کو عام کریں،اس کے لیے ہماری جان ومال،تباہ و برباد ہوجائیں،کویی فکر نا کریں،اللہ ہمارا محافظ ہے.
ہمارا گھر بار لٹ جائیں،کویی پرواہ نا کریں.
"كل من علیہما فان،ويبقى وجہ ربك”
اللہ کے دین کے لیے،پیغام توحید کے لیے،ساری قربانیاں اللہ کے یہاں قابل قبول ہیں۔
ززز


